Global Editions

اداریہ

2008 میں امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (Federal Bureau of Investigation) نے اپنے انٹیگریٹڈ آٹو میٹڈ فنگرپرنٹ آئیڈنٹیفیکیشن سسٹم (Integrated Automated Fingerprint Identification System - IAFIS) کی مدد سے 30 سال پرانے قتل کے کیس کا معمہ حل کرلیا۔ اس وقت اس ڈیٹابیس میں تقریباً 73 ملین مجرموں کے ریکارڈ موجود تھے۔

مقتولہ 61 سالہ کیرل بونیٹ (Carroll Bonnet) کو 1978ء میں نیبراسکا کے شہر اوماہا میں چاقو گھونپ کر مارا گیا تھا۔ جائے وقوع سے ملنے والے ثبوت پر کارروائی کی گئی، اور انگلیوں کے نشانات کو ریکارڈز سے ملانے کی کوشش بھی کی گئی، لیکن ان سے ملتے جلتے انگلیوں کے نشانات نہیں مل سکے۔ اس وقت IAFIS کا کوئی وجود نہیں تھا، لہذا معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا۔

2008 میں اس کیس کو دوبارہ کھولا گیا۔ اس دفعہ انگلیوں کے نشانات کو IAFIS سے ملایا گیا۔ پانچ گھنٹوں کے اندر اندر سسٹم نے مشتبہ افراد کی فہرست پیش کردی، اور تفتیش کرنے والی ٹیم چند ہی دنوں میں مجرم کی شناخت کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ یہ جدید ٹیکنالوجی کے بغیر ناممکن تھا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پولیس کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (Punjab Information Technology Board - PITB) کے چند سال پہلے شروع کئے جانے والے اقدام کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔

ان کی ایک مثال کریمینل ریکارڈ آفس (Criminal Record Office - CRO) کا قیام ہے۔ مختصر سے عرصے میں تقریباً 300,000 جرائم پیشہ افراد کے ریکارڈز کو مکمل پروفائل سمیت CRO کے ڈیٹابیس میں درج کردیا گیا ہے۔ پنجاب کی پولیس کو CRO کی ڈیٹابیس سے انٹیگریٹڈ ہینڈ ہیلڈ بائیومیٹرک آلات فراہم کئے گئے ہیں، جو پولیس کو جرائم پر قابو پانے اور جرائم کے عادی افراد کو پکڑنے میں کافی مددگار بھی ثابت ہورہے ہیں۔ اب تک 652,000 سے زائد درخواستیں جنریٹ ہوچکی ہیں۔

جواد رضوی اپنے آرٹیکل میں پولیس کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر لکھتے ہیں کہ CRO کے ڈیٹابیس کے ذریعے انگلیوں کے نشانات کی شناخت کی مدد سے درجنوں جرائم پیشہ افراد پکڑے جاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایک سافٹ وئیر کی مدد سے پولیس اب صوبے بھر کے ہوٹلوں میں چیک ان اور چیک آؤٹ کرنے والے افراد کی تفصیلات حاصل کرسکتی ہے۔ اس کے ذریعے پچھلے سال اگست اور ستمبر کے دوران 450 مشتبہ افراد کا کھوج لگایا گیا۔

کریمینل جسٹس کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے، اب لاہور ہائی کورٹ کے ججز کو بھی CRO کے ڈیٹابیس تک رسائی فراہم کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔ اگلے مرحلے میں نچلی عدالتوں کو بھی اس ڈیٹابیس تک رسائی فراہم کردی جائے گی۔

پنجاب پولیس کو کرایہ داروں کے رجسٹریشن کے نظام (Tenants Registration System) سے بھی جرائم پیشہ افراد کو پکڑنے میں کافی مدد مل رہی ہے۔ اس کی ایک مثال پچھلے سال اس وقت سامنے آئی جب لاہور میں 30 ڈکیتیوں میں ملوث ایک شخص فیصل آباد میں رہائش کرایے پر لینے کے بعد پکڑا گیا۔

جرائم کی تفتیش کے شعبے میں بھی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ شفیق شریف کے آرٹیکل میں پنجاب فورینسک سائنس ایجنسی (Punjab Forensic Science Agency - PFSA) کے امریکی ریاست اوہائیو میں شوٹنگ کے کیس میں ریفری لیب کے طور پر نامزد ہونے کے بارے میں پڑھیں۔ نیز، اسی آرٹیکل میں نیشنل فورینسک سائنس ایجنسی (National Forensic Science Agency - NFSA) کے انگلیوں کے نشانات اور ڈی این اے کے ریکارڈ کے ڈیٹابیس کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ اس تحریر میں ملک میں فورینسک سائنس کے منظرنامے کا جامع ریویو پیش کیا گیا ہے، اور نہ صرف اس کے کارناموں کو اجاگر کیا گیا ہے، بلکہ اس کو درپیش چیلنجز کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کے ساتھ گفتگو کے دوران ڈی آئی جی آپریشنز لاہور حیدر اشرف بتاتے ہیں کہ کس طرح ٹیکنلوجی کے ذریعے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں اور ریسکیو خدمات کے درمیان ہم آہنگی بہتر ہورہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پولیس کو جوابی کارروائی کے لئے درکار وقت 25 سے 35 منٹ سے کم ہو کر اب 7 سے 9 منٹ رہ گیا ہے۔

اس شمارے میں لاہور ہائی کورٹ کے کیسز کے ریکارڈ کو آٹومیٹ کرنے کے ایک پراجیکٹ کا ریویو بھی شامل ہے۔ کسی بھی مقدمے کے فریقین انٹرنیٹ پر جا کر کیس فلو مینیجمنٹ سسٹم (Case Flow Management System - CFMS) کی مدد سے اپنے مقدمات میں پیش رفت دیکھ سکیں گے۔ یہ نظام حال ہی میں لائیو ٹیسٹنگ کے مرحلے میں داخل ہوا ہے۔ متعدد زبانوں میں ایک ٹیلی فون ہیلپ لائن (1134) بھی قائم کی گئی ہے جس کے ذریعے وکلاء اور فریقین کو معلومات تک فوری رسائی ممکن ہے۔

دوسرے صوبوں میں بھی پولیس اور کریمینل جسٹس کے نظام میں ایسی اصلاحات متعارف کروائی جارہی ہیں۔ ان پر مکمل طور پر عملدرآمد ہونے کے بعد مختلف صوبوں کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی میں اضافہ ممکن ہوسکے گا۔

تحریر: ڈاکٹر عمر سیف

Read in English

Authors
Top