Global Editions

کرونا وائرس: ہم خود کو ڈپریشن اور ذہنی اضطراب سے کس طرح محفوظ رکھ سکتے ہیں؟

اب ایسی چند ایپس متعارف کی جاچکی ہیں جن کی مدد سے اس غیریقینی صورتحال میں دماغی توازن برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

ایک گہری سانس لیں اور مجھے بتائیں، آپ آج کیسا محسوس کررہے ہیں؟ کھل کر بتائیں۔ کسی اور کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ بیان نہیں کر پارہے، تو اپنی ڈائری میں لکھیں، بلکہ روز لکھنے کی عادت بنائیں۔

اکثر ماہرین نفسیات اس قسم کے مشورے دیتے ہیں، لیکن آج کل ذہنی امراض کے ڈاکٹر نئے مریضوں کا چیک اپ کرنے سے کترا رہے ہیں۔ اسی لیے اس غیریقینی صورتحال کے سبب ذہنی کشمکش کے شکار افراد کے لئے کوئی متبادل حل تلاش کرنا اور بھی ضروری ہوگیا ہے۔

پوری دنیا ذہنی صحت کے بحران کی طرف جارہی ہے۔ قیصر فیملی فاونڈیشن (Kaiser Family Foundation) کے مطابق، کرونا وائرس کے باعث 50 فیصد امریکی شہری ذہنی دباؤ کا شکار ہوچکے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ (Washington Post) کے ایک سروے کے مطابق، ذہنی دباؤ کی سطح 2009ء کے مالی کساد کے اعدادوشمار سے تجاوز کرچکی ہے۔

اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔ ہم اپنے پیاروں سے دور گھر میں قید ہو کر رہ گئے ہیں، ہمیں اپنی صحت اور ذرائع معاش کی فکریں کھائی جارہی ہیں، ہماری نیند تباہ و برباد ہوچکی ہے، اور ایک کے بعد ایک بری خبر سننے کو مل رہی ہے۔ اس وبا پر نہ ہی ہمارا کوئی زور ہے اور نہ ہی ہمیں معلوم ہے کہ یہ آخر ختم کب ہوگی۔ یہ تمام عناصر مل کر ذہنی اضطراب کو جنم دیتے ہیں، اور اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو یہ آگے چل کر ڈپریشن اور خودکشی کی وجہ بن سکتا ہے۔

اس سلسلے میں ایپس کیا کردار ادا کرسکتی ہیں؟

اگر آپ کے پاس سمارٹ فون کے علاوہ کچھ نہ ہو، تو بھی ذہنی اضطراب پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ کئی لوگوں نے اپنے فونز پر ہیڈ سپیس (Headspace) یا کام (Calm) جیسی ایپس ڈاون لوڈ کر رکھی ہیں، جن سے ذہنی دباؤ میں کمی کے لیے کئی مفید مشقیں اور مشورے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ان اپپس پر تحقیق صرف کچھ ہی عرصہ پہلے شروع ہوئی ہے، لیکن مطالعہ جات کے مطابق، یہ ذہنی بیماری کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ کارنیگی میلن یونیورسٹی (Carnegie Mellon University) کے دو مطالعوں کے مطابق، اس قسم کی ایپس سے نہ صرف ذہنی دباؤ بلکہ تنہائی کا بھی احساس کم ہوسکتا ہے۔ نیچر(Nature) میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ذہنی دباؤ میں کمی لانے والی ایپس سے حافظے میں بھی بہتری آسکتی ہے۔ اس وقت یہ تو ثابت نہیں ہوسکا کہ یہ ایپس تھراپی جتنی فائدہ مند ہیں، لیکن یہ سچ ہے کہ کئی لوگوں کو ان سے افاقہ ہوا ہے۔

نیو یارک میں رہائش پذیر 34 سالہ ریچل وائٹ (Rachel White) کا شمار انہی افراد میں ہوتا ہے۔ وائٹ ٹیک کے شعبے میں کام کرتی ہیں، اور ان کے مطابق اگر وہ کام نامی ایپ کا استعمال نہ کرتیں تو ممکن ہے کہ وہ اپنا ذہنی توازن مکمل طور پر کھو بیٹھتیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ”لاک ڈاون نافذ ہونے کے بعد میں پورا ایک مہینہ گھر سے باہر نہیں نکلی۔ مجھے پورا وقت سائرن سنائی دیتے تھے اور مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ میں کروں۔ میں بستر میں لیٹ کر گھنٹوں تک چھت کو دیکھتی رہتی تھی۔ مجھے بہت کام تھے لیکن میرا دماغ میرا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے کام ایپ ڈاون لوڈ کی۔“

وائٹ نے کام سے پہلے کبھی بھی ذہنی صحت کے لیے کوئی ایپ استعمال نہیں کی تھی۔ ان کے مطابق اس ایپ ہی کے بدولت وہ اپنے ذہنی اضطراب پر قابو پانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ”میں پہلے بہت خوف زدہ اور گھبرائی ہوئی رہتی تھی، لیکن اب میرے لیے یہ ماننا آسان ہو گیا ہے کہ کچھ چیزیں میرے بس سے باہر ہیں۔ میں نے اپنی صحت کے لیے اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانا شروع کی ہیں۔“ مزید پیچیدہ ایپس میں نیوروفلو(NeuroFlow) اور ان مائنڈ ( Unmind) جیسے سافٹ ویئر شامل ہیں، جو صارفین کی دماغی کیفیت، نیند، ذہنی دباؤ، اور درد کی پیمائش کرنے کے بعد انہیں کسٹمائزڈ ٹولز پیش کرتے ہیں۔ ان دونوں ایپس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم نیوروفلو کے سی ای او کرسٹوفر مولارو (Christopher Molaro) اعتراف کرتے ہیں کہ ان ایپس سے ہر کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ ”ذہنی صحت کا مسئلہ اس قدر پیچیدہ ہے کہ ہر ٹول ہر ایک شخص کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔“

اپنے ذہن کو ایپس کے لیے تیار کریں

اب ایسی ایپس متعارف ہو چکی ہیں جنہیں خصوصی طور پر کرونا وائرس سے وابستہ ذہنی اضطراب کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، کووڈ کوچ (Covid Coach) میں ذہنی اضطراب کی ٹریکنگ کے لیے ٹولز اور گھریلو تشدد، نشہ آوری سمیت کئی دیگر مسائل کے لیے  وسائل کی فہرست شامل ہے۔ کلیئرٹی (Clarity) نامی دوسری ایپ صارفین کو روزانہ اپنی ذہنی کیفیت اپڈیٹ کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اس کے علاوہ اس ایپ میں برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (National Health Service) اور ذہنی صحت پر کام کرنے والے خیراتی ادارے مائنڈ (Mind) کی طرف سے اضطراب پر قابو پانے کے لیے کافی مواد بھی موجود ہے۔

اس وقت ادویات کے مقابلے میں کاگنیٹیو بیہیوریل تھراپی (cognitive behavioral therapy) اضطراب کے علاج میں زیادہ معاون ثابت ہو رہی ہے۔ اس تھراپی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ذہنی امراض کے شکار افراد  بذریعہ انٹرنیٹ بھی اس سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ 2014ء میں ذہنی اضطراب کے شکار 114 نوجوانوں پر کیے جانے والے ٹرائلز سے یہ بات سامنے آئی کہ آن لائن کاگنیٹیو بیہیوریل تھراپی  اور کسی ماہر نفسیات کے کلنیک میں تھراپی کے سیشنز کے فوائد میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس سے ان لوگوں کو بہت فائدہ پہنچےگا جو کرونا وائرس کی وجہ سے کسی ماہر نفسیات سے اپوائنٹمنٹ حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے چند ماہرین نفسیات نے کاگنیٹیو بیہیوریل تھراپی کے بنیادی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے چھ قسطوں پر مشتمل ہیلپرز (Helpers) نامی کورس تیار کیا ہے۔ یہ بالکل مفت پیش کیا جارہا ہے اور اس کا مقصد لوگوں کو اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ غم، تنہائی اور دیگر جذبات کے متعلق بات کرنے کا طریقہ فراہم کرنا ہے۔ یہ کورس تنہا بھی لیا جاسکتا ہے اور دوسروں کے ساتھ بھی۔ اس میں کاگنیٹیو بیہیوریل تھراپی جیسی تکنیکس سے فائدہ اٹھا کر شرکت کنندگان کو اپنے خیالات سے لڑنے کے بجائے انہیں قبول کرنا سکھایا جاتا ہے۔ ہیلپرز کے علاوہ اور بھی کورسز ہیں جن میں اس قسم کی تکنیکس کا استعمال کیا جاتا ہے، جن میں دی ایکٹ کمپینیئن (The ACT Companion)، ای سی بی ٹی (eCBT)، اور ووبوٹ (Woebot) سرفہرست ہیں۔

ہیلپرز ایپ کا آئیڈیا پیش کرنے والے ویب ڈیزائنر سائمن فاکس (Simon Fox) کہتے ہیں کہ ”اس مشکل وقت میں لوگوں کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ ان کا دماغ خراب نہیں ہوا ہے۔“

تاہم ہیلپرز ہر کسی کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوسکتی۔ اس میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ اسے شدید ذہنی دباؤ کے شکار لوگوں کے لیے نہیں بنایا گیا ہے اور انہیں کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، انٹرنیٹ سہولیات سے محروم افراد اس ایپ تک رسائی نہیں کر سکتے ہیں۔

ان تمام ایپس کے پیچھے ایک ہی مقصد ہے: لوگوں کو اپنی ذہنی صحت کے لیے خود کو ذمہ دار ٹھہرانا۔ فاکس امید کرتے ہیں کہ اس وبا کے بہانے لوگ ذہنی امراض کو زیادہ قابل قبول سمجھنا شروع کریں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”ہمیں خود کو ذہنی طور پر مضبوط بنانے کا موقع ملا ہے۔ ایسا نہیں ہوگا کہ ہماری درد محسوس کرنے کی صلاحیت ختم ہوجائے گی، لیکن ہمارے پاس مسائل سے نمٹنے کے لیے پہلے سے زیادہ وسائل ضرور موجود ہوں گے۔“

تاہم یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ ذہنی امراض کرونا وائرس کے پہلے سے موجود ہیں۔ ماہر نفسیات کیانا آزمودیح (Kiana Azmoodeh) کا خیال ہے کہ کچھ حد تک ہمارا ردعمل ٹھیک ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ”اس صورتحال کی وجہ سے پریشان ہونا یا ذہنی اضطراب کا شکار ہونا بذات خود کسی ذہنی مرض کی علامت نہیں ہے۔ اس وقت واقعی حالات بہت خراب ہیں اور پریشانی کا جواز موجود ہے۔“

ذہنی اضطراب پر قابو پانے کے دوسرے طریقے

  • جب خود کو پریشان ہوتا محسوس کریں تو ایک ٹھنڈی سانس بھریں۔ یہ وقت سب ہی کی لیے بہت مشکل ہے اور آپ کی پریشانی جائز ہے۔
  • صرف ان چیزوں پر اپنی توجہ مرکوز کریں جو آپ کے بس میں ہوں۔ جن چیزوں کے بارے میں آپ کچھ نہیں کرسکتے، ان کی نشاندہی کریں۔
  • اپنی توجہ موجودہ حالات کی طرف کھینچیں۔ اپنی سانسوں یا اپنی پانچوں حدوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنائیں۔
  • ایسی سرگرمیوں میں حصہ لیں جن سے آپ لطف اندوز ہوسکیں۔ مثال کے طور پر، اپنی من پسند موسیقی سنیں، کوئی اچھی کتاب پڑھیں، کچھ دیر کے لیے چہل قدمی کریں، یا اپنے دوستوں اور گھر والوں سے باتیں کریں۔
  • جو چیزیں آپ کو پریشان کرتی ہوں، ان کی نشاندہی کریں اور ان سے دور رہیں۔ مثال کے طور پر۔ اگر آپ کو خبریں سن کر ڈپریشن طاری ہونے لگے تو اپنا ٹی وی بند کردیں۔
  • خوشگوار چیزوں کے لیے شکر ادا کرنے کی عادت بنائیں۔
  • ایک روٹین قائم کریں اور خود کو جسمانی اور ذہنی طور پر چاق و چوبند رکھیں۔

(ہمارے لیے یہ فہرست برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس کی ایک ماہر نفسیات نے تیار کی ہے۔)

تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Gee)

Read in English

Authors

*

Top