Global Editions

بنیادی آمدن کا عالمگیر نظریہ۔۔۔۔؟

سال 2017 میں  ہم یہ اندازہ لگا پائیں گے کہ بنیادی آمدن کا عالمگیر نظریہ ایک اچھوتا اور عمدہ خیال ہے یا نہیں۔ بظاہر یہ نظریہ سادہ معلوم ہوتا ہے۔ حکومت لوگوں کو کچھ نہ کرنے کے پیسے دیتی ہے۔ ریاست شہریوں کو سہولیات بہم پہنچاتی ہے اور لوگ اپنے حالات سے قطع نظر حکومت سے پیسے وصول کرتے ہیں۔ اس طریقہ کے حامی طبقے کا ماننا ہے کہ ریاست کے اس اقدام کی وجہ سے غربت میں کمی آتی ہے اور ان لوگوں کی مدد ممکن ہو جاتی ہے جو کم تر درجے کی ملازمتیں کرتے ہیں اور تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اب جبکہ آٹومیشن کے سبب روزگار کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں تو یہ دلیل پیش کی جا رہی ہے کہ عالمگیر بنیادی آمدن کا نظریہ اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس نظریہ کی اصابت کا تجزیہ اپنی جگہ تاہم یہ ضرور ہے کہ ہمیں ابھی تک یہ معلوم ہی نہیں کہ بغیر کسی محنت کے حاصل ہونے والی آمدنی کیا لوگوں کو خوش، مطمئن، صحت مند، تخلیق کار اور سودمند بنا سکتی ہے؟ یا اس آمدن کے سبب وہ گھر بیٹھ کر صرف ٹی وی دیکھتے یا مشروب پیتے ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق سال رواں کے اوائل میں فن لینڈ کی حکومت نے ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے دو ہزار بے روزگار افراد کو منتخب کیا۔اس کے بعد حکومت نے ان افراد کو بغیر کسی شرط کے ماہانہ تنخواہ کی ادائیگی شروع کر دی۔ اسی دوران اسی طرح کا اقدام آکلینڈ، کیلی فورنیا میں بھی کیا گیا جہاں Y Combinator نے سو خاندانوں کو ماہانہ دو ہزار ڈالر ادا کئے۔ اخبار میں شائع ہونے والے Y Combinator کے صدر سیم آلٹمین (Sam Altman) کی جانب سے تحریر کئے جانیوالے بلاگ میں کہا گیا ہے کہ ان خاندانوں کی ادا کی جانیوالی رقم غیر مشروط تھی، وصول کنندگان کو یہ آزادی حاصل تھی کہ وہ چاہیں تو کام کریں، کسی دوسرے ملک چلے جائیں یا جو چاہیں وہ کریں ان کو رقم ادا کی جائے گی۔ سیم کا کہنا تھا کہ ہمارا ماننا ہے کہ بنیادی آمدن شخصی آزادی کو تقویت دیتی ہے اور ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ لوگ اپنی آزادی سے کس طرح لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اسی طرح کے تجربات کینڈا اور ایمسٹرڈیم میں بھی شروع کئے گئے تھے تاہم یہ فوری طور پر قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو گئے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ صرف دستیاب ڈیٹا کی مدد سے اس امر کا تعین نہیں کیا جا سکتا ہے کہ بنیادی آمدن کا تصور درست ہے یا نہیں۔ حتیٰ کہ آلٹمین کا بھی کہنا ہے کہ نتائج اس اہم سوال کا جواب ضرور دیں گے کہ آیا بنیادی آمدن کا تصور قابل عمل ہے یا نہیں۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو نے بھی سال رواں میں اس موضوع کاجائزہ لیا اور اس میں چند بنیادی مسائل کی نشاندہی کی۔ پہلا یہ کہ اس تصور کی بنیاد اس امر پر ہے کہ بڑھتی ہوئی آٹومیشن کے سبب روزگار کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں تاہم ابھی تک اس طرح کی آٹومیشن کسی بھی شعبے میں نظر نہیں آ رہی اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس کے امکانات موجود ہیں، دوسرا یہ کہ لوگوں کو ورک فورس سے نکال لینا نہ صرف ان کے لئے تربیت کے مواقع ختم کر دیگا بلکہ بہتر جاب کی تلاش کی جستجو بھی ختم ہو جائے گی۔ تیسرا اور اہم نکتہ یہ کہ یہ تصور بہت ہی مہنگا ہے۔ ان تجربات سے ابھی بہت کچھ ثابت ہونا باقی ہے۔ تاہم آئندہ برس کے دوران ہمیں اس امر کی بہتر آگاہی حاصل ہو سکے کہ یہ تصور سودمند ثابت ہو سکتا ہے اور اس کے لئے ان تجربات کے نتائج کا انتظار ضروری ہے۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors

*

Top