Global Editions

اردن میں بلاک چین پر چلنے والے ایک پناہ گزین کیمپ کی کہانی

اب گھر سے فرار ہونے والے شامی پناہ گزین اپنی کھوئی ہوئی قومی شناختیں دوبارہ حاصل کرسکتے ہيں۔

مہینے میں چند بار، بسام ایک اشیائے ضرورت کی دکان کا چکر لگاتے ہیں، جہاں شیلفوں پر چاول کی تھیلیاں، تازہ پھل سبزیاں اور دیگر اشیائے خورونوش دستیاب ہيں۔ آج انہوں نے ایک کالے رنگ کا سویٹر اور ڈینم کی جینز پہن رکھی ہيں، اور ان کے جوتوں پر مٹی کی ایک موٹی تہہ نظر آرہی ہے۔ وہ تازوید سپرمارکیٹ میں شاپنگ کررہے ہيں، جو شام کی سرحد سے ساڑھے چھ میل دور اردن کے میدان میں واقع 75،000 افراد پر مشتمل پناہ گزین کے کیمپ کے کنارے واقع ہے۔

چیک آؤٹ کاؤنٹر پر ایک کیشیئر ان کا بل تیار کرتا ہے، لیکن بسام کیش یا کریڈٹ کارڈ سے ادائيگی کرنے کے بجائے سر اٹھا کر ایک کالے ڈبے کے مرکز میں نصب آئینے اور کیمرے کی طرف دیکھتے ہيں۔ ایک لمحے بعد، کیشیئر کی سکرین پر بسام کی آنکھ کی ایک تصویر دکھائی دیتی ہے۔ بسام کو ان کی رسید دے دی جاتی ہے، جس کے اوپر “EyePay” اور “ورلڈ فوڈ پروگرام بلڈنگ بلاکس” لکھا ہوتا ہے، اور وہ واپس زعتری کے پناہ گزین کیمپ چلے جاتے ہيں۔

بسام کو یہ بات شاید معلوم نہ ہو، لیکن سپرمارکیٹ میں ان کی اس کی خریداری امداد کی فراہمی کو ممکن بنانے کے لیے بلاک چین کے استعمال کی ابتدائی کوششوں میں سے ایک ہے۔ ایک مشین سے ان کی آنکھ کی پتلی سکین ہونے کے بعد، اقوام متحدہ کے ایک روایتی ڈیٹا بیس پر ان کی شناخت کی تصدیق کی گئی، اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے زیرانتظام ایک ایتھیریم کی طرح کے ایک بلاک چین پر برقرار ایک فیملی اکاؤنٹ میں ان کی تفصیلات تلاش کی گئيں، جس کے بعد ان کے بل کی ادائيگی ان کی جیب میں ہاتھ ڈالے بغیر ہی ہوگئی۔

2017ء میں شروع ہونے والے اس پروگرام کا نام بلڈنگ بلاکس (Building Blocks) ہے، اور اس کے ذریعے ورلڈ فوڈ پروگرام اردن میں ایک لاکھ سے زیادہ شامی پناہ گزینوں کو کھانے کی شکل میں امداد فراہم کررہے ہيں۔ اس سال کے اختتام تک اس پروگرام کے ذریعے اردن میں رہنے والے تمام 5 لاکھ پناہ گزینوں کو سہولیات فراہم کردی جائيں گی۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوگیا تو اس سے اقوام متحدہ کی دوسری ایجنسیوں میں بلاک چین کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے امکان میں اضافہ ممکن ہے۔

بلڈنگ بلاکس متعارف کرنے کی بنیادی وجہ پیسے کی بچت تھی۔ ورلڈ فوڈ پروگرام دنیا بھر میں آٹھ کروڑ افراد کو اشیائے خورونوش فراہم کرتی ہے، لیکن 2009ء سے اس تنطیم نے خوردنی اشیاء کے بجائے رقم کی شکل میں امداد امداد فراہم کرنا شروع کی۔ اس طرح زیادہ لوگوں کو خوراک کی فراہمی، مقامی معیشت میں بہتری اور شفافیت میں اضافہ ممکن تھا۔ تاہم، اس میں انہيں مقامی یا علاقائی بینکس کے ساتھ بھی کام کرنے کی ضرورت پیش آئی، جس سے ان اقدام کی اثراندازی متاثر ہونے لگی۔ 2017ء میں ورلڈ فوڈ پروگرام نے 1.3 ارب ڈالر کے مراعات (یعنی اس کی کل امداد کا 30 فیصد حصہ) تو تقسیم کیے، لیکن انہیں لین دین اور دیگر اخراجات بھی برداشت کرنے پڑے، جس سے لاکھوں لوگوں کو کھانا فراہم کیا جاسکتا تھا۔ بلاک چین پروگرام کی ابتدائی کوششوں میں ان فیس میں 98 فیصد کمی کا دعوی کیا گيا۔

بلڈنگ بلاکس اور اردن کے کیمپ میں اس کے استعمال کے پیچھے اقوام متحدہ کے ایگزیکٹو ہیومان حداد (Houman Haddad) کا ہاتھ ہے۔ اگر ان کا بس چلے تو بلاک چین استعمال کرنے والے اس پروگرام سے پیسوں کی بچت کو ممکن بنانے کے علاوہ، ان افراد کو مالی اور قانونی نظام کا حصہ بنانے کی بھی کوشش کرکے، جن کے پاس کسی بھی قسم کے سرکاری شناختی دستاویزات موجود نہيں ہیں، انہيں ملازمت کے مواقع اور تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

آپ کی شناخت آپ ہی کے پاس

حداد کی خواہش ہے کہ جس روز بسام زعتری کے کیمپ سے نکلیں گے، ان کے پاس ایک ڈیجٹل والٹ ہوگا، جس کی مدد سے ان کے کیمپ کی تمام لین دین کا ریکارڈ، سرکاری شناختی کارڈ، اور مالی اکاؤنٹس تک رسائی کے ریکارڈز موجود ہوں گے، جنہیں بلاک چین استعمال کرنے والے ایک شناختی نظام کی مدد سے آپس میں منسلک کیا گيا ہوگا۔ اس طرح بسام کے لیے مالی معیشت میں ضم ہونا زیادہ آسان ہو جائے گا۔ ان کے آجر کے لیے ان کو تنخواہ ادا کرنے کے سہولت موجود ہوگی، کوئی بھی بینک ان کی کریڈٹ ہسٹری چیک کرسکے گا، اور امیگریشن ایجنٹ کے لیے ان کی شناخت کی تصدیق ممکن ہوگی، جس کی توثیق اقوام متحدہ، اردن کی حکومت، حتی کہ بسام کے پڑوسی بھی کرسکیں گے۔

اس قسم کے ریکارڈ سے، جسے ممکنہ طور پر ایک موبائل فون میں ذخیرہ کیا جاسکتا ہے، بسام جیسے کسی بھی شخص کے لیے اپنے ڈیٹا کو شام سے اردن، بلکہ کسی بھی دوسرے ملک، خفیہ کردہ آن لائن بیک اپ کی شکل میں، کہیں بھی لے جانا ممکن ہوسکتا ہے۔ زعتری میں زیادہ تر شامی پناہ گزینوں کے پاس سمارٹ فونز ہیں، اور اگر اس قسم کا نظام عملدرآمد ہوجائے تو ان کے لیے اپنی قانونی شناخت دوبارہ حاصل کرنا ممکن ہوسکتا ہے، جسے وہ گھر سے فرار ہوتے وقت دیگر دستاویزات اور اثاثہ جات کے ساتھ پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ اس طرح بسام کے لیے جرمنی یا شام جا کر اپنی تعلیمی اسناد کا ثبوت پیش کرنا، اپنے بچوں کے ساتھ خون کے رشتے کی تصدیق کرنا، اور کاروبار شروع کرنے کے لیے قرض حاصل کرنا بھی ممکن ہوگا۔ (زیادہ تر ممالک میں شناختی کارڈ کے بغیر بینک اکاؤنٹ نہيں کھولا جاسکتا ہے، اور بینک اکاؤنٹ کے بغیر نہ تو رہائش مل سکتی ہے اور نہ ہی قانونی ملازمت)۔

اگر اس قسم کا نظام اس وقت دستیاب ہوتا جب بسام اپنے شہر درعا سے فرار ہوئے تھے، تو ان کے لیے زعتری کے بجائے سیدھا اردن جا کر فوری طور پر نئی زندگی شروع کرنا مکمن ہوسکتا تھا۔ اگر ان کا شامی پاس پورٹ منسوخ بھی ہوجاتا، یا اگر ان کا سکول جہاں ان کی ڈگریوں کے ریکارڈ موجود تھے، بمباری میں تباہ بھی ہوجاتا، تو ان کے ریکارڈز برقرار رہتے، اور ان کے لیے اپنے نئے ملک جانا آسان ہوجاتا۔

کئی تنظیمیں اس منصوبے کے چند پہلوؤں پر پہلے سے کام کررہی ہیں۔ فن لینڈ میں 2015ء سے فنش امیگریشن سروس کے ساتھ کام کرنے والی ایک بلاک چین کی سٹارٹ اپ کمپنی MONI کی کوششوں سے فن لینڈ میں رہنے والے ہر پناہ گزین کو ایک پری پیڈ ماسٹر کارڈ فراہم کردیا گيا ہے، جس کے پیچھے بلاک چین پر ذخیرہ کردہ ایک ڈيجٹل شناختی نمبر ہے۔ فن لینڈ میں بینک اکاؤنٹ کھولنے کے لیے ضروری پاس پورٹ کی عدم موجودگی کے باوجود بھی پناہ گزین ایک MONI اکاؤنٹ کے ذریعے حکومت سے مراعات حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سسٹم کی مدد سے پناہ گزین قابل اعتماد افراد سے قرض حاصل کرکے ابتدائی کریڈٹ ہسٹریوں کی بنیاد رکھ سکتے ہيں، جس سے آگے چل کر انہيں دوسرے اداروں سے قرض حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا نہيں ہوگا۔

دوسری طرف ایکسنچر اور مائيکروسافٹ جیسی کمپنیاں دوسری غیرمنافع بخش کمپنیوں کے ساتھ ID2020 نامی نجی اور حکومتی اشترک پر کام کررہی ہیں۔ اس اشتراک کا مقصد ہر ایک شخص کو قانونی شناخت کی فراہمی کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنا ہے، جس کی ابتدا ان 1.1 ارب افراد سے ہوگی، جن کے پاس اپنے وجود کے لیے سرکاری دستاویزات کی شکل میں کوئی ثبوت موجود نہيں ہے۔

اس قسم کے نظام کے بنیاد “self-sovereign identity” پر رکھی گئی ہے، جسے کرسٹوفر ایلن (Christopher Allen) نامی ایک امریکی ٹیکنالوجسٹ نے 2016ء میں فروغ دیا تھا۔ انہوں نے کسی بھی شخص کے وجود کے ڈيجٹل ثبوت کے چند بنیادی اصولوں کا خاکہ پیش کیا تھا، جس کی ملکیت اسی شخص کے پاس ہوگی۔ اس قسم کے نظام میں شناخت نہ صرف قابل انتقال ہوگی، بلکہ کسی بھی ریاستی یا مرکزی اتھارٹی پر منحصار نہيں ہوگی۔ رائے عام یہ ہے کہ اس کے مرکز میں بلاک چین کا استعمال کیا جانا چاہیے۔

ایلن نے مجھے بتایا کہ شناخت کے اس قسم کے نظام کے لیے بلاک چینز انتہائی ضروری ہیں کیونکہ ان کی مدد سے ایسے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں جن کا حل پہلے ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ کسی بلاک چین میں خفیہ شناخت کنندہ ذخیرہ کرکے تصدیقی نظام کو کسی بھی شخص کے ڈیٹا سے علیحدہ کیا جاسکتا ہے، جس سے رازداری کا تحفظ ممکن ہے۔ بلاک چین کے نظام روایتی شناختی ریکارڈز کے مقابلے میں اس وجہ سے بھی زيادہ محفوظ ہیں کیونکہ ان میں تیسرے فریقوں کا کوئی کام نہيں ہوتا ہے۔ انہيں نہ صرف استعمال کرنا بھی زیادہ آسان ہے، بلکہ وہ ایسے حادثات بھی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہيں جن سے مرکزی ریکارڈز کی برقراری کے دیگر نظام تہس نہس ہوجاتے ہيں۔

ان اقدام کا مقصد ایک ایسا سسٹم قائم کرنا ہے جس میں صارف کے پاس کاغذی دستاویزات کے لیے حقیقی والٹ کی طرح کا ایک ڈیجٹل والٹ ہو، جس پر اسے مکمل اختیار حاصل ہو۔ اس والٹ میں صارف کے دعوے (جیسے کہ اس کا نام اور تاریخ پیدائش)، ان دعوں کے ثبوت (جیسے کہ پیدائشی اسناد یا یوٹلٹی بلز کی نقول) اور ان دعوں کے لیے مزید ثبوت کے طور پر تیسرے فریقین کی توثیق (جیسے کہ کسی پیدائشی سند پر درج تفصیلات کی حکومت کی طرف سے تصدیق) ذخیرہ کیے جاسکتے ہيں۔ اس والٹ کو کسی کی چین (key chain) پر کسی سمارٹ چپ، یا کریڈٹ کارڈ کی شکل میں کسی چیز پر، یا کسی فون میں ایک محفوظ خانے میں ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔

حداد اور دیگر افراد کے مطابق، بلاک چین کے شناختی نظام کی مدد سے لائسنسز یا پاس پورٹس پر موجود عمر یا قومیت جیسے دعوں کے علاوہ کئی دوسرے دعوں کی بھی تصدیق ممکن ہوسکے گی۔ مثال کے طور پر، اس قسم کے نظام کی مدد سے پناہ گزين اپنے پیشہ ورانہ ریکارڈ یا خاندانی تعلقات کا ثبوت پیش کرسکیں گے۔

اس پر کس کا اختیار ہے؟

اس خواب کو پورا کرنے میں بہت وقت لگے گا۔ حداد کا خیال تھا کہ پہلے اردن کے کیمپں میں رہنے والے شامی پناہ گزینوں کے ہر خاندان کے لیے بلاک چین پر ایک اکاؤنٹ تخلیق کیا جائے۔ اس طرح انہيں بینکس کی طرف سے رقم کی منتقلی کے لیے کئی روز انتظار نہيں کرنا پڑتا، اور نہ ہی بینکس کو شناختی معلومات فراہم کرنے کی ضرورت پیش آتی، اور بینک کی ملازمین کی طرف اس معلومات کی چوری اور غلط استعمال کے امکانات بھی ختم ہوجاتے۔ دوسری طرف ورلڈ فوڈ پروگرام کے لیے رقم خرچ کرنے سے پہلے بھجوانے کے بجائے، پناہ گزینوں کی تمام خریداریوں کا خود حساب لگا کر شرکت کرنے والی دکانوں کو بعد میں مقامی کرنسی میں ادائيگی کرنا ممکن ہوجاتا۔ اس سے بہت فائدہ ہوتا، کیونکہ اس وقت اقوام متحدہ کی 30 فیصد سے زیادہ امداد بدعنوانی کی نظر ہوجاتی ہے۔

پاکستان میں بلڈنگ بلاکس کی ادائيگی کے آئيڈیا کی ٹیسٹنگ کی گئی، لیکن لین دین کافی سست اور فیس بہت زیادہ ثابت ہوئی۔ حداد کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ نظام عوامی ایتھیریم بلاک چین پر چل رہا تھا۔ بلڈنگ بلاکس کے موجودہ ورژن میں، جو اس وقت اردن میں استعمال کیا جارہا ہے، ایتھیریم کا “اجازت یافتہ”، یعنی نجی، ورژن استعمال کیا جارہا ہے۔

کسی بھی عوامی بلاک چین پر کوئی بھی شخص نیٹورک میں شامل ہو کر لین دین کی توثیق کرسکتا ہے۔ اس طرح کسی بھی ایک شخص یا ایجنسی کے لیے فریب دہی یا ٹرانزیکشنز کی جعل سازی مشکل تو ہوجائے گی، لیکن ساتھ ہی ٹرانزیکشن کی فیس میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔ ایک اجازت یافتہ بلاک چین کی صرف میں یہ فیصلہ کرنے کا اختیار صرف ایک مرکزی اتھارٹی کے پاس ہی ہوگا کہ کس کو شرکت کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

ایک اجازت یافتہ نظام کا یہ فائدہ ہوگا کہ حداد اور ان کی ٹیم کے لیے لین دین کی پراسیسنگ کی رفتار میں اضافہ اور اخراجات میں کمی ممکن ہوگی۔ اس کا نقصان یہ ہوگا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کو نیٹورک میں شمولیت پر مکمل اختیار حاصل ہوگا، جس کا مطلب یہ ہے کہ ٹرانزیکشن کی ریکارڈز بھی حذف کرنے کا اختیار بھی انہی کے پاس ہوگا۔ بینکس کا کام ختم کرنے کے بجائے، ورلڈ فوڈ پروگرام نے خود ہی بینک کی ذمہ داریاں سبھال لی ہیں۔

کونسا نظام عملدرآمد کیا جائے، بسام اور زعتری کے دوسرے پناہ گزینوں کو اس سے کوئی سروکار نہيں ہے۔ بسام نے مجھے بتایا کہ وہ بلڈنگ بلاکس سے پہلے بھی آنکھ کی پتلی سکین کروا کر ہی سودا سلف خریدا کرتے تھے، لیکن اس وقت لین دین کی ذمہ داری ایک بینک کے پاس تھی۔ اس سے پہلے، ان کے پاس ایک کارڈ ہوا کرتا تھا، جسے سکین کیا جاتا تھا، لیکن کارڈ کے پرانے ہونے کی صورت میں نیا کارڈ حاصل کرنے میں کئی ہفتے لگ سکتے تھے۔ وہ کہتے ہيں “نیا نظام بہت بہتر ہے۔

چیک آؤٹ کے کاؤنٹر پر آنکھ کی پتلی کے سکین کے ذریعے ڈیجٹل شناخت کی تصدیق کی جاتی ہے۔ اس سسٹم میں ایک روایتی ڈیٹا بیس اور ایتھیریم بلاک چین کے اجازت یافتہ ورژن میں ذخیرہ کردہ اکاؤنٹ استعمال کیے جاتے ہيں۔ حداد بتاتے ہيں کہ اس سے اخراجات اور پناہ گزین کے ڈیٹا کی فراہمی کے خطرات میں کمی کے ساتھ ساتھ ورلڈ فوڈ پروگرام کے اختیار، لچک اور جواب دہی میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے یہ پروگرام ان کی نظر میں “بہت کامیاب” ہے۔ وہ کہتے ہيں “اگر ہمیں رات کو بتایا جائے کہ ہمارے پاس 20،000 لوگ آئيں گے، تو اگلی صبح تک ہمارے پاس ہر چیز تیار ہوگی۔ پہلے ہمیں دو ہفتے لگتے تھے اور کاغذی واؤچر بنانے پڑتے تھے۔”

تاہم ایک مختصر اور اجازت یافتہ بلاک چین استعمال کرنے کی وجہ سے اس پراجیکٹ کا دائرہ کار بہت چھوٹا ہے، جس کی وجہ سے اس پر تنقید کرنے والے یہ کہتے ہيں کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کو اس پر وقت اور وسائل برباد کرنے کے بجائے ایک روایتی ڈیٹابیس ہی استعمال کرلینا چاہیے۔ حداد اس بات کا اعتراف کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں “ہم آج جو سب کچھ کررہے ہيں، وہ بلاک چین کے بغیر بھی ممکن ہے۔ لیکن میری ذاتی رائے یہ ہے کہ ہمیں آخرکار ڈیجٹل شناخت کی طرف جانا ہے، اور مستفید ہونے والے افراد کو اپنے ڈیٹا پر خود اختیار ہونا چاہیے۔”

دوسروں کا کہنا ہے کہ اس وقت بلاک چینز ایک نئی ٹیکنالوجی ہے، اور امداد کے مقاصد کے لیے ان کا استعمال مناسب نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، برلن میں سماجی تبدیلی لانے والی تنظیموں کو ٹیکنالوجی اور ڈیٹا کے استعمال میں معاونت فراہم کرنے والے غیرمنافع بخش گروپ انجن روم (Engine Room) میں کام کرنے والی ریسرچر زارہ رحمان کا کہنا ہے کہ جن افراد کو پہلے ہی بہت خطرہ لاحق ہے، ان پر اس قسم کے تجربات کرنا اخلاقی طور پر بھی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ ماضی میں مفرور افراد کے لیے شناختی معلومات اور بائیومیٹرکس کی جمع کاری کے نتائج سب کے سامنے ہیں، جن میں ہولوکوسٹ اور حال ہی میں میانمار میں روہنگہ کے خلاف نسل کشی سر فہرست ہيں۔

ہمت کی بات

اب سوال یہ ہے کہ کیا بلڈنگ بلاکس یا اس قسم کے کسی بھی دوسرے نظام کے نتیجے میں لوگوں کو اپنی ڈیجیٹل شناخت پر اختیار حاصل ہو جائے گا، یا کیا اس سے کارپوریشنز اور ریاستیں اس کا فائدہ اٹھ کر لوگوں کے ڈیجٹل وجود کو کنٹرول کرنے لگیں گی؟ ایورڈ (Everid) نام بلاک چین کی شناخت کی سٹارٹ اپ کمپنی کے سی ای او باب ریڈ (Bob Reid) نے مجھے بتایا کہ ان کے خیال میں اگلے کئی سالوں تک سوال پر بحث مباحثہ ہوتا رہے گا۔ وہ کہتے ہيں “یا تو یہ شناختیں متعلقہ افراد کو فراہم کردی جائيں گی، یا ان اداروں کے ہاتھ میں چلی جائيں گی جو ہمارا ڈیٹا مائن کریں گی۔” تاہم وہ امید کرتے ہيں کہ آگے چل کر اس موضوع کے علاوہ دوسرے پہلوؤں پر بھی مباحثہ کیا جائے گا۔

بلاک چینز استعمال کرنے کا اصل فائدہ اس وقت تک نہيں حاصل ہوگا جب تک کہ اقوام متحدہ اور ورلڈ فوڈ پروگرام جیسے ادارے پہلے تھوڑی سی ہمت کرکے دوسری ایجنسیوں کو بھی سسٹم کے کچھ حصوں تک رسائی فراہم کریں، اور پھر اس کے بعد سب سے زيادہ جرات مندانہ قدم اٹھا کر بسام جیسے لوگوں کو ڈیٹا پر اختیار فراہم کریں، جنہيں اس وقت کوئی اختیار حاصل نہيں ہے اور اگر انہیں خوراک حاصل کرنی ہے تو ان کے پاس سسٹم میں شامل ہونے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہيں ہے۔

اگر بلڈنگ بلاکس کی پیش رفت حداد کی خواہشات کے مطابق ہو تو یہ سب کچھ ممکن ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر، ورلڈ فوڈ پروگرام اپنی ٹیکنالوجی دوسروں کو ایک بنیادی اکاؤنٹنگ سسٹم کے طور پر پیش کرسکتی ہے، جس کے ذریعے پہلے تو خوراک کی تقسیم کی جائے، اور پر بعد میں زمین کی ملکیت، تعلیمی اسناد اور سفر کے ریکارڈز شامل کیے جائيں۔ اگر بیرونی غیرمنافع بخش اداروں کو بلاک چین کے نیٹورک میں شاخیں شامل کرنے کی اجازت دی جائے، تو اس کی شکل ایک عوامی بلاک چین کی شکل اختیار کرلے گا، جس میں غیرمرکزی اور تقسیم شدہ ہونے کی وجہ سے ہیکنگ زیادہ مشکل ہوجائے گی۔

اگر آپ 2012ء میں شام سے لاکھوں کی تعداد میں آنے والے پناہ گزینوں کو رہائش فراہم کرنے کی غرض سے وجود میں آنے والے شہر زعتری پر نظر ڈالیں گے، تو آپ کو بلڈنگ بلاکس کو درپیش مشکلات کا اندازہ ہوجائے گا۔ اس وقت زعتری میں دو سرکاری کریانے کی دکانیں ہیں جن میں بلڈنگ بلاکس کے ذریعے رقم کی ادائيگی ممکن ہے، لیکن اس کے علاوہ درجنوں چھوٹی دکانیں بھی ہیں جو کھانے پینے سے لے کر الیکٹرانک آلات تک ہر چیز کی بلیک مارکیٹ کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ اگر یہاں بلڈنگ بلاکس کا استعمال نہ کیا جاسکے تو ورلڈ فوڈ پروگرام کی اثراندازی اور شفافیت میں اضافہ کرنے کے علاوہ کوئی فائدہ نہيں ہوگا۔

تحریر: رس جسکیلین (Russ Juskalian)

Read in English

Authors
Top