Global Editions

خوراک کے تحفظ کیلئےصدیوں پرانے طریقے اپنانے پر غور۔۔۔

آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ مستقبل میں خوراک کے تحفظ کے لئے چار ہزار سال پرانے طریقے پر عمل کیا جائیگا۔ حال ہی میں میساچوٹا کی ایک کمپنی Evaptainers روزمرہ استعمال کی خوراک کے تحفظ کے لئے فریج اور بجلی استعمال کرنے کے بجائے چار ہزار سال پہلے کے طریقے کو آج کے سائنسی دور میں ٹیکنالوجی کی مدد سے بروئے کار لانے کے لئے کام کر رہی ہے۔ اس طریقے کے تحت خوراک کو مخصوص کنٹینرز میں رکھ کر اسے تبخیری عمل کے ذریعے محفوظ کیا جا سکے گا۔ آج سے تقریباً چار ہزار سال پہلے اس زمانے کے لوگ روزمرہ استعمال کی خوراک کو ذخیرہ کرنے کے لئے ایسی ہی تکنیک استعمال کرتے تھے اور تبخیری عمل کے ذریعے خوراک کو آئندہ کے استعمال کے لئے محفوظ کیا جاتا تھا۔ آج کے دور میں دنیا توانائی کے بحران کا شکار ہے اور خاص طور پر ان علاقوں جہاں بجلی کا شدید بحران ہے فریج کا استعمال نہایت مشکل ہے کیونکہ فریج کو چلانے کے لئے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے اور بجلی کی عدم فراہمی کے نتیجے میں روزمرہ معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت کے ذیلی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے ک ایک اندازے کے مطابق دنیا کے ایسے علاقے جہاں توانائی کا بحران شدید ہے وہاں سالانہ 310 ارب ڈالر مالیت کی خوراک مناسب ریفریجیریشن Refrigeration نہ ہونے کے سبب ضائع ہو رہی ہے۔ اس لئے Evaptainers نامی کمپنی نے ماضی میں اپنائی گئی تکنیک کی مدد سے فریج کے استعمال کے رحجان کو کم کرنے کے لئے تبخیری عمل کی تکنیک کو متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تکنیک نہایت سادہ ہے اور صدیوں تک خوراک کی حفاظت کے لئے اسی طریقے پر عمل کیا جاتا رہا ہے۔ ماضی میں اپنائے جانیوالے طریقے کے تحت دو ایسے برتن لئے جاتے تھے جس میں ایک سائز میں دوسرے سے تھوڑا سا چھوٹا ہوتا تھا، دونوں برتنوں میں موجود خلاء کو مٹی اور پانی سے بھرا جاتا تھا اور اس اندر والے برتن میں خوراک رکھ دی جاتی تھی۔ دونوں برتنوں میں موجود خلاء جہاں ریت اور پانی کا آمیزہ ہوتا تھا وہاں پانی ریت سے بخارات کی شکل میں الگ ہونا شروع ہو جاتا تھا اور اپنے ساتھ ہیٹ کو بھی اڑا لے جاتا تھا اس عمل کے نتیجے میں اندرونی برتن میں موجود اشیاء کا درجہ حرارت 35 ڈگری فارن ہیٹ رہ جاتا تھا اور اشیاء پر بخارات نمایاں ہو جاتے تھے جو اشیاء کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتے تھے۔ اس سارے عمل کے لئے بجلی کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب Evaptainers نے اس عمل پر ایم آئی ٹی کی لیبارٹری میں تحقیق کی اور ماضی میں اپنائی جانیوالی تکنیک کا دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق پروٹو ٹائپ تیار کیا ہے اور اسی طرح کے دو چیمبر تیار کئے ہیں جو سائز میں ایک دوسرے سے چھوٹا ہے۔ چیمبرز کی دونوں پرتوں کے دوران آدھے انچ کی جگہ چھوڑی جاتی ہے جس میں بعد ازاں مخصوص ریشوں سے بنے مواد اور پانی کو ڈال کر اسے بند کیا جاتا ہے تاکہ تبخیری عمل جاری رہ سکے۔ اور اس کے نتیجے میں اندرونی چیمبر میں رکھی جانیوالی خوراک تبخیری عمل کے نتیجے میں محفوظ رہ سکے۔ اس حوالے سے کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سپنسر ٹیلر (Spencer Taylor) کا کہنا ہے کہ ہمیں اس پراڈکٹ کی تیاری پر بہت عمدہ فیڈ بیک ملا ہے اور ابھی تک ہم نے اپنے پروٹو ٹائپ کے 25 یونٹس تیار کئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ سال رواں  کے آخر تک مزید 500 یونٹس تیار کرلینگے اور مختلف علاقوں میں اس کے تجربات کریں گے۔ ان کا کہنا ہے ان چیمبرز کی قیمت اندازاً  25 ڈالرز ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی سے محروم علاقوں کے لئے ان کی کمپنی کی جانب سے بنائے گئے کنٹینرز بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں اور ان کنٹینرز کو آئندہ سال کے آخر تک فروخت کے لئے پیش کیا جا سکے گا۔

تحریر: کیتھرائن کروسو (Catherine Caruso)

Read in English

Authors
Top