Global Editions

آگے بڑھنے کے لیے سمارٹ ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے

بڑی کمپنیاں ڈيجیٹل صلاحیتوں کے بڑھتے ہوئے فقدان کا فائدہ اٹھا کر اور بھی بڑی ہونے والی ہیں۔

ہماری معیشت میں ایمزان، فیس بک، گوگل، ایپل اور وال مارٹ کے علاوہ ایئر بی اینڈ بی، ٹیسلا اور اوبر جیسی چند بڑی کمپنیوں کو کافی نمایاں مقام حاصل ہے۔ ایسی بڑی کمپنیاں تو ہمیشہ سے ہی رہی ہیں، لیکن آج کل کی کمپنیوں میں کچھ خاص بات ہے، جس کی وجہ سے ماہرین اقتصادیات نے انھیں سپرسٹار کمپنیز کا نام دیا ہے۔ یہ کمپنیاں کئی مختلف صنعتوں میں پھیلی ہوئی ہیں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز استعمال کر کے ایسی مارکیٹ بنانے میں کامیاب ہوگئی ہیں جس میں چند کمپنیوں کا راج ہے۔

ہماری سالانہ Smartest Companies 50 کی فہرست میں ان میں سے کئی کمپنیاں شامل ہیں، لیکن اس فہرست میں صرف سب سے بڑی یا سب سے منافع بخش کمپنیاں نہیں ہیں۔ یہ فہرست ان کمپنیوں پر مشتمل ہے، جو انوویٹو ٹیکنالوجیز استعمال کرکے اپنے کاروبار کو آگے بڑھاتی ہیں۔ اس فہرست کے ذریعے ہم نے ان کمپنیوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی ہے، جو ہمارے اندازے کے مطابق آگے چل کر نمایاں مقام حاصل کرنے والی ہیں۔ ان کمپنیوں میں ایمزان، فیس بک اور گوگل تو شامل ہیں ہی، لیکن اس کے علاوہ کافی نئی کمپنیاں بھی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آج آپ نے ان کا نام نہ سنا ہو، لیکن آگے چل کر یہی کمپنیاں مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجیز کا فائدہ اٹھا کر بہت آگے نکلنے والی ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ ان کا شمار سپرسٹار کمپنیوں میں ہو، لیکن ان کا نئی مارکیٹس پر چھا جانے کا امکان ضرور ہے۔

سپرسٹار کمپنیوں نے موجوہ منظرنامہ تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ ڈیجیٹل کمپنیاں انٹرنیٹ اور بگ ڈيٹا کے ذریعے ویب سرچ اور آن لائن شاپنگ جیسی سہولیات کے علاوہ انقلابی ڈیوائسز فراہم کرکے حد سے زیادہ منافع بخش ثابت ہوچکی ہیں۔

لیکن سپرسٹار کمپنیوں کی فہرست میں صرف انٹرنیٹ کے ذریعے کاروبار کرنے والی کمپنیاں ہی نہیں ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی اور ایم آئی ٹی کی ایک تحقیق کے مطابق، چاہے نقل و حمل ہو یا فنانس، ہر صنعت میں ہی سپرسٹار کمپنیوں، یعنی کسی بھی صنعت کی چار سب سے بڑی کمپنیوں، کا حصہ بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر اقتصادیات اور اس تحقیق کے شریک بانی لارنس کیٹز (Lawrence Katz) کے مطابق سپرسٹار کمپنیوں کے تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان نے پچھلی دہائی میں کئی ممالک کی معیشت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ کمپنیاں ان ممالک میں زيادہ نمایاں کردار ادا کررہی ہیں، جن کی معیشت میں ٹیکنالوجی تیزی سے بدل رہی ہے۔ کیٹز کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف کمپنیاں مختلف رفتار سے نئی ٹیکنالوجیز اپناتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی کمپنی کو کامیاب ہونا ہے تو اسے سمارٹ ہونے کی ضرورت ہے، ورنہ وہ پیچھے رہ جائے گی۔

پہلی نظر میں تو اس کا کوئی نقصان نظر نہیں آتا ہے۔ لیکن اس تحقیق میں حصہ لینے والے ریسرچرز کے مطابق کسی بھی معیشت میں صرف چند ہی کمپنیوں کا نمایاں ہونا بہت پریشان کن بات ہے۔ بیسویں صدی میں کام کرنے والے ملازمین کو بڑھتی ہوئی آمدنی کا متناسب حصہ مل رہا تھا۔ جیسے جیسے معیشت ترقی کرتی تھی، ملازمین کے حصے میں اضافہ ہوتا جاتا تھا۔ تاہم پچھلی چند دہائیوں میں یہ رجحان تبدیل ہونے لگا، اور ملازمین کا حصہ کم ہوتا گیا۔ ایسا کئی ممالک میں ہورہا ہے، لیکن 2000ء کی دہائی میں امریکہ میں یہ رجحان زیادہ نظر آنے لگا۔

ماہرین اقتصدایات کو اس پر بہت حیرت ہوتی ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق اس کی وجہ روبوٹس ہیں، جو انسانوں کی جگہ لے رہے ہیں، لیکن ڈیٹا کو دیکھ کر تو ایسا نہیں لگتا ہے۔ کیٹز اور ان کے ساتھ کام کرنے والے دوسرے ریسرچرز نے سپرسٹار کمپنیوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ جیسے جیسے یہ کمپنیاں بڑی ہوتی جاتی ہیں، اور زیادہ بہتر طور پر ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز استعمال کرنے لگتی ہیں، ملازمین کی ضرورت کم ہوجاتی ہے۔ ان کمپنیوں کا شمار اپنی صنعت کی سب سے بڑی کمپنیوں میں ہونے کی وجہ سے معیشت میں ملازمین کی مجموعی ضرورت کم ہوجاتی ہے۔

ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ان سپرسٹار کمپنیوں کی تنخواہیں بھی سب سے اچھی ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ سے معاشرے کا ایک طبقہ دوسرے طبقوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے امیر ہورہا ہے۔ سٹین فورڈ یونیورسٹی کے ماہر اقتصادیات نیکولس بلوم (Nicholas Bloom) اور ان کے رفقاء کار نے ثابت کیا ہے کہ 1980ء کے بعد سے امریکہ میں ایک تہائی مالی عدم مساوات کی وجہ ان چند بڑی کمپنیوں کے ملازمین کی تنخواہوں کی زیادتی ہے۔ ان کمپنیوں کے اعلی تربیت یافتہ ملازمین کو منافع میں حصہ دیا جاتا ہے، لیکن ان افراد کی تعداد میں متواتر کمی ہورہی ہے۔ کیٹز کہتے ہیں کہ اس صورتحال کا ملک میں پھیلنے والے مالی پریشانی میں بہت بڑا ہاتھ ہے۔

سپرسٹار کمپنیوں کی ترقی معیشت میں نظر آنے والے ایک اور رجحان کی وجہ بن سکتی ہے۔ گزشتہ دہائی میں سافٹ ویئر، ڈیجیٹل ڈیوائسز اور مصنوعی ذہانت اور سیلیکون ویلی میں کام کرنے والی کمپنیوں کے منافعوں کے باوجود امریکہ کے علاوہ دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں اقتصادی ترقی کی رفتار بہت سست ہے۔ اینڈریوز، جو امریکہ کے علاوہ (total factor productivity) کا ذکر کرتے ہیں، جس کا مقصد انوویشن کی پیمائش ہے، لیکن اس کی صورتحال بھی کچھ خاص اچھی نہیں ہے۔ اگر ہائی ٹیک صنعتیں اتنی تیزی سے ترقی کررہی ہیں، تو مجموعی ترقی اس قدر کم کیوں ہے؟

انجمن اقتصادی تعاون و ترقی (Organization for Economic Cooperation and Development) سے وابستہ ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ انھیں اس کا جواب مل گیا ہے۔ تمام صنعتوں کی سب سے بڑی کمپنیوں کی پیداوار میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہی وہ کمپنیاں ہیں جو انٹرنیٹ، سافٹ ویئر اور دیگر ٹیکنالوجیز کے ذریعے اپنے عملیات کو سٹریم لائن کرنے اور نئی مارکیٹس میں داخل ہونے کی کوشش کررہی ہیں۔ تاہم زيادہ تر کمپنیاں نئی ٹیکنالوجیز کا موثر طور پر استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ او ای سی ڈی کے ماہراقتصادیات ڈین انڈریوز (Dan Andrews) کے مطابق ان کمپنیوں کی سست پیداوار پوری معیشت کو متاثر کررہی ہیں۔ اینڈروز، جو امریکہ کے علاوہ دیگر 23 ترقی یافتہ ممالک پر نظر ڈالنے والی اس او ای سی ڈی کی تحقیق کے شریک بانی ہیں، کہتے ہیں، "ٹیکنالوجیز کی پیچیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، اور کئی کمپنیوں کے لیے انھیں اپنانا مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔"

او ای سی ڈی کی تحقیق کے نتائج اس لحاظ سے امید افزا ہیں کہ ان سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بڑی کمپنیاں انوویشن سے مستفید ہو کر پیداوار میں اضافہ کرسکتی ہیں۔ تاہم اینڈریوز کہتے ہیں کہ جو کمپنیاں پیچھے رہ گئی ہیں، وہ نئے کاروباری طریقہ کار نہ اپنانے کی وجہ سے نہیں آگے نہیں بڑھ رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس کی وجہ اب تک واضح نہیں ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ معیشت کی نئی ٹیکنالوجیز استعمال کرنے کی رفتار اتنی تیز نہیں ہے جتنی ہم سمجھ رہے تھے۔

ہماری Smartest Companies 50 کی فہرست میں کوئی بھی سست کمپنی نہیں ہے۔ لیکن اینڈریوز کی تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ ہمیں کاروبار کے لیے ایک بہتر ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے، جس میں زیادہ سٹارٹ اپ کمپنیاں پروان چڑھ سکیں۔ آج کل کے دور کی بڑی کمپنیاں آگے نکل رہی ہیں، لیکن اس کا فائدہ کم لوگوں کو ہورہا ہے۔ مصنوعی ذہانت جیسی پیچیدہ ٹیکنالوجیز کاروباری ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں، لیکن انھیں سمجھنا اور ان میں مہارت حاصل کرنا بہت مشکل ہے، جس کی وجہ سے بڑی کمپنیاں دوسروں کو بہت پیچھے چھوڑ جائيں گی۔ نئی کمپنیوں کو ایسی مارکیٹس تخلیق کرنے کے مواقع بھی دستیاب ہوں گے، جو ابھی سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ ہمیں جارحانہ طور پر انوویشن کرنے والی کمپنیوں کی اشد ضرورت ہے۔ Smartest Companies 50 کی فہرست اپنی جگہ، لیکن معلومات اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی دولت کی زیادہ وسیع پیمانے پر تقسیم زيادہ ضروری ہے۔

تحریر: ڈيوڈ روٹ مین (David Rotman)

Read in English

Authors
Top