Global Editions

بڑی ٹیک کمپنیوں کو توڑے بغیرریگولیٹ کیسے کریں

امریکی ریگولیٹرز سنجیدگی سے سوچ رہےہیں کہ بہت زیادہ طاقت رکھنے والی کمپنیوں جیسا کہ ایمیزون، ایپل، گوگل اور فیس بک کو کس طرح ریگولیٹ کریں۔ بگ ٹیک کی طاقت کو روکنے کا ایک آسان حل ہے: کمپنیاں توڑیں۔ لیکن کمپنیوں کو توڑنا مشکل کام ہے اور تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ بہت سے اور حل ممکن ہیں۔

حل 1. بڑی ٹیک کمپنیاں چھوٹی کمپنیوں کے ساتھ ڈیٹا شئیر کریں۔

آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹی ٹیوٹ میں انٹرنیٹ گورننس کے پروفیسراور ری انونٹنگ کیپیٹل ازم ان دی ایج آف بگ ڈیٹا( Reinventing Capitalism in the Age of Big Data) کے شریک مصنف ویکٹر مائر-شونبربرکہتے ہیں کہ بڑی ٹیک کمپنیوں کو توڑنے سے نہ وہ صرف کمزور ہو جائیں گی بلکہ صارفین کے لئے بھی بد ترین ہو جائیں گی۔ ڈیموکریٹس کے صدارتی امیدوار الزبتھ وارن نے تجویز دی تھی کہ ان کمپنیوں کو توڑ دیں۔ گوگل سرچ اور گوگل میپس جیسی خدمات کے درمیان ڈیٹا کا اشتراک مفید ہے، لہٰذا گوگل کو تقسیم کرنے سےیہ خدمات کم قابل اعتماد بن جائیں گی۔

ویکٹر مائر-شونبربر کا کہنا ہے کہ بنیادی مسئلہ یہ نہیں ہے کہ بڑی کمپنیاں صرف بڑی ہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے ہے کہ جدت اب بڑے ڈیٹا پر انحصار کرتی ہے اور چھوٹی کمپنیاں اتنا ڈیٹا نہیں رکھ سکتیں۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بڑی کمپنیوں کو کم طاقتور حریفوں کے ساتھ ڈیٹا کا اشتراک کرنا ہوگا۔ مثال کے طور پر جرمنی میں بڑی انشورنس کمپنیاں پہلے ہی چھوٹی کمپنیوں کے ساتھ ڈیٹا کا اشتراک کرتی ہیں۔ اس طرح سےسٹار ٹ اپس کو بھی ایک موقع مل جاتا ہے۔

حل 2. بڑی ٹیک کمپنیوں کو اپنے حق میں امتیاز برتنے کی اجازت مت دیں

جارج واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی کے ایک سینئر فیلو ہال سنگر اس بات سے اتفاق کرتے ہیں ہے کہ کمپنیوں کو توڑنا مسئلہ کا ناکافی حل ہےلیکن میئر شونبر کے برعکس، وہ ڈیٹا کے عدم مساوات کی پرواہ نہیں کرتے۔ اگر گوگل اپنے ڈیٹا کی بنیاد پر بہترین مصنوعات بناتا ہے تو اس میں کیا مضائقہ ہے؟ انہوں نے کہا، “اگر وہ اپنے بہترین پراڈکٹ کی بنیاد پر مارکیٹ میں جیتتے ہیں تو یہ اچھی بات ہےـ”

لہٰذاہال سنگر نے کہا کہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ گوگل اتنااچھا کیوں ہے۔ نہ ہی دوسروں بشمول وارن کے خیالات ٹھیک ہیں۔ گوگل بطور پلیٹ فارم ریسٹورینٹس کے جائزے جاری کرتا ہے اور اپنے جائزے بھی دیتا ہے۔ یہ چیزیں زیادہ موثر ہو سکتی ہیں اور فوائد کی طرف لے جا سکتی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ مسئلہ یہ ہے کہ گوگل اپنے پلیٹ فارم پراپنے جائزوں کو اپنے مقابلہ کرنے والوں کے مقابلہ میں زیادہ اہمیت دیتا ہے اور اس وقت بھی جب یہ زیادہ اچھے نہیں ہیں۔

ہال سنگر ایک ایسا غیر امتیازی اصول پیش کرتا ہے جو اس رحجان کو روک سکے۔ اسی طریقے سے کیبل چینلز کو پہلے ہی ریگولیٹ کیا گیا ہے۔دوسری کمپنیوں نے پریشان ہونا شروع کر دیا جب کامکاسٹ(Comcast) نے اپنا مواد شروع کیا لیکن کانگریس نے اس بڑی کمپنی کو توڑا نہیں۔ہال سنگرنےکہا، “انہوں نے کہا، ہم نے آپ کو مواد کی جگہ میں پاؤں رکھنے کو دیا ہے لیکن آپ پلیٹ فارم پر اپنی ٹانگ نہیں رکھ سکتے۔ ” اب آزاد نیٹ ورک شکایات کو ایک غیر جانبدار ثالث کے پاس لے جا سکتے ہیں جو کہ ہر کسی کو مناسب طریقے سےکاروبار کرنے کے اصول کے ذمہ دار ہیں۔

سنگر کا خیال ہے کہ یہ اصول گوگل اور ایمیزون جیسی کمپنیوں پر بھی لاگو ہوسکتا ہے۔ سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ چھوٹے کاروباری ادارے گوگل جیسی طاقت نہیں رکھتے لیکن وہ امید رکھتے ہیں کہ اگر بڑے کاروباری ادارے عدالت میں جا سکتے ہیں جیسا کہ نیشنل فٹ بال لیگ نے کامکاسٹ کےخلاف مقدمہ چلایا تھا تو چھوٹے برانڈز کی طرف سےسے شکایات لگانے کا رحجان پیدا ہو جائے گا۔

حل 3: بڑی کمپنیوں کو اپنے صارفین کو لاک لگوانا بند کریں

ایک اور کیمپ نےاس چیز پر بھی توجہ مرکوز رکھی ہے کہ صارفین کو نیٹ ورک اپنے اثرات کے ذریعے کیسے لاک کرتے ہیں۔ اگر زیادہ سے زیادہ لوگ فیس بک پر پہلے سے ہی ہیں تو صرف چند ہی نئے سماجی نیٹ ورک کے لئے جانے کا انتخاب کریں گے کیونکہ ان کے دوست وہاں نہیں ہوں گے اور کیونکہ وہ فیس بک سے کافی مواد کاپی نہیں کرسکتے ہیں۔ “ڈیٹا پورٹیبل” کے ایڈوکیٹس کا کہنا ہے کہ ایک پلیٹ فارم سے کسی دوسرے کو ڈیٹا منتقل کرنے کے قابل ہونے سے مقابلہ ہو سکتا ہے۔

بہتر یہ ہے کہ ڈیٹا باہمی طور پر استعمال ہو جس کو مختلف نیٹ ورک اکٹھے استعمال کر سکیں۔مثال کے طور پرانسٹا گرام کے صارفین کو اجازت دی جائے کہ وہ سنیپ چیٹ پر پوسٹ کریں اورسنیپ چیٹ کے صارفین انسٹا گرام پر پوسٹ کر سکیں۔ جب اے او ایل( (AOL اور ٹائم وارنر( (Time Warner کو2001 میں ضم کیا گیا توفیڈرل کمیونیکیشنز نےاے آئی ایم( (AIM کو زبردستی مجبور کیا کہ وہ دوسرے میسنجرز کےساتھ مطابقت رکھے۔

ایڈنٹیٹی مینجمنٹ کمپنی اوکٹا(Okta) کے سی ای او ٹاڈ میکنن (Todd McKinnon) کا کہنا ہے کہ حکومتوں یا غیر منافع بخشں اداروں کو “ڈیجیٹل شناخت والےوالٹ” بنانے چاہیں جس میں لوگ اپنی ذاتی معلومات پر مزید کنٹرول رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صارف اصل میں اپنے اکاؤنٹ کا مالک ہے اور یہ پورٹیبل تھا تو اس سے ان سروسز کے لاک میں کمی آئے گی۔ اگرچہ بہت سارے سوشل نیٹ ورک ہونے کے باوجود ضروری طور پر اس بات کا یقین نہیں ہے کہ وہ سبھی صارف کی رازداری کا احترام کریں گے لیکن میکنن کا خیال ہے کہ صارفین کو مزید انتخاب دینے میں کمپنیاں “صارفین کی زیادہ چوائس کی حوصلہ افزائی کریں گی۔”

دیگر حل

اوپن مارکیٹس انسٹی ٹیوٹ کے ایک فیلو میٹ اسٹولر کہتے ہیں کہ بہت سارے اور بھی آئیڈیاز ہیں
مثال کے طور پر:

کمپنیوں کو ان مختلف ذرائع سے ڈیٹا لینے سے روکیں جیسا کہ جرمن ریگولیٹروں نے حال ہی میں فیس بک سے کہا تھا۔
گوگل کو برابری کی بنیاد پر ڈیٹا تک رسائی کا پابند بنائیں۔

سفاری پر ڈیفالٹ سرچ انجن بنانے کے لئے ایپل کو گوگل سے کئی ارب کی ادائیگی بند کروائیں فیس بک کو بتائیں کہ یہ اشتہارات کا کاروبار کرنے والی کمپنی نہیں ہے۔

سٹولر نے مزید کہا کہ یہ حکمت عملی مکمل طور پر خاص نہیں ہیں۔ وہ ایسا نہیں سوچتا کہ یہ خاص طور پر اہم ہے کہ کمپنی کو توڑیں۔ اگرگوگل سرچ اور گوگل میپ دو مختلف کمپنیاں ہیں تو بھی یہ ڈیٹا کا اشتراک کرسکتے ہیں۔ان کو یہ کام صرف اسی شرائط پر کرنا ہوگا جو گوگل تھرڈ پارٹی بزنس پارٹنرکے ساتھ کرتا ہے۔

سٹولر کا کہنا ہے کہ اہم بات یہ ہے کہ ریگولیٹرز کو بہت سارے طریقوں سے کوشش کرنے کی ضرورت ہے: “ایسا کرنے کے لئے ایک زبردست راستہ نہیں ہے۔ یہ پیچیدہ نہیں ہے۔ تم نے ان کو توڑ دیا تو آپ نے کچھ قوائد توڑ دیے- اگر یہ کام نہیں کرتے تو آپ کچھ مختلف قوائد کو توڑ دیتے ہیں۔ اور پھر اگر وہ قانون کو توڑتے رہیں، تو آپ ان میں سے کچھ کوجیل میں ڈالیں۔ “

تحریر:انجیلا چن (Angela Chen)

Read in English

Authors

*

Top