Global Editions

ڈی این اے ٹیسٹ سے رشتہ داروں کی تلاش

میں ایک شرط ہار گیا اور اب میں لاکھوں اجنبیوں کوبتا رہا ہوں کہ کہ وہ چیک کریں کہ آیا ہم متعلقہ ہیں کس طرح اس رپورٹر نےہجوم میں شامل ہونے کا فیصلہ کیااور اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا۔

پولیس کس طرح عام ڈی این اے ڈیٹا بیس کا استعمال کرکے اوسط شخص کو تلاش کرسکتی ہے؟
میں نے حال ہی میں اس بات پر شرط لگائی کہ جواب کیا ہوگا۔ اب، کیلیفورنیا کے دو ریاضی کے ماہرین کی وجہ سے ہمارے پاس اس سوال کاجواب ہے۔اور میں ہارنے والا ہوں لیکن زیادہ نہیں۔

یہ سب اپریل میں مبینہ گولڈن اسٹیٹ قاتل کی گرفتاری کے بعد شروع ہوا۔ پولیس نے جائے وقوعہ کے ڈی این اے کو عام رسائی والی ویب سائٹ GEDmatch پر اپ لوڈ کیا اور قاتل کے کچھ رشتہ دار ڈھونڈ نکالے۔ آخر کار وہ اسے گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

اس کیس نے ماہرین شجرہ نسب ، صحافیوں، ماہرین جینیات اور ہر شعبے کے لوگوں کےلئے دلچسپی پیدا کر دی۔ تحقیقات کاروں نے ایسا کس طرح کیا؟ کیا ہمارے جینیاتی رازداری خطرے میں ہے؟ ایسا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا؟

لیکن ایک سوال نے سب سے زیادہ دلچسپی پیدا کی (یہاں تک ہر لحاظ سے بے گناہ لوگوں کے لئے) : اس بات کے کیا امکانات ہیں کہ وہ آپ کو ڈھونڈ نکلالیں گے؟

میرا اندازہ تھا۔ ہم نے حال ہی میں ڈی این اےٹیسٹں کروانے والوں کی تعدادمیں بے پناہ اضافے کے بارے میں رپورٹ کیا تھاجو کہ اب تک 12 ملین سے زائد افراد کروا چکے ہیں۔ ہر شخص کو ڈھونڈنے سے اس کے درجنوں رشتہ دار مل جاتے ہیں۔ میں نے ٹویٹر پر پوسٹ کیا کہ میں نے ایک امریکن سے شرط لگائی کہ ڈی این اے ڈیٹا بیس میں اس کا کم از کم ایک رشتہ دار موجود ہے۔

سٹینفورڈ یونیورسٹی میں ایک قانون کےپروفیسر ہینری گریلی (Henry Greely) نے مجھے کہا،"تم کتنی شرط لگا سکتے ہو؟" بات چل پڑی۔ سب سے پہلے، شرائط کے ضوابط طے ہوئے۔ خاص طور پر، میں اس بات پر شرط لگانے کو تیار تھا کہ 95 فیصد سے زیادہ لوگ Ancestry.comپر کم ازکم اپنا ایک سیکنڈ کزن میچ تلاش کر سکتے ہیں۔ Ancestry.com رشتہ داروں کی تلاش کےلئے سب سے بڑا ڈیٹا بیس ہے۔شرط میں ایک اہم انتباہ بھی تھا۔ یہ صرف یورپی پس منظر کے لوگوں پر لاگو ہو گی کیونکہ ان میں اکژر ڈین اے ٹیسٹ کروا چکے تھے۔ شرط ہارنے والا کو اپنے لعاب جمع کروانا ہو گا اور اس چیز کی اجازت دینی ہو گی کہ لاکھوں اجنبی اپنے ڈی این اے کے نتائج کا موازنہ اس سے کر سکیں۔

اب ، جمعہ کی سہ پہرکچھ ماہرین تعلیم کا شکریہ جن کی وجہ سے ہمارے پاس اس بات کاایک قسم کا جواب ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ میں شرط ہار نےوالا ہوں۔
جواب ریاضیاتی جینیاتی ماہر ین گراہم کوپ Graham Coop)) اور ڈاک ایج (Doc Edge) سے آتا ہے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی ، ڈیوس، سے تعلق رکھنے والے ان ماہرین نے فیصلہ کہ وہ اس چیز کی گنتی کرتے ہیں کہ آیا کہ یہ پولیس کی خوش قسمتی تھی کہ اسے مشتبہ شخص مل گیایا جینیاتی ڈیٹا بیس اب اتنے بڑے ہیں جس سے کسی شخص کو ڈھونڈنا مشکل نہیں۔

ایک بلاگ پوسٹ میں، ان دونوں نے اس سوال کےجواب کے حوالے سےکچھ اہم تصورات پر روشنی ڈالی۔یہ ایک " جینالوجیکل بلون اپ(Genealogcal blown up)" ہے۔ یہ ان کی اصطلاح ہے کہ کس طرح ممکنہ رشتہ داروں کی تعداد زیادہ دور تک بڑھ جاتی ہے جب آپ کنکشن کی اجازت دیتے ہیں۔ آپ کے ایک یا دوبہن بھائی ہیں۔ لیکن آپ کے سینکڑوں تیسرے کزن ہوسکتے ہیں۔

ایک الٹ رجحان ہے جو کہ تلاش کی جگہ کو محدود کرتاہے۔ رشتہ داروں سے ڈی این اے ملنے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے کچھ کے ڈی این اے بالکل ہی ایک جیسے ہیں یا نسب سے ملتے جلتے ہیں۔

مثال کے طور پر، آپ کواپنے والد کی طرف سے تقریباً نصف ڈی این اے ملتا ہے۔ آپ اور آپ کےفرسٹ کزن دادا اوردادی سےکچھ ڈی این اے شئیر کرتے ہیں جوآپ دونوں کے مشترکہ بڑے ہوتے ہیں۔

لیکن زیادہ دور دراز کے رشتہ داروں میں کم ملتا جلتا ڈی این اے ہوتا ہے۔۔ ایک تھرڈ کزن جس سےآپ شاید کبھی نہیں ملے؟ آپ کے ڈی این اے کا ایک فیصد سے بھی کم شئیر ہوتا ہے، اور بعض اوقات بالکل بھی نہیں ہوتا۔ اس طرح زیادہ دور دراز کے رشتہ داروں سے آپ کا ڈی این اے میچ نہیں ہوتا۔

ریاضیاتی جینیاتی ماہر ین گراہم کوپ اور ڈاک ایج نے پتا چلایا کہ کیلیفورنیا کی پولیس نے قاتل کے رشتہ داروں کو تلاش کرنے کے لئےا چھی مہارت کا استعمال کیا۔ ان کی طرف سے استعمال کئے گئے ڈیٹا بیس GEDmatchمیں تقریباً 95,000 پروفائلز تھیں۔ یونیور سٹی آف کیلفورنیا ڈیوس کے سائنس دانوں کے مطابق، اس بات کا اندازہ ہے کہ یورپی بیک گرائو نڈ کےامریکیوں کے فرسٹ کزن کاGEDmatchپر تناسب 3.5فیصد ہے۔ سیکنڈ کزن کا تناسب 25 فی صد ہے اور 90 فی صد سے زائد تھرڈ کزن کا تناسب ہے جس میں سے پولیس نےکئی لوگ ڈھونڈے۔ جس میں پولیس نےکئی لوگ ڈھونڈے۔

جیسا کہ آپ تصور کرتے ہیں،جتنا بڑا ڈیٹا بیس ہو گا، اتنا ہی آپ کے ڈی این اے میچ ہونے کا امکان زیادہ ہو گا۔گراہم کوپ اور ڈاک ایج کے تخمینوں کے مطابق،حقیقت میں دوسرے کزن کامیچ Ancestry.com پرناممکن ہے اگرچہ مجھے اس شرط کو جیتنے کے لئے مزید درست نتائج کی ضرورت
تھی۔ ان کے تخمینوں کے مطابق، اس ڈیٹا بیس میں ایک سیکنڈ کزن کا امکان 94 فی صد ہے جبکہ میرا اندازہ 95 فیصد تھا۔  چونکہ Ancestry.com نے ڈیٹا دینے سے انکار کر دیا ہے، میں اس مقصد کے لئےکیلفورنیا یونیورسٹی، ڈیوس کے گینگ کے پاس جائوں گا اور کہوں گا کہ میں تھوڑے مارجن سے اپنی شرط ہار گیا۔

ایمانداری کی بات یہ ہے کہ میں کبھی بھی اپنے ڈی این اے ٹیسٹ نہیں کروانا چاہتا تھا۔ کمپنیاں جیسا کہ23andmeاور Helixنے مجھے مفت کٹس بھیجی ہیں اور میں نے کبھی ان کو دوبارہ واپس نہیں بھیجا۔ میں کیا سیکھنے جا رہا ہوں۔ میں تھوڑا بہت جانتا ہوں کہ میں کہاں سے ہوں۔ اور مجھے یقین نہیں ہے کہ میں کسی نہ مانےجانے والے بہن بھائی کو تلاش کرنا چاہتا ہوں یا یہ نہیں جاننا چاہتا ہوں کہ ڈاکیا میرا حقیقی والدہے۔
اس سے بھی زیادہ، یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ جیسے جیسے ڈیٹا بیس سائز میں بڑھتے ہیں، وہ صرف زیادہ طاقتور ہو جائیں گے اور کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ مستقبل میں اس کے کیا استعمالات ہونگے۔

جب آپ انگلیوں کے نشانات کی طرح اپنا ڈی این اے چھوڑ دیتے ہیں، آپ اس کو واپس نہیں لا سکتے۔

جس وجہ سے میں نےAncestry.comپر جانے کا فیصلہ کیا وہ یہ نہیں ہے کہ میں ایک اچھا ہارنے والا ہوں۔ بات یہ تھی کہ میرے لئے اس کا انتخاب پہلےسے ہی کیا گیا ہے۔Ancestry.comپرٹیسٹ کی لاگت 99 ڈالرآتی ہے۔ کوپ کے تخمینوں کے مطابق، میرے 200سے زائد تھرڈ کزن ہیںاور 1000 فورتھ کزن ہیں جنہوں نے پہلے ہی اپنے ڈی این ٹیسٹ کرا رکھے ہیں۔
آپ کی طرح میرا ڈی این اے پہلے ہی وہاں سے باہر ہے۔

تحریر: انٹنیو ریگالڈو(Antonio Regalado)

Read in English

Authors
Top