Global Editions

مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسانی مشکلات کو کم کرنا

نام: مصطفیٰ سلیمان
عمر: 33
ادارہ: ڈیپ مائنڈ

سلیمان کا کہنا ہے، “میرا خیال ہے اس سال میں سلیکون ویلی اور ٹیکنالوجی کی کمپنیاں سماجی ذمہ داری کو قبول کریں گی ۔” انہوں نے یہ کمپنی اس خواہش کے ساتھ بنائی کہ مصنوعی ذہانت کا معاشرہ پر زیادہ سے زیادہ اثر ہو۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ مصنوعی ذہانت معاشرہ میں اثر ڈالنے کاتیز ترین طریقہ ہے۔

اب سلیمان نے ڈیپ مائنڈ ہیلتھ متعارف کرائی ہے جو مصنوعی ذہانت کے ذریعےبیماریوں کی بہتر تشخیص کر سکتی ہے بشمول نظام جس کے ذریعے ابتدائی مرحلے میں آنکھ کی بیماری کا پتہ لگانا اور میموگرام کا تجزیہ کرنے میں مدد فراہم کرنا شامل ہے۔اب وہ اس چیز پر غور کر رہے ہیں کہ میڈیل کلینکس میں کتنی ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے۔ سلیمان کا کہنا ہے ، “ٹیک کمیونٹی اب تک صرف ان نظاموں کے اخلاقی اثرات کے بارے میں صرف سوچ بچار کر رہی ہے۔” مثال کے طور پر کم وقت رکھنے والے ڈاکٹرز مصنوعی ذہانت کی اعلیٰ تجاویزکو پرکھے بغیر موخر کر دے گا؟ اس نظام کا کس طرح آڈٹ کیا جائے گا؟ اور کس طرح نئی طبی تحقیقات پرانے ڈیٹا میں مصنوعی ذہانت کو قائم رکھے گی؟

سلیمان کا کہنا ہے، “میرا خیال ہے اس سال میں سلیکان ویلی اور ٹیکنالوجی کی کمپنیاں سماجی ذمہ داری کو قبول کریں گی ۔”

گزشتہ سال سلیمان نےڈیپ مائنڈ ایتھیکس اور سوسائٹی یونٹ متعارف کرایا جوالگورتھم میں ‘فیصلہ سازی کے عمل اور اس کے معاشرے پر اثرات کے سسٹمز ڈیزائن کرتے ہیں ۔

ان کا کہنا ہے،”ٹیکنالوجی کی کمپنیوں سے پوچھا جانے والا سوال کا نکتہ یہ ہے: ہم الگورتھم کو کس طرح شکل دیتے ہیں جو مجموعی طور پر رکھی جانیوالی اخلاقی چوائس کا خیال رکھے ؟”

تحریر: رس جسکالین (Russ Juskalian)

Read in English

Authors
Top