Global Editions

بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑی ۔۔۔ اسے پروگرامنگ کی بھی ضرورت نہیں

بغیر ڈرائیور کے چلنےوالی گاڑیوں کی تیاری کے لئے کارساز ادارے بھرپور صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہے ہیں اور اب تک کئی کمپنیوں کی جانب سے بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے لئے ابتدائی تجربات بھی جاری ہیں اور بعض کمپنیوں کی جانب سے تیار کی جانیوالی گاڑیاں ٹیسٹ ڈرائیو کے لئے شہریوں کو دستیاب بھی کی گئی ہیں ۔ اس طرح اب یہ بات واضع ہو رہی ہے کہ آئندہ چند ماہ کےدوران ایسی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیاں مارکیٹ میں آنے والی ہیں جن کے بارے میں آپ نے سوچا بھی نہ ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ ان گاڑیوں میں ایسا کیا ہے جس کے بارے میں سوچا بھی نہ گیا ہو گا؟ آپ کو معلوم ہی ہو گا کہ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے لئے مخصوص الگورتھم اور کمپیوٹر پروامنگ کی ضرورت ہوتی ہے تاہم آئندہ چند ماہ کے دوران مارکیٹ میں آنے والی گاڑیوں کے لئے کسی کمپیوٹر پرواگرمنگ کی ضرورت ہی نہیں ہو گی بلکہ یہ گاڑیاں ازخود اپنے تجربات سے سبق سیکھیں گی اور صورتحال سے عہدہ برآ ہو نگی۔ یہ گاڑیاں مصروف شاہراہوں، گنجان ہائی ویز پر ری انفورسمنٹ لرننگ کے طریقہ کے تحت کام کرتی ہیں۔ ان گاڑیوں کے لئے سیفٹی سسٹم اسرائیلی کمپنی Mobileye کی جانب سے تیار کیا گیا ہے یہ کمپنی کئی معروف کارساز اداروں کے لئے بھی کام کر رہی ہے جن میں معروف کار ساز ادارہ بی ایم ڈبلیو بھی شامل ہے۔ ری انفورسمنٹ لرننگ کے طریقہ کار کے تحت کمپیوٹر دیگر ہینڈ کوڈڈیڈ کمپیوٹرز کی طرز پر بتائی جانیوالی مثالوں کے تحت نہیں سیکھتا بلکہ اس طریقہ کے تحت کمپیوٹر ازخود تجربات کرتا ہے اور غلطیوں کی اصلاح کرتا ہے اور ضرورت کے مطابق اپنی پروگرامنگ میں تبدیلیاں بھی کر سکتا ہے تاکہ وہ مطلوبہ بہترین نتائج حاصل کر سکے۔ خودکار ڈرائیونگ کے معاملے میں بنیادی مقصد یہ ہے کہ گاڑی اپنے سواروں کو گنجان شاہراہوں اور ہائی ویز سے بحفاظت سفر کرکے منزل مقصود تک پہنچا سکے اور اس کے لئے اس طرح کی تکنیک ضروری ہے جس کے تحت کمپیوٹر موثر تربیتوں سے اپنی آموزش کو بہتر بنا سکے اور اپنے اندر سپر ہیومن جیسی صلاحیتیں پیدا کر سکے۔ اس حوالے سے امریکن سینٹر آف موبیلٹی کے ڈائریکٹر جیمز میڈوکس (James Maddox) کا کہنا ہے کہ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ انسان جو گاڑیاں چلا رہے ہیں ،اس کے ساتھ کس طرح انٹریکشن رکھتے ہیں ایسی گاڑیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف ماحول سے تربیت حاصل کریں بلکہ شاہراہوں پر گاڑیاں چلانے والے انسانوں کے تجربات سے بھی استفادہ حاصل کریں۔ Mobileye ایسا ہی پلیٹ فارم تیار کرنا چاہتی ہے جس کے تحت کارساز ادارے اپنے تجربات اور بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو شئیر کر سکیں کیونکہ اس طریقہ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے اور ان میں موجود خامیاں دور کرنا بھی ممکن ہے۔

تحریر: ول نائیٹ (Will Knight)

Read in English

Authors
Top