Global Editions

ڈیٹا کے حقوق کے تحفوظ کے لیے ایک قانون تیار کرنے کا وقت آگیا ہے

ڈیٹا کے حقوق کے تحفوظ کے لیے ایک قانون تیار کرنے کا وقت آگیا ہے

امریکی سینیٹ میں ایک نئے قانون پر گرما گرم مباحثہ جاری ہے، اور اس بیچ ایک ڈیٹا گورننس کے ماہر ڈیجیٹل دور میں آزادی کے تحفظ کا منصوبہ پیش کررہے ہیں۔

سنہ 2023ء میں ایک ایسی خاتون کا تصور کریں جن کے پاس پیسے نہيں ہیں۔ وہ ایک بار میں بیٹھتے ہوئے اپنے فون پر اسامیاں دیکھ رہی ہیں، اور اس دوران انہيں ایک ٹیکسٹ پیغام موصول ہوتا ہے۔ جگر پر تحقیق کرنے والی ایک ٹیم کو ان کا نام بار کے لوئیلٹی پروگرام کے ڈیٹابیس سے ملا ہے، اور وہ ان کے اگلے تین ماہ تک کے بار کے بلز اور فون کے صحت کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں، جس کے عوض انہيں ہر ہفتے 50 ڈالر دیے جائيں گے۔

پہلے تو وہ خاتون بہت سخت تنگ ہوتی ہیں، لیکن انہيں پیسوں کی بہت سخت ضرورت بھی ہے۔ وہ اپنے فون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس رسائی کی اجازت دے دیتی ہیں، اور دوبارہ نوکری کی تلاش میں لگ جاتی ہیں۔

لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، انہيں احساس ہوتا ہے کہ ان کے لیے نوکری ملنا مشکل سے مشکل ہوتا جارہا ہے، جبکہ ان کے دوستوں کو ایک کے بعد ایک نوکریاں ملتی جارہی ہیں۔ ان خاتون کو یہ بات معلوم نہيں تھی کہ اس تحقیق کا ڈیٹا، اور بار میں خریدے گئے مشروبات کا مکمل ریکارڈ ایک بڑی ریکروٹمنٹ ایجنسی کو فراہم کیا جارہا تھا۔ اب ایجنسی کے پاس موجود ان کا ریکارڈ دیکھنے والے کسی بھی شخص کو اب ایک “ناقابل اعتماد اور ڈیپریشن کی شکار” خاتون نظر آتی ہے، جس کی وجہ سے کوئی بھی کمپنی انہیں نوکری دینے کے لیے تیار نہيں ہے۔ لیکن اگر ان خاتون کو یہ بات معلوم بھی ہوجائے تو وہ اس کے بارے میں کیا کرسکتی ہيں؟

آپ کی زندگی کا ایک دن

اگر آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو ممکن ہے کہ ان خاتون کی طرح آپ نے بھی آن لائن مضامین پڑھنے یا خریداری کرنے، اپنی ورک آؤٹ ٹریک کرنے، یا اپنی جیب میں اپنا فون لے کر گھومنے کے دوران اپنی روزمرہ کی سرگرمیوں کے دوران ڈھیر سارا ڈیٹا تخلیق کیا ہوگا۔ آپ نے کچھ ڈیٹا جان بوجھ کر تخلیق کیا ہوگا، لیکن اس میں سے زیادہ تر ڈیٹا آپ کی مرضی کیا آپ کی معلومات کے بغیر تخلیق کیا گیا ہے۔

پچھلی چند دہائیوں میں وافر مقدار میں ڈیٹا تخلیق کیا جاچکا ہے، اور اب مصلحین اصرار کررہے ہيں کہ آپ کا ڈیٹا آپ کے ہی ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ یونیورسٹی آف شکاگو کے ایرک پوسنر، مائیکروسافٹ ریسرچ کے ایرک ویل، اور ورچول رئیلٹی کے گرو جیرن لینیر کہتے ہيں کہ ڈیٹا بھی جائیداد ہی کی طرح ہے۔ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کا بھی یہی کہنا ہے۔ اب فیس بک پر پوسٹ کردہ تمام ڈيٹا اور رابطے کی معلومات اب آپ ہی کی ملکیت ہے، اور اسے شیئر کرنے کا اختیار بھی آپ کے ہاتھ میں ہے۔ فنانسل ٹائمز کے مطابق “صارفین کو اپنے موجودہ ڈیٹا کی ملکیت فراہم کرنا ایک بہت اہم عنصر ہے۔” ایپل کے سی ای او ٹم کک نے ایک حالیہ خطاب میں کہا “کمپنیوں کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ ڈیٹا صارفین کی امانت ہے۔”

اس تحریر میں یہ بات واضح کی جاتی ہے کہ “ڈیٹا کی ملکیت” کا تصور درست نہيں ہے، اور اس میں فائدے سے زيادہ نقصان ہے۔ اس سے موجودہ مسائل حل ہونے کے بجائے مزید مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس کے بجائے ہمیں ایک ایسے فریم ورک کی ضرورت ہے جس ميں لوگوں کو ڈیٹا کی ملکیت حاصل کیے بغیر اپنے ڈیٹا کے استعمال پر مکمل اختیار حاصل ہو۔ دسمبر میں متعارف ہونے والا ڈيٹا کیئر ایکٹ ایک بہت اچھا ابتدائی قدم ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس کی باریکیوں پر ہوگا۔ اس قانون کے شریک سپانسر الاباما کے سینیٹر ڈگ جونز کہتے ہیں “آن لائن پرائویسی اور سیکورٹی ہر ایک کا بنیادی حق ہے۔”

“ملکیت” کا تصور عام لوگوں کو اس وجہ سے بہت پسند آتا ہے کیونکہ ان کے خیال میں اس کا مطلب اپنے ڈیٹا پر اختیار رکھنا ہے۔ لیکن ڈیٹا کی ملکیت اور اسے “کرایے پر دینے” کی مثال درست نہيں ہے۔ مخصوص ڈیٹا کے استعمال کے اوپر اختیار کے علاوہ اور بھی کئی مسائل ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس ڈیٹا سے معاشرے اور لوگوں پر کیا اثر ہوگا۔ ہم نے جن خاتون کا اس تحریر کی شروع میں تذکرہ کیا تھا، ان کی کہانی سے نہ صرف یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ڈیٹا کے حقوق اہم کیوں ہے، بلکہ یہ بات بھی سامنے آئے گی کہ ان حقوق کی وجہ سے پورے معاشرے کو کس طرح تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔

کل کا کیا بھروسہ؟

یہ جاننے کے لیے کہ ڈیٹا کی ملکیت کا تصور غلط کیوں ہے، اسی تحریر پر غور کریں۔ اسے انٹرنیٹ پر کھول کر پڑھنے کے عمل میں ہی آپ کے براؤزر کی ہسٹری، آپ کے براؤزر پر اس ویب سائٹ کی طرف سے بھیجی جانے والی کوکیز، اور آپ کے آئی پی ایثریس کی طرف سے ویب سائٹ کے سرور کے ریکارڈ میں تبدیلی کی شکل میں کچھ ڈیٹا تخلیق ہوا ہے۔ آپ انٹرنیٹ پر جو بھی کرتے ہيں، اس سے ایک “ڈیجیٹل سایہ” پیدا ہوتا ہے، جس سے جان چھڑانا ناممکن ہے، اور حقیقی دنیا میں دھوپ سے پیدا ہونے والے سایوں کی طرح آپ کو ان ڈیجیٹل سایوں پر بھی کوئی اختیار نہيں ہے۔

بذات خود آپ کے ڈیٹا کی کوئی اہمیت نہيں ہے۔ لیکن اگر اسے ہزاروں لوگوں کے ڈیٹا کے ساتھ دیکھا جائے، تو الگارتھمز کی مدد سے اس ڈیٹا سے آپ کی زندگی کے ہر پہلو کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔ کسی غیرمنصفانہ الگارتھم کی ناقص تربیت کی وجہ سے آپ کی غلط طور پر زمرہ بندی ہونے کی صورت میں آپ کو ڈیٹا کی ملکیت سونپنے سے الگارتھم درست نہيں ہوگا۔ الگارتھم سے متاثر ہونے کا واحد طریقہ یہی کہ آپ کبھی بھی کسی کو بھی اپنے ڈیٹا تک رسائی فراہم نہ کریں۔ لیکن اپنے متعلق ڈیٹا کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے باوجود بھی دوسرے افراد کے متعلق وافر مقدار میں ڈيٹا رکھنے والی حکومتیں اور کمپنیاں آپ کے بارے میں بھی رائے قائم کرنے میں کامیاب رہیں گی۔ ڈیٹا حقیقت کی غیرجانبدار طور پر عکاسی نہيں کرسکتا ہے۔ بلکہ ڈیٹا کی تخلیق کاری اور استعمال معاشرے میں طاقت کی تقسیم کا منظر پیش کرتی ہے۔

آپ اپنے ڈیٹا کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے اپنے ڈیٹا کو نجی رکھنے کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے سے آپ بعض دفعہ ڈیٹا کی دستیابی کے فوائد سے محروم رہيں گے۔ مثال کے طور پر، کوئی سمارٹ فون ایپ استعمال کرتے ہوئے گاڑی چلانے کے دوران، آپ کی شیئر کردہ رئیل ٹائم گم نام معلومات کی وجہ سے ٹریفک کے مکمل طور پر درست حالات کا منظر تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ڈیٹا انفرادی طور پر نجی رہتا ہے، یعنی نامعلوم افراد کو یہ نہيں معلوم ہوگا کہ آپ کہاں ہیں، لیکن اس ڈیٹا سے سب ہی کو فائدہ ہوتا ہے۔

اس مثال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مجموعی طور پر ڈیٹا انفرادی ڈیٹا سے کس طرح مختلف ہوسکتا ہے۔ ڈیٹا کی ملکیت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ذاتی ڈيٹا کو اچھے سے ریگولیٹ کرنے کی صورت میں پورے معاشرے کا بھلا ہوگا۔ لیکن یہ بات درست نہيں ہے۔

یہی وجہ سے کہ ڈیٹا کے غلط استعمال سے تعلق رکھنے والے مسائل کی ڈیٹا تک رسائی پر اختیار دینے سے روک تھام ممکن نہيں ہے۔ مثال کے طور پر، امریکہ کے کچھ علاقوں میں جج ایک الگارتھم کی مدد سے تخلیق کردہ “خطرے کے سکور” کی بنیاد پر سزاؤں اور ضمانتوں کے متعلق فیصلے سناتے ہیں۔ ان سافٹ ویئر پروگراموں کی مدد سے مستقبل میں جرائم کے امکان کا حساب لگایا جاتا ہے۔ فرض کریں کہ ایسے ہی کسی الگارتھم کے مطابق آپ کا جرم کا امکان اس وجہ سے 99 فیصد ہو کہ آپ کی طرح کے دوسرے لوگ یہی کرتے ہیں۔ یہ آپ کے لیے ناانصافی ضرور ہے، لیکن قانون ساز اداروں سے اپنا ڈیٹا پوشیدہ رکھنا ممکن نہيں ہے۔ اگر آپ اپنے ڈیٹا کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر بھی دیں تو آپ کسی بھی تنظیم کو اپنے جیسے دوسرے لوگوں کے ڈیٹا کی بنیاد پر آپ کے متعلق کسی قسم کی رائے قائم کرنے سے نہيں روک سکتے ہيں۔

اسی طرح سے ڈیٹا کے غیرمنصفانہ استعمال کی روک تھام کے لیے ڈیٹا تک رسائی کو نہيں بلکہ ڈیٹا کے استعمال کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، امریکہ کے افورڈایبل کیئر ایکٹ کے تحت صحت کے بیمہ پیش کرنے والی کمپنیاں محض اس وجہ سے کسی شخص کو کوریج فراہم کرنے سے انکار یا اس کے لیے زيادہ پریمیم کا مطالبہ نہيں کرسکتی ہیں کہ وہ پہلے سے ہی کسی مرض کا شکار ہے۔ حکومت ان کمپنیوں کو مریضوں کے متعلق ڈیٹا رکھنے سے نہيں، بلکہ اس ڈیٹا کا فائدہ اٹھانے پر پابندی عائد کررہی ہے۔ کوئی بھی شخص کسی بیماری کا شکار ہونے کے متعلق معلومات کی “ملکیت” نہيں رکھتا ہے۔ تاہم اس شخص کے پاس اس مرض کا شکار ہونے کے باوجود منصفانہ سلوک کا حق ضرور حاصل ہے۔

ڈیٹا کے استعمال کے حوالے سے “رضامندی” کے بنیادی اصول کے احترام کی بات کی جاتی ہے۔ لیکن اگر صحت کا بیمہ فراہم کرنے والی کمپنیوں پر حکومت کی طرف سے کوئی پابندی عائد نہ ہوتی تو انفرادی صارفین کے پاس رضامندی فراہم نہ کرنے کی صلاحیت موجود نہيں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کمپنیاں ان صارفین سے زیادہ طاقتور ہيں۔ مختصر یہ کہ رضامندی دینے یا نہ دینے سے کوئی فرق نہيں پڑتا۔

ڈیٹا کے حقوق میں پرائیوسی کا تحفظ بہت ضروری ہے، اور یہ بات یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ پرائیویسی کا مطلب خود کو معاشرے سے چھپائے رکھنا نہيں ہے۔ بلکہ پرائیوسی کا مطلب خود کو تجارت اور حکومتی کنٹرول سے محفوظ رکھنا ہے۔ تاہم ڈیٹا کے حقوق میں پرائیوسی کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں۔ دوسرے حقوق کی طرح ڈیٹا کے حقوق کا بھی بنیادی مقصد انفرادی معاشرے میں رہتے ہوئے انفرادی آزادی کا حصول ہے۔ یہ تفصیلات بنیادی اصولوں پر مشتمل ہونی چاہیے۔ تاہم ان اصولوں کو تشکیل دینے کی کوششیں “اپنی مرضی سے رضامندی” کی شکل اختیار کرلیتی ہيں۔

دنیا بھر میں ایسے واضح اصولوں کی ضرورت ہے جنہیں انفرادی ممالک کے قانونی سسٹمز کے مطابق ڈھالا جاسکے۔ امریکہ میں قانون کے تحت مساوی تحفظ اور “غیرمناسب تلاشی اور تحویل” کی ممانعتیں جیسی آئینی شقيں کافی نہيں ہے۔ مثال کے طور پر، یہ بات ثابت کرنا بہت مشکل ہے کہ کسی شخص کی نقل و حرکت کی مسلسل نگرانی کرنا تلاشی کے زمرے میں آتا ہے، لیکن اس بات سے انکار نہيں کیا جاسکتا ہے کہ اسے واقعی “غیرمناسب تلاش” تصور کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں یہ امید چھوڑ دینی چاہیے کہ ہماری عدالتیں اٹھارہویں صدی کے قوانین کا اکیسیوں صدی کی ٹیکنالوجیز پر اطلاق کرنے میں کامیاب رہيں گی۔

ڈیٹا تحفظ کے کسی بھی قانون میں اس قسم کے حقوق شامل ہونے چاہیے:
– غیرمناسب نگرانی کے خلاف تحفظ کے حق کی خلاف ورزی نہيں کی جائے گی۔
– کسی بھی شخص کے کاموں میں خفیہ طور پر مداخلت نہيں کی جائے گی۔
– ڈیٹا کی بنیاد پر کسی بھی شخص کے خلاف غیرمنصفانہ امتیاز نہيں کیا جائے گا۔

کسی بھی پائیدار اور موثر قانون میں اس کے علاوہ بھی کئی شقیں موجود ہوگی۔ یہ صرف پہلا قدم ہے، اور اس قسم کے دستاویز کے بنیادی اصولوں کی محض چند مثالیں ہیں۔

تاہم اگر ڈیٹا کے حقوق کے تحفظ کے قانون کو غربت اور بے روزگاری کے شکار افراد کی زندگی کو بہتر بنانا ہے، تو درج شدہ حقوق کے تحفظ کے لیے نئے ادارے اور قوانین کی بھی ضرورت پڑے گی۔ حکومت کے لیے ان حقوق کا تحفظ اور حدبندی کرنا بہت ضروری ہے، جس طرح 2018ء کے یورپی جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن میں کیا جارہا ہے۔ ڈیٹا کے حقوق کی اس نئی ساخت میں بورڈز، ڈیٹا کے کواوپریٹوس، اخلاقی ڈیٹا کی سرٹیفکیشن کے طریقہ کار، ڈیٹا کے حقوق میں مہارت رکھنے والے قانون دان، اور عوام کی طرف داری کرنے والے ڈیٹا کے نمائندے شامل ہونا ضروری ہے، جو روزمرہ زندگی پر ڈیٹا کے پیچیدہ اثرات کرنے میں اہم کردار ادا کرسکیں۔

اگر ڈیٹا کے حقوق کا تحفظ نہ ہو تو ہمارا مستقبل کیسا ہوگا؟ ان خاتون کی دوبارہ بات کرتے ہيں جن کا ہم نے پہلے تذکرہ کیا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ انہيں ایک “ناقابل اعتبار اور ڈیپریشن کی شکار خاتون” کہنا غلط ہو۔ ہوسکتا ہے کہ الگارتھم سے غلطی ہوئی ہو، اور یہ خاتون نہ صرف مکمل طور پر صحت مند ہوں بلکہ کام کرنے کی پوری صلاحیت بھی رکھتی ہوں۔ لیکن جیسے جیسے الگارتھمز کی درستی اور ان کے ڈیٹا سیٹس کی سائز میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، ان کی غلطی کے امکان میں بھی کمی ہورہی ہے۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ناانصافی بھی ختم ہورہی ہے؟

اگر یہ خاتون کو صرف تھوڑا سا ہی ڈیپریشن ہو؟ ایک اچھی نوکری مل جانے سے اس ڈیپریشن کا علاج مکمن تھا، لیکن ان کی پروفائل جلد ہی سچ ثابت ہوجاتی ہے۔ نوکری نہ ملنے کی وجہ سے وہ واقعی ڈیپریشن کا شکار ہوجاتی ہیں۔

اگر ڈیٹا کے حقوق کو زیادہ تحفظ حاصل ہوتا تو ان خاتون کا مستقبل کیسا ہوتا؟ وہ اس مطالعے کے لیے رضامند تو ہوجاتیں، لیکن جب وہ اس مطالعے کے شرائط و ضوابط پڑھنے لگتیں، ایک نمائندہ خطرے کی گھنٹی بجا دیتا، جسے کے بعد اس مسئلے کو مقامی ڈیٹا کے حقوق کے بورڈ سے تعلق رکھنے والے آڈیٹرز کی جانب بڑھا دیا جاتا ہے۔ یہ ٹیم اس مطالعے میں استعمال ہونے والے الگارتھم کا معائنہ کرتی، جس کے بعد انہیں اس پروفائلنگ کے متعلق علم ہوجاتا، جسے اس فرضی مستقبل میں غیرقانونی قرار دیا جاچکا ہے۔ ریچل کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بورڈ ان کے ڈیٹا کا غلط استعمال کرنے والی کمپنیوں کے خلاف خود ہی کارروائی کرلے گا۔

آئيں اس مسئلے کا مل کر حل نکالتے ہيں

جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا، “ڈیٹا کی ملکیت” کا تصور غلط ہے۔ آپ زیادہ تر ڈیٹا پر اختیار حاصل نہيں کرسکتے، اور اگر کر بھی لیں تو آپ پھر بھی غیرمنصفانہ سلوک سے محفوظ نہيں رہيں گے۔ تو ڈیٹا کی ملکیت کا تصور اس قدر مقبول کیوں ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ پالیسی اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے لیے “ڈیٹا سے منافع کمانے” کا تصور قابل قبول ہے۔ ان کی نظر میں ڈیٹا یا تو آمدنی کا ذریعہ ہے (مثال کے طور پر، فیس بک میرے متعلق ڈیٹا کی بنیاد پر اشتہارات پیش کرتا ہے)، یا ہماری محنت کا نتیجہ ہے (مثال کے طور پر، مجھے اس ڈیٹا کے عوض رقم دی جانی چاہیے)۔ لیکن یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ ڈیٹا کو پیسوں یا دنیاوی چیزوں کی طرح سمجھنے سے شہریوں، ریاست اور نجی شعبے کے آپس میں تعلقات کا خاکہ تیار نہيں ہوسکتا ہے۔ اگر آپ اکیسویں صدی کے لیے ایک مناسب پالیسی تیار کرنا چاہتے ہيں تو ہمیں ڈیٹا اور اس کے متعلق حقوق کو سمجھنے کے لیے ایک ماڈل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ ماڈل ماحولیات سے متاثر ہوسکتا ہے، جن کے تحت ڈیٹا کو ان گرین ہاؤس گیسز کی طرح ہے جن کی چھوٹی سے مقدار انفرادی طور پر تو بے ضرر ہے، لیکن مجموعی طور پر نہایت خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ زیادہ تر لوگوں کے لیے پرائیوسی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ صاف ہوا۔

اگر کسی کی تھوڑی سی پرائویسی ختم ہو تو نہ تو انہيں احساس ہوگا اور نہ ہی کسی کو نقصان ہوگا، ٹھیک اسی طرح جس طرح ہوا میں کاربن ڈائی آکسائيڈ کی چھوٹی سے مقدار سے کچھ خاص نقصان نہيں ہوتا۔ لیکن مجموعی طور پر، جس طرح گرین ہاؤس گیسز کی بڑی تعداد کی وجہ سے ماحول کو نقصان پہنچتا ہے، اسی طرح پرائیویسی کی نوعیت میں تبدیلی سے معاشرہ بھی تباہ ہوتا ہے۔

اس نقصان کو سمجھنے کے لیے ہمیں ایک نئے ماڈل کی ضرورت ہے، جس میں پس منظر کے ڈيٹا کی وجہ سے ہمارے اپنے اطراف موجود لوگوں کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی پر غور کرنا ہوگا۔ ایسا کرنے کے لیے اس ماڈل کی بنیاد لوگوں کے ڈيٹا کے حقوق اور حکومت کی طرف سے ان حقوق کے تحفظ کے اصولوں پر کھڑی ہونی چاہیے۔

راستے میں بہت مشکلات پیش آئيں گے۔ ڈیٹا کے حقوق سے وابستہ تکنیکی اور قانونی ساخت دونوں ہی بہت پیچیدہ ہیں، اور ان حقوق کے متعلق اتفاق رائے قائم کرنا بہت مشکل ثابت ہوگا۔ اس حقوق کے تحفظ کے لیے نئے قوانین اور ضوابط تشکیل دینا اور بھی مشکل کا ہوگا۔ امریکی کانگریس میں موجودہ مباحثوں کی طرح، مفاد پرست گروپس اور صنعتی ترغیب کاروں کی آپس میں گرما گرم بحث ہوگی۔ مختلف ممالک میں مختلف قسم کے قوانین بنیں گے۔ لیکن جب تک ڈیٹا کے حقوق کی ساخت مضبوط نہيں ہوگی، ایک جمہوری معاشرہ پروان نہيں چڑھ سکے گا۔

تحریر: مارٹن ٹنس (Martin Tisne)

Read in English

Authors
Top