Global Editions

انٹل کے نئے منصوبے

چِپ بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی انٹیل (Intel)کا کہنا ہے کہ اب کمپیوٹرز کو مختلف طریقے سے بنانے کا وقت آگیاہے۔ اپریل میں کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے 12000ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کر رہی ہے ، اس کے علاوہ موبائل آلات کی چِپ بنانا بھی بند کررہی ہے اور کمپنی کو چھوٹے ٹرانزسٹرز بنانے میں بھی اپنی رفتار کم کرنی پڑے گی کیونکہ اب انٹل کی توجہ ڈیٹا ذخیرہ کرنے کی نئی ڈسک پر منتقل ہو گئی ہے۔ اس مقصد کیلئے انٹل کے ایگزیکٹوز نے ڈیٹا ذخیرہ کرنے کیلئے حال ہی میں دو نئی ٹیکنالوجیز متعارف کروائی ہیں جن سے کمپیوٹرز کو بنانے کا طریقہ کار بدل سکتا ہے۔ اسی لئے انٹل کو نئی مارکیٹوں کی ضرورت ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بڑے ڈیٹا سینٹرز میں نئی ٹیکنالوجی کو اختیار کیا جارہا ہے جو موبائل ایپلی کیشن، ویب سائیٹس چلا رہے ہیں اور مصنوعی ذہانت میں نئے آئیڈیاز متعارف کروارہے ہیں۔ انٹل کی ڈیٹا ذخیرہ کرنے کی نئی ٹیکنالوجی ہے جو فلیش ڈرائیو سے زیادہ تیز تر کارکردگی کی حامل ہے۔ انٹل نے مائیکون (Micon)کمپنی کی تھری ڈی ایکس پوائنٹ ٹیکنالوجی کے اشتراک سے اس نئی ٹیکنالوجی کی کو اوپٹین (Optane) کا نام دیا ہے انٹل نے ابھی یہ تو نہیں بتایا کہ تھری ڈی ایکس پوائنٹ ٹیکنالوجی کام کیسے کرتی ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں شیشے کی شکل والے مٹیریل پر حدت کی مدد سے ڈیٹا سٹور کیا جاتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں فلیش ڈسک کو کمپنیوں نے بڑی گرمجوشی سے قبول کیا۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی میں سینٹرفار ریسرچ ان سٹوریج سسٹم میں پروفیسر ایتھان ملر (Ethan Miller)کہتے ہیں کہ انٹل اور مائیکون ٹیکنالوجی ڈیٹا ذخیرہ کرنے کیلئے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گی۔ مثلاً اوپٹین میموری چِپس سے سرچ انجنز اور سوشل نیٹ ورک کو بہترین انداز میں چلانے کیلئے کے قیمتی ڈیٹا کو محفوظ کرنے مراکز بھی بنائے جا سکتے ہیں ۔ فیس بک جیسی کمپنیاں اس کیلئے بخوشی ادائیگی کرنے کیلئے تیار ہوں گی۔ اوپٹین چِپ کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اگر پاور بند بھی کردی جائے تب بھی ان پر ڈیٹا محفوظ رہے گا۔ اسی لئے کہا جاسکتا ہے کہ انٹل نے کمپیوٹر سے کمپیوٹر تک تیز تر ڈیٹا منتقلی کو ممکن بنایا۔ انٹل نے نہایت چھوٹے بِلٹ ان لیزر کے ساتھ سلیکون مائیکرو چِپ کی پیداوار شروع کردی ہے تاکہ کچھ ڈیٹا سینٹرز میں کاپر کیبلز تبدیل کرکے فائبر آپٹک لگائی جاسکے۔انٹل ٹیکنالوجی میں اب اتنی اہلیت ہے کہ یہ ایک ملی میٹر والی فائبر آپٹیک پر 100گیگا بائیٹ ڈیٹا فی سیکنڈ منتقل کرسکتی ہے۔

تحریر: ٹام سیمونائیٹ (Tom Samonite)

Read in English

Authors
Top