Global Editions

ویب ٹریفک کی نگرانی کا تاریک مستقبل

اگر پاکستان میں انٹرنیٹ ٹریفک کی مانیٹرنگ متعارف کی جائے تو کسی کو حیرت نہيں ہوگی۔ لیکن اس قدر وسیع پیمانے پر ویب مانیٹرنگ سسٹم کے استعمال سے خطرے کی گھنٹیاں ضرور بج رہی ہيں۔

اکتوبر 2019ء میں انٹرنیٹ مانیٹرنگ ٹیکنالوجیز کی تخلیق کے باعث بدنام کینیڈین کمپنی سینڈوائن (Sandvine) اور پاکستانی حکومت کے درمیان پاکستان میں ویب ٹریفک کی نگرانی کے سلسلے میں طے شدہ معاہدہ پہلی بار منظرعام پر آگیا۔

اس معاملے کو مئی 2019ء سے میڈیا میں اچھالا جارہا ہے جب حکومت نے پہلی بار پاکستان میں انٹرنیٹ ٹریفک کی نگرانی کے متعلق اپنے ارادوں کا اعلان کیا تھا۔ اسی ماہ وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے سینیٹ کو بتایا تھا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشنز اتھارٹی  گرے ٹریفک کی نگرانی اور کنٹرول کرنے کی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ”اس مانیٹرنگ سسٹم کا نام ویب مانیٹرنگ سسٹم (Web Monitoring System – WBS) رکھا گیا ہے اور اس حوالے سے متعلقہ ٹیلی کام آپریٹنز اور وینڈرز کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوچکے ہيں۔“  انہوں نے مزید بتایا کہ اس سسٹم کی عملدرآمد میں بذریعہ ٹیکس حاصل کردہ رقم کا استعمال نہيں کیا جائے گا۔

اسی مہینے سینیٹ کے ایک سیشن کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ پی ٹی اے سینڈوائن کارپوریشن کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

سینڈوائن کی مشکوک سرگرمیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہيں ہيں۔ مثال کے طور پر، اس کمپنی  پر ترکی میں انٹرنیٹ صارفین کے کمپیوٹرز پر سپائی ویئر متعارف کرنے اور مصر میں صارفین کو ایفیلیٹ اشتہارات کی جانب بڑھانے کے الزامات عائد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل حقوق کے کارکنان اور صحافی پاکستانی حکومت کے ساتھ ان کی شراکت داری کے متعلق خبروں سے خاصے پریشان ہيں۔

Codastory.com میں ڈان اخبار سے وابستہ رمشاء جہانگیر کے ساتھ رپورٹ لکھنے والے صحافی عمر علی ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتے ہیں کہ سینڈوائن پاکستان میں ان باکس بزنس ٹیکنالوجیز (Inbox Business Technologies) نامی کمپنی کے ذریعے سہولیات فراہم کررہی ہے، جو پہلے ہی حکومت کے ساتھ کئی پراجیکٹس پر کام کررہی ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”ان کے فراہم کردہ آلات نہایت خطرناک ہیں۔ یوں سمجھیں کہ پوسٹ آفس کا عملہ آپ کی ڈاک کھول کر پورے عملے کو پڑھ کر سنارہا ہو۔“

علی کی تحریر کے مطابق دسمبر 2018ء میں طے کیے جانے والے اس معاہدے کی قیمت 1.85 کروڑ ڈالر ہے۔ اس کے نتیجے میں حاصل کردہ آلات کی بدولت ” پی ٹی اے کے لیے ڈیپ پیکٹ انسپیکشن (Deep Packet Inspection – DPI) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مواصلات کی نگرانی، اور ویب ٹریفک اور کال کے متعلق ڈیٹا کی پیمائش اور ریکارڈنگ کرنا ممکن ہوں گی۔“

موجودہ حکومت کو ان اقدام کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ علی کا کہنا ہے کہ ان معاملات سے وابستہ پہلے معاہدے پر پچھلی حکومت کے دوران دستخط کیے گئے تھے۔

علی بتاتے ہيں کہ ”اس مانیٹرنگ سسٹم سے تمام انٹرنیٹ ٹریفک پر نظر رکھی جائے گی۔ حکومت صحیح کہہ رہی ہے کہ اس میں ٹیکس کا پیسہ نہيں لگایا گیا ہے۔ پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سہولیات کے فراہم کنندگان کو لائسنسز کی منسوخی کی دھمکیاں دے کر اس سسٹم کے لیے ان سے رقم نکلوائی ہے۔“

اگر پاکستان میں انٹرنیٹ ٹریفک کی مانیٹرنگ متعارف کی جائے تو کسی کو حیرت نہيں ہوگی۔ لیکن اس قدر وسیع پیمانے پر ویب مانیٹرنگ سسٹم کے استعمال سے خطرے کی گھنٹیاں ضرور بج رہی ہيں۔

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (Digital Rights Foundation – DRF)کی ریسرچ مینیجر شمائلہ خان کو ڈر ہے کہ ان اقدامات کے باعث پاکستان میں نگرانی کے رجحان میں اضافہ ہوگا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ”جس ڈی پی آئی کے بارے میں بات کی جارہی ہے، اسے مشمولات ہٹانے یا بلاک کرنے کے لیے استعمال تو کیا ہی جاسکتا ہے، لیکن ساتھ ہی اس سے ایک قسم کا ‘فائروال’ بھی کھڑا کیا جاسکتا ہے جس سے بلا روک ٹوک انٹرنیٹ کے ٹریفک کی مانیٹرنگ کی جاسکے گی۔ اس سے پرائیوسی کے حوالے سے دو بڑے مسائل کھڑے ہوجائيں گے جس کے باعث اس سسٹم کو کسی بھی صورت قانونی تصور نہيں کیا جاسکتا۔ سب سے پہلے تو پی ٹی اے کے اختیارات میں بے تحاشہ اضافہ ہوجائے گا جس کی اس وقت متعلقہ قوانین میں گنجائش موجود نہيں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر اسے کسی طرح قانون کے دائرہ کار میں شامل کربھی دیا جائے تو پھر بھی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے باعث یہ غیرآئینی ہی رہے گا۔“

علی کا خیال ہے کہ نگرانی میں اضافے کے ان اقدام کے بعد پاکستان نے چین کے نقش قدم پر چلنا شروع کردیا ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”ہم اسی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہم نے اتنی ساری ویب سائٹس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ان میں صرف ‘غیراخلاقی’ ویب سائٹس ہی شامل نہيں ہیں۔ چین کی طرح پاکستان ان تمام ویب سائٹس کو بھی نشانہ بنا رہا ہے جس میں کسی قسم کی تنقید کی گئی ہو یا جن میں کوئی مختلف نظریہ پیش کیا گيا ہو۔پاکستان اسی قسم کی ٹیکنالوجی استعمال کررہا ہے جو اس وقت چین میں موجود ہے، جس میں کی ورڈز (keywords) کو ریئل ٹائم میں فلٹر کیا جاتا ہے۔“

دائرہ کار میں اضافہ

حکومتی افسران کئی سالوں سے ویب مانیٹرنگ سسٹم کے متعلق متضاد بیانات جاری کررہے ہيں۔ لیکن اب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ وہ اپنے ارادوں کو پوشیدہ رکھنے کی ہر ممکنہ کوشش کررہے ہيں۔

علی کہتے ہيں کہ ”حکومت جان بوجھ کر متضاد اور غیرواضح قسم کے بیانات جاری کررہی ہے، کیونکہ اگر عوام کو ان اقدام کی بھنک پڑ گئی تو وہ شور مچادے گی۔“

میڈیا میٹرز فار ڈیموکراسی (Media Matters for Democracy – MMfD) کی پروگرام مینیجر ہجہ کامران کا خیال ہے کہ ویب مانیٹرنگ کی نوعیت ہی کچھ ایسی ہے کہ سٹیک ہولڈرز کو حکومتی فیصلوں میں شامل کرنا ناممکن ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ”مانیٹرنگ کا مطلب صارفین کی پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ اس کا مقصد ممکنہ خطرات یا دہشت گرد سرگرمیوں کی نشاندہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ پوری عوام ہی پر شک کررہے ہيں۔ حکام یہ بات اچھے سے جانتے ہيں کہ وہ صارفین کی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کررہے ہيں، اسی لیے وہ اس پورے عمل میں شفافیت کا عنصر متعارف نہيں کرنا چاہتے۔“

کامران کا خیال ہے کہ تحفظ میں اضافے کے لیے ویب مانیٹرنگ سسٹم جیسے اقدام متعارف کرنے کے بجائے پاکستان کے موجودہ قوانین کو مزيد سخت بنانا چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ ویب ٹریفک کی نگرانی کے اقدام سے ”اکثر و بیشتر صرف حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والوں اور انسانی حقوق کے کارکنان ہی کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔“

پچھلے فروری پاکستان میں سوشل میڈیا کی نگرانی کا نیا پروگرام متعارف کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد نفرت انگیز اور ملک مخالف مشمولات کا مقابلہ کرنا تھا لیکن اسے پاکستانی صحافیوں اور کارکنان کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اسی لیے کسی بھی سسٹم میں شفافیت متعارف کرنا نہایت ضروری ہے۔

کامران کہتی ہيں کہ ”جہاں تک مانیٹرنگ کا سوال ہے، ان اقدامات میں شفافیت کا عنصر شامل کرنے کے مطالبے کی وجہ انسانی حقوق کا تحفظ ہے۔ حکام نہيں چاہتے کہ ان کے احکامات کے بارے میں کوئی سوال اٹھایا جائے۔ اسی لیے، عام شہریوں کی نگرانی کے دوران کتنی ہی شفافیت سے کام لیا جائے، نگرانی کا کوئی جواز نہیں بن سکتا، کیونکہ صارفین کی پرائویسی تو پامال ہو ہی رہی ہے۔“

2018ء کے عام انتخابات سے پہلے، سیاسی پارٹیوں نے عوام کو دلاسہ دینے کی کوشش کی تھی کہ وہ ڈیجٹل حقوق کے مسائل پر کام کریں گے۔ تاہم کارکنان کی متفقہ رائے یہی ہے کہ یہ محض سیاسی بیان بازی تھی۔

کامران کہتی ہیں کہ ”ان پارٹیوں کے پرانے منشوروں کا تجزیہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان میں یا تو ڈیجیٹل حقوق، پرائیوسی اور اظہار خیال کی آزادی کا تذکرہ سرے سے موجود نہيں ہے یا اگر ہے بھی تو انہيں کچھ خاص اہمیت نہيں دی گئی۔ یہ مسئلہ پورے سسٹم کا ہے، اور اب یہ ہمارے قانونی نظام اور اس کے متعلق بحث و مباحثے سے لے کر ‘تحفظ’ کے نام پر شہریوں کے حقوق کو روندنے تک، ہر ایک چیز کا بنیادی حصہ بن چکا ہے۔“

پاکستان میں ضابطہ کار اور ایگزیکٹو حکام کو انٹرنیٹ کی سہولیت پر بہت سخت کنٹرول حاصل ہے۔حکومت پاکستانی شہریوں کی انٹرنیٹ تک رسائی پر نظر رکھنے کے لیے انٹرنیٹ فراہم کنندگان سے صارفین کے ڈیٹا کے حصول سے لے کر سہولیات پر پابندی عائد کرنے تک سب ہی کچھ کرلیتی ہے۔ نیا ویب مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرنے سے ان کے پاس پہلے سے بھی زيادہ اختیارات ہوں گے، لیکن کیا یہ اختیار آئين کے مطابق ہے؟

خان کہتی ہیں کہ موجودہ قوانین کے مطابق اس وقت پی ٹی اے کے پاس اجتماعی مانیٹرنگ کا اختیار موجود نہيں ہے۔ وہ بتاتی ہيں کہ ”صرف پی ٹی اے کے قانون نمبر 54 کے تحت ’قومی تحفظ کے مفاد‘ کے لیے کالز اور پیغامات میں مداخلت کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کی الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون کی شق نمبر 37 میں وضاحت کی گئی ہے جس کے مطابق پی ٹی اے کو اس قانون کے تحت واضح کردہ ’غیرقانونی مواد‘ ہٹانے یا بلاک کرنے کا اختیار حاصل ہے۔“

وہ مزید بتاتی ہیں کہ ”پی ٹی اے کی طرف سے اپنے اختیارات کے غلط استعمال کی ایک بہت اچھی مثال الیکٹرانک جرائم کے قانون کی شق نمبر 37 کی روشنی میں نظر آتی ہے۔ انہيں اس شق کو عملدرآمد کرنے سے قبل قواعد و ضوابط تیار کرنے کی ضرورت تھی، لیکن پی ٹی اے نے اس قانون کی آڑ میں اس ضرورت کو نظرانداز کرتے ہوئے انٹرنیٹ کے مشمولات کی سینسرشپ شروع کردی۔“

پی ٹی اے کو مشمولات پر پابندی عائد کرنے سے قبل نوٹس جاری کرنی چاہیے لیکن وہ اکثر ایسا نہيں کرتی۔ خان بتاتی ہیں کہ ”MMfD کے کئی بار درخواست کرنے کے باوجود بھی پی ٹی اے نے ہمیں کوئی نوٹس نہیں بھجوایا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ یہ فیصلہ سنا چکا ہے کہ جب تک پی ٹی اے شق 37 کے لیے قواعد تیار نہيں کرتا، انہيں کسی بھی قسم کا آن لائن مواد بلاک کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ قواعد تو تیار نہيں ہوئے، لیکن شہریوں کے اظہار خیال کی آزادی اور پرائیوسی پامال کرنے کے نت نئے طریقوں پر عملدرآمد جاری ہے۔“

صارفین ہوشیار رہیں

پاکستان میں انٹرنیٹ سہولیات کا استعمال کوئی انوکھی بات نہيں ہے۔ عالمی بینک کے مطابق 73.36 فیصد افراد اپنے موبائل فونز کے ذریعے انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہيں۔ 2018ء میں فیس بک پر 3.2 کروڑ جبکہ ٹوئٹر پر 31 لاکھ پاکستان صارفین موجود تھے۔

بائٹس فار آل (Bytesforall) کی 2018ء میں شائع ہونے والی انٹرنیٹ لینڈسکیپ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں 15.4 کروڑ موبائل فون کے سبسکرائبرز، 6.2 کروڑ 3G/4G سبسکرائبرز، اور 6.4 کروڑ براڈبینڈ کے سبسکرائبرز موجود ہيں۔

جب الیکٹرانک جرائم کے خلاف تحفظ کا قانون متعارف کیا گیا تھا تو اسے صارفین کی پرائیویسی اور تحفظ کو نقصان پہنچانے کے متعلق خدشات کے باعث بہت تنقید کا نشانہ بنایا گيا۔ اگر سینڈوائن کا نیا ویب مانیٹرنگ سسٹم متعارف کردیا جائے تو صارفین کے ڈیٹا کی پرائیوسی مزید کم ہوجائے گی۔

خان بتاتی ہيں کہ ”ڈیپ پیکٹ انسپیکشن کی بدولت آپریٹرز کے لیے تمام ڈیٹا پیکٹس کا معائنہ کرنا ممکن ہوجاتا ہے جس سے انٹرنیٹ کی تمام سرگرمی پر نظر رکھی جاسکتی ہے۔ اس طرح لوگوں کی نگرانی کی جاسکتی ہے، مواصلات پڑھی جاسکتی ہیں اور مشمولات کو بلاک کیا جاسکتا ہے، اور یہ سب آئین پاکستان کی شق نمبر 14 اور اظہار خیال کی آزادی کے اصولوں کے تحت شہریوں کو دستیاب پرائیوسی کے حقوں کی خلاف ورزی ہے۔“

اس کا مطلب ہے کہ حکومت پاکستان ملک بھر میں سائبرسپیس میں موجود تمام معلومات پر نظر رکھ سکے گی۔ حکام کے پاس اس بات کا فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار ہوگا کہ کون کس قسم کے مواد تک رسائی کرسکتا ہے، اور وہ اپنی مرضی سے مشمولات کو بلاک کرتے رہیں گے۔

اگر ایسا سسٹم متعارف ہوجائے تو صارفین کے تحفظ کے راستے بند ہونا شروع ہوجائيں گے۔ اجتماعی نگرانی کا سسٹم متعارف کرنا آئین کے تحت پاکستانی شہریوں کو دستیاب حقوق کی خلاف ورزی ہے، اور خان کا خیال ہے کہ اس قسم کے سسٹمز کو عدالت میں چیلنج کرنا بہت ضروری ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ”ہمیں پاکستانی صارفین کی مناسب پرائویسی کے تحفظ کے لیے مانیٹرنگ ٹیکنالوجی کے استعمال کے سلسلے میں شفافیت کا مطالبہ کرنا ہوگا۔ انفرادی سطح پر ہم ٹریفک کی نگرانی سے بچنے کے لیے وی پی این (VPN) کا استعمال کرسکتے ہيں، لیکن یاد رکھیں کہ ایسے وی پی این کا استعمال بہت ضروری ہے جو آپ کا ڈیٹا نہ ریکارڈ کرتا ہو۔“

پاکستان میں ٹیلی گرام جیسی ایپس پر پابندی عائد ہوچکی ہے کیونکہ حکومت ان کے ذریعے بھیجی جانے والی مواصلت پر نظر نہيں رکھ سکتی۔ سگنل جیسی ایپس ابھی بھی استعمال کی جاسکتی ہیں، لیکن اگر اس نئے ویب مانیٹرنگ سسٹم  کو متعارف کیا جائے تو اس سے فرق نہيں پڑے گا کہ ان ایپس سے کتنا تحفظ ممکن ہے۔

اینکریپشن کے باوجود صحافی اور کارکنان جیسے گروپس کو ابھی بھی خطرہ ہے۔ خان بتاتی ہيں کہ ”ڈیپ پیکٹ انسپیکشن میں ایس ایس ایل (SSL) کے ذریعے اینکریپٹ شدہ سرٹیفیکشن رکھنے والے ایچ ٹی ٹی پی ایس (HTTPS) ٹریفک کی نگرانی کی جاسکتی ہے۔ تاہم یہ بات اب تک واضح نہيں ہوسکی ہے کہ کیا سینڈوائن میں اینڈ ٹو اینڈ اینکریپشن (end-to-end encryption) کو ڈی کوڈ کرنے کی صلاحیت موجود ہے؟

واٹس ایپ جیسے اینڈ تو اینڈ اینکریپشن استعمال کرنے والی ایپس پر حالیہ حمولوں کے پیش نظر اس وقت اس خطرے کو نظرانداز نہيں کیا جاسکتا کہ اجتماعی نگرانی کرنے والے سسٹمز سے سائبرسپیس میں مختلف رائے کا اظہار کرنے والے افراد بہت زیادہ متاثر ہوں گے۔“

تاہم اس وقت پاکستان میں تحفظ کے لیے استعمال کیے جانے والے ٹولز کی حیثیت ڈاما ڈول ہی ہے۔ کامران کہتی ہيں کہ ”پاکستان میں اینکرپشن کو پہلی ہی غیرقانونی قرار دیا جاچکا ہے۔ اگر نگرانی کے سسٹمز متعارف کردیے جائيں تو حکام اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجائيں گے۔“

وہ مزید بتاتی ہیں کہ ”کسی بھی ویب مانیٹرنگ سسٹم اور آن لائن مشمولات کنٹرول کرنے کی کوششوں سے صارفین کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پرائیوسی اور آزادی اظہار خیال متاثر ہوں گے، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان پر زیادہ کڑی نظر رکھ سکیں گے۔ ہمارے پاس 2016ء کے الیکٹرانک جرائم کے قانون کی مثال موجود ہے جسے بظاہر تو سائبرکرائمز کی روک تھام کے لیے متعارف کیا گیا تھا لیکن اسے اب تک صرف اضافی سینسرشپ کے ذریعے اظہار خیال پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ جس ویب مانیٹرنگ سسٹم کی بات کی جارہی ہے اس سے عام شہریوں کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کے رجحان میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔“

2019ء کی فریڈم آن دی نیٹ (Freedom on the Net) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی رینکنگ ابھی بھی ”not free“ (”غیرآزاد“) ہے، اور رسائی میں رکاوٹوں اور صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی کے زمرہ جات میں اس کے سکورز بہت کم ہیں۔

اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں آٹھ لاکھ سے زیادہ ویب سائٹس کو بلاک کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان سوشل میڈیا کی مشمولات پر پابندیوں میں بھی سب سے آگے ہے۔

خان کہتی ہیں کہ ”اس قسم کی خبریں کچھ خاص امیدافزا نہيں ہيں۔ تاہم اگر عام شہری آواز اٹھائيں اور اپنے قانونی حق کا استعمال کریں تو ہم تھوڑا تھوڑا کرکے انٹرنیٹ واپس اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہيں۔ اس کی ایک بہت اچھی مثال اے ڈبلیو پی (AWP) کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کردہ درخواست ہے۔“

پچھلی دو دہائیوں میں پاکستان میں انٹرنیٹ مانیٹرنگ کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ سیاسی پارٹیاں عام طور پر دوسرے مسائل پر تو اتفاق رائے قائم کرنے سے قاصر نظر آتی ہیں، لیکن سائبرسپیس کی نگرانی ان گنے چنے مسائل میں سے ایک ہے جن پر سب ہی متفق ہيں۔

پاکستان میں جنرل مشرف کی فوجی حکومت کے وقت سے نگرانی میں اضافہ ہورہا ہے اور حالیہ اقدام کو دیکھتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ یہ صورتحال اسی طرح قائم رہنے والی ہے۔

لبت زاہد لاہور میں رہائش پذیر صحافی ہیں۔

تحریر: لبت زاہد

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top