Global Editions

انٹرنیٹ کے جی ڈی پی میں اضافہ

سٹرائپ کے سی ای او پیٹرک کولیسن (Patrick Collison) کہتے ہیں کہ اگر انٹرنیٹ کمپنیوں کو اپنے قدم جمانے ہیں تو رقم کی ادائیگی کے نظام میں جدت لانا بہت ضروری ہے۔

پچھلے اکتوبر جب ایپل نے ادائیگی کی نئی سہولت لانچ کی تو اسے امریکن ایکسپریس (American Express)، چیس (Chase) اور میسیز (Macy’s) جیسے پارٹنرز کی حمایت حاصل ہوئی لیکن ایپل نے اس لانچ سے کئی مہینے قبل فنانشل ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی سان فرانسیسکو میں واقع ایک چار سال پرانی چھوٹی سی سٹارٹ اپ کمپنی، سٹرائپ (Stripe)، کے ساتھ کام کرنا شروع کردیا تھا۔

سٹرائپ 2010ء سے ویب سائٹس یا موبائل ایپس پر کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی کی سہولت کو زیادہ آسان بنانے کے ٹولز فروخت کررہی ہے۔ روایتی ادائیگی کے پراسیسر کے مقابلے میں اس میں کوڈنگ کی پیچیدگیاں کم ہیں، جس کی وجہ سے یہ ایپ بنانے والوں میں کافی مقبول ہوگیا اور جب ایپل نے ایپل پے (Apple Pay) بنانا شروع کیا تو ان کی بھی توجہ سٹرائپ کی طرف چلی گئی۔

آج سٹرائپ کے مصنوعات میں سبسکرپشن بلنگ کی سہولت اور ایک آن لائن چیک آؤٹ سسٹم بھی شامل ہیں۔ اس کے صارفین کی فہرست میں وال مارٹ (Walmart)، ٹویٹر (Twitter) اور رائڈ شئیرنگ ایپ لفٹ (Lyft) نمایاں ہیں۔ اس کمپنی کو19 کروڑ ڈالر کی وینچر فنڈنگ حاصل ہوچکی ہے اور پے پال (PayPal) کے شریک بانی پیٹر تھیل (Peter Thiel)، ایلون مسک (Elon Musk) اور میکس لیوچن (Max Levchin) نے بھی اس میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

سان فرانسیسکو کے ضلع مشن میں واقع اس کمپنی کے ہیڈکوارٹر کے کیفے ٹیریا میں ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کے سان فرانسیسکو کے بیورو چیف ٹام سائمنائٹ (Tom Simonite) کے ساتھ انٹرویو کے دوران سٹرائپ کے سی ای او اور شریک بانی پیٹرک کولیسن (Patrick Collison) ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ کس طرح ای کامرس کو فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

ادائیگی کی پراسیسنگ سننے میں تو بہت چھوٹی سی بات لگتی ہے لیکن یہ اتنی اہم کیوں ہے؟
آج کل جدید ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی کمپنیوں میں موبائل مارکیٹ پلیسز، جیسے کہ ایئر بی این بی (Airbnb) اور لفٹ، ہی سب سے زيادہ دلچسپ ہیں۔ سافٹ ویئر ہر صنعت اور ہر سیکٹر اور ہر مارکیٹ میں اپنے قدم جمارہا ہے۔ اگریہ کمپنیاں آف لائن مارکیٹوں میں داخل ہونے کی کوشش کرتی رہیں گی تو کاروباری ماڈلز کا ادائیگی پر مرکوز رہنا ایک قدرتی امر ہے۔ سٹرائپ ان کمپنیوں کی اگلی لہر کے لیے انفراسٹرکچر فراہم کررہا ہے۔

دنیا بھر کی ٹرانزیکشنز میں ای کامرس کا صرف دو فیصد ہی حصہ ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
انفراسٹرکچر میں کئی خامیاں ہیں۔ اگر آپ لاطینی امریکہ یا چین سے کسی ویب سائٹ پر جائيں گے تو یہ بات تقریباً 100 فیصد طے ہے کہ آپ کچھ خرید نہیں پائيں گے۔ زيادہ تر ویب سائٹس پر صرف کریڈٹ کارڈ ہی کا استعمال ممکن ہے، جس کی وجہ سے وہ صرف شمالی امریکی اور مغربی یورپی خریداروں تک ہی محدود ہیں۔

امریکہ میں بھی ریٹیل صنعت میں صرف چھ فیصد ہی ٹرانزيکشنز ای کامرس کی ہیں۔ کیا اس کی وجہ کاروبار ہے یا ٹیکنالوجی؟
اس کی وجہ ٹیکنالوجی ہے۔ سوچیں، آپ کو وہ چیزیں کہاں مل سکتی ہیں جو آپ خریدنا چاہتے ہیں۔ اب آپ کو یہ چیزيں بازار کے بجائے اپنے فون پر، اپنی فیس بک یا ٹوئیٹر فیڈ پر نظر آتی ہیں۔

لیکن موبائل آلے پر ان چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے آپ کو بہت کچھ کرنا پڑتا ہے: پہلے لنک پر کلک کریں، کسی ای کامرس ویب سائٹ پر جائيں، کارٹ میں ڈالنے کے لیے کلک کریں، اپنا پتہ اور کریڈٹ کارڈ نمبر ڈالیں اور پھر چیک آؤٹ کریں۔ یہ 10 مرحلوں پر مشتمل ہے، اس کے بعد بھی اس ٹرانزیکشن کے کامیاب ہونے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ میرے لیے دکان میں جا کر کسی کو پیسے دینا زیادہ آسان ہے، لیکن انھیں ڈیجیٹل طریقے سے پیسے دینا بہت مشکل ہے۔

آپ نے ایپل پے پر کام کیا ہے اور یہ اب تک تو صحیح سے کام کررہا ہے اور اس کے بہت پارٹنرز بھی ہیں لیکن یہ زیادہ انقلابی تو نہیں ہے؟
میرے خیال سے ایپل نے کافی جارحانہ کوشش کی ہے۔ مرچنٹس کو کریڈٹ کارڈ نمبر کے بجائے ایک ‘ٹوکن’ دینا بذات خود کافی انقلابی بات ہے۔ اگر اس کاروبار میں کسی بھی قسم کی ہیکنگ ہوگئی تو دنیا کا کوئی بھی شخص آپ سے کچھ چرا نہیں پائے گا۔ صارفین کی نجی معلومات سے متعلق تبدیلیاں بھی قابل قدر ہیں۔ ایپل اس تمام ڈیٹا کو اکٹھا کرکے اسے ایڈ ٹارگیٹنگ (ad targeting) کے لیے استعمال کرسکتا تھا لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

کوئی یوٹوپیا پیش کرنا بے کار ہے کیونکہ ایسا ہونے نہیں والا ہے۔ ایک نیا اور کامیاب ادائیگیوں کا طریقہ کار جو رویوں میں بھی تبدیلیاں لاسکے، بہت بڑی بات ہے۔

سٹرائپ کئی انقلابی قسم کے مصنوعات پر کام کررہا ہے۔

ہم بٹ کوائن (Bitcoin) کی ادائیگیوں کو بھی سپورٹ کرتے ہیں اور بٹ کوائن کے مبتادل سٹیلر (Stellar) میں بھی 30لاکھ ڈالر لگائے بیٹھے ہیں۔
بٹ کوائن ایک مالی رورسشیک (Rorschach) ٹیسٹ کی طرح ہے - ہر کسی کو اس میں وہی نظر آتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتا ہے۔ ہمارا مقصد ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز اور کامرس کو زیادہ عام کرنا ہے۔ بٹ کوائن ویلیو منتقل کرنے کا ایک یونیورسل طریقہ ہے۔

اس کے استعمال میں ابھی کافی مسائل ہیں۔ ٹرانزیکشن کلیئر کرنے میں کئی منٹ لگ جاتے ہیں۔ پھر بٹ کوائن حاصل کرنے کا بھی مسئلہ ہے۔ سٹیلر کے ساتھ آپ ڈیجیٹل کرنسی کے ساتھ ساتھ حقیقی اور عام استعمال ہونے والی کرنسیاں بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ ٹرانزیکشنز فوراً کلیئر ہو جاتی ہیں۔ ہم ہر اس چیز کی حمایت کرتے ہیں جس سے ہمیں انٹرنیٹ پر عام استعمال ہونے والے اور کارآمد کامرس کا انفراسٹرکچر کھڑا کرنے میں مدد ملے۔

کیا آپ ہر ٹرانزیکشن میں سے صرف کچھ ہی رقم لے کر دوسرے ہائی مارجن سافٹ ویئر سٹارٹ اپ جتنے پیسے کما سکتے ہیں؟
اس کاروبار کی مالی صورتحال آپ جو سوچ رہے ہیں، اس سے بہت بہتر ہے۔ پے پال کی آمدنی اور مارجن بہت اچھے ہیں۔ ہم ٹیکنالوجی فراہم کرتے ہیں اور ٹرانزیکشنز کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی بلنگ کرتے ہیں لیکن یہ صرف قیمت متعین کرنے کا طریقہ ہے۔

آپ اس کی قیمت کس طرح متعین کرتے ہیں؟ کیا آپ ہر ٹرانزيکشن کا کچھ فیصد حصہ لیتے ہیں یا کیا آپ ماہانہ یا سالانہ فیس لیتے ہیں؟
مارجن میں اس قدر فرق ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

Read in English

Authors
Top