Global Editions

مشین لرننگ میں ایک نئی جہت کا اضافہ

کس طرح بے یقینی، مشین کو بہتر طریقے سے بات چیت کرنے لئے مدد کر سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے اسٹارٹ اپ گیمالون (Gamalon) نے ہمارے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے چیٹ بوٹس اور مجازی معاونوں کا ایک نیا طریقہ وضع کیا۔

مصنوعی ذہانت میں ایک نئی اپروچ نے مشین لرننگ میںبے یقینی اورابہام کو کم کیا ہے جس کے نتیجے میں مستقبل میں ورچوئل معاونین کو کم الجھن ہوگی۔
کیمبرج، میسا چوسٹس سے تعلق رکھنے والے ایک مصنوعی ذہانت کےسٹارٹ اپ گیمالون (Gamalon) مشینوں کو زبان سکھانے اور بہت سارے کاموں کے لئے ایک نئی تکنیک تیار کی۔ اب وہ مشینوں کے لئےمزید چیٹ بوٹ کےپلیٹ فارم کے استعمال پر ٹیسٹ کر رہے ہیں۔

یہ اپروچ ایک کمپیوٹر کو گفتگو میں الفاظ کے ایک سے زیادہ معنی سے نمٹنے کے لئے ایک ذریعہ فراہم کرکےزیادہ بامقصد اور معقول بات چیت کی اجازت دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص کوئی مبہم بات کرتا یا ٹائپ کرتا ہےتوسسٹم اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ اس بات کے ممکنہ معنی کیا ہونگے۔

سوالات کا جواب دینے کے لئے آج کے مجازی معاون اور چیٹ بوٹس عام طور پر سادہ قواعد پر عمل کرتے ہیں۔ حالیہ پیش رفتوں میںمشینوں میں شماریات سیکھنے کی وجہ سے کچھ بہتری آئی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک مشین کو ایک بڑی تعداد میں ٹیکسٹ سے سوال کا جواب ڈھونڈنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم یہ دونوں اپروچز زبان میں سے الفاظ کے معنی اخذ کرنے کے حوالے سےوسیع پیمانے پر پیچیدگی اور ابہام کا شکار ہو تے ہیں۔

گیمالون کے بانی اور سی ای او بن ویگوڈا(Ben Vigoda)نے ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کو بتایا کہ ان کی کمپنی بھی قوائد اور مشین لرننگ پر انحصار کرتی ہے، لیکن یہ پروگرام میں امکانی تکنیک کا اضافہ کرتا ہے جوالفاظ کے ممکنہ معنی کے امکانات کو خود کار طریقےسےکنٹرول کرتے ہیں۔  عملی طور پر، اس کا مطلب یہ ہے کہ کہنے والے کے الفاظ کا بہتر طریقے سے اندازہ لگاکرسسٹم بے یقینی سےنمٹ سکتا ہے۔ یہ تکنیک گفتگو کی میموری بھی فراہم کرتی ہے: آپ پوچھ سکتے ہیں "کل کے بارے میں کیا؟"۔اس سے پہلے پوچھ سکتے ہیں کہ آج کا موسم کیسا ہے۔

گیمالون کے بانی ویگوڈا کا کہنا ہے کہ یہ اپروچ مشین کو اجازت دیتی ہے کہ وہ ایک چھوٹے سے ڈیٹا سے سیکھیںاور غلطیوں کی شرح کم کرتی ہے۔ یہ اپروچ یہ بھی دکھا سکتی ہے کہ مشین نے اس طرح کا جواب کیوں دیا تھا۔ ویگوڈا کا کہنا ہے ، "زبان واقعی فیصلےکے درخت کی طرح نہیں ہے۔ "یہ ایک شخص کی طرح ہونے کے لئے کوشش کر رہی ہے۔"

گیمالون نے ایک انٹرفیس بھی بنایا ہےجو کہ عام صارفین کو سسٹم کے ساتھ بات چیت کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ وہ بات چیت کی وضاحت کے لئے آپشن ٹری کے ذریعے طاقتور چیٹ بوٹ بنا سکتے ہیں۔اس طرح وہ سسٹم کو مختلف پیرائے میں ہوئی گفتگو کو سمجھنے کی اجازت دیتے ہیں۔ فی الحال کئی کمپنیاں اس ٹیکنالوجی پرٹیسٹ کر رہی ہیں۔

مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے درمیان گیمالون غیر معمولی ہے کیونکہ یہ مشینوں کومفید کاموں کو سر انجام دینے کے لئے تربیت فراہم کر رہی ہے۔ تاہم، ماہرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کا یقین ہے کہ اہم پیش رفت کو حاصل کرنے کے لئے نئی تکنیکوں کی ضرورت ہوسکتی ہے ۔

قدرتی زبان کی پروسیسنگ میں نئی پیش رفت کوئی بڑا تجارتی اور عملی اثر ڈال سکتی ہیں۔ الیکسا یا سیری جیسے وائس معاونین کمپیوٹر کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے بہت آسان نیا راستہ پیش کرتے ہیں لیکن وہ زبان کےاستعمال میں بہت محدود ہیں۔ جب تک آپ احتیاط سے بات نہیں کرتے، صوتی معاونین اور چیٹ بوٹس کے استعمال کا تجربہ غصہ دلا سکتا ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ڈیوڈ بللی(David Blei) کہتے ہیں کہ گیمالون کی اپروچ مشین لرننگ میں کئی اہم ابھرنے والے تھیم اکٹھے کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نظام کومیل جول والا اور قابل وضاحت بناناخاصا دلچسپ کام ہے۔ انہوں نے کہا ، "انٹرایکٹو مشین لرننگ انسانوں کو لوپ میں لانے کے بارے میں ہے۔" "یہ ذہانت کے تصور کو سمجھنے کے لئےایک بہت ہی حقیقت پسندانہ طریقہ ہے۔"

تحریر:ول نائٹ (Will Knight)

Read in English

Authors
Top