Global Editions

مارک زکربرگ فیس بک کے مسائل سے آگاہ ہیں

فیس بک کے سی ای او د نیا کے سب سے بڑے سوشل نیٹ ورک کے مسائل کو حل کرنے کے بارے ایک ایسے وقت میں بات چیت کرتے ہیں جب یہ بڑے ڈیٹا اسکینڈل سے گزر رہی ہے۔

لاکھوں لوگوں کے غیر مناسب ڈیٹا شیئر اسکینڈل کے تناظر میں بات کرتے ہوئے فیس بک کےسی ای او مارک زکربرگ نے بدھ کو کہا کہ کمپنی کو اربوں صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کی وسیع ذمہ داری کا احساس ہے ۔ اگرچہ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ان مسائل کے حل کے لئے ان کو مزید دو ایک سال لگیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نےصحافیوں کے ساتھ ایک گھنٹہ طویل کانفرنس کال میں سوال و جواب کے موقع پر کیا۔ یہ کانفرنس کال فیس بک کے ایک بلاگ پوسٹ میں انکشافات کے کچھ گھنٹوں تک بعد منعقد ہوئی جس میں بتایا گیا کہ 87 ملین لوگوں کی معلومات کا ڈیٹا 2016 میں ٹرمپ کی صدارتی مہم کے دوران ایک ڈیٹا بروکر کیمبرج اینالیٹکا (Cambridge Analytica) کے ساتھ شئیر کیا گیا ہے۔ گزشتہ مہینے کیمبرج اینالیٹکا کو فیس بک نے معطل کر دیا جب آبزرور اور نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ فرم نے صارفین کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی ہے جو اسے نہیں ہونی چاہئے۔ فیس بک نے اپنی بلاگ پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ 9 اپریل سے اپنے صارفین کو یہ بتائیں گے کہ ان کی معلومات کمپنی کے ساتھ بھی شائد شئیر تو نہیں کی گئیں۔

کانفرنس کال کے دوران زکر برگ نے اس حوالے سے بھی بات کی کہ کمپنی صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لئے کوشش کررہی ہے جس پر وہ پچھلے سال سے کام کر رہی ہے اور اس کام پر مزید دو سال لگنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیس بک پر پہلے ہی صارفین کی رازداری والے آلات موجود ہیں، کمپنی اپنی وسیع ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے صارفین کو ان لوگوں سے بچانا چاہتی ہے جو ان کے ذاتی ڈیٹا کو استعمال کرکے جعلی خبریں یا نفرت انگیز تقاریر کی تقسیم کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

کانفرنس کال پر بات چیت کے دیگر موضوعات مندرجہ ذیل تھے:

زیکربرگ نے کہا کہ بدھ کو جاری ہونے والے کیمبرج اینالیٹیکا ڈیٹا کی خلاف ورزی میں 87 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں، ایک محتاط تخمینہ ہے۔ ( پچھلی رپورٹوں میں یہ تخمینہ 50 ملین تھا) ایک سوال کے جواب میں کہ کس طرح فیس بک انتخابات میں کمپنی کی مداخلت کو روکنے پر کام کر رہی ہے کیونکہ ہم اب جانتے ہیں کہ ماضی میں ایسا ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ فیس بک میں سیکورٹی کے امور اور موادکا جائزہ لینے کے لئے 15,000 افراد کام کر رہے ہیں اور یہ تعداد 2018 کے اختتام تک 20,000ہو جائے گی۔

زیکربرگ 11اپریل کو امریکی ہاؤس انرجی اور کامرس کمیٹی کے سامنے گواہی دینے کا ارادہ رکھتا ہے کہ کس طرح اس کی کمپنی صارفین کی معلومات کو محفوظ ر کھتی ہے،زیکربرگ نے مزید کہا کہ وہ دوسرے ملکوں میں اضافی سوالات کا جواب دینے کےلئے فیس بک کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر مائیک شروپفر (Mike Schroepfer) یا فیس بک کے چیف پراڈکٹ آفیسر کرس کاکس(Chris Cox) کو بھیجیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی ایک طرح کے سکور کارڈ پر کام کر رہی ہے تا کہ اس مواد کی پیمائش کر سکے جو یہ ہٹانا چاہتی ہے جیسا کہ جعلی خبریں اور نفرت انگیز تقاریر۔ زاکر برگ کو امید ہے کہ اس چیز کو وہ دوسرے آن لائن پلیٹ فارم کو بھی استعمال کے لئے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مارچ میں کیمبرج اینا لیٹکا سیکنڈل بریک ہو نے کے بعد سے لیکر اب تک کمپنی نے کوئی بامعنی اثر نہیں دیکھا یعنی صارفین یا اشتہاری کمپنیاں فیس بک سے ہٹ رہی ہوں۔ اس کے باوجود بھی سوشل میڈیا پر احتجاج جیسا کہ ہیش ٹیگ 'ڈیلیٹ فیس بک' نے وسیع پیمانے پر اعتماد کو ٹھیس پہنچایا ہے، نے ہمیں مجبور کیا ہے کہ ہم اس اعتماد کو ٹھیک کرنے کے لئے کام کریں۔

ایک رپورٹ کے باوجود کہ وہ وہ یورپ سے باہر یورپی یونین کے سخت ڈیٹا پر و ٹیکشن قانو ن پر عمل کرنے کے لئے وعدہ نہیں کرتے، ز اکربرگ نے کہا کہ کمپنی کا مقصد ہر جگہ رازداری کو محفوظ بنانا ہے نہ کہ صرف یورپی یونین میں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس طرح اپنی ذاتی رازداری کو آن لائن محفوظ بناتا ہے، زکربرگ نے کسی حد تک مذاق میں خود کو "انٹرنیٹ کےطاقتور صارف" کے طور پر بیان کرتے ہوئے اس سوال کے جواب میں تفصیل سے گریز کیا اور لوگوں کومشورہ دیا کہ وہ سیکورٹی کے بہترین طریقوں پر عمل کریں جیسا کہ باقاعدگی سے پاس ورڈ تبدیل کریں اور دو عددی تصدیق کو یقینی بنائیں۔

تحریر: رچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top