Global Editions

مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کے بجائے ان پر کام کرنے کی ضرورت ہے

آج کل مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات کے بارے میں بہت زیادہ بات ہورہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب بات چیت کے بجائے قدم اٹھانے کا وقت آگیا ہے۔

پچھلے سال جب میں نے مصنوعی ذہانت کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا، اس وقت اس کے نقصانات سامنے آرہے تھے۔ 2018ء میں جینریٹیو ایڈورسیریل نیٹورکس (generative adversarial networks – GAN) اور ری اینفارسمنٹ لرننگ (reinforcement learning) سے لے کر قدرتی زبان کی بہتر سمجھ بوجھ تک، مصنوعی ذہانت میں بہت زيادہ تحقیق سامنے آئی تھی۔ لیکن ساتھ ہی ان ٹیکنالوجیز کو بغیر سوچے سمجھے بروئے کار لانے کے نقصانات بھی واضح طور پر سامنے آئے ہیں۔

مثال کے طور پر جب آٹو پائلٹ پر چلنے والی ایک ٹیسلا گاڑی حادثے کا شکار ہوئی تو اس کا ڈرائیور جاں بحق ہوگیا۔ اسی طرح خود سے چلنے والی اوبر کی گاڑی کے حادثے میں ایک راہ گیر مارا گیا۔ جب مارکیٹ میں دستیاب چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی سسٹمز کی ٹیسٹنگ سیاہ فام افراد پر کی گئی تو وہ بری طرح ناکام ثابت ہوئے، لیکن ٹیک کمپنیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بدستور ایسے سسٹمز فروخت کررہی ہیں۔ میں نے پچھلے سال مصنوعی ذہانت کی کمیونٹی کو انتباہ کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت جادو کی چھڑی نہيں ہے اور ٹیک کمپنیوں کو سسٹمز بنانے اور استعمال کرنے کے دوران ذمہ داری سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

میری خواہش کچھ حد تک تو پوری ہوگئی۔ 2019ء میں مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات کے متعلق ماضی سے کہیں زيادہ بات چیت کی گئی۔ درجنوں ادارے گائيڈلائنز جاری کرتے رہے ہيں اور مصنوعی ذہانت کی ذمہ دار ٹیمز تشکیل کر کے میڈيا کے سامنے خوب ڈھول پیٹا جاچکا ہے۔ شاید ہی کوئی کانفرنس ہوگی جس میں وافر مقدار میں ڈیٹا کی ضرورت پڑنے کے باوجود رازداری کے تحفظ، پسماندہ کمیونٹیز کو نقصان کے بجائے فائدہ پہنچانے اور جعلی خبروں کی بھرمار کے باوجود میڈیا پر بھروسہ کرنے کی بات نہ کی گئی ہو۔

لیکن سچ پوچھیں تو صرف باتیں کرنے سے کچھ نہيں ہوگا۔ کئی اداروں کے مصنوعی ذہانت سے وابستہ ضابطہ اخلاق اور رہنما اصول ابھی بھی واضح طور پر بیان نہيں کیے گئے ہيں اور انہيں عملدرآمد کرنا ناممکن نہيں تو مشکل ضرور ہے۔ ایسی بہت کم کمپنیاں ہيں جو مصنوعی ذہانت سے وابستہ مصنوعات اور سہولیات کے تخمینے اور منظوری کے طریقہ کار میں واضح تبدیلیوں کا ثبوت پیش کرسکتی ہیں۔ ہم ایک ایسی صورتحال کی طرف بڑھ رہے ہيں جس میں کام کم اور باتیں زيادہ ہورہی ہیں۔ گوگل کی مثال لے لیں۔ کچھ عرصہ قبل انہوں نے مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات کا بورڈ قائم کیا تھا لیکن اسے مشکوک پراجیکٹس کو مسترد کرنے کا اختیار نہیں دیا گيا۔ اس کے علاوہ اس بورڈ میں چند منتازہ ممبران بھی شامل تھے۔ شدید ردعمل کے بعد جلد ہی اس بورڈ کو ختم کردیا گیا۔

اس وقت اخلاقی ذمہ داری کی ضرورت شدت کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ 2018ء میں GANs میں بہت زيادہ پیش رفت ہوئی تھی لیکن ساتھ ہی حقیقت کے قریب ڈیپ فیکس بھی عام ہونا شروع ہوگئيں، جنہيں خواتین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، اور جن سے لوگوں کا آنکھوں دیکھے ثبوت پر بھی اعتماد ختم ہوتا جارہا ہے۔ اسی طرح نئی تحقیق سے یہ بات ثابت ہونے کے باوجود کہ ڈیپ لرننگ سے ماحولیاتی تبدیلی پر بہت برا اثر پڑتا ہے، کمپنیاں پہلے سے بھی زيادہ بڑے اور زيادہ توانائی استعمال کرنے والے ماڈلز کی تربیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ محققین اور صحافیوں کی کوششوں سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے باعث جنم لینے والی ملازمتوں پر، جن میں مشمولات کے ماڈریٹشن، ڈیٹا کی لیبل اور ٹرانسکرپشن جیسے کام شامل ہيں، مامور افراد نہایت ناگوار حالات میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہيں۔

تاہم 2019ء میں امید کی ایک کرن نظر آئی تھی۔ اس سال کمیونٹی گروپس، پالیسی میکرز اور ٹیک کے شعبے میں کام کرنے والے افراد نے نقصان دہ مصنوعی ذہانت کے خلاف آوازیں اٹھائی ہیں۔ کیلیفورنیا کے شہر سین فرانسیسکو اور اوکلینڈ اور میساچوسیٹس کے شہر سومرول کے علاہ دیگر کئی شہروں میں عوامی سطح پر چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی پر پابندی عائد ہوچکی ہے اور عوامی رہائش کے پراجیکٹس میں اس کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے متعلق وفاقی قوانین پر بھی کام کیا جارہا ہے۔ مائکروسافٹ، گوگل، اور سیلز فورس جیسی بڑی ٹیک کمپنیوں کے ملازمین بھی مہاجرین کی ٹریکنگ اور بذریعہ ڈرون لوگوں کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں۔

اس کے علاوہ محققین نے مصنوعی ذہانت کے تعصب کو کم کرنے اور اس شعبے کے بے تحاشہ توانائی کے استعمال کی وجہ بننے والے عناصر پر نظر دوڑانے کی کوششوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔ کئی کمپنیاں صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ اور ڈیپ فیکس اور جعلی خبروں کا مقابلہ کرنے کے لیے وسائل وقف کررہی ہیں۔ ماہرین اور پالیسی دان ایسے قوانین تیار کرنے کی کوششیں کررہی ہيں جن سے انوویشن میں کمی لائے بغیر مصنوعی ذہانت کے غیرمطلوبہ نتائج کی روک تھام ممکن ہو۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ 2019ء کی سب سے بڑی سالانہ کانفرنس میں بیشتر خطابوں اور ورک شاپس میں حقیقی دنیا کے ایسے کئی مسائل پر بات کی گئی جو یا تو مصنوعی ذہانت کے وجہ سے پیدا ہوئے تھے یا جنہيں مصنوعی ذہانت کی مدد سے حل کیا جاسکتا ہے۔

اسی لیے مجھے امید ہے کہ کارپوریشنز اور یونیورسٹیاں 2020ء میں اس جذبے کو آگے بڑھائيں گے اور ایسی تبدیلیاں لائيں گے جن سے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی سمت مثبت انداز سے تبدیل ہوسکے۔ ہمارے پاس بہت وقت پڑا ہے لیکن ہمیں اس خواب کو نہيں بھولنا چاہیے جس پر یہ پورا شعبہ کھڑا ہے۔ کئی دہائیاں پہلے، کچھ انسانوں نے عقل مند مشینوں کا خواب دیکھا تھا جس سے ایک دن دنیا کے سب سے بڑے مسئلے حل کیے جاسکیں گے۔

مصنوعی ذہانت انسانیت کی ترقی کے لیے ایجاد کی گئی تھی، اور یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔

تحریر: کیرن ہاؤ (Karen Hao)

Read in English

Authors
Top