Global Editions

ایک ہی مصنوعی ٹیکنالوجی سے خوبصورت تصویریں اور جعلی ویڈیو کس طرح بنائی جاسکتی ہیں؟

ایک طرف تو جنریٹو ایڈورسیریل نیٹورکس، یعنی GAN سے جدت پسندی پروان چڑھ رہی ہے، لیکن ساتھ ہی تنازعات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ لیکن یہ سب کیسے ممکن ہے؟

آج کی تحریر شروع کرنے سے پہلے مصنوعی ذہانت کے چند بنیادی اصولوں پر نظر ڈالتے ہيں:

● مصنوعی ذہانت کی بیشتر پیش رفت اور ایپلیکیشنز مشین لرننگ نامی الگارتھم پر انحصار کرتی ہیں جو ڈیٹا کے پیٹرنز تلاش کرکے ان کا دوبارہ اطلاق کرتی ہيں۔
● ڈیپ لرننگ مشین لرننگ کا ایک زمرہ ہےجس میں نیورل نیٹورکس کی مدد سے چھوٹے سے چھوٹے پیٹرنز تلاش کرکے انہيں بڑا کیا جاتا ہے۔
● نیورل نیٹورکز سے مراد غیرپیچیدہ کمپیوٹیشنل نوڈز ہیں جو انسانی دماغ میں موجود نیورنز کی طرح ڈيٹا کا تجزیہ کرتے ہيں۔

اب مزے کی بات یہ ہے کہ ایک نیورل نیٹورک کا استعمال پیٹرن سیکھنے کے لیے کافی ہے لیکن دو استعمال کرنے سے نئے پیٹرنز بنائے جاسکتے ہیں۔ اور یہیں سے جینریٹو ایڈورسریل نیٹورکس، یعنی GAN، کی کہانی شروع ہوتی ہے۔

GAN ہماری ثقافت کا اہم حصے بنتے جارہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی سے تیار کردہ تصاویر آرٹ گیلریوں میں فروخت ہوچکی ہيں۔ لیکن دوسری طرف یہ ٹیکنالوجی ڈیپ فیکس (deepfakes) نامی جعلی ڈیجیٹل تصاویر کی بھی ذمہ دار ہے۔

یہ پیش رفت دو نیورل نیٹورکز کے ایک ساتھ یا ایک دوسرے کے خلاف کام کرنے کا نتیجہ ہے۔ سب سے پہلے دونوں نیورل نیٹورکس کو وافر مقدار میں تربیتی ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے، جس کے بعد دونوں کو الگ الگ ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں۔ پہلے نیٹورک کو جنریٹر کہا جاتا ہے اور اس کا کام تربیتی ڈيٹا کو دیکھنے کے بعد اس کی نقل کرتے ہوئے لکھائی، ویڈيوز، یا آوازوں جیسے مصنوعی نتائج پیدا کرنا ہے۔ دوسرے نیٹورک کو ڈسکریمینیٹر کہا جاتا ہے اور اس کا کام ان نتائج کا تربیتی ڈیٹا کے ساتھ موازنہ کرکے یہ متعین کرنا ہے کہ کیا یہ اصلی ہیں یا نقلی؟

ڈسکریمینیٹر کے نتائج کو مسترد کرنے کے بعد، جنریٹر دوبارہ نتیجہ تیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے جب تک ڈسکریمینیٹر اصلی تصویر اور اس کی نقل کے درمیان فرق نہيں کرپاتا۔ یعنی حقیقی تصویر اور نقل کے درمیان کوئی فرق کرنا ناممکن ہے۔

اب یہ بات سمجھنا آسان ہے کہ GAN کی مدد سے دنیا بیک وقت خوبصورت اور بدصورت کس طرح ہوسکتی ہے۔ ایک طرف میڈیا اور دیگر ڈيٹا پیٹرز کا تجزیہ فوٹو ایڈیٹنگ، اینیمیشن، اور طب (مثال کے طور پر طبی تصاویر کے معیار کو بہتر بنانے اور مریضوں سے حاصل کردہ ڈیٹا کی کمی کو پورا کرنے کے لیے) کے شعبے میں بہت کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اس ٹیکنالوجی سے نہایت خوبصورت تصاویر بھی بنائی جاسکتی ہيں۔

تاہم دوسری طرف GAN کو خطرناک اور غیراخلاقی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی کی شکل غیراخلاقی تصاویر میں متعارف کرنے کے لیے، بیرک اوباما سے کچھ بھی کہلوانے کے لیے، یا جیسا کہ نیو یارک یونیورسٹی اور میشیگن سٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے حال ہی میں ثابت کیا ہے، کسی بھی شخص کے جعلی انگلیوں کے نشانات اور دیگر بائیومیٹرک ڈیٹا بنانے کے لیے۔

شکر ہے اس وقت GANs کی صلاحیتیں کچھ حد تک محدود ہیں۔ حقیقت سے ملتی جلتی تصویریں تیار کرنے کے لیے ڈیٹا کی وافر مقدار کے علاوہ اس ڈیٹا کا مخصوص ہونا بھی ضروری ہے۔ مثال کے طور ضروری ہے کہ سسٹم کو ایک مخصوص نسل کے مینڈک فراہم کیے جائيں جن کا رخ ایک ہی طرف ہو۔ اگر اسے اس قسم کا ڈیٹا فراہم نہ کیا گيا تو تخلیق کردہ مینڈک کی شکل نہایت عجیب و غریب ہوگی۔

تاہم ماہرین کو اس بات کی فکر ہے کہ ہم سے صرف GANs کی ابتداء ہی دیکھی ہے۔ جیسے جیسے الگارتھمز بہتر ہوتے جائيں گے، تصاویر اور ویڈیوز حقیقت سے قریب ہوتی جائيں گے۔ ڈیجیٹل امیج فارینزکس کے ماہر ہانی فرید کے مطابق ہم اس مسئلے کے حل کے لیے تیار نہيں ہيں۔

تحریر: کیرن ہاؤ (Karen Hao)

Read in English

Authors

*

Top