Global Editions

طب میں پہلی دفعہ ادویات سے مادررحم میں وراثتی بیماری کا علاج

جرمنی میں ڈاکٹروں نےکامیابی سے بائیوٹیک کا استعمال کرتے ہوئے رحم میں جڑواں بچوں کا علاج کیا۔ اس علاج سےبیماری کو ختم کرنے کا نیا راستہ مل گیا۔

حمل کے دوران صرف صحیح وقت پر ایک پروٹین کے انجکشن نے پسینہ کے غدود کے بغیر پیدا ہونے والے ایک جڑواں بچوں کے سیٹ اور ایک دوسرے بچے کا علاج کیا ہے۔

دوران حمل پہلی بار ایک ایسی دوا استعمال کی گئی ہے جس نے رحم میں بچوں کی بڑھوتری کے حوالے سے بیماری کا علاج کیا ہے۔

نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی ایک کیس رپورٹ میں بیان کردہ تجربہ، 2016 میں جرمنی کے ایک ایک کلینک میں ہواجو کہ نادر اور وراثتی جلد کی بیماریوں کا علاج کرنے میں مہارت رکھتا ہے خاص طور پر ایک بیماری جسے XLHED کہا جاتا ہے۔ اس مرض میں مبتلامریضوں کے پیدائشی طور پرجانوروں کی طرح نکلے ہوئے نوکیلے دانت ہوتے ہیں اور ان کو پسینہ نہیں آتا۔

مسئلہ: ان مریضوں کے جسم ایک خاص پروٹین پیدا نہیں کرتے جو کہ پسینہ کے غدود پیدا کرنے کے لئے درکار ہوتی ہے۔
ارلینگین نرنبرگ یونیورسٹی (Erlange)

-Nürnberg میں واقع جرمن کلینک نے پہلے ہی نوجوان بچوں میں پروٹین تبدیل کرنے کے علاج کے لئےایک کلینیکل مطالعہ میں حصہ لیا تھا۔
لیکن دوا نےنے بچوں کے لئے کچھ نہیں کیا، مطالعہ چھوڑ دیا گیا تھا، اور دواسازادارہ ایڈمر فارماسوٹیکل (Edimer Pharmaceutical بند ہو گیا۔
ایک جرمن نرس کورنیا ٹی(Corinna T) نے نام خفیہ رکھنے کی درخواست کی۔ اس کے ایک بیٹے کو یہ بیماری تھی جس کے بارے میں اسے تب پتا چلا جب وہ دو سال کا تھا۔

کورنیا یاد کرتی ہے،”وہ مسلسل بہت زیادہ چلا رہا تھا کیونکہ اس کا جسم بہت زیادہ گرم ہو گیاتھا۔ متاثرہ بچے بعد میں سیکھ جاتے ہیں کہ کس طرح ٹھنڈے ٹائلوں کے فرش پر لیٹ کر یا اپنے اوپر پانی ڈال کر اپنے آپ کی دیکھ بھال کیسے کی جائے۔

کورنیا ٹی کی کونسلنگ کرنے والے ڈاکٹرہولم شنائیڈر (Holm Schneider) کا کہنا ہے”،یہ بیماری جان لیوا ہو سکتی ہے جب بچے جوان ہوں۔ جب آپ کار میں ان کو چھوڑ جائیں تو یہ بہت جلدی گرم ہو جاتے ہیں”۔ ” لیکن جب یہ بڑے ہو جاتے ہیں تو یہ قدرتی طورپر جان جاتے ہیں کہ اپنے آپ کو ٹھنڈا کیسے رکھا جائے۔”

کارنیا کا کہنا ہے کہ وہ پھر جڑواں بچوں کے ساتھ حاملہ ہو گئی اور 21 ہفتوں میں اس حمل کے دوران، الٹراساؤنڈ نے انکشاف کیا کہ ان بچوں کو بھی وہی بیماری ہے۔
اگرچہ ایڈیمر کی ادویات بچوں کی مدد کرنے میں ناکام رہی لیکن اس نے حاملہ جانوروں پر کام کیا۔کارنیا اور اس کے شوہر نے ڈاکٹرہولم شنائیڈر سے پوچھا: کیا مادر رحم میں جڑواں بچوں کا علاج ممکن ہو گا؟

وہ کہتے ہیں ،”ہم ہچکچا رہے تھے۔” “اس صورتحال میں آپ دو بار سوچتے ہیں۔ آپ خطرات کے بارے میں مزید سوچتے ہیں – تین زندگیاں نہ چلی جائیں – لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ علاج کامیاب ہو جائے “

ایک ماہ کے دوران، ڈاکٹرہولم شنائیڈر اور اس کی یویورسٹی نے ہمدردی کی بنیاد پرعلاج کرنے کی حامی بھری ۔ وہ ایڈیمر کے ٹرائل سے بچ جانے والے ادویات کی کچھ ڈوز حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

ڈاکٹرہولم شنائیڈر نے اس صورت کے باجود بھی علاج کیا کہ پروٹین عارضی طور پر حمل کے 20 ویں اور 30 ویں ہفتے کےدرمیان استعمال ہوتی ہیں جب مادر رحم میں موجود بچے میں پسینے کے غدود بن رہے ہوتے ہیں۔ شنائیڈر کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم نے اسے براہ راست جڑواں بچوں کی تھیلی میں انجکشن سے پروٹین لگائی۔

یونیورسٹی کالج لندن میں خواتین کی صحت کے ڈائریکٹر انا ڈیوڈ (Anna David) کا کہنا ہے ، ” سب سے بڑی چیز یہ ہے ان پسینے کےغدود کے لئے وقت اہم ہے۔” “مجھے لگتا ہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ آپ پیدائش سے پہلے ایک جینیاتی بیماری کے علاج کے لئےایک پروٹین استعمال کر رہے ہیں۔”

دیگر بیماریاں، جیسے ہیموفیلیا کا اس طرح سے علاج نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جسم کو مالیکولز کی فراہمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آخر میں سائنسدانوں کو خطرناک جین تھیراپی کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ بچے کے جسم کے خلیوں میں ایک نئی جین ڈالتے ہیں لیکن ڈیوڈ کہتے ہیں کہ اس چیز کا کبھی بھی تجربہ نہیں کیا گیا۔

کورنیا نرس کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں XLHED کا علاج کام کر گیا۔وہ کہتی ہیں، “انتہائی کامیاب۔” ” میرےجڑواں بچوں کو عام بچوں کی طرح پسینہ آتا ہے۔”ان کےاب بھی چہرے کے کچھ خدوخال غیر معمولی ہیںور کچھ دانت نہیں ہیں۔”

دوسرے والدین بھی اب علاج چاہتے ہیں، اور شنائیڈر کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتا ہے کہ وہ ایک خیراتی ادارے کی مدد سے کلینیکل ٹرائل منعقد کر سکتا ہے۔کورنیا کی کامیابی کے بعد ان کی ٹیم نے ایک دوسری خاتون کے مادر رحم میں علاج کیا ہے، لیکن اس کی دوبارہ کوشش نہیں کی گئی۔

یہ دوا کام بھی کرے تو بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی بھی کمپنی ماں کی کوکھ میں بچوں کے علاج کے لئے اس دوا کی مارکیٹنگ کرے گی ۔ بیماری بہت نایاب ہے- شاید 25,000 افراد میں سے ایک کو متاثر کرتی ہے اور اور ماں کی کوکھ میں علاج کے لئے بہت کم کمپنیاں کوشش کریں گی کیونکہ یہ چیز حاملہ خاتون کےلئے بھی خطرے کا باعث بنے گی۔

شنائیڈر کا کہنا ہے،”اگر آپ یہ مریض کمیونٹی کے لئے بنانا چاہتے ہیں اور اسے ایک بار زندگی میں لگاتے ہیں تو دواکے منافع بخش ہونے کا امکان بہت کم ہے”۔ ” اس کےباجود ایک ناقابل علاج مرض ہے ، جس کی کوئی دوا نہیں ہے اور یہاں کوئی چیز ہے جو کام کر رہی ہے۔تین مریضوں پراس دوا کا استعمال کیا گیا اورتینوں پر کامیاب رہا”۔

تحریر: انٹونیو ریگلالڈو(Antonio Regalado)

Read in English

Authors

*

Top