Global Editions

نئے انوویٹرز سامنے کیوں نہیں آرہے ہیں؟

دنیا میں انقلاب لانے کی صلاحیت رکھنے والے انوویٹرز آج کل کے انوویشن کے نظام میں ہی پھنسے ہوئے ہيں۔

میں ایک انو ویٹر کو جانتا ہوں، فرض کریں کہ اس کا نام ٹام ہے، جو دنیا کے نمایاں ترین ریسرچ اداروں میں ایک دہائی تک تربیت حاصل کرنے کے بعد اموادی سائنسز اور انجنیئرنگ کا ماہر بن گیا۔ ٹام نے سیمی کنڈکٹرز کی تخلیق کاری کے لیے ایک نئی تکنیک ایجاد کی تھی، جس کے ذریعے روشنی، ای وی، قابل تجدید توانائی اور دفاعی ایپس کے لیے توانائی کی تبدیلی کے آلات ممکن تھے۔ اس کے ابتدائی نتائج کافی امیدافزا تھے، اور ماہرین سے مثبت فیڈبیک حاصل کرنے کے بعد ٹام اپنی ٹیکنالوجی فروخت کرنے کے لیے تیار تھا۔ لیکن پھر اس ٹیکنالوجی کو قابل فروخت بنانے کا مسئلہ کھڑا ہوگیا۔

ٹام سے میری ملاقات ڈیڑھ سال پہلے ہوئی تھی، جب اس نے میرے سائیکلوٹرون روڈ (Cyclotron Road) نامی پروگرام میں درخواست بھیجی تھی۔ سائیکلوٹرون روڈ ایک تح‍قیقی پروگرام ہے جسے اموادی سائنسز، کیمیا اور فزکس جیسے شعبہ جات میں، جنھیں "ہارڈ ٹیکنالوجی" کہا جاتا ہے، تحقیق سے فائدہ اٹھانے والے مصنوعات پر کام کرنے والے سائنس دانوں کی معاونت کے لیے تیار کیا گيا ہے، اور ہر سال امریکہ اور امریکہ کے باہر سے 100 سے زائد درخواستیں موصول ہوتی ہیں۔

ٹام جیسے اور بھی کئی لوگ ہیں جنھوں نے سٹارٹ اپ کمپنیاں شروع تو کردیں، لیکن جلد ہی انھیں معلوم ہوگیا کہ انھیں اس ٹیکنالوجی کے لیے نجی سرمایہ کاری حاصل نہيں ہونے والی ہے۔ اگر ٹام کوئی نیا سافٹ ویئر بنارہا ہوتا تو ایک لیپ ٹاپ پر پروٹائپ بنا کر پیش کرنے کے چند مہینوں کے اندر ہی اس کا کام ہوجاتا۔ لیکن سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی میں اختراعی ٹولز، جیسے کہ فیوم کے ہڈز، سپیکٹرومیٹرز، الیکٹران مایئکروسکوپز وغیرہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ سیمی کنڈکٹر استعمال کرنے والے کسی نئے مصنوعے کو فروخت کے قابل بنانے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ ہمارے پاس تمام درخواستوں کو قبول کرنے کی گنجائش نہيں تھی، اور ہمیں ٹام کی درخواست مسترد کرنی پڑی۔

فروری میں مجھے ٹام نے ایک ای میل بھیجی۔ اس نے اپنے ذاتی سیونگز استعمال کرکے ایک اور پراجیکٹ پر کام کرنا شروع کردیا تھا۔ وہ فنانس کے شعبے میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہا تھا، اور اس نے ایک ہیج فنڈ میں کام کرنے والے میرے ایک دوست سے رابطہ قائم کرنے کے سلسلے میں مجھ سے رابطہ کیا تھا۔ مجھے یہ جان کر افسوس تو ہوا، لیکن حیرت نہيں ہوئی۔

آج کل کے ریسرچ کا ماحول ٹام جیسے انوویٹرز کے لیے نہيں ہے۔ ان کے پراجیکٹ نئے انکشافات پر مرکوز تعلیمی لیبس کے حساب سے بہت "عملی" ہیں۔ دوسری طرف نجی صنعتیں ایسی ریسرچز میں ہاتھ ڈالنے سے کتراتی ہیں، جن کا نفع و نقصان واضح نہ ہو۔ اس خلیج کی وجہ سے کئی انوویٹرز کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، اور وہ کوششیں کرنا چھوڑ دیتے ہيں۔

ٹام اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی دلچسپی کس طرح برقرار رکھی جاسکتی ہے؟ اس کے لیے ہمیں سب سے پہلے تو سائنس پر مشتمل سٹارٹ اپ کمپنیوں میں اختراعی تحقیق کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اشاعت یا منافع کے دباؤ سے آزاد ہونے کے بعد سٹارٹ اپ کمپنیاں "ہارڈ" ٹیکنالوجیز میں کافی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ان کمپنیوں کو اپنا پہلا پراڈکٹ بنانے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی تبدیلیوں کی وجہ بننے کے باوجود، یہ کمپنیاں حکومت کی طرف سے سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب نہيں ہوپاتی ہيں۔

آنے والی صدی میں ہمارے معاشرے کو توانائی، پانی، اشیائے خورونوش اور صحت جیسے بہت بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ہمیں اپنے بہترین سائنس دانوں اور انجنیئروں کی تحقیق میں ان کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ اپنے انکشافات کو تجارتی طور پر منافع بخش مصنوعات میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔ یہ ان بڑے چیلنجز کے حل کے لیے بے حد ضروری ہے۔

الان گر سائیکلوٹرون روڈ کے بانی ڈائیریکٹر ہيں۔

Read in English

Authors
Top