Global Editions

اگلی دفعہ ایئرپورٹ پر اپنا چہرہ سکین کروانے سے پہلے یہ ضرور پڑھ لیں

حکومت ان تصویروں کے ساتھ کیا کرنے والی ہے؟ اس بات کی اب تک تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

ہم ہوائی جہاز پر بورڈنگ کو زیادہ آسان بنانے کے لیے بہت کچھ کرنے کو تیار ہیں، لیکن پرائیوسی کے ماہرین کے مطابق، ہمیں ایئرپورٹ پر اپنے چہرے سکین کروانے سے پہلے سوچ لینا چاہیے۔

چہرے کی پہچان کے سسٹمز سے بورڈنگ زيادہ تیز تو ہوجائے گی۔ لیکن درحقیقت انھیں امریکی ایئرپورٹس پر اس لیے نصب کیا جارہا ہے کہ حکومت مسافرین کے چہروں کو سکین کر کے امریکہ میں داخل ہونے اور باہر نکلنے والے افراد کو ٹریک کرنا چاہ رہی ہے۔ اس کا مقصد جعلی پاس پورٹس اور ویزا کی میعاد تجاوز کرنے والے افراد کو پکڑنا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پرائیوسی کے خلاف ہے، اور کانگریس نے اس کی اجازت بھی نہیں دی ہے۔

امریکی ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی (Department of Homeland Security) نے جیٹ بلو اور ڈیلٹا جیسی ایئرلائنز کے ساتھ مل کر نیو یارک کے جے ایف کے ایئر پورٹ، واشنگٹن کے ڈلس ایئرپورٹ اور اٹلانٹا، بوسٹن اور ہیوسٹن کے علاوہ دیگر کئی ایئرپورٹس پر چہرے کی پہچان کے سسٹمز متعارف کیے ہیں اور اس سال ان سسٹمز کی تعداد میں مزید اضافہ بھی کیا جانے والا ہے۔ یہ اقدام امریکہ میں ہوائی جہاز، سمندری جہاز اور گاڑیوں کے ذریعے داخل ہونے والے افراد کے اندراج کے سلسلے میں کانگریس کی طرف سے ڈی ایچ ایس کو کئی سال پہلے جاری کردہ احکامات کے بعد کیے گئے تھے۔ اس سال ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تدابیر کو زیادہ جلدی مکمل کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

پچھلے چند سالوں میں چہرے کی پہچان کی ٹیکنالوجی میں بہتری آئی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے ایجنسیاں بھی اس میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ اس بات پر بھی کافی مباحثہ ہورہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے عوام کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ پرائیوسی کے حامیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر تصویر پرانی ہو، یا اگر سامنے خواتین، بچے یا افریقی امریکن افراد ہوں اس ٹیکنالوجی کی درستی کم ہوجاتی ہے۔

پچھلے مہینے، امریکی کسٹمز اینڈ بورڈر پروٹیکشن (Customs and Border Protection) نے ہیوسٹن کے جارج بش انٹر کونٹینینٹل ایئرپورٹ (George Bush Intercontinental Airport) میں ٹوکیو جانے والی مسافرین کے چہرے سکین کرنا شروع کیے۔ مئی میں ڈلس سے متحدہ عرب امارات جانے والے مسافرین کے چہرے سکین کیے جانے لگے۔ اٹلانٹا اور بوسٹن میں ڈیلٹا ایيرلائنز ہوائی جہاز میں بیٹھنے سے پہلے مسافرین کے چہروں کو اسکین کرنے والے ای گیٹس (eGates) نامی سسٹم کی ٹیسٹنگ شروع کرنے والے ہیں۔ جیٹ بلو بوسٹن سے اروبا جانے والے مسافرین کے لیے یہ سسٹم متعارف کرنے والے ہیں۔ ان پروگرامز سے حاصل کردہ تمام ڈیٹا سی بی پی کو فراہم کیا جائے گا۔

ان تمام سسٹمز میں گیٹ پر مسافرین کی تصویریں کھینچنے کے بعد ان کا پہلے سے دستیاب پرواز کے مسافرین کی فہرست میں درج پاس پورٹ اور ویزا کی تصویروں سے موازنہ کیا جاتا ہے۔ جارج ٹاؤن لاء (Georgetown Law) کے پرائیوسی اور ٹیکنالوجی کے سنٹر (Center on Privacy and Technology) کے وکیل ہیریسن روڈولف (Harrison Rudolph) کے مطابق ان سسٹمز کی ٹیسٹنگ نہیں کی جارہی ہے، بلکہ ان کا باقاعدہ استعمال کیا جارہا ہے، اور سی بی پی بیرون ملک کی شہریوں کے بائیومیٹرک ریکارڈ تیار کرنے کے لیے ان کا استعمال بھی کررہے ہیں۔

روڈولف کے علاوہ دوسرے کئی لوگ بھی ان سسٹمز کے خلاف اس وجہ سے آواز اٹھا رہے ہیں کیونکہ سی بی پی امریکی شہریوں کے بھی چہرے سکین کررہے ہیں۔ (اس وقت صرف امریکی شہری ہی بوسٹن میں جیٹ بلیو کے خودکار پروگرام میں حصہ لے سکتے ہیں)۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس نے کبھی بھی امریکی شہریوں سے کسی ٹھوس وجہ کے بغیر چہروں کے سکین حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایگزیکٹو حکم میں ترمیم کرنے کے بعد واضح کیا گیا ہے کہ اس کا اطلاق امریکی شہریوں پر نہیں ہوتا ہے۔

اس وقت پورے ملک کے ایئرپورٹس میں چہرے کی شناخت کے سسٹمز نصب نہیں کیے گئے ہیں، اور مسافرین کے لیے ان سے بچنا کس حد تک مشکل ہے، اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ جیٹ بلیو اور ڈیلٹا دونوں کہتے ہیں کہ مسافرین ان سکینز سے انکار کرسکتے ہیں، لیکن یہ بات واضح نہیں ہے کہ کیا غیرملکی شہری اس سے انکار کرسکتے ہيں یا نہيں۔ ڈی ایچ ایس کے مطابق اگر کوئی امریکی شہری سکین سے انکار کردے، تو سی بی پی افسران دستی طریقے سے اس کی شناخت کرسکتے ہیں۔

چہرہ کسی کا بھی سکین کیا جارہا ہو، ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ مسافر کی شناخت کے بعد اس معلومات کا کیا ہوگا۔ ڈی ایچ ایس کہتے ہیں کہ تصویروں کے تمام ڈیٹا کو 14 دنوں کے اندر اندر حذف کردیا جائے گا۔

تحریر: مائیک آرکٹ (Mike Orcutt)

Read in English

Authors
Top