Global Editions

مصنوعی ذہانت کی مدد سے خود کو بااختیار بنانے کا وقت آ گیا ہے

جیسے جیسے مصنوعی ذہانت زور پکڑے گی، ڈیٹا کے حصول اور تجزیے میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم انسان ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھنے کے بجائے مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھائيں اور خود کو بااختیار بنائيں۔

عائشہ کھنہ مصنوعی ذہانت کے سلویشنز فراہم کرنے والی کمپنی ADDO AI کی سی ای او ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ کتاب Hybrid Reality: Thriving in the Emerging Human-Technology Civilization کی مصنفہ بھی ہیں۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کی مینیجنگ ایڈیٹر اریج مہدی نے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے سمارٹ شہروں اور روزمرہ کی زندگی کے متعلق عائشہ کھنہ کی رائے جاننے کے لیے ان کے ساتھ ملاقات کی۔

کیا ہمیں مصنوعی ذہانت سے ڈرنا چاہیے؟

ہر ٹیکنالوجی کی طرح، مصنوعی ذہانت کا جہاں نقصان ہے، وہاں فائدہ بھی ہے۔ ایک طرح سے دیکھیں تو فائدہ ہی فائدہ نظر آئے گا، اور دوسرے طریقے سے صرف نقصان۔ تاہم بیشتر افراد کے پاس مصنوعی ذہانت کے متعلق مکمل معلومات نہيں ہیں، جس وجہ سے ان کی رائے تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے درست استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اچھی گورننس کی اشد ضرورت ہے۔ اگر یہ عنصر موجود نہيں ہوگا تو لوگوں کا اس پر کبھی اعتماد قائم نہيں ہوسکے گا۔ لیکن ساتھ ہی جواب دہی کی بھی ضرورت ہے، جس کے لیے جذبات کے بجائے دماغ سے سوچنے، متوازن سوچ اپنانے، اور اچھی گورننس کی عدم موجودگی کی صورت میں پیش آنے والے غیرمطلوبہ نتائج پر غور کرنے کی صلاحیتوں کو تقویت دینی ہوگی۔

جعلی خبروں کی مثال لے لیں۔ ٹوئیٹر اور فیس بک جیسی سوشل میڈیا ویب سائٹس شروع کرنے والے یہ قطعی نہيں چاہتے تھے کہ ان کی ویب سائٹس کو جعلی خبریں پھیلانے کے لیے استعمال کیا جائے، لیکن ایسا ہی ہوا۔ ان لوگوں نے ان غیرمطلوبہ نتائج پر دھیان ہی نہيں دیا، جس کی وجہ سے آج جعلی خبروں کا مسئلہ شدت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ دوسری طرف، جینریٹو ایڈورسیریل الگارتھمز (generative adversarial networks – GANs) کو لے لیں، جو جعلی خبروں کی بنیاد ہیں۔ کہا جاتا تھا کہ GANs سے الگارتھم کی درستی میں قابل قدر بہتری آئے گی۔ یہ بات کچھ حد تک تو سچ ہے۔ ایم آئی ٹی میں منعقد ہونے والی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے خواتین میں چھاتی کے کینسر کی علامات سامنے آنے کے پانچ سال قابل اس مرض کی نشاندہی ہوسکتی ہے۔ کسی بھی ٹیکنالوجی کو اچھے اور برے، دونوں طریقوں سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کو روکنا ناممکن ہے، لیکن اسے بہتر طور پر ریگولیٹ تو کیا جاسکتا ہے، جو تنظیمی گورننس، وفاقی سطح پر قواعد و ضوابط، بہتر انسانی تعلیم، اختیار، اور آگاہی کے بغیر ناممکن ہے۔

مصنوعی ذہانت میں پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے، لوگوں کو اس تبدیلی کے لیے کس طرح تیار کیا جاسکتا ہے؟

اس کے دو بنیادی مراحل ہیں۔ پہلا مرحلہ تکنیکی معلومات کی فراہمی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہر کسی کے پاس ٹیکنالوجی کے متعلق بنیادی سمجھ بوجھ ہونی چاہیے، جس میں کمپیوٹرز کے علاوہ ڈیٹا سائنس کے بنیادی اصول کی معلومات بھی شامل ہیں۔ دوسرے مرحلے کا تعلق مواصلت سے ہے۔ مکمل مہارت حاصل کرنا ممکن نہيں ہے، لیکن آپ کے پاس کم از کم اتنی معلومات تو ہونی چاہیے کہ آپ کسی ماہر سے بات کرسکیں۔ کسی بھی چیز کے لیے تیار ہونے کے لیے اس کے متعلق تھوڑا بہت سیکھنا چاہیے۔ جس طرح ہمیں کاروبار کے بارے میں کچھ سیکھنا چاہیے، اسی طرح انہيں ہمارے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسرا طریقہ شراکت داری ہے، جس کا انحصار مواصلت پر ہے۔ کسی بھی مصنوعی ذہانت کے پراجیکٹ میں ٹیکنالوجی سے زيادہ لوگوں کے ساتھ انٹریکیشنز زیادہ اہم ہیں۔

آپ کو مشین لرننگ کی کونسی نئی پیش رفت سب سے زيادہ دلچسپ لگ رہی ہے؟

مصنوعی ذہانت کے ساتھ ساتھ مشین لرننگ کی ساخت میں بھی بہتریاں نظر آرہی ہیں۔ یوشوا بینجیو (Yoshua Benjio) کا کیپسیول نیٹورکس پر کام ایک بہت اچھی مثال ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور کیمبرج میں ہونے والی زيادہ تر پیش رفت سے ڈیپ نیٹورکس کی ساخت کے علاوہ ان کی موثر طور پر کام کرنے کی صلاحیتوں میں بہتری ہورہی ہے۔ اس سے نہ صرف ان کے لیے ڈيٹا کی ضرورت اور غلطیوں کی گنجائش میں کمی آئے گی، بلکہ کارکردگی میں بھی بہتری ہوگی۔ اس سے نہ صرف لوگوں کو مصنوعی ذہانت کی وافر مقدار تک رسائی حاصل ہوگی بلکہ ڈيٹا کی پرائیوسی میں بھی ممکنہ طور پر اضافہ ہوگا، اور اسی وجہ سے مجھے یہ سب کچھ بہت دلچسپ لگ رہا ہے۔

5G سے بھی ان مرکزی لرننگ ماڈلز کے ذریعے ممکن ہونے والی مشین لرننگ میں تبدیلی آئے گی، جن میں زیادہ تر مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹنگ کا کام مرکز سے دور ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ نیچرل لینگوئیج پراسیسنگ سے بھی اسی طرح کا انقلاب ممکن ہوگا جو کمپیوٹر وژن کی ایجاد کے بعد نظر آیا تھا۔

اور پھر دوسری بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے متعلق ہماری سوچ بھی بدل رہی ہے۔ گیری مارکس (Gary Markus) اور ان کے ساتھیوں کی مثال لے لیں، جن کا خیال ہے کہ  انسانوں میں پیدائشی طور پر چند صلاحیتیں موجود ہيں، اور وہ اسی اصول کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت کو زيادہ آسانی سے قابل نقل بنانے اور انسانی دماغ کے زيادہ قریب لانے کی کوشش کررہے ہيں۔

ان میں سے کئی چیزوں پر اس وقت صرف تحقیق ہی ہورہی ہے، لیکن اس کا سب سے زيادہ دلچسپ عنصر یہی ہے۔

کیا آپ کے خیال میں ہم روبوٹس کے لیے تیار ہيں؟

میرے خیال سے۔ لیکن اس سوال کا جواب دینے کے لیے کئی مختلف پہلوؤں پر نظر ڈالی جاسکتی ہيں۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا ہم اس کے لیے انفرادی طور پر تیار ہيں؟ اس کا جواب GROOVE X نامی کمپنی کے تشکیل کردہ روبوٹس میں نظر آرہا ہے، جنہیں ”لووٹس“ (lovots) کہا جاتا ہے۔ مجھے کمپنی کے سی ای او کنامے حیاشی (Kaname Hayashi) نے بتایا تھا کہ مغربی ممالک میں لوگ صرف روپوٹس کے باعث پیداواری میں اضافے کی بات کرتے ہیں، لیکن ان کے روبوٹس کا کام ”پیار اور محبت بانٹنا ہوگا۔“ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسانوں کا اظہار جذبات کرنے والے چیزوں کے ساتھ لگاؤ پیدا ہوجاتا ہے، چاہے وہ روبوٹ ہی کیوں نہ ہو، اور اسی لیے میرا خیال ہے کہ ہم اس قسم کے روبوٹس کے لیے تیار ہوگئے ہيں۔

لیکن کیا ہم معاشی طور پر روبوٹس کے لیے تیار ہيں؟ میں اس کا جواب نہيں دے سکتی۔ اس سوال کے جواب کا انحطار لاگت پر ہے۔ جاپان، سنگاپور، یورپ، بلکہ ان تمام ممالک میں جن میں آبادی کا بیشتر حصہ ضعیف العمر افراد پر مشتمل ہے، لاگت میں تیزی سے کمی ہورہی ہے۔ تاہم جنوبی ایشیاء جیسے خطوں میں، جہاں انسانی مزدوری کی قیمت کم ہوتی جارہی ہے، روبوٹس مالی طور پر فائدہ مند نہيں ثابت ہوپائيں گے۔

کیا ہم بحیثیت معاشرہ روبوٹس کے لیے تیار ہيں؟ اس کا جواب دینا زيادہ مشکل ہے۔ بحیثيت معاشرہ اور بحیثیت حکومت، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ان روبوٹس کو معاشرے میں بلا روک ٹوک شامل کرنے کے عوض ہم انہيں کیا فراہم کرہے ہيں؟ ان کی ملکیت کس کے ہاتھ میں ہے؟

روبوٹس کی ملکیت سے ان کے متعلق تاثرات کس طرح متاثر ہوں گے؟

میرا خیال ہے کہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ جب ہم ایسے روبوٹس کے ساتھ انٹریکٹ کرتے ہيں جو کسی تیسرے فریق کی ملکیت ہيں، تو کیا ہوگا؟ جب یہ روبوٹس ہمارے گھروں اور ہمار دفاتر کا حصہ بنتے ہيں تو ان سے ہمارے رہن سہن اور کام کرنے کے طریقوں میں تبدیلی آئے گی۔ ان میں نصب سینسرز اور کیمرے ہمارے متعلق کئی مختلف اقسام کا ڈیٹا ریکارڈ کررہے ہوتے ہيں۔ الیکسا کی مثال لے لیں، جو کسی انسان کو خبر ہونے سے پہلے ہی اس کی سانس لینے کے طریقے سے اس کے دل کا دورہ پڑنے کے امکانات کا اندازہ لگاسکتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا الیکسا کسی درخواست کے پیچھے پوشیدہ جذبات بھانپ سکتی ہے؟ فرض کریں کہ آپ الیکسا سے پھول آرڈر کرنے کی فرمائش کرتے ہيں۔ کیا الیکسا آپ کی آواز سے اندازہ لگا سکے گی کہ آپ اس وقت خوش ہيں یا اداس؟ اور کیا وہ آپ کے جذبات کے مطابق آپ کو تجاویز پیش کرسکے گی؟ اگر اسے پیچھے کسی بچے کے رونے کی آواز آئے گی تو کیا اس کا ردعمل مختلف ہوگا؟ اس قسم کے سسٹمز کو جتنی زيادہ معلومات فراہم کی جائيں گی، ان کی تجاویز اتنی زیادہ بہتر ہوں گی اور وہ آپ کے شاپنگ کے طریقے کو اتنا ہی متاثر کرپائيں گی۔ اس کے علاوہ، ان کے پاس جتنا زيادہ ڈیٹا ہوگا، ان کی تربیت اتنی ہی بہتر ہوتی جائے گی۔ لیکن یہ معلومات حاصل کون کررہا ہے؟

ہمارا فون ہمیشہ ہی ہمارے ساتھ ہوتا ہے، لیکن اب متعدد آلات ہماری مواصلت کنٹرول کرکے ہمارا فائدہ اٹھارہے ہيں۔ اور پھر ہیکنگ اور معلومات کے غلط استعمال جیسے مسائل ابھی بھی قائم و دائم ہیں۔ ہمیں پوچھنا چاہیے کہ ہمارا ڈیٹا کہاں جارہا ہے؟ ہم کسے ذمہ دار ٹھہراسکتے ہيں؟ کیا خطرات کم کرنے کے لیے ضروری قانونی اور ضوابطی فریم ورکرز موجود ہيں؟ اپنی زندگیوں میں روبوٹس متعارف کرنے سے پہلے ان مسائل پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

اب سمارٹ شہروں کی ارتقاء سے وابستہ مسائل کی بات کرتے ہيں۔ آپ کے خیال میں مصنوعی ذہانت کے دور میں سمارٹ شہر کس سمت میں جارہے ہيں؟

مجھے امید ہے کہ ایک دن سمارٹ شہر ویسے ہی ہوں گے جیسے سنگاپور میں ہيں۔ 2014ء میں سنگاپور کے حکام نے پورے ملک کو ”سمارٹ“ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ سمارٹ سے میری مراد یہ ہے کہ ٹیکنالوجی تو اہم حصہ ہوگی ہی، لیکن سمارٹ شہر بنانے کا مقصد صرف ٹیکنالوجی برائے ٹیکنالوجی نہیں بلکہ معیشت کی ابھرتی ہوئی صنعتوں کے مطابق سمت بندی ہونی چاہیے تاکہ لوگوں کی صلاحیتوں کو فروغ دیا جاسکے اور سماجی بہتری اور بہتر زندگی کے مواقع پیدا ہوسکیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ صرف سمارٹ گھروں پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے ٹیکنالوجی کے باعث پیدا ہونے والے مسائل، جیسے کہ تنہائی اور آلودگی، پر بھی غور کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر، ضعیف العمر افراد کے گھروں میں سینسرز نصب کیے جاسکتے ہيں تاکہ کوئی حادثہ پیش آنے کی صورت میں کسی کو مطلع کیا جاسکے۔

میرے لیے کسی بھی ٹیکنالوجی کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ اس سے لوگوں کی زندگی کو کس طرح بہتر بنایا جاسکے۔

پاکستان مصنوعی ذہانت کے اعتبار سے کس حد تک منافع بخش مارکیٹ ثابت ہوگی؟

بہت بڑی مارکیٹ ہے۔ اس میں کوئی شک نہيں ہے۔ پاکستان، انڈونیشیا، بنگلادیش، بلکہ ہر وہ ملک ماضی میں ٹیکنالوجیکل انقلاب لانے والے ممالک کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہوسکتا ہے، جو اپنے شہریوں کی صلاحیتوں کی ترقی کے لیے وسائل صرف کرتا ہو۔ ہمارے ملک کے طلباء اور انجنیئرز نہایت قابل ہیں اور ہمیں ایپ ڈيولپمنٹ، ویب ڈیولمپنٹ اور مشین لرننگ جیسے مضامین سے ہٹ کر انہيں ڈیٹا سائنس اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی تعلیم دینی چاہیے۔

سائنس کا شعبہ دلچسپ اور مسائل پر مرکوز ہونے کے علاوہ، جدت پسند بھی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ نئی نویلی تکنیکس سیکھ کر فوراً ہی کسی کا کاروبار سنبھالنے لگ جائيں گے۔ مصنوعی ذہانت جیسا ابھرتا ہوا شعبہ نہ صرف پاکستان بلکہ تمام ترقی پذیر ممالک کے لیے اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور اپنا لوہا منوانے کا بہترین موقع ہے۔

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top