Global Editions

روبوٹ کوسکریو سکھانے کی تربیت

جب بات سکریو کو ڈھیلا او مضبوط کرنے کی آتی ہے تو انسان مشینوں سے آگے نکل جاتے ہیں ۔ مینوفیکچرنگ اور ری سائیکلنگ کا مستقبل اس چیز کو بدلنے پر منحصر ہے۔

ٹیکنالوجی کے اس دور میں جس سے ہمارا جدید معاشرے ممکن ہوا ہے، جس چیز کی سب سے کم تعریف اور جس چیز کو سب سے زیادہ نظرانداز کیا جاتا ہے، وہ سکریو ہے۔ یہ ٹیکنالوجی صنعتی انقلاب کے وقت آئی جب بڑے پیمانے پر یہ آلات بنائے گئے۔

آج ان آلات نے حقیقی طور پر دنیا کو جوڑا ہوا ہے۔ ہمارا 21 ویں صدی کا طرز زندگی ان کے بغیر ممکن نہیں ہے اور یہ ممکنہ طور پر ہمارے مستقبل کے لئے ناگزیر ہیں۔

پھر بھی ایسی دنیا میں جہاں مینوفیکچرنگ کی تکنیک تیزی سے بڑھ رہی ہیں، وہاں ایک مسئلہ ہے۔ چیزوں کو سکریو کرنے اور ڈھیلاکرنا ایک ایسا عمل ہے جہاں انسان مشینوں سےآگے ہیں۔ روبوٹ کے آلات کو پیچوں اور ان کے ساکٹوں کو تلاش کرنے میں مشکل پیش آتی ہےاور پھر اس سے نمٹنے والے پیچ اور سکریو کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے میں۔ ماسکو میں سکوکولوو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اور ٹیکنالوجی میں ڈیما میرونانوف( Dima Mironov)ا ور اس کے ساتھی مستقبل کی سمارٹ فیکٹریوں کوخود کار طریقے سے چلانا چاہتے ہیں۔

ان کا منصوبہ آسان ہے۔ ہاپیککس کا استعمال کرتے ہوئے جو کہ رابطے کے احساس کا مطالعہ ہے، میروننوف اور اس کے ساتھی اس بات کو سمجھنا چاہتے ہیں کہ انسان ان کاموں کو کس طرح سرانجام دیتے ہیں اور پھر روبوٹ بناتے ہیں جو وہی ٹکنیک استعمال کرتے ہیں۔ اور ان کے کام نے سکریو کرنے کے بنیادی قانون کو سمجھ لیا ہے۔

انسان کسی چیز کو سکریو کرنے اور واپس لانے کے لئے دو مختلف قسم کی طاقتوں کا استعمال کرتے ہیں۔

وہ سب سے پہلے سکریو کو ساکٹ میں دھکیلنے کے لئے ایک دباؤ یا محوری قوت کو لاگو کرتے ہیں۔ وہ سکرو کو تبدیل کرنے کے لئے موڑنے والی طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔ مطلوبہ طاقت سکریو اور ساکٹ کے مواد کے درمیان رگڑ پر منحصر ہے، اور یہ دھاگے کی حالت پر بھی منحصر ہے۔

سکریو کرنے میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ سکریو کرتے وقت باہر کیسا نکلا جائے۔اس چیز سے بچنے کے سکریو کرنے والا اپنی گرفت کم کر دیتا ہے اور سکریو پھسل جاتا ہے۔ میرونانوف اوراس کے ساتھی اس چیز میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ انسان سکریو کو پھسل جانے سے کیسے بچ نکلتے ہیں۔

اس چیز کی تحقیق کرنے کے لئےمیرونانوف کی ٹیم نےایک آلہ تیار کیا جو دونوںمحوری قوت اور ٹارک سمت میں 0.1 نٹٹ سے کم اور 0.003 نیوٹن میٹر سے زیادہ کی پیمائش کر تا ہے۔

نہوں نے پھر10 مردوں اور عورتوں کو بار بار ایک چھوٹے سکریو ڈرائیو کرنے کے لئے کہا جو کہ سمارٹ فون کی اسمبلی میں استعمال ہو تا ہے اورتین ملی ملی میٹر کی ساکٹ میں فکس ہوتا ہے۔ سکریو کے اوپر فلپس کاسر یا ہیس کا سر ہوتا ہے۔ اس کے بعد ٹیم نے استعمال ہونیوالی طاقتوں کی پیمائش کی۔

یہ پتہ چلتا ہے انسان کامیاب سکریو اور اسے واپس کھولنے کے لئے ایک محیط قوت استعمال کرتاہے جو ٹارک کے متناسب ہوتی ہے۔ سکریو کرنے کے دوران، یہ قوت ڈرائیو کے اختتام میں زیادہ سے زیادہ حد تک پہنچ جا تی ہے اور یہ پیٹرن سکریو ختم کرنے کے بعد واپس آجاتا ہے۔

ان قوتوں کے لئے ایک دورانیہ بھی ہے جو انسان گرفت کو تبدیل کرتے ہوئےاپنے ہاتھوں کو تبدیل کرتے ہیں اور پیچ کے ساتھ دوبارہ مشغول ہوتے ہیں۔ لہذا میرونانوف اور اس کے ساتھی ہر موڑ کے دوران صرف زیادہ سے زیادہ طاقت کو دیکھتے ہیں۔

اس طرح انہوں نے چیزوں کو سکریو کرنے اور واپس ہٹانے کے عالمگیر نمونے کو کامیابی سے پا لیا۔

میرونوف اور اس کے شریک ساتھی کہتے ہیں، "نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ لوگ سکریو پر محوری قوت لگاتے ہیں تاکہ وہ اس کی پھسلن سے بچ سکیں اورمحوری قوت ٹارک کے متناسب ہے۔"

ٹیم نے یہ بھی محسوس کیا کہ ضروری طاقت سکریو کے سر کی قسم پر منحصر ہے: فلپس کے سر والے سکریو کو زیادی محوری قوت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ پھسلے نہیں جبکہ ہیکس کے سروں کو کم قوت درکار ہوتی ہے۔ اس طرح سےمساوی محوری قوت کے ساتھ ،ہیکس کے سروں والے سکریوزکا فلپس کے سروں والے کی نسبت پھسلنے کا امکان کم ہے۔

آخر میں میرونانوف اور اس کے ساتھیوں نے فورسز کےایک ہی پیٹرن کو دوبارہ بنانے کے لئے ایک روبوٹ کو پروگرام کیا۔ یہ روبوٹ ایک سکریو ڈرائیور کے ساتھ لیس ہے۔ سکرو کو پکڑنے کے لئے ایک گرفت اور اس کی ساکٹ میں سکرو کا پتہ لگانے کے لئےوژن مشین موجود ہے ۔

اس کے بعد ٹیم نے قوتوں کی پیمائش کی جب روبوٹ نے اپنا کام شروع کیا اور اس کے مڑنے کی طرف خصوصی توجہ دی ۔ روبوٹ مڑتے ہوئے محوری قوت کو بڑھاتا ہے اور چلتا رہتا ہے۔

روبوٹ نے اچھا کام کیا۔ میرونانوف اور اس کےشریک ساتھی کہتے ہیں، "روبوٹ کے مڑنے کے نتائج انسانی تجربات کے نتائج سے اتفاق کرتے ہیں اور سکریوز کے عالمی سطح پر کامیاب ہونے کا مظہر ہیں"۔

یہ محققین ایک روبوٹ بنانے والی ٹیم کا حصہ ہیں جو الیکٹرانک آلات، جیسے اسمارٹ فونز کوری سائیکلنگ کے لئے لے سکتے ہیں۔ اس منصوبے کو ریکی بوٹ ( RecyBot) کہا جاتا ہے، اور اس کا مقصد الیکٹرانکس کو ختم کرنے کے لئے تیز رفتار ذہین روبوٹ سسٹم بنانا ہے۔

یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے، اور سب سے بڑی سر دردی، چیزوں کو واپس موڑنا ہے۔

ٹیم کم از کم اس چیز پر کام کر رہی ہے۔ لیکن اسی ٹیکنالوجی کو اسمارٹ فیکٹریوں کی وسیع رینج میں لاگو کیا جاسکتا ہے جو اجزاء کو جمع کرنے اور الگ کرتی ہیں۔

ہر طریقے سے سکریو مستقبل میں ایک اہم کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جیسا کہ انہوں نے ماضی میں کیا ہے۔

تحریر: آرکسیوی

Read in English

Authors
Top