Global Editions

سماجی روابط محدود کرنا لاک ڈاؤن سے نکلنے کا بہترین طریقہ ہو سکتا ہے

کئی لوگوں کے لیے لاک ڈاؤن کے دوران اپنے دوستوں یا گھر والوں کے ساتھ گھر میں بند ہونا ان کی تنہائی کا احساس کم کرنے میں بہت معاون ثابت ہوا ہے۔ ان گروپس کو ببلز (bubbles) کہا جاتا ہے اور کمپیوٹر کی نئی سیمولیشنز کے مطابق یہ حکمت عملی کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے سلسلے میں موثر ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ تحقیق اس قدر اہم کیوں ہے؟ کئی ممالک میں لاک ڈاؤن ختم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اسی لیے کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈنا ضروری ہوگیا ہے جس سے ہماری دوسرے لوگوں سے میل جول رکھے کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ کرونا وائرس کے مزید پھیلاؤ پر بھی قابو پایا جاسکے۔

یہ ہدف کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے؟ اب تک اس سوال کا جواب سامنے نہیں آیا ہے۔ ڈاکٹرز ایک ہی جگہ پر رہنے، اپنے گھر والوں کے علاوہ دوسروں سے دور رہنے، اور آپس میں دو میٹر کا فاصلہ برقرار رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ تاہم اس قسم کی سماجی دوری کے اثرات کے متعلق زیادہ تحقیق نہیں کی گئی ہے۔ اب تک صرف سفر پر پابندیوں، سکول بند کرنے، اور اجتماعوں پر پابندی عائد کرنے کے اثرات کا مطالعہ کیا گیا تھا لیکن لوگوں کے آپس میں میل جول پر کسی قسم کی تحقیق نہیں کی گئی تھی۔

آپ کس سے بحفاظت مل سکتے ہیں؟ آکسفورڈ یونیورسٹی اور برطانیہ کے لیورہلم سینٹر فار ڈیموگرافک سائنس (Leverhulme Centre for Demographic Science) سے وابستہ ماہر سماجی علوم پیر بلاک (Per Block) کی سربراہی میں ایک ٹیم نے سماجی دوری کی تین مختلف حکمت عملیوں کی سیمولیشن کی، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ اگر ہم قواعد و ضوابط کی تعمیل کریں تو ان تمام طریقوں سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کیا جاسکتا ہے۔

پہلی حکمت عملی یہ ہے کہ صرف ان لوگوں سے میل جول رکھا جائے جن سے آپ کا کسی قسم کا تعلق ہو۔ مثال کے طور پر، اس اصول کے تحت صرف ایک محلے میں رہنے والے لوگ آپس میں میل جول رکھ سکتے ہیں اور کسی اور کو اس دائرے میں شامل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔ ریسرچرز کا کہنا ہے کہ کاروباروں کی بحالی کے بعد ملازمین کو اس طرح گروپ کرنے سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کیا جاسکتا ہے۔ دوسری حکمت عملی یہ ہے کہ صرف ان لوگوں سے ملا جلا جائے جن کے آپس میں بھی بڑے گہرے تعلق ہو۔ مثال کے طور پر ، ہم صرف اپنے ان دوستوں سے مل سکتے ہیں جو آپس میں بھی دوست ہوں۔

کونسی حکمت عملی سب سے زیادہ موثر ثابت ہو گی؟ اس ٹیم کی تیسری حکمت عملی کو ببلنگ (bubbling) کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں ہر گروپ اپنا سماجی دائرہ خود منتخب کرتا ہے اور پھر ہر فرد خود کو اسی دائرے تک محدود رکھتا ہے۔ اس مطالعے کے مطابق یہ تینوں حکمت عملیاں بے ترتیب قسم کی سماجی دوری، یعنی سماجی دائرے کو محدود کرنے کے باوجود میل جول برقرار رکھنے کے مقابلے میں زیادہ موثر ثابت ہوتی ہیں۔  تاہم ان تینوں حکمت عملیوں میں سے ببلنگ سب سے زیادہ موثر ہے۔ اس سے انفیکشن کی چوٹی کی شرح میں 37 فیصد کمی، انفیکشنز کی مجموعی تعداد میں 60 فیصد کمی، اور متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد میں 30 فیصد کمی ہوتی ہے۔ دوسرے نمبر پر پہلی حکمت عملی رہی، جس میں صرف ان لوگوں سے میل جول رکھا جاتا ہے جن کے ساتھ کسی قسم کا تعلق ہو۔

 ریسرچرز کے مطابق ببلنگ تکنیک اس وجہ سے زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس میں ہم خود منتخب کرتے ہیں کہ ہم کس کے ساتھ رابطہ برقرار رکھیں گے اور کس کے ساتھ منقطع کریں گے۔ یہ روابط دیگر قسم کے  سماجی اور جغرافیائی بندھنوں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔

اس سے کس حد تک فائدہ ہوگا؟ سیمولیشنز اور حقیقی دنیا میں بہت فرق ہے۔ ریسرچرز نے 500 اور 4٫000 افراد پر مشتمل گروپس پر تحقیق کی تھی٫ اور نتائج میں کچھ خاص فرق سامنے نہیں آیا۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ زیادہ بڑے گروپس میں بھی یہی صورتحال سامنے آ سکتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ سماجی دوری صرف اس صورت میں زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگی اگر قواعد و ضوابط کو غیر پیچیدہ رکھا جائے۔ سماجی دوری کے اصولوں کو جتنا مشکل بنایا جائے گا لوگ ان سے اتنا ہی دور بھاگیں گے۔

تحریر: ول ڈگلس ہیون (Will Douglas Heaven)

Read in English

Authors

*

Top