Global Editions

انٹرنیٹ پر آزادی ختم ہوتی جارہی ہے اور اس کی وجہ سوشل میڈيا ہے

تھنک ٹینک فری ڈم ہاؤس (Freedom House) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں حکومتیں سوشل میڈيا کے ذریعے انتخابات کے نتائج تبدیل کرنے اور شہریوں کی جاسوسی کرنے کے لیے سوشل میڈيا کا استعمال کررہی ہیں۔ 65 ممالک پر مشتمل ان کے تجزیے کے مطابق پچھلے نو سالوں سے انٹرنیٹ پر اظہار خیال کی آزادی میں کمی آرہی ہے۔

ایک نیا خطرہ: لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے جان بوجھ کر جاری کردہ غلط معلومات کے باعث پچھلے سال جن 30 ممالک میں عام انتخابات منعقد ہوئے تھے ان میں سے 26 ممالک میں انتخابات کے نتائج متاثر ہوئے تھے۔ ابھی بھی انٹرنیٹ پر پابندیوں اور سینسرشپ کا سلسلہ جاری ہے لیکن فری ڈم ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق کئی حکومتوں کے لیے فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اور یوٹیوب جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے پروپیگنڈا پھیلانا زيادہ آسان ثابت ہوتا ہے۔

کچھ اعداد و شمار: جن 65 ممالک کا مطالعہ کیا گيا تھا، ان میں سے 50 فیصد ممالک میں انٹرنیٹ سے وابستہ آزادی میں کمی سامنے آئی، جبکہ صرف 16 ممالک میں اس آزادی میں اضافہ نظر آیا۔ ان میں سے بیشتر ممالک میں سوشل میڈیا کی نگرانی کرنے والے پروگرامز کا استعمال کیا گیا تھا، جبکہ 47 ممالک میں انٹرنیٹ پر سیاسی یا مذہبی بیانات کی بنیاد پر متعدد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

ایک اچھی مثال: پچھلے سال آن لائن اظہار خیال کی بنیاد پر صارفین کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے آئس لینڈ کو انٹرنیٹ آزادی کا بہترین محافظ قرار دیا گیا۔ فري ڈم ہاؤس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ تک رسائی موجود ہونے کے علاوہ آئس لینڈ میں صارفین کے حقوق کو تحفظ حاصل ہے اور مشمولات پر پابندیاں نہ ہونے کے برابر ہيں۔ ایسٹونیا اور کینیڈا بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ توقعات کے عین مطابق، چین میں انٹرنیٹ کی آزادی سب سے کم رہی۔

اس کے بارے میں کیا کیا جاسکتا ہے؟ فری ڈم ہاؤس کے ریسرچ ڈائریکٹر ایڈرین شہباز (Adrian Shahbaz) کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی آزادی کا مستقبل سوشل میڈیا کی خامیاں کم کرنے پر منحصر ہے۔ ان کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تمام بڑی ٹیک کمپنیوں کی امریکہ میں موجودگی کی وجہ سے ضروری ہے کہ اس مسئلے کے حل کی ابتداء بھی امریکہ ہی سے کی جائے۔ نیز، اس رپورٹ میں آن لائن سیاسی اشتہارات کی شفافیت اور نگرانی میں اضافے، ڈیٹا کی پرائیوسی کے قوانین کو مزيد سخت بنانے، اور قانون نافذ کرنے والے حکام کی طرف سے سوشل میڈيا کی نگرانی کرنے والے ٹولز کے استعمال پر پابندیاں عائد کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

بروقت تنبیہہ: فیس بک کواس وقت سیاست دانوں کو جھوٹی خبروں پر مشتمل اشتہارات چلانے کی اجازت دینے کی وجہ سے بہت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ حال ہی میں ٹوئیٹر کے سیاسی اشتہارات پر مکمل طور پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کے بعد فیس بک پر مزید دباؤ پڑنا شروع ہوگیا ہے۔ مثال کے طور پر، برطانیہ میں دسمبر 12 کو منعقد ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کو  سوشل میڈیا کے ذریعے متاثر کرنے کے متعلق خدشات موجود ہيں۔ فری ڈم ہاؤس نے انتباہ دیا ہے کہ اگر کوئی اقدام نہيں کیے گئے تو صورتحال بد سے بدتر ہوتی جائے گی۔

تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Jee)

تصویر: ایسوسی ایٹڈ پریس (Associated Press)

Read in English

Authors

*

Top