Global Editions

2019میں انقلاب برپا کرنے والی ٹیکنالوجیز

ہم نےبل گیٹس سے اس سال کی ایجادات کی فہرست کے بارے میں پوچھا جو دنیا کو بہتری میں تبدیل کریں گی۔

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو نے 10 کامیاب ٹیکنالوجیز کے پہلے مہمان کوریٹر کی دعوت دیکر نے مجھے عزت بخشی ۔ فہرست کو کم کرنا مشکل تھا۔ میں ان چیزوں کو منتخب کرنا چاہتا ہوں جو کہ نہ صرف 9 201میں ہیڈلائنز بنائیں گی بلکہ ٹیکنالوجی کی تاریخ میں اہم ہونگی اور بتائیں گی کہ وقت کے ساتھ ساتھ کس طرح ٹیکنالوجی کا ارتقا ہوا۔

میرا دماغ ہر چیز پرہل چلانے کے لئے گیا۔ ہل جدت کی تاریخ کا بہترین نمونہ ہیں۔انسان ان کو 4,000 سال قبل ازتاریخ سے استعمال کر رہا ہےجب میزوپوٹامین کے کسانوں نے تیز ترین چھڑیوں سے زمین کی گوڈی کی۔تب سے ہم آہستہ آہستہ ان کو ٹھیک کر رہے ہیں اور آج یہ ٹیکنالوجی کا شاہکار ہیں۔

روبوٹس

یہ بات ٹھیک ہے کہ مشینیں بہت سارے کام کر رہی ہیں لیکن اس کے باوجود صنعتی روبوٹس ابھی تک خستہ حالت میں ہیں اور غیر لچکدار ہیں۔ ایک روبوٹ بار بار ایک جز کو حیرت انگیز درستگی سے اکٹھا کر اسمبلی لائن پر لاسکتا ہے اور وہ اس چیز سے بور نہیں ہوتا۔ لیکن ایک چیز کو آدھا انچ چلانااور اسے کسی تھوڑی سی مختلف چیز کے ساتھ تبدیل کرنے پر یہ بری طرح ناکام ہو جاتا ہےیا یہ ہوا میں رک جاتا ہے۔

ابھی تک روبوٹ کی پروگرامنگ اس طرح سے نہیں ہو سکی کہ وہ کس طرح ایک چیز کو صرف دیکھ کر اس کو اٹھا سکے جیسا کہ انسان کر سکتے ہیں۔اب روبوٹس اپنے طور پرآگے پیچھے کرنا غلطی اور آزمائش کے طریقے کے ذریعے سیکھ رہے ہیں۔

اس طرح کا ایک منصوبہ ڈیکٹائل (Dactyl)ہے جو کہ ایک ایسا ایک روبوٹ ہے جس نے اپنی انگلیوں میں کھلونا عمارت کےبلاک کو خود سے آگے پیچھے کرنا سیکھ لیا ہے۔ سان فرانسسکو کے غیر منافع بخش ادارےاوپن اے آئی(OpenAI) نے ڈیکٹائل کو بنایا ہےاوریہ لائٹوں اورکیمروں کی کی صف پر مشتمل ہے۔

ری انفورسمنٹ لرننگ کا استعمال کرتے ہوئے، نیول نیٹ ورک سافٹ وئیر سیکھتا ہے کہ وہ کس طرح چیزوں کو پکڑے اور اصلی ہاتھوں میں آزمانے سےپہلےبلا ک کو ایک مصنوعی ماحول میں سمجھے ۔ سب سے پہلے، سافٹ ویئر بے ترتیب طور پر تجربات سے نیٹ ورک کے اندر اندر کنکشن مضبوط ہو جاتے ہیںجیسے جیسے یہ اپنے مقصد کے قریب ہوتا ہے۔

عام طور پر اس قسم کی مجازی مشق کو حقیقی دنیا میں منتقل کرنا ممکن نہیں ہے، کیونکہ رگڑ جیسی چیزیں یا مختلف مواد کی متعدد خصوصیات کو ٹھیک کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔اوپن اے آئی کی مجازی مشق میں میں بے ترتیبی ڈالنے کے لئے ساتھ ہو گئی اور روبوٹ کو حقیقت کی خرابی کے لئے ایک پراکسی دی۔

ہمیں ایک حقیقی گودام یا فیکٹری میں جدید ترقی کی مہارت حاصل کرنے کے لئے روبوٹ کو مزید کامیابیاں دینے کی ضرورت ہوگی۔ لیکن اگر محققین کو اس طرح کے سیکھنے کو قابل اعتماد طریقے سے استعمال کرتے ہیں تو روبوٹ آخر میں ہمارے پرزے اکٹھے کر سکتے ہیں، برتنوں کو لوڈ کرسکتے ہیں اور دادی اماں کو بستر سے اٹھانے میں بھی مدد کرسکتے ہیں۔ول نائٹ

نیوکلئر پاور

پچھلے سال میں نئے ایٹمی ڈیزائن جس رفتار سے حاصل کیے گئے ہیں وہ مستقبل کی بجلی کے لئے محفوظ اور سستا ذریعہ ہیں۔ ان میں سے ایک جنریشن فور (IV) فشن ری ایکٹرز ہیں جو کہ روایتی ڈیزائن کا ارتقاء ہیں؛ چھوٹے ماڈیولر والےر ی ایکٹرز ہیں؛ اور فیوژن ریکٹرز۔یہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو ہمیشہ ہی سے پہنچ سے دور رہی ہے۔جنریشن IV کےفشن ڈیزائن کے ڈویلپرز جیسا کہ کینیڈا کےٹریسٹرائیل انرجی اور واشنگٹن سے تعلق رکھنے والےٹیرا پاور آر اینڈ ڈی کے ساتھ پارٹنر شپ کر چکے ہیں اور شاید 2020 تک گرڈ کو سپلائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔

چھوٹے ماڈیولر ر ی ایکٹر عام طور پر لاکھوں میگاواٹ بجلی پیدا کرتے ہیں (اس کے مقابلے میں، ایک روایتی ایٹمی ریکٹر تقریباً 1000 میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے)۔ اوریگان کی نیوسکیل(NuScale) جیسی کمپنیاں کہتی ہیں کہ چھوٹے ری ایکٹر رقم بھی بچاتے ہیں اور ان کے ماحولیاتی اور مالی خطرات بھی کم کرسکتے ہیں۔

سوڈیم والے فشن ری ایکٹر سے ایڈوانس فیوژن ری ایکٹر آنے سےایک منصوبوں کی ایک نئی نسل جوہری توانائی میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔
فیوژن پر بھی ترقی ہوئی ہے۔ اگرچہ 2030 سے ​​پہلے کسی کی ترسیل کی توقع نہیں ہے، تاہم جنرل فیوژن اور کامن ویلتھ فیوزن سسٹمز جیسی کمپنیاں اس حوالے سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ بہت سارے لوگ فیوژن کو ایک خواب تصور کرتے ہیں لیکن چونکہ اس وجہ سے ری ایکٹر نہیں پگھلتےاور طویل زندگی والا فضلہ پیدا نہیں کرتے ہیں، اس وجہ سے روایتی ایٹمی ری ایکٹر کی نسبت کم عوامی مزاحمت کا سامنا ہونا چاہیے۔ (بل گیٹس ٹیرا پاور( TerraPower) اورکامن ویلتھ فیوژن سسٹمز میں ایک سرمایہ کار ہے) -لی فلپس

وقت سے پہلےبچہ پیدا ہونے کا پتہ چلانا

خون کے ایک سادہ ٹیسٹ سے پتا چل سکتا ہے کہ آیا کہ کوئی خاتون وقت سے پہلے بچہ پیدا کرنے کے خطرہ پر ہے۔
ہمارے جینیاتی مواد زیادہ تر ہمارے خلیوں میں رہتے ہیں لیکن "سیل فری" ڈی این اے اور آر این اے کی چھوٹی مقدار ہمارے خون میں تیرتی ہے جو کہ اکثر مردہ سیلوں سے خارج ہوتی ہے ۔حاملہ خواتین میں یہ سیل فری مواد نیوکلک ایسڈ سے بچےاور ماں میں ہوتا ہے۔

اسٹینفورڈ میں ایک بائیو انجینئر سٹیفن کویک(Stephen Quake) نے دوا سے پیچیدہ مسائل سے نمٹنے کے لئے ایک طریقہ ڈھونڈا ہے: تقریباً 10 بچوں میں سے ایک وقت سے پہلے پیدا ہوتا ہے۔

تیرتے ہوئے ڈی این اے اور آر این اے سے ان معلومات کو حاصل کیا جا سکتاہے جو پہلے خطرناک طریقے اپنا کر لی جاتی تھیں مثلاً ایک ٹیومر کے بائیوپسی لینے یا حاملہ خاتون کے پیٹ کو پنکچر کرکے سیل لینا۔ اب طریقہ کار بدل گیا ہے اور خون میں جینیاتی مواد کی چھوٹی مقدار کا اندازہ لگانا اور ترتیب دینا آسان ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے محققین نے کینسر اور ڈائون سنڈروم جیسی بیماریوں کے لئے خون کےٹیسٹ شروع کر دیے ہیں۔

ان بیماریوںکے ٹیسٹ ڈی این اے میں جینیاتی تبدیلیوں کے انحصار پر ہیں۔ دوسری طرف آر این اے ایک ایسا مالیکیول ہے جو جین کےاظہار کو ریگولیٹ کرتا ہے یعنی ایک جین سے کتنی پروٹین پیدا ہوتی ہے۔ ماں کے خون میں مفت تیرتے ہوئے آر این اے کی ترتیب سے کو سات جینوں کے اظہار میں لچک دیکھ سکتا ہے کہ وہ پیدائش سے پہلے کس سے منسلک ہے۔ اس سے وہ ان عورتوں کی شناخت کرتے ہیں جوبہت پہلے بچہ دینے والی ہوتی ہیں۔ ایک بار انتباہ کرنے پر ڈاکٹروقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچہ کو بچانےکے لئے اقدامات کر سکتے ہیں اور بچہ کے زندہ رہنے کے امکان کو بڑھا سکتے ہیں۔کویک کا کہنا ہے کہ خون کے ٹیسٹ والی ٹیکنالوجی فوری اورآسان ہے۔ اور اس کی قیمت دس ڈالر سے بھی کم ہے۔ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے اسے تجارتی مقاصد کے لئے اکنا ڈی ایکس (Akna Dx) نامی سٹارٹ اپ شروع کیا ہے۔ بونی روچمین

آنت کا معائنہ کرنے والا آلہ

ایک چھوٹا سا نگلنے والا آلہ نشے کے بغیر یہاں تک کہ نومولود اور بچوں میں بھی آنت کی تفصیلی تصویر کھینچ کے لا سکتا ہے۔انوائرنمنٹ انٹریک ڈس فنکشن (ای ای ڈی) مہنگی ترین بیماریوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں آپ نے سنا ہے۔ ا س بیماری سے آپ کی آنت لیک ہو جاتی ہےاور غذا کو اچھے طریقے سےجذب نہیں کرتی۔ یہ بیماری زیادہ تر غریب ممالک میں ہوتی ہے جہاں لوگوں کی خوراک پوری نہیں ہوتی اور ان کے قد بڑھنا رک جاتے ہیں۔ کوئی بھی نہیں جانتا کہ یہ بیماری کیا ہے اور اس کو کیسے روکا یا اس کا علاج کیسے کیا جا سکتا ہے۔

اس بیماری کی عملی طور پر اسکریننگ سےطبی کارکنان کو پتہ چلے گاکہ کب اور کس طرح اس بیماری میں مداخلت کی جائے۔ نومولود بچوں کے لئے تھیراپیاں پہلے ہی بچوں کے لئے دستیاب ہیں۔ لیکن اس طرح کی بیماریوں کی تشخیص اور مطالعہ کرنے لئے اکثر بچوں کے گلے کے اندر سے نشہ دے کرٹیوب داخل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جسے اینڈوسکوپ کہا جاتا ہے۔ یہ علاج مہنگا اور غیر اآرام دہ ہے اور دنیا کے ان علاقوں میں عملی طور پر ممکن نہیں ہے جہاں ای ای ڈی موجود ہے۔

بوسٹن میں میساچیٹس جنرل ہسپتال ( MGHایم جی ایچ) میں ایک ماہر نفسیات اور انجنیئر گلرمومو ٹارنی (Guilermo Tearney) چھوٹے آلات بنارہے ہیں جو گٹ میں ای ای ڈی کی علامات کا معائنہ کرنے کے لئے استعمال کیے جا سکتے ہیں اوریہاں تک کہ ٹشو کی بائیوپیسیز کو بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اینڈو سکوپ کے برعکس ، یہ بنیادی دیکھ بھال کے لئے آسان ہیں۔

ٹارنی کے نگلنے کے قابل کیپسول چھوٹے خوردبینوں پر مشتمل ہیں۔ وہ ایک لچکدار رسی کی طرح کی چیز سے جوڑے جاتے ہیں جو کہ تصاویر بھیجنے کے لئے بجلی اور روشنی فراہم کرتے ہیں۔یہ چیز صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے ورکر زکو اجازت دیتے ہیںکہ کام مکمل ہونے کی صورت میں وہ اسے اپنی مطلوبہ جگہ پر روک سکے اور اس کی سٹرلائزیشن اور دوبارہ استعمال کی اجازت دیتے ہیں۔ (اگرچہ یہ آواز بند کرنے والا لگتا ہےٹارنی کی ٹیم نےایک ایسی ٹیکنالوجی تیار کی ہےجو تکلیف کا باعث نہیں بنتی۔) اس آلے میں ایسی ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا جا رہا ہےجو نظام انہضام کی پوری تصویر لیتا ہے۔

ٹیکنالوجی کے بہت سارے استعمالات ہیں۔ایم جی ایچ میں یہ ایسوفیگس کے کینسر کے علاج کے لئے استعمال کی جا رہی ہے۔ ای ای ڈی کے علاج کے لئے ٹارنی کی ٹیم نے ان بچوں کے استعمال کے لئے کے لئے ایک چھوٹا ورژن تیار کیا ہے جو کسی گولی کو نہیںنگل سکتے۔اس کا پاکستان میں نوجوانوں پر تجربہ کیا گیا ہے، جہاں ای ای ڈی بیماری کافی زیادہ ہے۔بچوں میں یہ 2019 میں اس کے ٹیسٹ کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

اس معاملے میں تھوڑی تحقیق محققین کو ای ای ڈی کی بیماری بارے میں سوالات کا جواب دیں گے کہ یہ کون سے خلیات کو متاثر کرتی ہے اور کیا اس میں بیکٹیریا ملوث ہیں۔ ان تمام صورتحال کی روشنی میں ممکنہ علاج تجویز کیا جا سکے گا۔ - کوٹنی ہیمفرائز۔

Read in English

Authors
Top