Global Editions

پاکستان کی پہلی سٹرنگ تھیورسٹ۔۔۔۔ تسنیم زہراحسین

تسنیم زہرا حسین پاکستان کی نمایاں سائنسدان ہونے کے ساتھ ساتھ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے سٹرنگ تھیورسٹ کے طور پر اپنی کارکردگی کا لوہا منوایا۔ تسنیم زہرا حسین کے حالات زندگی پر نظر دوڑانے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ ’’سٹرنگ تھیوری‘‘ کا مفہوم کیا ہے۔ طبعیات میں سٹرنگ تھیوری یعنی کڑی دار نظریہ ایک ایسے نظریاتی فریم ورک کو قرار دیا جاتا ہے جس میں عملی طبعیات کے نہایت کے چھوٹے اجزاء کو یک جہتی اجسام میں اس طرح تبدیل کیا جائے یا ان کی اس طرح ترتیب لگائی جائے کہ وہ ایک کڑی دار سلسلہ بن جائے۔ اس سلسلے کو دیکھ کر یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ یہ یک جہتی اجسام کس طرح سپیس یعنی مکاں میں پروپوگیٹ کرتے ہوئے باہم رابطہ رکھتے ہیں۔ تسنیم زہرا پاکستان کی پہلی خاتون سائنسدان ہیں جنہوں نے صرف چھبیس سال کی عمر میں پاکستان کی پہلی سٹرنگ تھیورسٹ ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ان کی حال ہی میں شائع ہونے والی ایک کتاب میں طبعیات کے شعبے میں ہونے والی بڑی بریک تھروز کو ایک طویل تھریڈ کی شکل میں شائع کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو ان ایجادات اور اس ضمن میں ہونے والی سائنسی تحقیق سے آگاہی حاصل ہو سکے۔

تسنیم زہرا ایک مشہور سائنسدان، رائٹر اور استاد ہیں۔ انہوں نے ریاضی اور طبعیات میں بیچلر ڈگری کنیرڈ کالج سے حاصل کی اور قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے طبعیات میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انہیں بعدازاں ڈاکٹر عبدالسلام انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوراٹیکل فزکس کی جانب سے ہائی انرجی فزکس کے شعبے میں پی ایچ ڈی کے لئے سکالر شپ حاصل ہوا اور انہوں نے سٹاک ہوم یونیورسٹی سے اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی۔ پھر انہوں نے پوسٹ ڈاکٹرول ریسرچ ہاروڈ یونیورسٹی سے مکمل کی۔ اس وقت وہ لاہور سکول آف سائنس اینڈ انجئیرنگ لمز میں فیکلٹی ممبر بھی ہیں۔

تدریسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تسنیم زہرا نے نوبل Laureates میں پاکستان کی نمائندگی کی جو جرمنی کے شہر Lindau میں منعقد ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ تسنیم زہرا کئی بین الاقوامی جرائد اور اخبارات کے لئے بھی لکھتی ہیں جن میں ایوارڈ یافتہ بلاگ www.3quarksdaily.com بھی شامل ہے۔تسنیم زہرا سے TR پاکستان نے حال ہی میں ایک ملاقات کی جس میں ان کی زندگی کے کئی پہلوؤں ،ان کی تدریس، تحقیق اور ملک میں تھیوریٹکل فزکس کے شعبے میں ہونے والے کام پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔

کتابوں، محبتوں اور قہقہوں میں گزرا بچپن

میرے والدین بہت پیار کرنے والے اور مددگار تھے اور انہوں نے بچوں کی صلاحیتوں کو ابھارنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ میرے والد نے میری ہمیشہ حوصلہ افزائی کی اور میرے پراجیکٹس کو مکمل کرانے میں میرا ہمیشہ ساتھ دیا اور میری رہنمائی کی۔ میری والدہ نے تو میرے ساتھ اس وقت سے ہی سائنس کی باتیں کرنا شروع کر دی تھیں جب مجھے صحیح طرح سے بولنا بھی نہیں آتا تھا۔

80 کی دہائی میں پاکستان میں اتنے زیادہ بک سٹورز نہیں ہوتے تھے۔ میرے خیال میں تین یا چار بک سٹورز تھے جن میں انیس بک سٹور اور اقبال بک سٹور شامل ہیں اور یہاں بھی پڑھنے سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے کتابوں کی وسیع رینج دستیاب نہیں ہوتی تھی۔صرف نصابی کتب اور کلاسک کتب ہی دستیاب ہوتی تھیں۔ میرے والدین کو پڑھنے کا بہت شوق تھا اور انکی ذاتی لائبریری میں کتب کی وسیع کلیکشن موجود تھی۔ مختصر یہ کہ ہمیں بچپن سے ہی کتابیں پڑھنے کو ملیں۔

غیر روایتی تعلیم

مجھے سکول جانا پسند تھا اور اس کے ساتھ ساتھ میں گھر میں موجود کتابوں سے بھی استفادہ حاصل کرتی رہتی تھی۔ تاہم پھر نصاب سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگی؎، ایک روز اس حوالے سے میں نے اپنے والد سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ اگر تم اکتاہٹ محسوس کر رہی ہو تو سکول چھوڑ دو اور او لیول کے امتحان کی تیاری کرو، میں نے ایسا ہی کیا اور گھر بیٹھ کر او لیول کی تیاری کی میں نے تیرہ سال کی عمر میں او لیول اور پندرہ سال کی عمر میں اے لیول کا امتحان پاس کیا۔ اس تمام عمل نے میری صلاحیتوں کو جلا بخشی اور یہ تجربہ میری آئندہ تعلیم کے لئے بہت مفید ثابت ہوا۔

سائنس میں بڑھتی دلچسپی

میرے والدین سائنس میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے تھے دونوں آرٹس میں فارغ التحصیل تھے مگر میری سائنس میں دلچسپی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے میری بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ میں بچپن سے ہی سائنس میں دلچسپی رکھتی تھی۔ مجھے ریاضی کی لاجکس سمجھنے میں بہت دلچسپی تھی۔ اسی طرح طبعیات میں بھی میری دلچسپی بڑھتی گئی پھر جس طرح میں تعلیم حاصل کرتی گئی مجھے طبعیات کے بنیادی سوالات میں دلچسپی بڑھتی چلی گئی، بنیادی سوالات کیا ہیں؟ تھیوری یا نظریہ کس طرح تخلیق پاتا ہے اور کسی بھی تھیوری کی میتھمیٹکل مکینکس کیا ہیں۔ ان سوالات سے متاثر ہو کر میں ان کے جوابات تلاش کرتی تھی اور علم میں اضافہ کرتی رہتی تھی اور اس طرح طبعیات میں میری دلچسپی بڑھتی چلی گئی۔

سٹرنگ تھیوری میں دلچسپی

جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ میری طبعیات کے بنیادی سوالات میں دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی اور میں اس دلچسپی سے متاثر ہو کر بنیادی سوالات ان کے سٹرکچر، ان کے بنیادی اجزائے علت کے بارے میں جاننے کی تگ ودو شروع ہو گئی۔ اپنی تعلیم کے دوران بھی میں ہر مضمون کے بنیادی نکات کو سمجھنے کی کوشش کرتی رہی اور ان میں چھپی مماثلت کو تلاش کرتی رہی۔ سٹرنگ تھیوری بھی ایسی ہی تھی جس کے بارے میں جاننا میرا تجسس بن گیا اور میں اس میں لگن میں آگے بڑھتی چلی گئی۔ کڑی سے کڑی جوڑنا یہ ایک ایسا نظریہ ہے جس سے بنیادی سوالات کا جواب تلاش کیا جا سکتا ہے اور اسے ہی سٹرنگ تھیوری کہا جاتا ہے، اب چاہے زندگی ہو یا طبعیات کڑی سے کڑی جوڑتے جائیں سوالات کے جوابات ملتے جائیں گے۔

آئن سٹائن کا ثقلی لہروں کے بارے میں نظریہ

طبعیات میں ہر نظریے کا آغاز مفروضوں پر ہوتا ہے اور پھر آپ ان مفروضوں کو ریاضی کے اصول وضوابط کے تحت کسی فریم ورک کی شکل دیتے ہوئے نظریے کی شکل میں ڈھالتے ہیں۔ یقینی طور پر اس کے لئے آپکو کسی منطق کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرین طبعیات کا کہنا ہے کہ تھیوری میں وہ سب کچھ ہوتا ہے جو ہمارے علم سے زیادہ ہوتا ہے۔

درحقیقت یہ سائنس کی سب سے زیادہ دلچسپ جہت ہے۔ آپ کسی مفروضے پر کام شروع کرتے ہیں اور آپکو اس کے فوری مضمرات کے بارے میں بھی آگاہی نہیں ہوتی تاہم جب آپ ان مفروضوں کو جانچنے کے لئے حسابی طریقوں کو ایپلائی کرتے ہیں تو آپ ان مفروضوں کو مبنی بر حقیقت بنانے کے لئے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں پھر وہ سچائیاں بھی آپکے سامنے آنا شروع ہو جاتی ہیں جن سے آپ آگاہ ہی نہیں ہوتے۔

مثال کے طور پر آپ نے رواں برس کے آغاز میں ثقلی لہروں کے بارے میں سنا ہو گا۔ معروف سائنسدان آئن سٹائن نے اس حوالے سے ایک سو سال قبل نظریہ اضافت پیش کیا تھا اور ثقلی لہریں اس نظریے کے حوالے سے بنائی جانیوالی مساوات کا نتیجہ قرار پاتی ہیں۔ اس وقت ہمیں یہ خیال نہیں تھا کہ ایسا کچھ تھا مگر اب سائنس نے ثابت کر دیا کہ ثقلی لہریں ایک حقیقت ہیں۔

پاکستان میں تحقیقی سرگرمیوں کا مستقبل

بدقسمتی سے ہم دنیا بھر میں تحقیق کے شعبے میں تھوڑی سی بھی شناخت نہیں رکھتے۔ پاکستان میں سائنس کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ یہاں تحقیق کے کلچر کو پروان چڑھایا جائے اور یہ افسوس کا مقام ہے کہ اس وقت تک ہم اس سمت میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھا رہے۔ اگر آپ پی ایچ ڈی کے لئے ریسرچ کو اہمیت نہیں دینگے تو کبھی بھی نئی راہیں نہیں کھلیں گی۔دس برس قبل پاکستان میں سڑنگ تھیورسسٹ کی تعداد محض چار تھی۔ ان میں سے اس وقت کوئی بھی پاکستان میں نہیں ہے۔

اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں کہ جن ممالک میں وسائل کی کمی تھی وہاں بھی سائنسی تحقیق کے شعبے کو پروان چڑھایا گیا۔ آپ بھارت کی ہی مثال لے لیجئے وہاں بے مثال تعلیمی ادارے موجود ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہاں بہترین تحقیقی ادارے بھی موجود ہیں خاص طور پر سڑنگ تھیوری کے حوالے سے بھی وہاں تحقیقی ادارے موجود ہیں۔

جس وقت میں ہارورڈ یونیورسٹی میں پوسٹ پی ایچ ڈی میں مصروف تھی تو اس وقت بھی وہاں کئی بھارتی اسسٹنٹ پروفیسر موجود تھے ان میں سے کئی افراد واپس بھارت چلے گئے اور اب ایک دہائی گزر چکی ہے وہ اپنے ملک میں موجود ہیں۔ وہ اپنی تحقیق چھاپ رہے ہیں اور انکا کیرئیر اور ساکھ اس وجہ سے متاثر نہیں ہوا کہ وہ بھارت میں موجود ہیں ان کی ساکھ بہتر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بھارت میں نمایاں تحقیقی ادارے موجود ہیں اور وہاں تحقیقی عمل کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ تحقیقی کلچر موجود ہے۔

تسنیم زہرا کا کہنا تھا کہ تحقیقی کلچر کو پروان چڑھانا اتنا بھی مشکل امر نہیں اس کے لئے ادارہ جاتی اور سیاسی عزم درکار ہے اس کے ساتھ ساتھ رویوں میں بھی بہتری کی ضرورت ہے۔ آپ اندازہ لگائیے کہ اب بھی مجھ سے اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ ’’اب آپ اس سٹرنگ تھیوری کی مدد سے کیا کرینگی؟‘‘ اور اس طرح کے سوالات آپ میں مایوسی پیدا کرتے ہیں کیونکہ اس طرح کے سوالات کے جواب میں آپ کو تفصیلات بتانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کرنا پڑتا ہے کہ آپ جو کچھ کر رہے ہیں وہ درست ہے۔

سیاستدان صرف انتخابات کے لئے قلیل المدت اقدامات پر غور کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ دیکھ لیں کہ قیام پاکستان کو سات دہائیاں گزرنے والی ہیں اور ہم آج کہآں کھڑے ہیں۔ آپ صحت اور تعلیم کے شعبے کو دیکھ لیں ہم آج بھی اسی مقام پر ہیں جہاں کئی دہائیاں پہلے موجود تھے۔
لوگوں کے مسائل بھی ویسے ہی ہیں لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں صاف پانی نہیں مل رہا۔ تم سٹرنگ تھیوری کیوں کر رہی ہو؟ ہمیں اس سے کیا حاصل ہو گا؟ ہمارے ملک میں اس طرح کے اور بھی مسائل ہیں آپ لٹریچر، نثر یا شعر نہیں لکھ سکتے۔

اس وقت پاکستان ماضی کے مقابلے میں زیادہ بہتر مقام پر ہے۔ اس وقت پہلے سے زیادہ وسائل موجود ہیں، کئی طرح کی عالمی سکالرشپس میسر ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب لوگوں کو ان مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

طویل کڑی دار سلسلہ

اس وقت کئی طرح کی سائنسی کتب دستیاب ہیں ان میں سے کچھ کتب ماہرین کی جانب سے تحریر کردہ ہیں اور چند ماہرین کی جانب سے نہیں لکھی گئیں۔ اس صورتحال میں میں نے فکشن کے طور پر کتاب تحریر کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ لوگ بھی اس سے مستفید ہو سکیں جو سائنسی کتب پڑھنا پسند نہیں کرتے یا انہیں سائنسی کتب سمجھ میں ہی نہیں آتی۔

میری کتاب کا عنوان معروف ماہر طبعیات اور معروف لکھاری رچرڈ پی فینمین Richard P. Feynman کے قول سے ماخوذ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’قدرت اپنے طے شدہ پیٹرن کو ترتیب دینے کے لئے طویل سلسلے کو بروئے کار لاتی ہے چنانچہ اس سلسلے کی ہر کڑی اس تنظیم کے پورے سلسلے کا راز عیاں کر سکتی ہے۔‘‘

یہ کتاب میری پہلی کاوش ہے تاکہ لوگ واضح انداز میں سٹرنگ تھیوری کو سمجھ سکیں۔

تحریر: ماہ رخ سرور (Mahrukh Sarwar)

Read in English

Authors
Top