Global Editions

اساتذہ زوم سے تنگ آنے والے بچوں کی دلچسپی کس طرح برقرار رکھ رہے ہيں؟

ایک چھوٹی بچی آن لائن کلاسز لے رہی ہیں۔
کچھ اساتذہ زوم کے بجائے انسٹاگرام پر کلاس لے رہے ہيں۔

بیلجیم کے شہر میخلن میں واقع تھامس مور یونیورسٹی کالج (Thomas More University College) کے پروفیسر ونسنٹ بوئیسنز (Vincent Buyssens) کے طلباء اکثر کلاس کے دوران انسٹاگرام استعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہيں۔ وہ دوسروں کی انسٹاگرام سٹوریز دیکھتے ہيں، اپنی پروفائل پر پوسٹس ڈالتے ہیں، اور دوسروں کی پروفائلوں کی تصویروں اور ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ وہ دوسری کلاسوں کے برعکس بوئیسنز کی کلاس میں کھلے عام سوشل میڈیا ایپس استعمال کرتے ہيں۔ بوئیسنز تھامس مور یونیورسٹی کالج میں کریئٹو سٹریٹیجی (creative strategy) پڑھاتے ہيں، اور انسٹاگرام ان کے نصاب کا ضروری حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے طلباء کو دل کھول کر اس ایپ کا استعمال کرنے کی تلقین کرتے ہيں۔

وہ کہتے ہيں کہ ”میں انہيں سوشل میڈیا استعمال کرنا سکھاتا ہوں۔ میں انہيں زوم پر انسٹاگرام استعمال کرنا کس طرح سکھا سکتا ہوں؟“

بوئیسنز کے علاوہ دوسرے اساتذہ بھی زوم کا استعمال ترک کرکے طلباء کو دوسرے طریقوں سے پڑھانے کی کوشش کررہے ہيں۔

بڑوں کی طرح بچے بھی اب زوم سے تنگ آ رہے ہيں۔ سکرین پر زيادہ وقت گزارنے سے ان کی آنکھوں پر زور تو پڑتا ہی ہے، لیکن ساتھ ہی دوسروں کی شکلیں اپنے اتنے قریب دیکھ کر انہيں عدم تحفظ کا بھی احساس ہونا شروع ہوگیا ہے۔ شروع میں تو یہ بچوں کے لیے ایک نیا تجربہ تھا، لیکن اب آن لائن کلاسز شروع ہوئے نو مہینے گزر گئے ہيں اور وہ ان سے اکتانے لگے ہيں۔

اس بے زاری کے پیش نظر، طلباء کی تعلیم میں دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے، اساتذہ اپنی آن لائن کلاسز زوم کے بجائے سوشل میڈیا اور گیمز سے فائدہ اٹھا رہے ہيں۔ تعلیم اور پڑھائی سے وابستہ سب ریڈیٹس (sub-reddits) میں اکثر اساتذہ اپنے کلاس رومز میں سوشل میڈیا اور گیمز کے استعمال کے متعلق سوالات پوچھتے ہوئے نظر آتے ہيں۔ مائن کرافٹ (Minecraft) نامی ویڈیو گیم میں اساتذہ کے لیے ایک خصوصی پیج بھی متعارف کیا گيا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال سے طلباء کی توجہ حاصل کرنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے۔ اپنے کلاس روم میں ٹک ٹاک کا استعمال کرنے والی کنڈرگارٹن کی ایک استانی نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ ”میں چھوٹے بچوں کو پڑھاتی ہوں، اور ٹک ٹاک کی بدولت وہ مجھے دیکھتے رہتے ہيں اور میری بات زيادہ دھیان سے سنتے ہيں۔“ اسی طرح، کچھ اساتذہ اس سال متعارف ہونے والے مقبول گیم امنگ اس (Among Us) سے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ایک بچے کے مطابق: ”اس گیم کی وجہ سے طلباء میں ہمدردی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔“

بوئیسنز بتاتے ہيں کہ وہ انسٹاگرام لائیو پر کلاس لیتے ہيں اور چیٹ میں بحث و مباحثہ چل رہا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق، ان کے تمام طلباء کلاس میں دلچسپی لیتے ہوئے نظر آتے ہيں۔ اگر کوئی طالب علم کسی وجہ سے کلاس میں شرکت کرنے سے قاصر ہو تو انہيں انسٹاگرام سٹوریز کی شکل میں تمام نوٹس مل جاتے ہيں۔

بوئیسنز کہتے ہيں کہ ”میں پوری کوشش کرتا ہوں کہ میں انسٹاگرام کا استعمال صرف اسی وقت کروں جب اس کی ضرورت ہو۔ ورنہ طلباء کو ایسا لگے گا کہ میں صرف اپنے لائیکس اور کمینٹس بڑھانے کے چکر میں ان سے انسٹاگرام استعمال کروا رہا ہوں۔ آپ جو بھی پلیٹ فارم استعمال کر رہے ہوں، چاہے وہ انسٹاگرام ہو یا ٹک ٹاک، اسے آپ کے سبق کے لحاظ سے موزوں ہونا چاہیے۔“

بوئیسنز موجودہ نسل کے بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنا سکھاتے ہيں، اسی لیے انسٹاگرام پر کلاسیں منعقد کرنے کی وجہ سمجھ آتی ہے۔ تاہم ایسے کئی اساتذہ ہیں جو غیرروایتی پلیٹ فارمز کے متعلق شک و شبہات رکھتے ہيں۔ ایجوکیشن ویک ریسرچ سینٹر (Education Week Research Center) کے جون میں منعقد ہونے والے ایک سروے کے مطابق 63 فیصد انگریزی پڑھانے والے اساتذہ اور 57 فیصد ریاضی پڑھانے والے اساتذہ کے مطابق زوم اور گوگل ڈاکس تعلیمی مقاصد کے لیے موثر ثابت ہوتے ہيں۔ اس کے برعکس، صرف 27 فیصد انگریزی کے اساتذہ اور 46 فیصد ریاضی کے اساتذہ ویڈیو گیمز کو موثر سمجھتے ہيں۔

روایتی مضامین کے اساتذہ بھی ویڈیو گیمز اور سوشل میڈیا کے استعمال پر غور کر رہے ہيں۔ سنگاپور کے ایک سکول کی لائبریری میں کام کرنے والے فلپ ولیمز (Philip Williams) گیمز کے مقبول پلیٹ فارم روبلوکس (Roblox) کی مدد سے فزکس پڑھانے کی کوشش کررہے ہيں۔

ولیمز کہتے ہيں کہ ”جب لاک ڈاؤن شروع ہوا تو طلباء روب گولڈبرگ (Rube Goldberg) مشینز بنانا سیکھ ہی رہے تھے۔ لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے بعد ہم نے روبلوکس استعمال کرنا شروع کردیا۔“ ان کا یہ تجربہ اس قدر کامیاب ثابت ہوا کہ وہ اگلے سال بھی روبلوکس کا استعمال جاری رکھنا چاہتے ہيں۔ ان کے مطابق اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ طلباء کی فزکس جیسے بے زار کن مضمون میں دلچسپی قائم رہتی ہیں۔

ولیمز مزید بتاتے ہيں کہ ”گیمز استعمال کرنے کے دوران، میں اپنی کلاس کو زيادہ نہيں پڑھاتا۔ اس کے برعکس، میں انہيں کھیلنے اور مشق کرنے کا موقع دیتا ہوں۔ میں صرف تب ہی آگے بڑھتا ہوں جب انہيں مدد کی ضرورت ہو، یا جب مجھے ایسا لگتا ہے کہ مجھے ان سے سوال پوچھ کر نئی چیزوں کے متعلق سوچنے پر مجبور کرنا چاہیے۔“

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کی حکمت عملیاں بڑوں کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہیں؟ کچھ کمپنیوں کا خیال ہے کہ آن لائن کام کے اس نئے دور میں میٹنگز کے نئے طریقے تلاش کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ مائکروسافٹ ٹیمز نے ٹوگیتھر موڈ (Together Mode) نامی نئی سیٹنگ متعارف کی ہے، جس کے ذریعے لوگوں کو کلاس رومز، کیفے وغیرہ میں ایک ساتھ بٹھانا مکمن ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، کچھ کمپنیاں میٹنگز میں گیمنگ کا عنصر شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

خبروں کو دیکھ کر ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ کرونا وائرس سے وابستہ حفاظتی اقدام اگلے چند ماہ تک جاری رہیں گے۔ اس صورتحال  کے پیش نظر تعلیمی اور پیشہ ورانہ اہداف کے حصول کے لیے بچوں اور بڑوں کی دلچسپی برقرار رکھنے کے نت نئے طریقے تلاش کرنا ضروری ہوگیا ہے۔

ولیمز کہتے ہيں کہ ”یہ نئے طریقہ کار اس قدر مقبول ثابت ہوئے ہيں کہ کئی اساتذہ صورتحال بحال ہونے کے بعد بھی انہيں جاری رکھنا چاہیں گے۔ ہمیں نظام تعلیم تبدیل کرنے کا بہت اچھا موقع ملا ہے۔ ہمیں اب صرف طلباء کو معاونت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔“

تحریر: تانیہ باسو (Tania Basu)

تصویر: گیٹی

Read in English

Authors

*

Top