Global Editions

بغیر ڈرائیور کے چلنے والی پہلی وین 1980 میں تیار ہوئی ؟

بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کی تیاری کی خبریں آپ کی نظروں سے گزری ہوں گی مگر آپ کو یہ معلوم نہیں ہو گا کہ پہلی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑی کب تیار ہوئی؟ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑی سال 1984 ء میں کارنج ملن یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے تیار کی تھی اور یہ کار نہیں بلکہ ایک وین تھی۔ یہ وہ پہلی گاڑی تھی جسے کمپیوٹر کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا تھا۔ اس گاڑی میں ترقی یافتہ نظریے پر مبنی ریڈار اور لیزر شعاعیں نصب کی گئی تھیں۔ یہ نظام گاڑی کی نگاہوں کے طور پر کام کرتا تھا۔ یہی وہ نظام ہے جس کے تحت آج کے دور میں تیار ہونے والی خودکار گاڑیاں یا نیم خودکار گاڑیاں کام کر رہی ہیں۔ اس نظام کے تحت بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیاں راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو عبور کر سکتی ہیں اور گردونواح کی منظر کشی ممکن ہو سکتی ہے۔ کارنج ملن یونیورسٹی کی جانب سے تیار کی جانیوالی یہ گاڑی اندرونی طور پر ایف بی آئی کی سرویلنس وین کا منظر پیش کرتی تھی جس میں کئی طرح کے کمپیوٹر نہ صرف سڑک پر نظر رکھتے تھے بلکہ گاڑی کے ائیر کنڈیشن یونٹ کو بھی کنٹرول کرتے تھے۔ اسی طرح آج کے دور میں گوگل، ٹیسلا اور اوبر کی جانب سے بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیاں ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی کا مظہر ہیں اور اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ کارنج ملن یونیورسٹی کی جانب سے تیار کی جانیوالی گاڑی کے مقابلے میں موجودہ دور میں ترقی پانے والی ٹیکنالوجی اب کس مقام پر ہے۔ موجودہ ٹیکنالوجی کے تحت سینسر پیکج اور پریس کوریج کی نہ ختم ہونے والی سٹریم نے بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کو دنیا کے لئے قابل قبول بنا دیا ہے۔ اسی حوالے سے جب ول نائیٹ نے کارنج ملن کی Nav Lab کے اس تحقیق کار جو بغیر ڈرائیور کے چلنے والی پہلی وین تیار کرنے والوں میں شامل تھے سے بات کی تو ولیم ریڈ وہیٹکر (William Reg Whittaker) کا کہنا تھا کہ ابھی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے لئے بہت سے چیلنجز سے نمٹنا باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اوبر کی نئی سروس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی جانب سے تیار کی جانیوالی ٹیکنالوجی پرفیکٹ ہے۔ یقینی طور پر انہوں نے ابھی تک ہر مسئلہ حل نہیں کیا اور جو مسئلہ حل نہ ہوا ہو وہ edge کیس بن جاتا ہے۔ اور ابھی کئی Edge کیسز موجود ہیں جن میں کسی مخصوص صورتحال میں سینسر کا اندھا ہو جانا یعنی دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا چاہے وہ موسم کی وجہ سے ہو یا دھوپ کی شدت کے باعث یا کسی اور رکاوٹ کے سبب۔ اسی طرح اب بھی ہارڈوئیر اور سافٹ وئیرز میں بھی کئی طرح کی failures ہو سکتے ہیں۔ تاہم اہم یہ ہے کہ edge کیسز کسی بھی نامعلوم صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ آپ کسی بھی کار کو ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پروگرام نہیں کر سکتے۔ آپ کو ایسی صورتحال کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے جو اپکی سوچ سے باہر ہو مثال کے طور پر اگر آپ کاغذوں سے بھرا ایک تھیلا کسی چٹان سے نیچے پھینک دیں تو بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑی کسی بھی خطرناک صورتحال سے دوچار ہو سکتی ہے؎۔ تاہم اس تمام صورتحال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمیں بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے لئے مزید تیس برس انتظار کرنا پڑے گا۔

تحریر: مشعل رئیلائے (Michael Reilly)

Read in English

Authors
Top