Global Editions

اگر آپ خودکار چیک آؤٹ سے آراستہ دکان میں چوری کرنے کی کوشش کریں گے تو کیا ہوگا؟

چیک آؤٹ کے سسٹمز خود مختار ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔

اب دکانوں میں سیلف چیک آؤٹ کے سکینز کو خیرباد کہنے کا وقت آگيا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت گروسری شاپنگ کو تبدیل کر کے رکھنے والی ہے۔

کیلیفورنیا کے شہر سانتا کلارا میں ایک دکان میں ایک ٹیبلیٹ کمپیوٹر آپ کو آپ کے خریدے گئے سامان کی فہرست دکھا کر خودبخود آپ کا بل بتا دیتا ہے۔ آپ کو صرف اپنا مطلوبہ سامان اٹھا کر اپنی ٹوکری میں ڈالنا ہے، اور ٹیبلیٹ کمپیوٹر کے پاس چلے جانا ہے۔

یہ دکان خودمختار چیک آؤٹ کو ممکن بنانے کے لیے کیمرے، مشین وژن اور ڈیپ لرننگ پر کام کرنے والی کمپنی سٹینڈرڈ کاگنیشن (Standard Cognition) نامی سٹارٹ اپ کمپنی نے مظاہرے کے لیے قائم کی ہے۔

سٹینڈرڈ کاگنیشن کے شریک بانی اور چیف آپریٹنگ افسر مائیکل سسوال (Michael Suswal) امید کرتے ہیں کہ یہ سسٹم چھ ماہ کے اندر دکانوں میں نظر آنا شروع ہوجائے گا۔ اس وقت کمپنی کی ٹیبلیٹ کی ایپ آپ کو ادائيگی کرنے کی ہدایات دیتی ہے، لیکن توقع کی جاتی ہے کہ آگے چل کر سمارٹ فون ایپ کے ذریعے آٹومیٹک ادائيگی ممکن ہوجائے گی۔

سٹینڈرڈ کاگنیشن اس قسم کی دکان قائم کرنے والی پہلی کمپنی نہیں ہے۔ ایمزان بھی سیٹل میں اسی طرح کی ایک دکان کی بیٹا ٹیسٹنگ کررہے ہیں، جس کا نام ایمزان گو (Amazon Go) ہے۔ اس کے علاوہ سٹاکہوم میں واقع وہیلس (Wheelys) نامی سٹارٹ اپ کمپنی بھی چین میں اسی طرح کے ایک دکان کی ٹیسٹنگ کررہی ہیں۔ یہ سٹینڈرڈ کاگنیشن کی ٹیم کے لیے بہت خوش آئین بات ہے، کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو کام اس وقت لوگوں کو بہت عجیب لگ رہا ہے، وہ ایک دن بہت کامیاب ثابت ہوگا۔

اس وقت یہ کمپنی سانتا کلارا میں اپنی دکان کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ ان کی دکان میں ہر قسم کا سامان موجود ہے، جس میں کھانے پینے کے اشیاء کے علاوہ دیگر ضرورت کی چیزیں بھی موجود ہیں۔

جیسے جیسے لوگ سٹینڈرڈ کاگنیشن کی دکان کے شیلفس سے چیزیں اٹھاتے ہیں، دکان ميں لگے کیمرے انھیں ٹریک کرتے رہتے ہیں۔ سسوال کہتے ہیں کہ چہرے کی شناخت کا استعمال نہیں کیا جارہا ہے۔ اس کے بجائے ڈیپ نیورل نیٹورکس کو دکان میں موجود سامان پہچاننے کی تربیت دی جارہی ہے۔ اس تربیت کے دوران ایک ملازم سامان اٹھا کر اسے الٹ پلٹ کرتا ہے، چھپانے کی کوشش کرتا ہے اور کیمرہ کے سامنے رکھ دیتا ہے۔

آپ سٹینڈرڈ کاگنیشن کی دکان میں کھڑے رہ کر اپنی آنکھوں سے اس کا مظاہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ ایک دیوار کے ساتھ ایک بڑا فلیٹ سکرین مانیٹر لگا ہوا ہے، جس میں ایک لائیو ویڈيو فیڈ دکھائی جاتی ہے۔ ہر شخص کو ایک مختلف رنگ کے مارکر سے نشان زد کیا گیا ہے۔ جب بھی آپ کوئی چیز اٹھاتے ہیں، آپ کو سکرین پر اپنے مارکر کے سامنے ایک دائرہ اور ایک لیبل نظر آنے لگتا ہے۔ سٹینڈرڈ کاگنیشن نے اس سسٹم کے مظاہرے کے لیے ایک ویڈيو جاری کی ہے جس میں دو لوگوں کو مختلف چیزیں اٹھا اٹھا کر سسٹم کو بوکھلانے کی کوشش کرتا ہوا دکھایا جارہا ہے۔

میں نے اسے خود ٹیسٹ کرنے کی کوشش کی، اور اس کا نتیجہ کافی قابل تعریف تھا۔ میں نے اپنی ٹوکری میں ویفرز، کوکا کولا کی بوتلیں اور کئی دوسری چیزیں ڈالیں، اور پھر کچھ چیزیں نکال کر واپس رکھ دیں۔ اس کے بعد میں نے اپنے کپڑوں میں ریڈبل (Red Bull) کا ایک کین چھپالیا، اور اپنی ٹوکری میں اس سے ملتی جلتی دوسری چیزیں، جیسے ہاتھ دھونے کا صابن اور چپس کے پیکٹ، ڈال دیے۔

اپنی شاپنگ مکمل کرنے کے بعد میں ٹیبلیٹ کے پاس چلی گئی، جس نے مجھے ان تمام چیزوں کی فہرست دکھائی جو سٹینڈرڈ کاگنیشن کے اندازے کے مطابق میری ٹوکری میں تھی۔ اس میں کوکا کولا کی ایک بوتل کم تھی، اور صابن کی ایک بوتل زیادہ بتائی گئی تھی۔ اسے بہ آسانی چیک آؤٹ ایپ پر تبدیل کیا جاسکتا تھا۔ فہرست زیادہ تر درست تھی، اور اس میں ریڈ بل کا کین بھی شامل تھا۔

کمپنی کے دوسرے شریک بانی اور انجنیئر برینڈن اوگل (Brandon Ogle) کہتے ہیں کہ یہ دکان سامان کی درجہ بندی 98 فیصد درستی کے ساتھ کرسکتی ہے۔ سٹینڈرڈ کاگنیشن اس شرح کو بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں، اور اپنے کمپیوٹرز کو مزيد مصنوعات کی نشاندہی کرنا سکھا رہے ہیں۔ اوگل کے مطابق جیسے جیسے فہرست میں نئے مصنوعات شامل کیے جارہے ہیں، سسٹم کی درستی میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

تاہم خودکار چیک آؤٹ کے مقبول ہونے میں ابھی وقت ہے۔ بیبسن کالج (Babson College) کے پروفیسر اور Only Humans Need Apply: Winners and Losers in the Age of Smart Machines کے شریک مصنف ٹام ڈيون پورٹ (Tom Davenport) کہتے ہیں کہ خودمختار چيک آؤٹس میں اضافہ تو ضرور ہوگا، لیکن ایسا کب ہوگا؟ اس کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خودکار چیک آؤٹ کے سسٹمز دو دہائیوں سے موجود ہیں، لیکن اب تک چیک آؤٹ میں کسی قسم کا انقلاب نہیں آسکا ہے۔

ان کا کہنا ہے "میرے خیال سے مستقبل میں سپرمارکیٹ کے کیشیئر کی ملازمت میں زیادہ فائدہ نہیں ہوگا۔ لیکن اس وقت انھیں فارغ کرنا بہت مشکل ثابت ہورہا ہے۔"

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top