Global Editions

جینیاتی تبدیلیاں کئے بغیر بھی فصلوں میں تبدیلی ممکن

آج سے تقریباً ساٹھ برس قبل میں اپنے والد کے ساتھ کھیتوں میں موجود تھا اور میرے سر پر لوزیانا کا سورج پوری تمازت کےساتھ چمک رہا تھا۔ میری ٹانگیں گھٹنوں سے ذرا نیچے تک چاول کی فصل میں پانی میں ڈوبی ہوئی تھیں اور اس پانی پر مچھروں کی بہتات تھی۔ یہ 1950ء کی بات ہے، اس وقت میں 9سال کا تھا اورمیں آہستہ آہستہ اس فارم سے باہر آیا لیکن اس تجربے کے بعد میں نے خود کو ایسی ٹیکنالوجیز کی تیاری کے لئے وقف کر دیا جس سے زرعی شعبے کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے، فصلوں کی پیداوار بڑھے اور فصلوں کی تیاری کے لئے جسمانی مشقت کم سے کم صرف ہو۔ اس وقت میں اس کمپنی کا حصہ ہوں جو ایسی ٹیکنالوجی کی تیاری میں مصروف ہے جس کی مدد سے فصلوں میں جینیاتی تبدیلیاں کئے بغیر زرعی پیداوار بڑھائی جا سکے اور اس کے ساتھ فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیٹروں مکوڑوں کا بھی خاتمہ کیا جا سکے۔ اس کے تحت فصل کے پودوںپر آر این اے یعنی رائبونیوکلک ایسڈ (ایک پولی نیو کلیو ٹائیڈ مالیکیول جو ایڈی نائن، گیوآنائن،سائٹو سائین، یوراسل، اور شوگر رائیبوز پر مشتمل ہوتا ہے) سپرے کیا جاتا ہے جس کی مدد سے وسیع پیمانے کے ساتھ ساتھ محدود پیمانے پر کاشتکاری کے نتیجے میں فصلوں کی پیداوار بہتر کی جا سکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو RNAi یعنیRNA Interference کا نام دیا گیا ہے یہ ٹیکنالوجی کاشتکاروں کو موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنی فصلوں کو جینیاتی طور پر تبدیل کئے بغیر پیداوار میں اضافہ کر سکیں۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے یہ ممکن ہے کہ ایک دن کاشتکار قحط سالی کے دور میںسپرے کی مدد سے فصلیں اگا سکیں، اس کے ساتھ ساتھ فصلوں میں موجود پانی پر مچھروں کی افزائش کو بھی روکنا ممکن ہو سکے گا۔ جس سے ماحول میں بھی بہتری آ سکے گی۔ RNAi 90 ءکی دہائی تک واضح انداز میںسامنے نہیںآ سکا تھا۔ لیکن اس میدان میں تحقیقی عمل تیزی سے جاری تھا۔ RNAiہمارے زیراستعمال رہنے والی خوراک کا لازمی جزو ہے اور یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ یہ انسانی صحت اور ماحول کے لئے بھی کسی حد تک فائدہ مند ہے۔ کچھ تحقیق کار یہ بھی خیال کرتے ہیں کہ یہ آرگینک فارمنگ کے لئے بہترین ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود آج بھی آر این اے کی تیاری ایک بہت ہی زیادہ لاگت والا کام ہےاور تحقیق کاروں کو چاہیے کہ وہ تحقیقی عمل سے ایسے راستے تلاش کریں جن کی مدد سے اس کی تیاری پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی لانا ممکن ہو سکے۔ میری کمپنی APSE بھی اس مسئلے کے حل کے لئے کام کر رہی ہے۔ جینیاتی طور پر تبدیلی صرف چند فصلوں تک محدود ہےاور اس ٹیکنالوجی کو بھی عوام کی اکثریت نے پزیرائی نہیں بخشی۔ جبکہ RNAi کاشتکاروں کو وہ سب کچھ فراہم کر سکتی ہے جو انہیں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ فصلوں کو تیار کرنے سے حاصل ہو سکتاہے۔

تحریر :جان کلمر (John Killmer)

(جان کلمرزرعی شعبے کیلئے آر این اے ٹیکنالوجی تیار کرنے والی کمپنی APSE کے چیف ایگزیکٹو ہیں)

Read in English

Authors
Top