Global Editions

کیا مستقبل میں ڈی این اے ڈیٹابیسز کی مدد سے سینکڑوں جرائم کا سراغ لگانا ممکن ہوگا؟

ایک کمپنی پبلک جینیاتی ڈیٹابیسز میں جائے واردات سے حاصل کردہ ڈی این اے اپ لوڈ کرکے پولیس کو معاونت فراہم کررہی ہے۔

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کی ایم ٹیک کانفرنس کے دوران نامور ماہر جینیات سی سی مور (CeCe Moore) نے پیشگوئی کی کہ اب بہت جلد سینکڑوں قتل اور زیادتی کے کیسز کے ملزمان کی شناخت ممکن ہوجائے گی۔

مور، جو پیرابون نینولیبس (Parabon Nanolabs) میں جینیاتی یونٹ کی سربراہی کررہی ہيں، کہتی ہیں کہ امریکہ میں اگلے چند ماہ میں درجنوں کیسز کا حل ممکن ہوگا۔

پچھلے سال سے اب تک ان کی کمپنی امریکی پولیس کو نو وارداتوں میں ملزمان کی شناخت کرنے میں معاون ثابت ہوچکی ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے جائے واردات پر موجود ڈی این اے کی مدد سے کسی جینیاتی سہولت پر اپنی پروفائل اپ لوڈ کرنے والے رشتہ دار تلاش کیے جاتے ۔

ان رشتہ داروں کی نشاندہی کے بعد، ان کے خاندانی شجروں کے ذریعے ملزمان کی شناخت ممکن ہوگی۔

مثال کے طور پر، الینوائے کی پولیس نے ایک دہائی پہلے قتل ہونے والی ہولی کسانو (Holly Cassano) کے قتل کے الزام میں مائیکل ہینسلک (Michael Henslick) کو پچھلے سال اگست میں گرفتار کیا، اور مور کے مطابق اس کی ابتداء جین کی تلاش سے ہی ہوئی۔

جینیات کی مدد سے جرائم کا حل نکالنے کی رفتار میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ مور تین ماہر جینیات کے ساتھ کام کررہی ہیں۔ اس کے علاوہ، کیلیفورنیا کی پولیس خاندانی شجروں پر کام کرنے والا باربرا رے وینٹر (Barbara Rae-Venter) کے ساتھ بھی کام کررہی ہے، اور پچھلے سال انہی کی کوششوں سے گولڈن سٹیٹ کا قاتل پکڑا گیا تھا۔

نیز، ڈی این اے ڈو پراجیکٹ (DNA Doe Project) نامی ایک رضاکارانہ ادارہ انسانی باقیات کی شناخت پر کام کررہے ہیں اور آئی ڈنٹیفائرز انٹرنیشنل (Identifiers International) نامی فارینزک تنظیم نے بتایا کہ وہ ایک درجن قتلوں پر کام کررہی ہے۔

مزید کئی لیبس پولیس کے محکموں کو جائے واردات سے حاصل کردہ ڈی این اے کو آن لائن جینیاتی ڈیٹابیسز سے مطابقت رکھنے والی ڈیٹابیس کی فائلوں میں تبدیل کرنے میں معاونت فراہم کرنے کو تیار ہيں۔ مور کہتی ہيں "یہ کوشش اب ایک چھوٹی سی صنعت کی شکل اختیار کررہی ہے۔"

مور کے مطابق ان کے آدھے کیسز کو جینیات کی مدد سے حل کیا جاسکتا ہے۔ باقی کیسز کو کوئی قریبی جینیاتی مماثلت نہ ملنے کے باعث اس وقت حل کرنا ممکن نہيں ہے۔ یہ جینیاتی موازنے GEDMatch نامی ڈیٹابیس کے ذریعے کیے جاتے ہیں جو عوامی طور پر قابل رسائی ہے۔

تاہم مور اعتراف کرتی ہیں کہ اس وقت جینیات کی مدد سے جرائم کے حل کی تلاش ابتدائی مراحل ہی میں ہے، اور اس کے کچھ خطرات موجود ہیں۔

وہ کہتی ہیں "کئی لوگ پولیس کے محکمہ جات کو اپنی سہولیات پیش کرنے کے لیے تیار ہیں، اور مجھے یہ دیکھ کر بہت پریشانی ہوتی ہے۔ اگر کسی نے بھی غلط شخص کی نشاندہی تو اس میں ہم سب کی بدنامی ہوگی۔"

اب تک جینیات پولیس کی تحقیقات میں ایک ہی شخص کی نشاندہی کرنے میں کافی حد تک کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ مور کا کہنا ہے کہ پولیس حکام سینکڑوں یا ہزاروں ممکنہ ملزمان پر مشتمل فہرستیں تیار کرنے کے بعد ہی ڈی این اے استعمال کرنا شروع کرتے ہيں۔

تحریر: انٹونیو ریگالیڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors
Top