Global Editions

گوگل اور فیس بک کے چیٹ بوٹس کے پیچھے کونسی نئی ٹیکنالوجی ہے؟

نام: جیوی لی (Jiwei Li)

عمر: 31 سال

ادارہ: SHANNON.AI اور شیجیانگ یونیورسٹی (Zhejiang University)

جائے پیدائش: چین

ری انفارسمنٹ لرننگ (Reinforcement learning) ایک نئی تکنیک ہے جس میں نیورل نیٹورکس سے غلطیاں کروا کر انہيں تربیت فراہم کی جاتی ہے، اور جیوی لی نیچرل لینگوئیج پراسیسنگ (natural language processing) کے شعبے میں، جس میں کمپیوٹر پروگراموں کو انسانی زبانیں سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے، اس تکنیک کا استعمال کررہے ہيں۔

لی کی کوششوں کی بدولت مشینیں اب ڈیپ ری انفارسمنٹ لرننگ کی مدد سے کسی بھی متن میں موجود الفاظ کے درمیان گرائمر کے قواعد کی نشاندہی کرکے ان الفاظ کے معنی بہتر طور پر سمجھ سکتی ہیں۔

جب ہم کوئی متن پڑھتے یا لکھتے ہیں تو اکثر آپس میں تعلق رکھنے والے الفاظ ایک ساتھ نہيں ہوتے۔ مثال کے طور پر، کسی فعل اور مفعول کے درمیان صفات یا دوسرے افعال موجود ہوسکتے ہیں۔ ماضی میں مشینوں سے قدرتی زبان پڑھوانے کی کوششیں اسی وجہ سے ناکام ہوجاتی تھیں کیونکہ وہ ان تعلقات کو سمجھنے سے قاصر رہتی تھیں۔ تاہم لی کے مشین لرننگ کے الگارتھمز پورے جملے کے گرائمر کے قواعد کو سمجھ کر بہتر طور پر ان کا مطلب بھانپ لیتی ہیں اور اب انہيں نیچرل لینگوئیج پراسیسنگ کے کئی سسٹمز میں استعمال کیا جارہا ہے۔

لی چین میں پیدا اور بڑے ہوئے اور وہ امریکہ آنے سے پہلے پیکنگ یونیورسٹی میں بائیولوجی پڑھ رہے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے کارنیل یونیورسٹی میں بائیوفزکس میں اپنا پی ایچ ڈی شروع کیا لیکن انہوں نے کچھ ہی عرصے بعد اپنا ارادہ بدل لیا اور پہلے کارنیگی میلن اور پھر سٹینفورڈ یونیورسٹی میں نیچرل لینگوئیج پراسیسنگ کی طرف اپنی توجہ مرکوز کرلی۔ لی کو سٹینفورڈ یونیورسٹی میں تین سال سے کم عرصے میں کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی مکمل کرنے والے پہلے طالب علم ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔

لی نے مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کو لینگوئيج ڈیٹا میں پیٹرنز کی نشاندہی کرنے کے تربیت فراہم کرنے کے دوسرے طریقوں پر بھی نظر ڈالی ہے۔ 2014ء میں انہوں نے ایک ٹیم کے ساتھ ٹوئٹر پوسٹس کا امریکی موسمیاتی ڈیٹا کے ساتھ موازنہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ موسم سے صارفین کا موڈ کس طرح متاثر ہوتا ہے۔ سب سے پہلے انہوں نے 600 ٹوئیٹس پڑھ کر پوسٹ کرنے والوں کے موڈ کا اندازہ لگانے کے بعد انہيں خود لیبل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ان لیبل شدہ ٹوئیٹس کی مدد سے ایک نیورل نیٹورک کی تربیت کی، اور پھر نیورل نیٹورک سے حاصل کردہ ڈیٹا کو جیولوکیشن کے ڈیٹا سے ملایا۔

لی کو یہ جان کر بالکل بھی حیرت نہيں ہوئی کہ بارش میں لوگوں کے موڈ زیادہ خراب ہوتے ہیں اور گرمی کے موسم میں ان کا غصہ زیادہ تیز ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی ثابت کر دکھایا کہ کسی بھی مشین کے لیے متن میں سے پوشیدہ معلومات حاصل کرنا ناممکن نہيں تھا۔

2017ء میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد لی بیجنگ واپس چلے گئے جہاں انہوں نے Shannon.ai نامی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ ان کی کمپنی وینچر کیپیٹلسٹس سے دو کروڑ ڈالر کی فنڈنگ حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے اور آج یہاں درجنوں افراد کام کرتے ہيں۔ Shannon.ai لی کے ماضی کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشین لرننگ کے ایسے الگارتھمز پر کام کررہی ہے جن کے ذریعے بزنس رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس جیسے مواد میں پوشیدہ اقتصادی پیشگوئیاں کرنا ممکن ہوگا۔

لی نے ڈیپ ری انفارسمنٹ لرننگ کے ذریعے مشینوں سے قدرتی لینگوئیج لکھوانے کی بھی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مشین پڑھنا سیکھ سکتی ہے تو اس کے لیے لکھنا کوئی مشکل بات نہيں ہے۔

تاہم کوئی بھی چیٹ بوٹ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، وہ پھر بھی بعض دفعہ بڑی عجیب عجیب غلطیاں کرتا ہے۔ جتنی زيادہ دیر گفتگو برقرار رہتی ہے، مصنوعی ذہانت کے سسٹم کے لیے موضوع پر قائم رہنا اتنا ہی زيادہ مشکل ہوتا ہے۔ لی کے الگارتھمز کی بدولت مصنوعی ذہانت کے سسٹمز زبان کی ساخت زيادہ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہيں، جس سے ان کے لیے مکالمے کے سیاق و سباق کو مدنظر رکھتے ہوئے جواب دینا زيادہ آسان ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کسی بوٹ سے پوچھا جائے ”شروع کریں؟“ تو اس کا جواب”بالکل“ ہوگا، لیکن یہ جواب تو کسی بھی سوال کے لیے دیا جاسکتا ہے۔ لی کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے بوٹ سیاق و سباق کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ جواب دے گا: ”بالکل۔ ابھی بہت کام پڑا ہے۔“

تحریر: ول ڈگلس ہیون (Will Douglas Heaven)

تصویر: ڈیوڈ ونٹینر (David Vintiner)

Read in English

Authors

*

Top