Global Editions

ہم مستقبل کو کس طرح ایجاد کریں گے؟

اس سال کی 10انقلابی ٹیکنالوجیز کی فہرست ہل سے شروع ہوتی ہے۔

مجھے بہت فخر محسوس ہوا جب ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو نے سب سے پہلے مجھے اس سال اپنی 10 انقلابی ٹیکنالوجیز کی فہرست تشکیل کرنے کا موقع پیش کیا۔ اس فہرست کے لیے ٹیکنالوجیز کا انتخاب کرنا بہت مشکل ثابت ہوا۔ میں ایسی چیزوں کا انتخاب کرنا چاہتا تھا جن کا 2019ء میں خوب چرچا ہوگا ہی لیکن ساتھ ہی ٹیکنالوجی کی تاریخ میں انقلاب بھی آئے گا۔ اور اس فہرست پر غور کرتے کرتے میں انسانی تاریخ میں انوویشن کے ارتقاء کے بارے میں سوچنے لگا۔

میں اسی سوچ میں گم تھا جب میرا ذہن ہل (plow) کی طرف چلاگیا۔ ہل انوویشن کی تاریخ کی بہترین مثال ہے۔ ہم سن 4000ء قبل مسیح سے ان کا استعمال کررہے ہیں جب بین النہرین (Mesopotamia) کے کسان لکڑی کی ٹکڑوں سے مٹی میں سوراخ کرتے تھے۔ اس وقت سے آج تک ہلوں میں بہتری لائی جارہی ہے اور آج یہ ٹیکنالوجی کا شاہکار ہیں۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہل چلانے کا مقصد کیا ہے؟ اس ایک مشین سے زیادہ بیج بوئے جاتے ہيں، زیادہ فصل کاشت ہوتی ہے، اور زیادہ غذا پیدا ہوتی ہے۔ یہ کہنا غلط نہيں ہوگا کہ غذا کی کمی کے شکار علاقوں میں ہل عمر میں اضافے کی وجہ بنتا ہے۔ ہر قسم کی ٹیکنالوجی کی طرح ہل بھی کئی چیزوں کو بنانے سنوارنے میں معاون ثابت ہوتا ہے، کام کو آسان بناتا ہے اور کئی لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔

اب کچھ دیر کے لیے اس کا موازنہ میری فہرست میں شامل ایک دوسری ٹیکنالوجی لیب میں پیدا کردہ گوشت سے کرتے ہیں۔ لیب میں گوشت پیدا کرنے کا مطلب یہ نہيں ہے کہ زیادہ لوگوں کو کھانا فراہم کیا جائے گا۔ دنیا بھر میں گوشت کی مانگ میں اضافے کے باوجود مویشیوں کی تعداد  لوگوں کا پیٹ بھرنے کے لیے کافی ہے۔ مستقبل کے گوشت کا مقصد پیداوار میں اضافہ نہيں بلکہ گوشت کے معیار میں بہتری لانا ہے۔ اس سے ہمارے لیے درخت کاٹنے اور میتھین کے اخراجات میں اضافہ کیے بغیر دنیا کی بڑھتی ہوئے آبادی کا پیٹ بھرنا اور ان کی آمدنی میں اضافہ کرنا ممکن ہوگا۔ اس کے علاوہ، ہم جانوروں کو مارے بغیر گوشت کا استعمال جاری رکھ سکيں گے۔

یوں کہیے، ہل سے آپ کی عمر لمبی ہوتی ہے اور لیب میں پیدا کردہ گوشت سے زندگی کا معیار۔ جہاں تک انوویشن کا تعلق ہے انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ توجہ ہل پر ہی دی گئی ہے، اور ہمیں اس کا پھل بھی ملا ہے۔ 1913ء میں انسانوں کی اوسط عمر 34 سال تھی، جو 1973ء میں بڑھ کر 60 سال ہوئی، اور آج 71 سال تک ہو گئی  ہے۔

اب جب ہماری عمریں بڑھنے لگی ہیں، ہماری توجہ اپنی زندگیوں کو بہتر طور پر گزارنے پر مرکوز ہوچکی ہے۔ یہ تبدیلی اچانک نہيں ہوئی۔ اگر آپ سائنسی انکشافات کو دو زمروں میں تقسیم کريں گے، ایک جن سے عمر میں اضافہ ہو اور دوسرا جس سے زندگی کا معیار، تو 2009ء کی فہرست اور اس سال کی فہرست میں کچھ خاص فرق نہيں ہوگا۔ اس تبدیلی کی رفتار اس قدر سست ہے کہ اسے محسوس کرنا بہت مشکل ہے۔ اس میں کئی سال نہیں، کئی دہائیاں لگیں گی۔

میں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ میرے خیال میں انسان اپنی عمر میں اضافے کی کوششیں ترک نہيں کریں گے۔ ایک ایسی دنیا قائم کرنے میں جہاں ہر کوئی بغیر کسی بیماری کے کئی سالوں تک زندہ رہتا ہے، بہت وقت لگے گا اور یہاں تک پہنچنے میں کئی سال لگیں گے۔ اس کے علاوہ ’’عمر‘‘ اور ’’‏معیار زندگی‘‘ کے اہداف ایک ساتھ بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ملیریا کے ٹیکوں سے عمر لمبی کرنے کے ساتھ ساتھ ان بچوں کی زندگیاں بہتر بنائی جاسکتی ہیں جو اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔

ہم ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں ہم دونوں مسئلوں پر ایک ساتھ کام کررہے ہيں۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ دس سال بعد اس فہرست کی شکل کیا ہوگی تو میں آپ سے یہی کہوں گا کہ اس میں شامل زیادہ تر ٹیکنالوجیز کا مقصد کسی نہ کسی دائمی امراض کا علاج ہوگا۔ اس میں صرف نئی ادویات ہی شامل نہيں ہوں گی (لیکن مجھے الزہائمرز جیسے امراض کا کوئی نیا علاج دیکھ کر خوشی ضرور ہوگی)۔ میں ایسی ٹیکنالوجيز کی بات کررہا ہوں جن سے مثال کے طور پر آرتھرائٹس کے شکار کسی شخص کو اپنا کام کرنے میں مدد ملے گی یا ڈیپریشن کے شکار افراد کو ضروری معاونت تک رسائی حاصل ہوگی۔

اگر ہم بیس سال بعد کی بات کریں تو مجھے امید ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کی تعداد میں اضافہ ہوگا جن سے ہماری زندگیوں میں بہتری ممکن ہوگی۔ میرے خیال میں مستقبل کے ہونہار سائنسدان غیرمادی سوالات پر غور کریں گے۔ لوگوں کو زيادہ خوش کس طرح رکھا جاسکتا ہے؟ معنی خیز تعلقات کس طرح قائم کیے جاسکتے ہيں؟ ہر کسی کو بھرپور زندگی گزارنے میں کس طرح معاونت فراہم کی جاسکتی ہے؟

اگر یہ ٹیکنالوجیز 2039ء کی فہرست میں شامل ہوجائيں تو مجھے بہت خوشی ہوگی کیونکہ اس کا مطلب ہوگا کہ ہم بیماری کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہيں (اور ماحولیاتی تبدیلی کا بھی)۔ میرے خیال میں اس سے بہتر ترقی کچھ اور نہيں ہوسکتی۔ مجھے اپنی منتخب کردہ ہر ایک ٹیکنالوجی میں مستقبل کے لیے پرامید ہونے کی وجہ نظر آتی ہے اور مجھے امید ہے کہ آپ کو بھی نظر آئے گی۔

میرے انتخاب میں ایسے نئے ٹولز شامل ہیں جن سے ایک دن زندگیاں بچائی جاسکیں  گی، جن میں قبل از وقت پیدائش کی پیشگوئی کرنے والے خون کے ٹیسٹس سے لے کر جان لیوہ جراثیم کو تباہ کرنے والے ٹوائلٹس شامل ہیں۔ لیکن ساتھ ہی مجھے اس بات میں بھی دلچسپی ہے کہ اس فہرست میں شامل دوسری ٹیکنالوجیز سے آگے چل کر لوگوں کی زندگیاں کس طرح بہتر ہوں گی۔ کلائی پر باندھی جانے والی ای سی جی مشین کی طرح دوسرے ویئرایبل ہیلتھ کے مانیٹرز دل کے امراض کے شکار مریضوں کو مسائل کے متعلق مطلع کريں گے جبکہ دوسرے آلات کی مدد سے ذیابیطس کے شکار مریضوں کو گلوکوز کے لیولز پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے مرض کی نگرانی کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ ایڈوانسڈ جوہری ری ایکٹرز سے پوری دنیا کو کاربن سے پاک، محفوظ توانائی فراہم کی جاسکے گی۔

میری منتخب کردہ ایک ٹیکنالوجی میں آپ کو ایک ایسے مستقبل کی جھلک نظر آئے گی جس میں معاشرے کا بنیادی مقصد خود کی تکمیل ہے۔ ممکن ہے کہ ایک دن ایسا بھی آئے جب مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے پرسنل ایجنٹس آپ کے ای میل ان باکس کا بہتر انتظام کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔ آپ کو اس وقت تو اس کی اہمیت کا احساس نہيں ہوگا، لیکن یہ سوچیں کہ اگر آپ کے پاس زیادہ وقت ہوگا تو آپ کیا کیا کرسکيں گے۔

ای میل پڑھنے میں جو 30 منٹ لگتے ہیں، آپ ان کے ساتھ اور بھی کئی چیزيں کرسکتے ہيں۔ مجھے معلوم ہے کہ کئی لوگ اس آدھے گھنٹے میں اور بھی کام کريں گے لیکن ایسے بھی کئی لوگ ہیں جو اپنے دوستوں کے ساتھ گپیں ماریں گے، اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں گے، یا اپنی کمیونٹی کی خدمت کريں گے۔

میرا خیال ہے کہ  مجھےایسے مستقبل کی امید رکھنی چاہیے۔

تحریر: بل گیٹس     (Bill Gates)

2019ء کی دس دلچسپ ترین ٹیکنالوجیز

پھرتیلےروبوٹس

روبوٹس اپنے اطراف کی چیزوں کے ساتھ کام کرنا سیکھ رہے ہيں۔

ہم مشینوں کی وجہ سے ملازمت کے خاتمے کی بات تو کرتے ہیں، لیکن صنعتی روبوٹس ابھی  بھی بے ڈھنگےاورغیر لچکدار ہیں۔ روبوٹس ایک اسمبلی لائن سے انتہائی درستی کے ساتھ اور بور ہوئے بغیر چیزیں اٹھاسکتے ہیں، لیکن اگر آپ اس سلسلے میں تھوڑی سی بھی ردوبدل کرلیں تو ان کی سمجھ میں نہيں آئے گا کہ کیا کرنا ہے۔

اس وقت روبوٹس کو اس طرح سے پروگرام نہيں کیا جاسکتا کہ وہ انسانوں کی طرح کسی بھی چیز کو صرف دیکھ کر ہی پکڑنا سیکھ لیں۔ تاہم ان میں اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی صلاحیت ضرور پیدا ہوگئی ہے۔

ان میں سے ایک پراجیکٹ کا نام ڈیکٹل (Dactyl) ہے، جس نے خود کو اپنی انگلیوں میں بلڈنگ بلاکس کو پلٹانا سکھایا ہے۔ سان فرانسسکو میں واقع غیرمنافع بخش کمپنی اوپن اے آئی (OpenAI) کا یہ روبوٹ ایک پہلے سے تخلیق کردہ روبوٹ کے ہاتھ پر مشتمل ہے، جس کے گرد روشنیاں اور کیمرے لگائے گئے ہیں۔ ری انفورسمنٹ لرننگ (reinforcement learning) نامی ایک تکنیک کی مدد سے نیورل نیٹورک کا سافٹ ویئر ایک سیمولیٹڈ ماحول میں رہتے ہوئے بلاک کو پکڑنے اور گھمانے کی کوشش کرنے کے بعد ایک حقیقی ماحول میں یہ عمل دہرانے کی کوشش کرتا ہے۔ سافٹ ویئر پہلے بے ترتیب انداز میں تجربات کرتا ہے، لیکن جیسے جیسے وہ اپنے ہدف کی جانب بڑھتا ہے، وہ نیٹ ورک کے کنیکشنز کو مضبوط بنانا شروع کردیتا ہے۔

عام طور پر رگڑ اور زیراستعمال مختلف مواد کی متنوع خصوصیات کی وجہ سے اس قسم کی ورچول مشق کو حقیقی دنیا میں دہرانا ناممکن ہے۔ اوپن اے آئی کی ٹیم نے اس مسئلے کے حل کے لیے روبوٹ کو حقیقی دنیا کی بے قاعدگی سے متعارف کرنے کے لیے ورچول تربیت میں بھی بے ترتیبی کا عنصر شامل کیا۔

اس وقت روبوٹس کو کسی حقیقی گودام یا فیکٹری کے لیے درکار پھرتی پیدا کرنے میں مزيد پیش رفت کی ضرورت ہے۔ تاہم اگر محققین قابل اعتماد طریقے سے اس قسم کی تربیت کا استعمال کرنے میں کامیاب رہيں گے تو ممکن ہے کہ روبوٹس ہمارے آلات بنانا، ہمارے برتن دھونا، حتٰی  کہ ہمارے بڑوں کو چلنے پھرنے میں مدد کرنا سیکھ جائيں گے۔

تحریر: ول نائٹ   (Will Knight)

جوہری توانائی کی نئی لہر

اعلیٰ قسم کے فیوژن اور فشن ری ایکٹرز حقیقت کے زیادہ قریب ہوتے جا رہے ہیں۔

پچھلے سال کئی جوہری ڈیزائنز سامنے آئے ہیں جن کی وجہ سے جوہری توانائی زيادہ محفوظ اور کم قیمت ہوسکتی ہے۔ ان میں چوتھی نسل کے فشن ری ایکٹرز، جو روایتی ڈیزائنز کی ایک نئی شکل ہیں، چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز، اور فیوژن ری ایکٹرز شامل ہیں۔ چوتھے جنریشن کے فشن ڈیزائنز نے، جیسے کہ کینیڈا میں واقع ٹیریسٹریل انرجی (Terrestrial Energy) اور واشنگٹن میں واقع ٹیرا پاور (TerraPower)، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کرلیے ہیں۔ یہ کمپنیاں 2020ء کی دہائی تک گرڈ کے لیے بجلی فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ (تاہم ممکن ہے کہ ان کا یہ ہدف محض ایک خواب ثابت ہو)۔

چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز عام طور پر دس میگاواٹ توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں (اس کے برعکس روایتی جوہری ری ایکٹرز ایک ہزار میگا واٹ تک توانائی پیدا کرسکتے ہیں)۔ اوریگن میں واقع نیوسکیل (NuScale) جیسی کمپنیوں کے مطابق یہ چھوٹے ری ایکٹرز نہ صرف کم قیمت ثابت ہوتے ہیں بلکہ ماحولیاتی اور مالیاتی خطرات میں کمی کا بھی باعث بنتے ہيں۔

فیوژن کے شعبے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ اس کے نتائج 2030ء تک متوقع نہيں ہيں۔ تاہم جنرل فیوژن (General Fusion) اور ایم آئی ٹی سے نکلنے والے کامن ویلتھ فیوژن سسٹمز (Commonwealth Fusion Systems) جیسی کمپنیوں نے اس شعبے میں کافی کام کیا ہے۔ کئی لوگوں کے مطابق فیوژن محض ایک خواب ہے۔ تاہم یہ ری ایکٹرز پگھلنے سے قاصر ہیں اور اعلیٰ سطح کا فضلہ پیدا نہیں کرتے، لہٰذا ممکن ہے انہيں روایتی جوہری ری ایکٹرز کے مقابلے میں عوام کی طرف سے کم مزاحمت کا سامنا ہوگا۔ (بل گیٹس نے ٹیرا پاور اور کامن ویلتھ فیوژن سسٹمز دونوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔)

تحریر: لے فلپس  (Leigh Phillips)

بچوں کی قبل از وقت پیدائش کی پیشگوئی

خون کے معمولی سے ٹیسٹ سے قبل از وقت زچگی کے خطرے کی پیشگوئی کی جاسکتی ہے۔

ہمارا جینیاتی مواد اکثر ہمارے سیلز میں ہی موجود ہوتا ہے۔ تاہم اکثر ہمارے خون میں مرنے والے سیلز سے خارج شدہ ‘‘سیلز سے پاک’’ ڈی این اے اور آر این اے بھی پایا جاتا ہے۔ حاملہ خواتین میں یہ سیل سے پاک مواد ان کے نامولود بچے، آنول اور والدہ کے نیوکلیک ایسڈز پر مشتمل ہے۔

سٹینفورڈ یونیورسٹی کے بائیوانجنیئر سٹیفن کوئیک (Stephen Quake) نے یہ مواد استعمال کرتے ہوئے طبی شعبے کے بہت بڑے مسئلے، یعنی 10 فیصد بچوں کی قبل از وقت پیدائش کا حل کرنے کا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔

بغیر کسی پابندی کے تیرنے والے ڈی این اے اور آر این اے سے ایسی معلومات حاصل ہوسکتی ہیں  جس کے لیے ماضی میں سیل حاصل کرنے کے پیچیدہ طریقے استعمال کیے جاتے تھے، جن میں کسی ٹیومر کی بائیوپسی یا ایمنیوسینٹیسس کے لیے حاملہ عورت کے پیٹ میں سوراخ کرنا شامل تھے۔ اب خون میں موجود سیلز سے پاک جینیاتی مواد کی چھوٹی مقداروں کی نشاندہی سیکوینسنگ کی باعث اور بھی زیادہ آسان ہوگئی ہے۔ پچھلے چند سالوں میں محققین نے ڈاؤن سنڈروم جیسے امراض کی قبل از زچگی سکریننگ اور  ٹیومر کے سیلوں کے ڈی این اے کی نشاندہی سے فائدہ اٹھانے والے کینسر کے ٹیسٹس تیار کرنا شروع کردیے ہیں۔

ان امراض کے ٹیسٹس میں ڈی این اے میں جینیاتی تبدیلیاں تلاش کرکے نتائج فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، آر این اے سے جین کے اظہار، یعنی کسی جین سے تخلیق ہونے والے پروٹین کی مقدار کا تعین کیا جاتا ہے۔ کسی حاملہ عورت کے خون میں بغیر کسی پابندی کے تیرنے والے آر این اے کو سیکوینس کرکے کوئیک ایسے سات جینز کے اظہار میں اتار چڑھاؤ کی نشاندہی کرسکتے ہیں جو ان کے خیال میں قبل از وقت زچگی کی وجہ بنتے ہیں۔ اس طرح وہ ان خواتین کی نشاندہی کرسکتے ہیں جنہيں قبل از وقت زچگی کا خطرہ ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹروں کواطلاع دی جاسکتی ہے تاکہ قبل از وقت پیدائش کی روک تھام کرکے بچے کے زندہ رہنے کے امکانات میں اضافہ ممکن ہو۔

کوئیک کے مطابق خون کے اس ٹیسٹ میں جس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے، وہ نہ صرف آسان اور غیرپیچیدہ ہے، بلکہ انتہائی کم قیمت بھی ہے۔ اس وقت اس کی لاگت فی پیمائش دس ڈالر سے بھی کم ہے۔ کوئیک اور ان کے شرکاء نے اس ٹیکنالوجی کو تجارتی شکل دینے کے لیے ایکنا ڈی ایکس (Akna Dx) نامی سٹارٹ اپ کمپنی قائم کی ہے۔

تحریر: بوبی روک مین  (Bonnie Rochman)

ایک چھوٹی سی گولی سے آنتوں کا معائنہ

ایک چھوٹا سا آلہ، جسے آپ باآسانی نگل سکتے ہیں، بے ہوش کیے بغیر چھوٹے اور شیرخوار بچوں کی آنتوں کی تفصیلی تصاویر کھینچ سکتا ہے۔

اینوارنمنٹل اینٹرک ڈسفنکشن یا ای ای ڈی (Environmental enteric dysfunction - EED) ایک ایسی بیماری ہے جس کا آپ نے شاید نام بھی نہ سنا ہو، لیکن اس کا شمار دنیا کی مہنگی ترین بیماریوں میں ہوتا ہے۔ اس مرض کی نمایاں علامات میں آنتوں کے چھید اور غذائیت جذب کرنے کی صلاحیت میں کمی شامل ہیں۔ یہ بیماری غریب ممالک میں عام ہے اور لوگوں کو ناکافی غذا کی فراہمی، نشوونما میں تاخیر اور صحیح قد نہ بڑھنے کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ اب تک ای ای ڈی کی وجوہات اور اس کے علاج کے متعلق معلومات حاصل نہيں ہوسکی ہیں۔

طبی کارکنان کو ای ای ڈی کی قابل عمل سکریننگ کے ذریعے یہ متعین کرنے میں مدد ملے گی کہ مداخلت کب اور کیسے کرنی ہے۔ اس وقت شیرخوار بچوں کے لیے مختلف اقسام کی تھراپیاں موجود ہیں، لیکن اس عمر کے بچوں کی آنتوں کے امراض کا مطالعہ کرنے کے لیے انہيں اکثر بے ہوش کرکے ان کے گلے میں اینڈوسکوپ نامی نالی گزارنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ نیز، یہ طریقہ کار ان ممالک میں جہاں ای ای ڈی عام ہے، مہنگا، غیرآرام دہ اور مشکل ثابت ہوتا ہے۔

ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے بوسٹن میں واقع میساچوسٹس جنرل ہسپتال کے پیتھالوجسٹ اور انجنیئر گیولرمو ٹیئرنی (Guillermo Tearney) ایسے چھوٹے آلات بنانے کی کوشش کررہے ہیں جن کی مدد سے آنتوں میں ای ای ڈی کی علامات کی نشاندہی کے علاوہ ٹشو کی بائیوپسی ممکن ہے۔ اینڈوسکوپس کے برعکس، ان آلات کو بنیادی نگہداشت کے دوران باآسانی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ٹیئرنی کی ان گولیوں میں چھوٹے مائیکروسکوپس نصب ہیں جنہيں ایک لچک دار ڈوری کے ساتھ باندھا گیا ہے۔ یہ ڈوری توانائی اور روشنی فراہم کرتے ہوئے تصویریں کھینچ کر ایک مانیٹر سے منسلک بریف کیس کی شکل کے کنسول کو بھیجتی ہے۔ اس طرح ہیلتھ کیئر کارکن اس گولی کو روک کر نتائج کا معائنہ کرسکتے ہيں، اور ضرورت ختم ہوتے ہی اسے نکال کر دوبارہ استعمال کرسکتے ہيں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کو یہ سن کے قے آئے لیکن ٹیئرنی کی ٹیم کے مطابق انہوں نے ایک ایسا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے جس سے کسی قسم کی بے آرامی نہيں ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ گولی ایسی ٹیکنالوجیز کے لیے بھی معاون ثابت ہوگی جو ایک سیل کے ریزولوشن پر انہضام کی نالی کی پوری سطح کی یا چند ملی میٹرز کی گہرائی رکھنے والے تھری ڈائمنشنل کراس سکینز کی تصویر کھینچیں گے۔

اس ٹیکنالوجی کو کئی مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ میساچوسیٹس ہسپتال میں اسے بیریٹس ایسوفگس (Barrett's esophagus) کی سکریننگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو آگے چل کر سانس کی نالی کے کینسر کا سبب بنتی ہے۔ ای ای ڈی کی نشاندہی کے لیے ٹیئرنی کی ٹیم نے ان شیرخوار بچوں کے لیے مزید چھوٹی گولی ایجاد کی ہے جو گولی نگلنے سے قاصر ہیں۔ اس گولی کی پاکستان میں نوجوانوں پر ٹیسٹنگ کی جاچکی ہے، جہاں ای ای ڈی بہت عام ہے، اور 2019ء تک شیرخوار بچوں پر ٹیسٹنگ متوقع ہے۔

یہ چھوٹی سی گولی ای ای ڈی کی پیش رفت کے متعلق متاثرہ سیلز اور بیکٹیریا کے کردار جیسے کئی سوالات کے جوابات حاصل کرنے اور مداخلتیں اور ممکنہ علاج کا تخمینہ کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔

تحریر: کورٹنی ہمفریز (Courtney Humphries)

کینسر کے لیے ذاتی ٹیکے

اس علاج سے جسم کے قدرتی دفاعی نظام ہر ٹیومر کی منفرد تبدیلیوں کی نشاندہی کرکے صرف کینسر زدہ سیلز تباہ کریں گے۔

سائنسدان دنیا کے سب سے پہلے کینسر کے ٹیکے کو تجارتی شکل دینے کی کوششیں کررہے ہيں۔ یہ ٹیکے ہر ٹیومر کی منفرد تبدیلیوں کی بنیاد پر مدافعاتی نظام کو کینسر کی نشاندہی کرنے میں معاونت فراہم کريں گے، اور توقعات پر پورا اترنے کی صورت میں یہ ٹیکے کئی اقسام کے کینسز کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ثابت ہوں گے۔

یہ ٹیکے ٹیومر کے سیلز کے خاتمے کے لیے جسم کے قدرتی نظام مدافعت کا استعمال کرتے ہیں اور کیموتھراپی کے برعکس صحت مند سیلز کو نقصان نہيں پہنچاتے ہیں۔ ابتدائی علاج کے بعد حملہ آور مدافعتی سیلز بھی بھٹکے ہوئے کینسر سیلز کی نشاندہی کرنے کی کوشش کرسکتے ہيں۔

ان ٹیکوں کی بنیاد انسانی جینوم پراجیکٹ کے خاتمے کے پانچ سال بعد 2008ء میں اس وقت رکھی گئی جب جینیاتی ماہرین نے پہلے کینسرزدہ ٹیومر سیل کا پہلا سیکوینس شائع کیا۔

اس کے کچھ عرصے بعد محققین نے ٹیومر سیلز کے ڈی این اے کا صحت مند سیلز اور دوسرے ٹیومر سیلز کے ڈی این اے کے ساتھ موازنہ کرنا شروع کیا۔ ان کی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ کینسر کے تمام سیلز میں سینکڑوں قسم کی مخصوص تبدیلیاں موجود ہيں اور ہر ٹیومر کی اپنی مخصوص تبدیلی ہے۔

چند سال بعد بائیو این ٹیک (BioNTech) نامی جرمن سٹارٹ اپ کمپنی نے اس بات کا ٹھوس ثبوت پیش کیا کہ اگر ایک ایسا ٹیکہ ایجاد کیا جائے جس میں ان تبدیلیوں کی نقول شامل ہوں، تو جسم کے مدافعاتی نظام کے لیے تمام تبدیل شدہ کینسر سیلز تلاش کرکے ان سیلز کو تباہ کرنے والے ٹی سیلز پیدا کرنا زیادہ آسان ہوگا۔

دسمبر 2017ء میں بائیواین ٹیک نے جینن ٹیک (Genentech) نامی بائیوٹیک کمپنی کے ساتھ وسیع پیمانے پر کینسر کے شکار افراد میں اس ٹیکے کی ٹیسٹنگ شروع کی۔ ان ٹیسٹس میں 10 قسم کے کینسرز کو نشانہ بنایا جائے گا اور دنیا بھر میں 560 سے زیادہ مریضوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

یہ دو کمپنیاں تخلیق کاری کے ایسے طریقے ڈھونڈنے کی کوشش کررہی ہیں جن کی مدد سے ہزاروں کسٹمائزڈ ٹیکے بہت کم وقت میں اور بہت کم لاگت میں بنائے جاسکیں۔ تاہم یہ ٹیکہ تیار کرنے کے لیے مریض کے ٹیومر کی بائیوپسی کرنے، اس کے ڈی این اے کی سیکونسنگ اور تجزیہ کرنے، اور تخلیق کاری کے سائٹ تک یہ معلومات پہنچانے کی ضرورت ہوگی، جس کی وجہ سے پورا عمل بہت پیچیدہ ثابت ہوسکتا ہے۔ نیز، ٹیکہ تیار ہونے کے بعد اسے فوری طور پر ہسپتال پہنچانے کی ضرورت ہے، کیونکہ کسی بھی قسم کی تاخیر جان لیوہ ثابت ہوسکتی ہے۔

تحریر: ایڈم پیور (Adam Piore)

ایسا برگر جس میں گائے کے گوشت کا استعمال نہیں کیا گيا ہے

لیب میں اگنے والے اور پودوں کی مدد سے تخلیق کردہ گوشت ماحولیاتی تباہی کے بغیر حقیقی گوشت کا ذائقہ اور غذائی فوائد پیش کرتے ہيں۔

اقوام متحدہ کے ایک تخمینے کے مطابق 2050ء تک انسانوں کی تعداد 9.8 ارب تک پہنچ جائے گی اور ان کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔ عام طور پر جب غربت میں کمی ہوتی ہے تو گوشت کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے نقطہ نظر سے یہ دونوں رجحان بہت نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

پیشگوئیوں کے مطابق اس تاریخ تک انسانوں کے گوشت کے استعمال میں 2005ء کے مقابلے میں 70 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس وقت انسانی استعمال کے لیے جانوروں کو پروان چڑھانے کا شمار ماحول کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے اقدام میں ہوتا ہے۔

مغربی صنعتی طریقہ کار استعمال کرکے ایک پونڈ گوشت کے پروٹین کی پیداوار میں پودوں کے پروٹین کی پیداوار کے مقابلے میں 4 سے 25 گنا زیادہ پانی، 6 سے 17 گنا زيادہ زمین، اور 6 سے 20 گنا زیادہ حیاتیاتی ایندھن کا استعمال ہوتا ہے۔

تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مستقبل قریب میں گوشت کے استعمال میں کمی نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لیب میں تخلیق کردہ اور پودوں کا استعمال کرنے والا گوشت ماحولیاتی تباہی کو محدود کرنے کا بہترین طریقہ ثابت ہوسکتا ہے۔

لیب میں گوشت تخلیق کرنے کے لیے جانوروں کے پٹھے کے ٹشو حاصل کرکے انہیں بائیو ری ایکٹر میں بڑا کیا جاتا ہے۔ اس طرح حاصل کردہ گوشت جانور سے حاصل کردہ گوشت کی ہی طرح دکھتا ہے۔ تاہم اس وقت اس کا ذائقہ بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہيں۔ نیدرلینڈز میں ماسٹرکٹ یونیورسٹی (Maastricht University) سے تعلق رکھنے والے محققین اس گوشت کو وسیع پیمانے پر تخلیق کرنے کی کوششیں کررہے ہيں اور ان کے مطابق اگلے سال تک وہ برگر بنانے میں بھی کامیاب ہوجائيں گے۔ لیب میں تخلیق کردہ گوشت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس طریقے کے ماحولیاتی فوائد اب تک ثابت نہيں ہوپائے ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق لیب میں تخلیق کردہ گوشت کے پیدا کردہ اخراجات گائے کے گوشت کی پیداوار سے صرف 7 فیصد کم ہیں۔

اس کے مقابلے میں بیونڈ میٹ (Beyond Meat) اور امپوسبل فوڈز (Impossible Foods) جیسی کمپنیوں کے پودوں سے تیار کردہ گوشت سے ماحول کو زيادہ فائدہ ہوگا۔ (بل گیٹس نے ان دونوں کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ہے)۔ یہ کمپنیاں مٹر سے حاصل کردہ پروٹین، سوئے، گندم، آلو، اور پودوں سے حاصل کردہ تیل کی مدد سے جانوروں کے گوشت کی ساخت اور ذائقے کی نقل کرنے کی کوشش کررہی ہيں۔

بیونڈ میٹ نے کیلیفورنیا میں 26 ہزار مربع فٹ (2,400 مربع میٹر) کے رقبے پر پھیلا پلانٹ قائم کیا ہے اور وہ 30 ہزار دکانوں اور ریستوراں کے ذریعے 2.5 کروڑ سے زیادہ برگر فروخت کرچکے ہیں۔ یونیورسٹی آف مشیگن کے سینٹر آف سسٹین ایبل سسٹمز (Center for Sustainable Systems) کے ایک تجزیے کے مطابق، بیونڈ میٹ کے پیٹیس (patties) کے گرین ہاؤس گیس کے اخراجات گائے کو گوشت سے بنائے گئے برگر سے 90 فیصد کم ہوں گے۔

تحریر: مارکس رویٹو (Markkus Rovito)

کاربن ڈائی آکسائيڈ کے اخراجات میں کمی کرنے کے طریقے

ہوا سے کاربن ڈائی آکسائيڈ حاصل کرنے کے قابل عمل اور کم قیمت طریقے اضافی گرین ہاؤس گیس کے اخراجات میں کمی کی وجہ بن سکتے ہيں۔

اگر ہم کاربن ڈائی آکسائيڈ کے اخراجات میں کمی لانے میں کامیاب  ہوبھی جائيں تو اس گیس کی گرمی ہزاروں سال تک قائم رہے گی۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پینل کے مطابق درجہ حرارت میں خطرناک اضافے کی روک تھام کے لیے اس صدی کے اندر اندر کرہ ہوا سے ایک کھرب ٹن کاربن ڈائی آکسائيڈ کم کرنے کی ضرورت ہے۔

پچھلے سال ہارورڈ یونیورسٹی کے ماحولیاتی سائنسدان ڈیوڈ کیتھ (David Keith) نے حساب لگایا کہ ڈائریکٹ ایئر کیپچر (direct air capture) نامی طریقے کی مدد سے اس ہدف کا حصول ممکن ہے، اور اس کی لاگت فی ٹن سو  ڈالر سے بھی کم ثابت ہوگی۔ ماضی میں کئی سائنسدانوں نے یہ کوشش اس وجہ سے ترک کردی تھی کیونکہ ان کے خیال میں یہ ٹیکنالوجی بہت مہنگی ثابت ہورہی تھی۔ کیتھ کا تجویز کردہ طریقہ ان کے تخمینوں سے کئی گنا کم قیمت ثابت ہوگا۔ تاہم اس قدر کم لاگت سے فائدہ اٹھانے میں بھی کئی سال لگیں گے۔

اس کے علاوہ کاربن حاصل کرنے کے بعد آپ کو اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا۔

کیتھ کی 2009ء میں کینیڈا میں قائم کردہ کمپنی کاربن انجنیئرنگ (Carbon Engineering) اپنے پائلٹ پلانٹ کا پیمانہ وسیع کرکے اس حاصل کردہ کاربن ڈائی آکسائيڈ کی مدد سے اپنے مصنوعی ایندھن کی پیداوار میں اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ (بل گیٹس نے کاربن انجنیئرنگ میں سرمایہ کاری کی ہے۔)

اسی طرح زیورخ میں قائم کردہ کمپنی کلائم ورکس (Climeworks) کا اٹلی میں واقع ڈائریکٹ ایئر کیپچر کا پلانٹ حاصل کردہ کاربن ڈائی آکسائيڈ اور ہائیڈروجن کی مدد سے میتھین تخلیق کرے گا، جبکہ سویٹزرلینڈ میں قائم کردہ دوسرا پلانٹ سافٹ ڈرنکس بنانے والی کمپنیوں کو کاربن ڈائی آکسائيڈ فراہم کرے گا۔ نیو یارک میں قائم کردہ کمپنی گلوبل تھرموسٹیٹ (Global Thermostat) کا، جس کا الاباما میں واقع پہلا کمرشل پلانٹ پچھلے سال ہی مکمل ہوا ہے، بھی کچھ اسی قسم کا ارادہ ہے۔

تاہم اگر اس کاربن ڈائی آکسائيڈ کو مصنوعی ایندھن یا سافٹ ڈرنکس میں استعمال کیا جائے گا تو وہ کبھی نہ کبھی دوبارہ کرہ ہوا میں دوبارہ خارج بھی ہوگی۔ اصل مقصد گرین ہاؤس گیسز کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہنا ہے۔ انہيں کچھ حد تک کاربن فائبر، پولیمرز، یا کنکریٹ میں استعمال کیا جاسکتا ہے، لیکن زیادہ تر گیسوں کو زمین میں دفن کرنا ہوگا۔ یہ کام بہت مہنگا ثابت ہوگا اور ممکن ہے کہ کوئی بھی کاروبار یہ کام کرنے کے لیے آمادہ نہ ہو۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ہوا سے کاربن ڈائی آکسائيڈ کا حصول انجنیئرنگ کے شعبے کے نقطہ نظر سے ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنےکے مہنگے ترین طریقوں میں سے ایک ہے۔ تاہم گیسوں کے اخراج میں کمی میں سست روی کے مدنظر، ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہيں ہے۔

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

آپ کی کلائی پر ای سی جی

ضابطہ کار حکام کی منظوری اور ٹیکنالوجی کی پیش رفت کی وجہ سے لوگوں کے لیے ویئرایبل آلات کی مدد سے دل کی دھڑکن کی مسلسل نگرانی کرنا اور بھی زیادہ آسان ہوگیا ہے۔

فٹنس ٹریکرز کو طبی آلات تصور نہيں کیا جاسکتا۔ کٹھن ورزش کرنے یا بینڈ ڈھیلا ہونے کی وجہ سے آپ کی نبض پڑھنے والے سینسرز سے غلط نتائج بھی سامنے آسکتے ہیں۔ تاہم ہسپتال میں استعمال ہونے والے الیکٹروکارڈیوگرام کے لیے، جس کی مدد سے سٹروک یا دل کا دورہ پڑنے سے پہلے دل کی دھڑکن کی بے قاعدگی کی نشاندہی ممکن ہے، کلینک جانے کی ضرورت پڑتی ہے اور کئی لوگ وقت پر ٹیسٹ نہيں کرواتے ہيں۔

اب ہارڈویئر اور سافٹ ویئر میں جدت اور نئے ضوابط کی وجہ سے ای سی جی سے آراستہ سمارٹ واچز سامنے آئی ہیں جن میں ویئرایبل آلے کی سہولت کے ساتھ طبی آلے کی درستی بھی شامل ہے۔

سیلیکون ویلی کی سٹارٹ اپ کمپنی الائيوکور (AliveCor) نے ایپل واچ سے مطابقت رکھنا والا بینڈ ایجاد کیا ہے جو خون جمنے اور سٹروک کی وجہ بننے والے ایٹریل فبریلیشن (atrial fibrillation) کی نشاندہی کرسکتا ہے۔ اس بینڈ کو 2017ء میں ایف ڈی اے کی طرف سے منظوری حاصل ہوچکی ہے۔ پچھلے سال ایپل نے اپنی گھڑی میں نصب ایف ڈی اے سے منظور شدہ ای سی جی کا فیچر متعارف کیا تھا۔

اس کے کچھ عرصے بعد صحت کے آلات بنانے والی کمپنی وتھنگز (Withings) نے بھی ای سی جی سے آراستہ گھڑی متعارف کرنے کا اعلان کرڈالا۔

موجودہ ویئرایبل آلات میں صرف ایک ہی سینسر کا استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ ای سی جی میں 12 سینسر نصب کیے جاتے ہیں۔ نیز، اب تک کسی بھی ویئرایبل آلے میں دل کے دورے کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت موجود نہيں ہے۔

یہ صورتحال جلد ہی تبدیل ہونے والی ہے۔ پچھلے سال الائيوکور نے امریکی ہارٹ ایسوسیشن (American Heart Association) کو ایک ایپ اور دو سینسر پر مشتمل سسٹم کے ابتدائی نتائج پیش کیے تھے جس کی مدد سے ایک مخصوص قسم کے دل کے دورے کی نشاندہی ممکن ہے۔

تحریر: کیرن ہاؤ (Karen Hao)

گندے پانی کے نالوں کے بغیر حفظان صحت کی ضمانت

موثر طور پر توانائی استعمال کرنے والے یہ ٹوائلٹس گندے پانی کے نظام کے بغیر فضلے کا فوری ٹریٹمنٹ کرسکتے ہيں۔

اس وقت تقریباً 2.3 ارب افراد کے پاس حفظان صحت کے نظام تک رسائی نہيں ہے، جس کی وجہ سے لوگ قریبی تالابوں کا استعمال کرتے ہیں، جس سے پیچش اور حیضہ کی وجہ بننے والے بیکٹیریا، وائرسز اور پیراسائٹس پھیلتے ہیں۔ دنیا بھر میں ایک میں سے نو بچے پیچش کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہيں۔

اب محققین ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک ایسا کم قیمت ٹوائلٹ بنانے کی کوشش کررہے ہیں جو نہ صرف فضلے کی نکاسی کرسکتا ہے بلکہ اسے ٹریٹ بھی کرسکتا ہے۔

2011ء میں بل گیٹس  نے ٹوائلٹ کی تبدیلی کا چیلنج متعارف کرایا تھا، اور اب تک کئی ٹیموں نے اپنے پروٹوٹائپس پیش کیے ہیں۔ یہ تمام پروٹواٹائپ فضلے کو مقامی طور پر ٹریٹ کرتے ہيں، جس کی وجہ سے اسے دور دراز ٹریٹمنٹ پلانٹ تک لے جانے کے لیے درکار پانی کی بھی بچت ممکن ہے۔

ان میں سے زیادہ تر پروٹائپ چھوٹی عمارتوں یا کنٹینرز میں موجود روایتی ٹوائلٹس ہی کی طرح دکھتے ہيں۔ تاہم وہ تمام کام خود سرانجام دیتے ہيں اوران کے لیے گندے نالوں کی ضرورت نہيں پیش آتی ہے۔ یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا میں تیار کردہ نیوجینریٹر ٹوائلٹ (NEWgenerator toilet) بیکٹیریا اور وائرس سے چھوٹے سوراخ رکھنے والی جھلی کی مدد سے آلودہ کرنے والے مواد کی فلٹریشن کرتا ہے۔ اسی طرح کنکٹیکٹ میں واقع بائیو ماس کنٹرول (Biomass Controls) نامی ایک پراجیکٹ، جو ایک جہاز رانی کے کنٹینر کے سائز کی ایک ر یفائنری ہے، فضلے کو گرم کرکے کاربن سے بھرپور مواد پیدا کرتا ہے، جسے مٹی کو ذرخیز کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ٹوائلٹس ہر پیمانے پر کام کرنے سے قاصر ہیں۔ مثال کے طور پر بائیوماس کنٹرولز یومیہ کئی ہزار صارفین کے لیے تیار کیے گئے جو چھوٹے گاؤں کے لیے بہت زيادہ ہے۔ اسی طرح، ڈیوک یونیورسٹی میں تیار کردہ ایک اور سسٹم صرف چند گھروں میں استعمال کیا جاسکتا ہے جن کے درمیان زیادہ فاصلہ نہ ہو۔

اب سوال یہ ہے کہ ان ٹوائلٹس کو زيادہ کم قیمت اور مختلف کمیونٹیز کے لیے کس طرح قابل استعمال بنایا جاسکتا ہے؟ نیو جینریٹر کی ٹیم کی سربراہی کرنے والے یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا کے ایسوسیٹ پروفیسر ڈینیل یے (Daniel Yeh) کہتے ہیں ‘‘ایک یا دو یونٹس بنانا بہت اچھی بات ہے، لیکن پوری دنیا کو فائدہ پہنچانے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ زيادہ وسیع پیمانے پر تخلیق کاری کی جائے۔’’

تحریر: ایرن ونک (Erin Winick)

زیادہ روانی سے بات کرنے والے مصنوعی ذہانت کے اسسٹنٹس

الفاظ کے درمیان معنوی تعلقات پہچاننے میں معاونت فراہم کرنے والے طریقوں سے مشینوں کی قدرتی زبان سمجھنے کی صلاحیت بہتر ہورہی ہے۔

ہمیں موسیقی چلانے والے الیکسا یا اپنے فون پر الارم لگانے والے سری جیسے مصنوعی ذہانت کے اسسٹنٹس کی عادت ہوچکی ہے، لیکن یہ اسسٹنٹس ہماری توقعات پر پوری نہيں اترے ہیں۔ ان کا مقصد ہماری زندگیوں میں آسانی پیدا کرنا تھا، لیکن ان سے ہمیں زيادہ فائدہ نہيں ہوا ہے۔ یہ اسسٹنٹس صرف محدود ہدایات سمجھتے ہیں اور ہدایات تبدیل ہونے کی صورت میں مکمل طور پر بوکھلا جاتے ہيں۔

تاہم اب آپ کے ڈیجٹل اسسٹنٹ کی صلاحیتوں میں اضافہ ہونے والا ہے۔ جون 2018ء میں اوپن اے آئی کے محققین نے ایک ایسی تکنیک ایجاد کی ہے جو غیرلیبل شدہ ٹیکسٹ کو دستی طور پر زمرہ بند اور ٹیگ کرنے کے اخراجات اور وقت کی بچت کے لیے مصنوعی ذہانت کو اس ٹیسٹ پر تربیت فراہم کرتی ہے۔ چند مہینے بعد گوگل کی ایک ٹیم نے برٹ (BERT) نامی سسٹم متعارف کیا جس نے کئی لاکھ جملوں کے مطالعے کے بعد عدم موجود الفاظ کی پیشگوئی کرنا سیکھا تھا۔ ایک امتحان میں اس مشین نے انسانوں جیسی ہی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

ان بہتریوں اور سپیچ کی بہتر سنتھیسس کی وجہ سے اب آپ مصنوعی ذہانت کو محض ہدایات دینے کے بجائے ان سے باتیں بھی کرسکیں گے۔ اس کے علاوہ، وہ میٹنگ کے نوٹس لکھنے، معلومات تلاش کرنے اور آن لائن خریداری جیسے کاموں میں ہماری مدد بھی کرسکیں گے۔

ایسے کچھ اسسٹنٹس ایجاد ہوچکے ہیں۔ گوگل اسسٹنٹ کی انسان نما اپ گریڈ گوگل ڈوپلیکس (Duplex) ایپ آپ کی کالوں کا جواب دے کر سپیم اور ٹیلی مارکیٹرز کو فلٹر کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ، وہ رستوران یا پارلر کی اپوائنٹمنٹس بھی لے سکتی ہے۔

اس طرح چین میں علی بابا کا اسسٹنٹ علی می (AliMe) بھی کافی مقبول ثابت ہورہا ہے جو بذریعہ فون نہ صرف پیکیجز کی ڈیلوری حاصل کرسکتا ہے بلکہ آپ کے سامان کی قیمتوں کے سلسلے میں مذاکرات بھی کرسکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے پروگرامز آپ کی خواہشات کو بہتر طور پر سمجھ تو سکتے ہیں لیکن اب تک پورا جملہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ انہیں اعداد و شمار کی مدد سے پہلے سے تیار شدہ سطریں فراہم کی جاتی ہيں، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مشینوں کو زبان کی حقیقی سمجھ بوجھ فراہم کرنا کس قدرمشکل ہے۔ یہ مسئلہ حل کرنے کے بعد ممکن ہے کہ ہمیں ایک نئی ارتقاء نظر آئے، اور یہ مشینیں محض ہماری مدد کرنے کے بجائے ہمارے ساتھ گہرے ذاتی تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوجائيں۔

تحریر: کیرن ہاؤ (Karen Hao)

Read in English

Authors
Top