Global Editions

ایپل کے وائرلیس ایئربڈز کو اب ہیئرنگ ایڈ کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے

ایئرپوڈز کے ساتھ استعمال ہونے والی یہ ایپ سماعت سے محروم افراد کو سننے میں مدد فراہم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔

کیا آپ ہیئرنگ ایڈ کے بجائے وائرلیس ایئربڈز اور ایک سمارٹ فون ایپ استعمال کرسکتے ہیں؟

سویٹزرلینڈ میں واقع فینیکس (Fennex) نامی ایک سٹارٹ اپ کمپنی یہی کچھ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انھوں نے حال ہی میں آئی فون کے لیے فینیکس نامی ایک ایپ تیار کی ہے، جسے ایپل کے 159 ڈالر کے ایئرپوڈز نامی وائرلیس ایئربڈز کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کمپنی کے سی ای او الیکس ماری (Alex Mari) کہتے ہیں کہ انھوں نے ایپل کے موبائل پلاٹ فارم کا انتخاب اس کی مقبولیت کے علاوہ اس وجہ سے بھی کیا کہ ان کے خیال میں آئی فونز میں اینڈرایئڈ فونز کے مقابلے میں آواز پراسیس کرنے میں کم وقت لگتا ہے۔

اس وقت فینیکس کی ایپ مفت دستیاب ہے، لیکن آگے چل کر اس کے چند فیچرز کے لیے ادائيگی کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ابھی یہ ایپ صرف ابتدائی مراحل میں ہے۔ ماری کہتے ہيں کہ یہ ابھی ایک بنیادی ہیئرنگ ایڈ سے زیادہ کچھ نہيں ہے۔ یہ ایپ دونوں کانوں کی سماعت چیک کرنے کے بعد آواز کو آپ کے سننے کی صلاحیت کے مطابق ایڈجسٹ کرتی ہے۔ اگر آپ کو کلاس میں کوئی چیز سننے میں دشواری ہورہی ہو تو بس اپنے فون لیکٹرن کے قریب رکھ دیں، اور پیچھے بیٹھ کر اپنے ایئرپوڈز پر سنتے رہیں۔

ماری کہتے ہیں کہ اس میں مزيد اپ گریڈ کی گنجائش ہے۔ اس ایپ میں ایسے فیچرز شامل کیے جائیں گے جن کی مدد سے غیرمطلوبہ شور اور فیڈبیک کو کم کیا جائے گا۔ انھیں یقین ہے کہ یہ ایپ مستقبل میں ایپل کے ہارڈویئر کے ساتھ انٹیگریٹ ہو کر متعدل بہرے پن کے شکار افراد کے لیے ہیئرنگ ایڈ کے طور پر بھی کام کرے گی۔ ماری کے مطابق وہ ایک ہیئرنگ ایڈ بنانا چاہ رہے ہیں۔"

فینیکس کی ایپ پہرے پن کے شکار افراد کے علاوہ اپنی قوت سماعت کو بہتر بنانے کے خواہش مند افراد کو سمارٹ فونز اور ایئربڈز کی مدد سے بہتر طور پر سننے کا طریقہ کار فراہم کررہی ہے۔ اس سے پہلے بھی ایئربڈز اور سمارٹ فونز استعمال کرنے والی کئی ایپس لانچ کی جاچکی ہیں، جن میں پیٹرالیکس (Petralex) نامی ایپ سرفہرست ہے۔ اس کے علاوہ ڈوپلر لیبس (Doppler Labs) کی ہیئر ون (Here One) نامی ائیربڈز بھی موجود ہیں، جن کے لیے ایک خصوصی سمارٹ فون کی ایپ بھی بنائی گئی تھی۔ ہیئرنگ ایڈز کے برعکس، جن کی قیمتیں ہزاروں ڈالر تک پہنچ جاتی ہیں، یہ ڈيوائسز محض چند سو ڈالر میں حاصل کی جاسکتی ہیں۔

فینیکس دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے علاوہ کوئی بھی کمپنی خصوصی طور پر ایئرپوڈز کے لیے ایپ نہیں بنا رہی ہے۔ اور اب جبکہ ایپل ہیڈفون جیک سے ہٹ کر ایئرپوڈز کی جانب بڑھ رہا ہے، ہوسکتا ہے کہ آنے والے سالوں میں ایئرپوڈز زیادہ عام ہوجائیں گے۔

انڈینا یونیورسٹی بلومنگٹن میں سپیچ اور ہیئرنگ سائنسز کے پروفیسر لیری ہیومز (Larry Humes) کو امید ہے کہ متعدل بہرے پن کے شکار افراد ہیئرنگ ایڈ کے بجائے فینیکس کا استعمال کریں گے۔ حال ہی میں جو قوانین پاس کیے گئے ہیں، ان کے تحت ایف ڈی اے کو ایسے نئے ہیئرنگ ايڈز بنانے کی ضرورت ہے جنھیں ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر خریدا جاسکتا ہے۔ ہیومز کو یقین ہے کہ اس کی وجہ سے سماعت بہتر بنانے کے کئی مصنوعات زيادہ آسانی سے دستیاب ہوجائیں گے۔

ماری اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ صرف ایک ہی قسم کے ایئربڈز کے لیے سافٹ ویئر بنانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ فینیکس کا ہارڈویئر پر کوئی کنٹرول نہیں ہے، اور نہ ہی وہ دوسرے ڈیولپرز کو ایپل کے سافٹ ویئر کے ساتھ کام کرنے پر کسی قسم کی پابندی عائد کرسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ تاخیر کے بھی مسائل ہیں۔ فینیکس کی ایپ ایئرپوڈز کے مائکروفون کے ذریعے آواز ریکارڈ کرتی ہے، اور اس کے بعد آئی فون کی ایپ اس آواز کو پراسیس کرکے واپس ایئربڈز تک پہنچاتی ہے۔ ابھی تاخیر 130 ملی سیکنڈز ہے، جو عام حالات میں تو صحیح ہے، لیکن اگر آپ کسی سے بات کرنے کی کوشش کررہے ہیں، تو یہ کافی واضح ہوجاتی ہے۔

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top