Global Editions

انسانوں کا میتھین کے اخراجات میں ہماری توقعات سے کہیں زيادہ ہاتھ ہے

جریدے نیچر (Nature) میں شائع ہونے والے ایک نئے مطالعے کے مطابق انسانوں کا میتھین کے اخراجات میں ہمارے تخمینوں سے 25 سے 40 فیصد زيادہ ہاتھ ہے۔

میتھین اس قدر خطرناک کیوں ہے؟ میتھین کا شمار سب سے زيادہ طاقتور گرین ہاؤس گیسز میں ہوتا ہے۔ اس گیس کی کرہ ہوا میں گرمائش روکنے کی صلاحیت کاربن ڈائی آکسائيڈ سے 28 گنا زیادہ ہے اور یہ دنیا بھر کی 25 فیصد گلوبل وارمنگ کی بھی ذمہ دار ہے۔ میتھین گیس قدرتی طور پر جانوروں اور آتش فشاں پہاڑوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ تاہم مصنوعی تیل اور گیس کی تخلیق کے دوران بھی میتھین ہوا میں خارج ہوتی ہے۔ اس مطالعے میں تخلیق کاری کے دوران پیدا ہونے والی میتھین پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

ریسرچ کا طریقہ کار: اس تحقیق کے دوران ماضی میں انٹارکٹکا سے حاصل کردہ ڈیٹا کے علاوہ 1750ء اور 2013ء کے درمیان گرین لینڈ کی برفانی تہہ کی پیمائشوں سے فائدہ اٹھایا گيا۔ اس کے بعد برف کو پگھلا کر اس میں قید قدیم ہوا کا تجزیہ کیا گیا۔ اس ہوا کے ذریعے اس وقت کے کرہ ہوا میں شامل میتھین کے متعلق معلومات حاصل کرنا ممکن ہوا۔ ریسرچرز نے جانداروں سے حاصل کردہ کاربن 14 آئیسوٹوپ (carbon-14 isotope) کا استعمال کرتے ہوئے متعین کرنے کی کوشش کی کہ اس میتھین کا کتنا حصہ قدرتی ذرائع سے اور کتنا حصہ مصنوعی ذرائع سے پیدا ہوا تھا۔ ان کے تجربات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ  1870ء میں حیاتیاتی ایندھن کا استعمال شروع ہوا تھا اور اس وقت تک دنیا کی تمام میتھین قدرتی ذرائع سے پیدا ہوئی تھی۔ اس کے بعد قدیم حیاتیاتی ایندھن کے ایسے ذرائع ملنا شروع ہوئے جن میں کاربن 14 موجود نہيں تھا، جس سے ان سائنسدانوں کے لیے قدرتی اور مصنوعی میتھین کا موازنہ کرنا ممکن ہوا۔

کیا ان نتائج کا کوئی مثبت پہلو ہے؟ اگر انسان زیادہ میتھین پیدا کریں گے تو ان کے لیے اس کے اخراجات پر قابو پانے کے زيادہ مواقع بھی دستیاب ہوں گے۔ میتھین کرہ ہوا میں صرف ایک دہائی تک رہ سکتی ہے (اس کے برعکس کاربن ڈائی آکسائيڈ کرہ ہوا میں 200 سال تک قائم رہتی ہے)۔ یہی وجہ ہے کہ تیل اور گیس کی تخلیق اور نقل و حمل کی وجہ سے پیدا ہونے والی میتھین کی مقدار کو کم کرنے سے زیادہ جلدی فائدہ ہوسکتا ہے۔

تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Jee)

تصویر: ایسوسی ایٹڈ پریس

Read in English

Authors

*

Top