Global Editions

سمارٹ گلاسز۔۔۔ ایپل کی آئندہ منزل

تصور کیجئے ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کوک بورڈ کے اجلاس میں نروس کھڑے ہیں ان کے ہاتھ کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ رہی ہیں اور بورڈ روم میں موجود لوگ ان کی جانب سے کسی حیران کن اعلان کے منتظر ہیں۔ آئی فون سیون بہت زیادہ عوامی پزیرائی حاصل نہیں کرسکا، یا ایپل کی نئی میک بک میں صرف چمکنے والے بٹنوں کی ایک قطار کا اضافہ کیا گیا ہے۔ وہ ایپل کی برتری میں اضافہ اور اسے عظیم بنانا چاہتے تھے مگر انہوں نے موقع ضائع کر دیا۔ اس صورتحال میں ٹم کوک نے اپنا چشمہ اتارا ناک کو ہاتھ سے رگڑا اور ایک خیال ان کے ذہن میں نمودار ہوا ’’چشمہ‘‘ انہوں نے فوری طور پر سوچا کہ میں لوگوں کو گھڑیاں خریدنے پر مجبور نہیں کر سکتا لیکن لوگ چشمہ خریدنے پر مائل ہیں اور انہیں چشمہ خریدنے کی جانب راغب کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ منظر ہے جو بلوم برگ کی ایک حالیہ رپورٹ پڑھ کر ذہن میں ابھرتا ہے جو بلوم برگ نے ایپل کی جانب سے سمارٹ چشمے تیار کرنے کے آئیڈیا کے حوالے سے شائع کی ہے۔ ایپل کی جانب سے سمارٹ گلاسز کی مجوزہ خصوصیات میں اس چشمے کو براہ راست آئی فون سے وائرلیس منسلک کیا جا سکے گا اور اس کی مدد سے چشمے کے شیشوں کے ذریعے تصاویر اور دیگر انفارمیشن ملاحظہ کی جا سکیں گی اس کے ساتھ ساتھ اس چشمے کو آگمینٹیڈ رئیالٹی (Augmented Reality) سے لطف اندوز ہونے کے لئے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ گوگل وہ پہلی کمپنی تھی جس نے اس حوالے سے کام کیا لیکن ان کی جانب سے تیار کی جانیوالی عینک نہ صرف بدنما تھی بلکہ وزن میں بھی زیادہ تھی اس چشمے کو سال 2013 ءمیں لانچ کیا گیا تھا اور بعد ازاں اس کو ایکسپلور پروگرام کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔ اسی طرح رے بین کی جانب سے تیار کردہ چشمے کے ذریعے صارفین کو عینک کی مدد سے ویڈیو بنانے اور پھر اس کو سمارٹ فون پر وائی فائی یا بلیو ٹوتھ کے ذریعے منتقل کرنے کی سہولت دی گئی تھی۔ اس طرح بنائی جانیوالی ویڈیو سنیپ چیٹ پر بھی اپ لوڈ کی جا سکتی تھی تاہم یہ چشمہ بھی خاص عوامی پزیرائی حاصل نہیں کر سکا۔ اب ایپل اس میدان میں قدم رکھ رہا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ایپل اس میدان میں مقابلے کی فضا پیدا کر سکتا ہے؟ کوئی شک نہیں کہ ایپل کی جانب سے تیار کئے جانیوالے چشمے نہ صرف دیدہ زیب ہونگے بلکہ سٹائلش بھی ہونگے تاہم یہ کچھ مہنگے ضرور ہو سکتے ہیں۔ اب ایپل کو ایسا کچھ تیار کرنا ہے جو پہلے سے موجود سمارٹ چشموں میں دستیاب نہ ہو۔ اس حوالے سے Augmented Reality کا میدان ایسا ہے جو اس وقت ایپل کی توجہ کا خاص محور ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ایپل ورچوئل اور Augmented Reality کے حوالے تجربات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس حوالے سے ٹام کوک کا کہنا ہے کہ ورچوئل رئیالٹی کے مقابلے میں Augmented Reality صارفین کے لئے زیادہ دلچسپی کا باعث ثابت ہو گی۔ اگر ایپل ایسے سمارٹ گلاسز تیار کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے جو صارفین کو اپنی جانب راغب کرنے میں کامیاب بھی رہتی ہے تو اس شعبے میں نئے مواقع دستیاب ہو جائیں گے اور پھر ویڈیو کیمرہ اور نوٹیفکیشن سکرین کافی نہیں رہے گی۔ پھر یقینی طور پر یہ کہا جا سکے گا کہ لوگ اب دنیا کو مختلف تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

timcook

Read in English

Authors
Top