Global Editions

لاہور میں ای سپورٹس کی ایک جھلک

لاہور میں ہائی ٹیک گیمنگ لاؤنجز نے ماضی کے گیمنگ سٹوڈیوز کی جگہ لے لی ہے، اور ان کے اثرات عالمی پیمانے پر نظر آرہے ہيں۔

لاہور کے کسی بھی گیمنگ آرکیڈ چلے جائيں، آپ کو ایک جیسا ہی منظر ملے گا۔ ایک طرف دیواروں پر لگی نیون روشنیاں نظر آئيں گی اور دوسری طرف جوائے سٹکس کے بٹنز اور حرکت کی آوازيں کانوں میں پڑيں گی۔ اندھیرے کو چیرنے والی گلابی، ہری اور نیلی روشنیوں میں ہائی ٹیک ہیڈفونز پہنے اور اپنے مانیٹرز پر نظریں جمائے، عالمی سطح پر پھیلے ہوئے نیٹورکس پر ایک دوسرے سے ویڈيو گیمز کھیلنے والے کچھ نوجوان دکھائی دیں گے۔

ان ہائی ٹیک گیمنگ لاؤنجز نے ماضی کے گیمنگ سٹوڈیوز کی جگہ لے لی ہے، اور ان کے اثرات عالمی پیمانے پر نظر آرہے ہيں۔

پچھلے سال لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک گیمر ارسلان صدیق عرف ”ایش“ امریکہ کے شہر لاس ویگس میں 2019ء کا ٹیکن ورلڈ ٹور (Tekken World Tour) جیتنے میں کامیاب ہوگئے۔ آگے چل کر انہوں نے ستمبر 2019ء میں دبئی میں منعقد ہونے والے روکس این رول (RoxNRoll) کے مقابلے میں 5,000 ڈالر کا انعام بھی جیتا، جس کے بعد وہ بین الاقوامی رینکنگز میں چھٹے نمبر پر چاپہنچے۔ ایک اور پاکستان گیمر مصور نواز عرف Ghost_Khan نے متعدد کھلاڑیوں کے آن لائن گیم Defence of the Ancients II میں، جسے عام طور پر DOTA II بھی کہا جاتا ہے، مشرق جنوبی ایشیاء کے لیڈربورڈ میں ٹاپ 100 میں مقام حاصل کرلیا۔ نواز کو DOTA II میں آٹھ ہزار میچ میکنگ ریٹنگ کے پوائنٹس سے تجاوز کرنے والے پہلے پاکستانی گیمر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔

ایک تخمینے کے مطابق عالمی گیمنگ کی مارکیٹ نے 2019ء میں 150 ارب سے زیادہ ڈالر کمائے تھے۔ یہ مارکیٹ پیشہ ورانہ گیمرز پر ہی مشتمل نہيں ہے، بلکہ اس میں شوقیہ گیمرز بھی شامل ہیں۔ گیمرز میں سوشل میڈیا اور سمارٹ فونز استعمال کرنے کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے، لیکن اب بھی کئی گیمرز پی سی استعمال کرنا پسند کرتے ہيں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہے یہ کہ سمارٹ فونز کے مقابلے میں پی سی کا استعمال نہایت کم قیمت ثابت ہوتا ہے۔ تمام پرزے علیحدہ ہونے کے باعث پی سی کی اپ گریڈ بھی زیادہ آسان ثابت ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ دوسرے آلات کے مقابلے میں پی سی پر زيادہ بہتر گیمز کے گرافکس ممکن ہيں۔

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ گیمرز ہر ایک سے الگ تھلگ اپنے ویڈیو گیمز کی دنیا میں مگن رہنا پسند کرتے ہيں۔ لیکن اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ پبلک گیمنگ سٹوڈیوز میں صاف نظر آتا ہے کہ آن لائن گیمنگ نیٹورکس کی دنیا کس قدر انٹرایکٹو ہے۔ گیمرز نہ صرف ایک دوسرے کے قریب بیٹھے نظر آتے ہيں بلکہ وہ دوسرے گیمرز کے ساتھ گیم کھیلتے ہوئے ان سے بات چیت بھی کرتے رہتے ہيں۔ یہاں تک کہ متعدد کھلاڑیوں کے کئی گیمز میں اس قدر ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے کہ ایک ہی ٹیم میں شامل کھلاڑیوں کے آپس میں بہت گہرے تعلقات قائم ہوجاتے ہیں۔

زيادہ تر گیمز مردوں کے لیے بنائی جاتی ہيں، اسی لیے گیمنگ کے متعلق ایک تاثر یہ بھی ہے کہ یہ شعبہ صرف مردوں ہی کے لیے ہے۔ تاہم 2018ء میں یہ بات سامنے آئی کہ امریکہ میں 45 فیصد گیمرز خواتین تھیں۔ ان اعداد و شمار کے باوجود عورتوں کی شمولیت کو قابل قبول نہيں سمجھا جاتا، چاہے وہ گیم کھیلنے کی کوشش کررہی ہوں یا گیم ڈیولپرز کے طور پر کام کرنے کی۔ نوجوان مرد آن لائن دوسرے گیمرز کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہيں، لیکن خواتین کو اکثر ہراساں کیا جاتا ہے۔ اسی لیے گیمنگ سٹوڈیوز کو اکثر مردوں ہی کے لیے مخصوص سمجھا جاتا ہے اور خواتین کو یہاں جانے سے روکا جاتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے خواتین گیم ڈیولپرز اور ان پر مشتمل گیمرز کی ٹیمز میں اضافہ ہوگا، زیادہ خواتین اس شعبے کا حصہ بنتی جائيں گی۔ ایسی کچھ خواتین موجود ہيں جنہوں نے اپنا گیمنگ کا شوق پورا کیا اور آگے چل کر دوسری خواتین کے لیے بھی مواقع پیدا کیے۔ سعدیہ بشیر کا شمار انہی خواتین میں ہوتا ہے۔ بچپن میں وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ اسلام آباد کے ایک گیمنگ آرکیڈ میں سپر ماریو بردرز کھیلنے جایا کرتی تھیں اور اب انہوں نے گیم ڈیولمپنٹ میں دلچسپی رکھنے والے پاکستانیوں کے لیے پکسل آرٹ (Pixelart) نامی اکیڈمی قائم کی ہے۔ ماضی میں اپنی تعلیم کے لیے رقم جمع کرنے کے لیے سلائی کڑھائی کرنے اور ایک سکول میں پڑھانے والی سعدیہ کہتی ہيں کہ عورتوں کے خلاف منفی آراء رکھنے والے افراد ”بکواس“ کرتے ہیں۔ کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنے کے باوجود آج سعدیہ گیمنگ کی صنعت میں اپنا لوہا منوانے میں کامیاب ہوچکی ہيں۔ میرپورخاص سے تعلق رکھنے والی پب جی (PUBG) کی کھلاڑی اور ولاگر عاصمہ رحو کے یوٹیوب چینل پر اب 76,000 سے زيادہ سبسکرائبرز ہیں۔ ان کی ویڈیوز بھارت اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی کھلاڑیوں کے خلاف پب جی کے مقابلے پر مشتمل ہیں۔ عاصمہ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتی ہیں کہ ”جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ میں ایک لڑکی ہوں تو انہيں نے میرا بہت مذاق اڑایا، لیکن میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتی رہی اور ایک زمانے میں مجھ پر تنقید کرنے والے افراد آج مجھے بہت قابل سمجھتے ہيں۔“

اکثر سنجیدہ گیمرز کا چھوٹی عمر ہی میں گیمنگ کا شوق پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ 2006ء سے DOTA کھیلنے والے عزیز ناصر بتاتے ہيں کہ بچپن میں وہ اپنے سکول کے دوستوں کے ساتھ لاہور کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں اپنے سکول کے قریب واقع ایک گیمنگ کیفے جایا کرتے تھے۔ وہ کہتے ہيں ”جب ہم ایک ساتھ کھیلتے تھے، وقت کہاں جاتا تھا، پتا ہی نہيں چلتا تھا۔ ہم سکول کے بعد اکثر پورا پورا دن گیمنگ زون میں ہی گزاردیا کرتے تھے۔“ اس بات کو کئی سال گزر چکے ہيں اور ناصر اور ان کے دوست اب دنیا کے کئی مختلف حصوں میں رہتے ہيں لیکن آج بھی وہ انٹرنیٹ پر پہلی ہی طرح ویک اینڈز پر DOTA II کھیلتے ہيں۔ ناصر بتاتے ہيں کہ ”ہم میں سے کئی کی شادیاں ہوچکی ہيں اور کچھ کے بچے بھی ہیں۔ ہم مختلف ٹائم زونز میں رہتے ہيں لیکن ہم اسی طرح آن لائن گیمز کھیلنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہيں۔ اس سے مجھے بچپن کی یاد آتی ہے۔“

گیمنگ لاؤنج کے کلچر میں اتاڑ چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے۔ 2000ء کے بعد سے گھروں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی آمد کے باعث گیمنگ کی مقبولیت میں کمی ہونا شروع ہوئی، لیکن حال ہی میں لیپ ٹاپس کی وجہ سے پی سی کے استعمال میں کمی آنے کے بعد مکمل ای سپورٹنگ کی صلاحیتوں سے آراستہ گیمنگ لاؤنجز ایک بار پھر مقبول ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

لاہور کے کئی علاقوں میں گیمنگ زونز موجود ہیں، لیکن بہت کم ایسے ہیں جو اپنے صارفین کو معیاری ٹیکنالوجی اور بہترین ماحول فراہم کررہے ہيں۔ ان میں سے ایک آرکیڈ گولائن سپیس (Gooline Space) کی فرانچائز ہے جس کی لاہور میں تین برانچز موجود ہیں۔ گلبرگ میں واقع ان کی اہم ترین برانچ میں 40 گیمنگ سٹیشنز رکھے ہوئے ہيں۔ حال ہی میں اپنا گریجویشن مکمل کرنے والے احسن رزاق ایک سال سے یہاں باقاعدگی سے آرہے ہیں۔ گھر میں پی سی موجود ہونے کے باوجود وہ مسلسل بجلی کی فراہمی اور قابل اعتماد اور تیز انٹرنیٹ کنیکشن کے باعث یہیں گیمز کھیلنا پسند کرتے ہيں۔

لاہور کے ایک اور نامی گرامی گیمنگ لاؤنج پورٹل (Portal) کے عملے کے مطابق ان کے مقبول ترین گیمز میں فورٹ نائٹ (Fortnite)، رینبو سکس سیج (Rainbox Six Siege)، کاؤنٹر سٹرائک گو (Counter Strike Go)، پب جی اور DOTA II شامل ہيں۔ اس کے علاوہ، حال ہی میں پورٹل میں شہر کے نمایاں ترین گیمنگ کے مقابلے بھی منعقد کیے جاچکے ہیں، جن میں ڈیو گیمز ارینا 2019ء (Dew Arena Qualifiers) اور آل پاکستان DOJO 2019 شامل ہیں۔ اس سٹوڈیو میں GeForce GTX 1080 گرافکس کارڈز، ریزر کریکن (Razer Kraken) ہیڈسیٹس اور DXRacer گیمنگ کی کرسیوں سے آراستہ بیس i7 کے پی سیز موجود ہيں۔ یہاں باقاعدگی سے آنے والے محمد احمد بتاتے ہيں کہ وہ بین الاقوامی سطح پر ٹیکن کھیلنا چاہتے ہيں۔ وہ کہتے ہيں کہ ”میں گھر میں بھی ٹیکن کھیلتا ہوں لیکن یہاں میں آف لائن دوسروں کے ساتھ مقابلہ کرکے اپنی صلاحیتوں میں بہتری لاسکتا ہوں۔“

پورٹل کے مالک فواد غوری بتاتے ہيں کہ یہ آرکیڈ قائم کرنے کی سب سے بڑی وجہ پاکستان میں بین الاقوامی معیار کے گیمنگ زونز کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی گیمرز کے لیے عالمی سطح پر مقابلہ کرنا ناممکن نہيں تو بہت مشکل ثابت ہورہا تھا۔

اس وقت نمایاں پی سی گیمز کی عالمی رینکنگز میں جنوبی کوریا اور جاپان سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی سب سے آگے ہیں۔ کوریا میں 95 فیصد گھرانوں کو تیز رفتار براڈبینڈ انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے اور تقریباً ہر شہر میں پی سی گیمز کے لیے وقف کیفے، جنہیں ”پی سی بینگز“ (PC bangs) کہا جاتا ہے، موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوریا سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور گیمرز کا شمار دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ ای سپورٹس کورین معاشرے کا اس قدر اہم حصہ بن چکی ہیں کہ نمایاں رینکنگ رکھنے والے کھلاڑیوں کو معاشرے میں بہت عزت و شہرت حاصل ہوتی ہے۔ دارالحکومت سیول میں واقع گیمنگ زونز میں سینکڑوں گیمنک سٹیشنز موجود ہيں۔

ای سپورٹس میں روزانہ کئی گھنٹے گزارنا ہر کسی کے بس کی بات نہيں ہے۔ اسی لیے شوقیہ طور پر گیمز کھیلنے والوں کے لیے لاہور میں کئی ورچول ریئلٹی گیمنگ زونز بھی بنائے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک سٹوڈیو فورٹرس سٹیڈیم میں واقع ٹرانسفنٹی (Transfinity) ہے جس کی برانچز اسلام آباد، کراچی اور فیصل آباد میں بھی موجود ہیں۔ یہاں شائقین HTC VIVE ہیڈسیٹس استعمال کرتے ہوئے سپیس جنکیز (Space Junkies) جیسی آرکیڈ گیمز سے لے کر آڈیو ٹرپ (Audio Trip) جیسی موسیقی کی گیمز تک کئی مختلف اقسام کی گیمز کھیلتے ہیں۔ VIVE ہیڈسیٹس کی مدد سے صارفین 3.5×3.5 میٹر پر پھیلا ہوا سٹیج بنا سکتے ہيں۔ اس کے علاوہ، ورچول ریئلٹی کے تجربے کو زيادہ بہتر بنانے کے لیے انہیں 3.6 انچ کی AMOLED کی دہری سکرین اور فی آنکھ 1,080 پکسلز چوڑی اور 1,200 پکسلز لمبی جگہ فراہم کی جاتی ہے۔ اب روایتی پی سی اور آرکیڈ گیمز بھی جدید ترین گیمنگ ٹیکنالوجی اپنا رہے ہيں، اور سکائی رم (Skyrim)، ڈوم (Doom)، اور مائن کرافٹ (Minecraft) کا شمار دنیا کی بہترین وی آر گیمز میں ہوتا ہے۔

پاکستان میں ای سپورٹس اور گیمنگ کو فروغ دینے کے لیے پچھلے دو سال سے ڈیو گیمرز ارینا (Dew Gamers Arena) بھی منقعد کیا جارہا ہے۔ ستمبر 2019ء میں لاہور کے ایکسپو سینٹر میں منعقد ہونے والے اس ایوینٹ میں پاکستان بھر سے سنجیدہ اور شوقیہ دونوں اقسام کے گیمرز نے شرکت کی تھی۔ اس ایوینٹ میں پب جی موبائل، کاؤنٹر سٹرائک: گلوبل اوفینسو (Counter Strike: Global Offensive) اور DOTA II کے مقابلے بھی شامل تھے، جس میں جیتنے والی ہر ٹیم کے لیے 10 لاکھ کا انعام مقرر تھا۔ 1,250 ٹیمز پر مشتمل ابتدائی پول میں سے ٹیم ببلو نے پب جی موبائل، گیمنگ ہوم (Gaming Home) نے CS:GO کا انعام اور ریکریشنل ہزارڈ (Recreational Hazard) نے DOTA II کا انعام جیتا۔

جیسے جیسے پاکستان میں انٹرنیٹ مزيد سستا ہوتا جائے گا اور ای سپورٹس کے لیے دستیاب انفراسٹرکچر میں اضافہ ہوگا، یہاں کی گیمنگ صنعت بھی پروان چڑھے گی۔ مقابلوں اور سپانسرشپس کی بدولت مقامی گیمرز بین الاقوامی ای سپورٹس کی تنظیموں کے سامنے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرسکیں گے، جس سے مزيد سپانسرز بھی میدان میں اتریں گے۔ اور جب بڑے ای سپورٹس کے کھلاڑی بین الاقوامی ایونٹس میں زیادہ بڑے انعامات جیتیں گے، تو پاکستان میں پیشہ ورانہ گیمرز اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے والے گیمنگ زونز کی وقعت میں اضافہ ہوگا۔


رافعہ عاصم لاہور میں رہائش پذیر مصنفہ ہيں۔

تحریر: رافعہ عاصم

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top