Global Editions

آگ سے تباہ ہونے والا شہر خود کو کیسے محفوظ بنا رہا ہے

کیا پیراڈائز، کیلی فورنیا کی طرح کا شہر ماحولیاتی تبدیلی کے دور میں واقعی محفوظ رہ سکتا ہے

کیمپ فائر (Camp Fire)،جس نے سر ی سیرا نیواڈا (Sierra Nevada) کی نیچی پہاڑیوں کوگذشتہ موسم خزاں میں چیرڈالا، کیلیفورنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ تباہ کن آگ تھی۔ اس آگ سے تقریباً~19,000 سٹرکچرز تباہ ہوئے اور 85 افراد ہلاک ہوئے۔

پیراڈائز، کیلیفورنیا میں تقریباً 90 فیصد گھر تباہ ہوگئے تھے۔ آگ لگنے سے قبل وہاں 29,000افراد قیام پذیر تھے جبکہ آج وہاں ایک اندازے کے مطابق وہاں صرف 3,000 لوگ رہ رہے ہیں۔

اب بحالی کا طویل عمل شروع ہو چکا ہے۔ 150 سے زیادہ کاروباری اداروں کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ بلڈوزر اور عملہ ایک ہفتے میں تقریباً 500لاٹوں کےملبے کو صاف کر رہا ہے۔ کیلیفورنیا کے محکمہ جنگلات اور فائر پروٹیکشن کے مطابق، ریاستی ادارے پی جی اینڈ ای جس میں خرابی کی وجہ سے آگ لگی تھی، ہزاروں لاکھوں درختوں کو ہٹانے میں مصروف عمل ہے۔

پیراڈائز کے میئر جوڈو جونز کہتی ہیں، “یہ ایک ایسے جگہ کا منظر پیش کر رہا ہے جس کو ہم بحال کر سکتے ہیں اور یہ کم خانہ جنگی کا علاقہ نظر آ رہا ہے۔”

لیکن جیسے ہی ماحولیاتی تبدیلی جنگلوں میں آگ اور دیگر قدرتی آفات کا خطرہ بڑھا رہی ہے، پیراڈائز کی تعمیر نو کے حواے سے پریشان کن سوالات کا سامنا ہے: کیا اس علاقے کو اس طرح سے دوبارہ بحال کیاجاسکتا ہے کہ حقیقی طور پر دوبارہ تباہی کا خطرہ کم ہو؟ یا ماحولیاتی تبدیلی اس جیسے ٹائونز کو رہنے کے قابل نہیں چھوڑے گی؟

تاہم پیرا ڈائز کو دوبارہ بنایا جا چکا ہے لیکن یہ پلوماس نیشنل فاریسٹ (Plumas National Forest)کے کنارے پر ہونے کی وجہ سےآگ کے خطرات پر رہے گا۔ کیلفورنیا کی فائر ایجنسی نے اس علاقے کو “انتہائی زیادہ خطرناک “قرار دیا ہے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ اس طرح کا علاقہ کس قیمت پر محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح کے بحالی کے منصوبوں اور آفتوں کے رسپانس کےحوالے سےعوام میں اعتماد بڑھانے میں کئی سال لگیں گے جس کے لئے فنڈز محدود ہیں اور سخت فیصلہ کرنا پڑے گا۔

زندگی واپس لوٹ رہی ہے۔

اربن ڈیزائن ایسوسی ایٹس، جو کہ ایک مشاورتی فرم کے طور پر آفات کے بعد لوگوں کو دوبارہ بحال کرنے میں مہارت رکھتی ہے، نے فروری کے بعد سے کمیونٹی کے ساتھ کام کیا ہے تاکہ وہ بحالی کا منصوبہ بنا سکیں اور آگ کے خطرے کو کم کرنے کے لئے اعلی درجے کی تعمیراتی معیاروں کا ایک سیٹ تیار کریں۔

بحالی منصوبہ کا موجودہ مسودہ تقریباً 40 منصوبوں کی شناخت کرتا ہے اور انکی ترجیحات سیٹ کرتا ہے، لاگت کا اندازہ لگاتا ہے اور ممکنہ فنڈنگ کے ذرائع کا تعین کرتا ہے۔

اربن ڈیزائن ایسوسی ایٹس کے چیف ایگزیکٹو بیری لانگ کا کہنا ہے محکمہ پی جی اینڈ ای کے لئے سب سے اہم ترین کام یہ ہے کہ کمیونیکیشن کی دوسری لائنز کے ساتھ بجلی کی لائنوں کو زیر زمین کرنا ہے۔

آفات سے بچائو کا سرکاری محکمہ پی جی اینڈ ای ،جو کیمپ فائر اور کیلی فورنیا میں لگنے والی دوسری دیگر اہم آگ کی وجہ سے دیوالیہ ہو گیا تھا، نے پہلے سے ہی یہ کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایک جج نے حالیہ آگ کے متاثرین کے لئے کمپنی کی طرف سے 100 ملین ڈالرہاؤسنگ فنڈ قائم کرنےکی درخواست قبول کر لی ہے۔

بحالی کی منصوبہ بندی میں دیگر اہم ترجیحات میں ایمرجنسی نوٹیفیکیشن نظام اور نکلنے کے راستوں میں اضافہ شامل ہیں۔ نومبر میں لگنے والی آگ میں صرف ان رہائشیوں کو فون الرٹس ملے تھے جنہوں نے سائن اپ کیا ہوا تھا اور شہریوں کا انخلا ٹریفک جام کی وجہ سے بہت سست روی کا شکار رہا۔
میئر جونز، جس کا اپنا گھرآگ میں جل گیا تھا، نے کہا عام روٹین میں چیکو کے علاقے تک پہنچنے میں 20 منٹ لگتے ہیں جبکہ آگ لگنے والے دن مجھےچار گھنٹے لگے۔

وہ کہتی ہیں “ہر جگہ آگ لگ گئی تھی۔ “یہ آگ اتنی قریب تھی کہ آپ گاڑی میں گرمی محسوس کر سکتے تھے۔”
بحالی کے منصوبہ میں ایک اور اہم حصہ بلڈنگ کوڈز اور سٹینڈرڈ کو اپ گریڈ کرنا شامل ہے۔ تمام نئے گھروں کو ریاستی وائلڈ لینڈ اربن انٹرفیس کوڈ کے معیارات پر پورا اترنا ہو گا۔اس کوڈ کو 2008 میں نافذ کیا گیا تھا، لہٰذا کیمپ فائر لگنے سے پہلے شہر میں سٹرکچرز کی وسیع اکثریت اس معیار پر پورا نہیں اترتی۔

جونز کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق 2008 کے بعد تعمیر ہونے والے گھروں میں سے 51 فیصد گھر محفوظ رہے جبکہ اس سے پہلے والوں میں نو فیصد ٹھیک رہے۔

دیگر چیزوں کے علاوہ، وائلڈ لینڈ اربن انٹرفیس کے قوانین آگ سے مزاحمت رکھنے والے چھت کے مواد، زیادہ درجہ حرارت برداشت کرنے والے شیشے، لکڑی والے سوراخ اور شیلڈ گٹرز کی ضرورت ہوتی ہے جو پودوں کے مواد کو اکٹھا ہونے سے روکتے ہیں۔ریاست کے مزید قوانین پودوں اورلکڑی کے انبار کو عمارتوں سے دور رکھنے کا کہتے ہیں۔

لیکن اربن ڈیزائن ایسوسی ایٹس نے کچھ بلڈنگ کوڈز متعارف کروائے ہیں جو ان سے الگ ہیں جس میں ہر عمارت کے گرد پانچ فٹ کا آگ کے دفاع کے لئے سٹرکچر کھڑا کرنا شامل ہیں۔انہوں نے عمارتوں پر چھڑکائو بھی لازمی قرار دیا ہے اور غیر ضروری گٹرز بھی بند کرنے کا کہا ہے۔

ہمارے ٹائون ، ہمارے گٹرز

ان میں سے بہت ساری سفارشات پر عوامی حمایت ملی جلی ہے جس کی وجہ لاگت میں اضافہ اور گھروں کی جمالیات کو تبدیل کرنا ہے۔ مئی کے اختتام میں کمیونٹی اجلاس کے دوران ہونے والی انتخابات میں، نصف سے کم رہائشیوں نے گٹروں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے خیال کو پسند کیا جبکہ سٹوریج شیڈوں کی ضرورت کےلئے آدھے سے کم آمادہ تھے۔

11 جون کو، ٹائون کونسل بلڈنگ کوڈز پر فیصلہ کریگا۔اس ماہ کے اختتام تک وسیع بحالی کی منصوبہ بندی کا فیصلہ کرے گی۔ مختلف منصوبوں اور گھروں کے لئے فنڈز مختلف وفاقی اور سٹیٹ فنڈز کے ساتھ ساتھ انشورنس والوں سے آئیں گے۔

لانگ کا کہنا ہے ، “جب اس منصوبہ پر عمل ہو گا تو پیراڈائز میں رہنے والے لوگ سب سے محفوظ ہونگے۔”

تاہم جنگلات میں وسیع پیمانے پر لگنے والی آگ کا حقیقت پسندانہ طریقے سے مقابلہ کرنے کے لئے بڑے فنڈز اور نئے قوانین کو نافذ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں ماحولیاتی سیاست کی ایسوسی ایٹ پروفیسر سارہ اینڈرسن کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی خطرناک علاقوں میں ” فیول کی ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہو گی۔اس کے لئے قریبی جنگلات کو ہلکا کرنا ہو گا، آگ لگانے پر پابندی لگانا ہو گی اور جھاڑیوں کی کانٹ چھانٹ کرنا ہو گی۔

اس میں لوگوں کو الرٹ رہنا ہو گا۔ حکام اور رہائشیوں کو مسلسل درختوں کو ہلکا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ایندھن کو ختم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا صرف ایک دفعہ تباہی کے بعد نہیں کرنا ہوتا۔

بدقسمتی سے لوگوں کی یاداشتیں کمزور ہیں۔ قریبی علاقوں میں رہنے والے لوگ خطرات کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور جو لوگ کناروں پر رہتے ہیں،وہ زیادہ خطرات سے دوچار ہوتے ہیں۔

اینڈرسن کا کہنا ہے، “مجھے لگتا ہے کہ ہم انہیں زیادہ محفوظ بنا سکتے ہیں۔لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ہم انہیں محفوظ بنا سکتے ہیں۔”

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors

*

Top