Global Editions

ٹیکنالوجی کے ذریعے عادی مجرم کی گرفتاری

محمد عمران عادی مجرم ہے ،اس کے خلاف کم از کم 30 ایف آئی آر درج ہیں اور زیادہ تر ایف آئی آر ڈکیتی کے بارے میں ہیں۔اس کے خلاف سب سے پرانی ڈکیتی کی ایف آئی آر 2005ء میں درج ہوئی جب کہ صرف 2016ء میں اس کے خلاف 9مقدمات درج ہوئے۔ اس کی فائل کا اگرجائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ عمران نے پورے لاہور میں ڈیفنس سے لے کر جوہر ٹاؤن اور گلشن راوی سے جنوبی چھاؤنی تک وارداتیں کیں۔ حال ہی میں عمران کاشہر میں موٹر سائیکل پر حادثہ ہوا۔ شدید چوٹوں کی وجہ سے اسے آرام اور صحت کی بحالی کے لیے علاج کی ضرورت تھی لیکن درج ایف آئی آرز کی وجہ سے اس کے لیےلاہور میں رہنا ممکن نہیں تھا لہذا اس نے علاج کے غرض سے فیصل آباد جانے کا فیصلہ کیا جہاں وہ ایک مطلوب شخص نہیں تھا۔ اسے وہاں کرائے پر مکان حاصل کرکے ڈاکٹر سے بھی ملنا تھا جو اس کے زخمی گھٹنے کا علاج کر سکے۔ تاہم وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی قسمت تیزی سے اس کا ساتھ چھوڑ رہی ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں پنجاب انفارمیشن آف ٹیمپریری ریزیڈنٹ ایکٹ 2015ء کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ اس قانون کے تحت پراپرٹی ڈیلر اورمالک مکان کو گھر کاقبضہ دینےکے 15دن کے اندر کرایہ دار سے متعلق معلومات پولیس کو دینا ہوں گی۔ عمران نے اپنے اصل نام کی بجائے تبدیل شدہ نام بلال کے کرایہ دار اپنا اندراج کرایا۔ یہیں پر سی پی او آفس فیصل آباد میں آئی ٹی انچارج سب انسپکٹر یاسر قیوم نے اس کی شناخت کی۔ انھوں نے عمران کے کمپیوٹرائز شناختی کارڈ نمبر کو آن لائن کریمنل ریکارڈ سے چیک کیا تو معلوم ہوا کہ اس کے خلاف تو بہت سے مقدمات درج ہیں۔ تب پولیس نے سی آئی اے کو معلومات فراہم کیں جس نے عمران کے پتے پر چھاپہ مار کر اسے گرفتار کرلیا۔ کرایہ داری رجسٹریشن قانون کے تحت ہونے والی یہ پہلی گرفتاری نہیں ہے۔ البتہ دو اضلاع کے درمیان مجرمانہ ریکارڈ سے متعلق معلومات کا پہلی بار تبادلہ ہوا۔ سینئر پولیس افسر حسین حبیب کے مطابق پولیس کے شعبے میں ٹیکنالوجی کی حالیہ ترقی گیم چینجر ہے۔ اب وہ کام جو دنوں میں ہوتا تھا اسے چند منٹ لگتے ہیں اور اس سے نہ صرف پولیس کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے بلکہ احتساب کے نظام کو بھی بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔اضلاع کے درمیان کریمنل ریکارڈ کا تبادلہ بہت سے آئی ٹی پر مبنی اقدامات میں سے ایک ہے جس کے پیچھے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی کاوش کارفرما ہے۔ ان میں ہوٹل آئی، اینٹی وہیکل لفٹنگ کا نظام 15ایمرجنسی موبائل ایپلی کیشن جیسے اقدامات شامل ہیں۔

تحریر: عاصم ظفر خان (Aasim Zafar Khan)

app-screenshot

Read in English

Authors
Top