Global Editions

آپ انٹرنیٹ پر موجود معلومات کی تصدیق کس طرح کر سکتے ہیں؟

جب حالات خراب ہوتے ہیں تو انٹرنیٹ پر ہر قسم کے پوسٹس کی بھرمار شروع ہو جاتی ہے۔ ہم نے چند ماہرین سے جاننے کی کوشش کی کہ درست اور غلط معلومات کے درمیان کس طرح امتیاز کیا جاسکتا ہے؟

کچھ روز قبل، ایک افواہ پھیلنا شروع ہوئی کہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ہر قسم کی مواصلات پر مکمل پابندی عائد ہوچکی ہے۔ ٹوئٹر پر #dcblackout کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگا، اور ہزاروں لوگوں نے اس پابندی کے متعلق ٹوئیٹس اور فیس بک اور ریڈٹ کی پوسٹس شیئر کیں۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ واشنگٹن میں انٹرنیٹ پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی۔ میں واشنگٹن میں رہتی ہوں اور میرے دوستوں نے یہاں انٹرنیٹ سہولیات کی عدم دستیابی کے متعلق  مجھ سے کئی سوال کیے۔ حقیقت کے قطع نظر یہ ہیش ٹیگ کئی گھنٹوں تک ٹرینڈ کرتا رہا۔ کچھ لوگوں نے اس کے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار ضرور کیا لیکن یہ افواہ پھیلتی رہی۔

عام طور پر اگر ہمیں انٹرنیٹ پر کہیں غلط معلومات نظر آجائے تو ہم اس کی تردید کرتے ہیں اور ہر ممکنہ حد تک دوسروں کو بھی حقیقت سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن موجودہ صورتحال مختلف ہے۔ ایک طرف ایک عالمی وباء پھیلی ہوئی ہے اور دوسری طرف ہمیں روز کوئی نہ کوئی بری خبر سننے کو ملتی ہے۔ اس کی وجہ سے کئی لوگوں کی سوچنے سمجھنے اور سچ اور جھوٹ کے درمیان امتیاز کرنے کی صلاحیتیں کافی حد تک کم ہو چکی ہیں۔

سائراکیوس یونیورسٹی میں مواصلت کی ایسسٹنٹ پروفیسر وٹنی فلپس (Whitney Phillips) کہتی ہیں کہ ”اس وقت کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے. جب بھی ہمارا کسی بری خبر سے پالا پڑتا ہے تو ہم عادت سے مجبور ہو کر اسے سوشل میڈیا پر پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور دوسروں کے دکھ میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں،  لیکن حقیقت یہ ہے کہ بعض دفعہ ہم غلط سلط معلومات شیئر کردیتے ہیں، جس کے باعث ہم خود کو اور دوسروں کو نقصان پہنچا سکتے ہيں۔“

فلپس نے انٹرنیٹ پر موجود غلط معلومات کے ذہنی صحت پر اثرات کے متعلق کئی تحریریں لکھی ہیں۔ میں نے ان سے اور سٹاپ آن لائن وائلنس اگینسٹ وومین (Stop Online Violence Against Women) کی بانی شیرین مچل (Shireen Mitchell) سے انٹرنیٹ پر موجود غلط معلومات سے نمٹنے کے متعلق تجاویز حاصل کرنے کی کوشش کی۔

خود کو کمزور مت سمجھیں

فلپس کہتی ہیں کہ ”کئی لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہيں کہ کوئی آن لائن حیثیت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی بات زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔“ لیکن ہیش ٹیگز اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ اگر کسی چیز کو، چاہے وہ سچ ہو یا جھوٹ، بار بار شیئر کیا جائے تو لوگوں کی توجہ اس کی طرف چلی جاتی ہے۔ اسی لیے اگر آپ اپنے آن لائن وجود کو غیر اہم سمجھیں گے تو یہ دوسروں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

فلپس کہتی ہیں کہ ”آپ کے ارادے کتنے ہی نیک کیوں نہ ہوں، اگر آپ #dcblackout ٹوئیٹ کرتے رہیں گے تو یہ ٹرینڈ کرنا شروع ہو جائے گا اور اسے دیکھ کر دوسرے لوگ پریشان ہوں گے۔“

اگر آپ دنیا کو بیدار کرنے کے مقصد سے انٹرنیٹ پر کچھ شیئر کرتے ہيں تو ممکن ہے کہ آپ کے فولوورز کے علاوہ دوسرے لوگوں تک بھی آپ کا پیغام پہنچے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ غلط معلومات شیئر کرنے کی صورت میں بھی آپ کا پیغام بہت دور تک پھیل سکتا ہے۔

کچھ دیر رک جائيں

نسل پرست تشدد سے تعلق رکھنے والت مواد خاص طور پر سیاہ فام افراد کے لیے زيادہ تکلیف دہ ہوسکتے ہیں، جس کی وجہ سے ممکن ہے کہ ان کا تجزیہ کرنا بھی مشکل ثابت ہو۔

مچل، جو خود ایک سیاہ فام امریکی ہیں، کہتی ہیں کہ ”ایسی خبروں کا تعلق میری کمیونٹی سے ہے۔ لوگ ہماری بات پر اعتماد نہيں کرتے۔ اسی لیے جب ہمارے ساتھ کبھی کچھ برا ہوتا ہے تو ہم چاہتے ہيں کہ دوسرے لوگ اسے شیئر کریں۔“ غلط معلومات بھی اسی وجہ سے پھیلائی جاتی ہیں۔ مچل کے مطابق ”معلومات شیئر کرنے کے مقصد جذبات کو اکسانا ہے، اور جب آپ کے جذبات امڈنے لگيں تو آپ کو اسی وقت رک کر صورتحال کا جائزہ لینا چاہیے۔“

مچل مزید بتاتی ہيں کہ احتجاج کے دوران خطرہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ اگر سوشل میڈیا پر کوئی افواہ پھیل رہی ہو تو احتجاجیوں کے لیے ممکنہ طور پر غیرمحفوظ ماحول میں اس معلومات کی فوری تصدیق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

مچل کہتی ہیں کہ اگر ہمیں کسی مظاہرے کے دوران کوئی پریشان کن خبر سننے کو ملے تو ہمیں دوسروں سے دور جا کر اس خبر کی تصدیق کرنے کی ہر ممکنہ حد تک کوشش کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق ”اگر خبر جھوٹی ثابت ہو تو واپس جا کر دوسروں کو آگاہ کریں۔“

معاملے کے دوسرے پہلوؤں پر بھی غور کریں

مچل کو ممکنہ طور پر غلط معلومات سے نمٹنے کا تجربہ حاصل کرنے میں کئی سال لگے۔ لیکن یہ ہنر بہت جلدی بھی سیکھا جاسکتا ہے۔ اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ اپنے سامنے پیش کیے جانے والے مواد کو شیئر کرنے سے پہلے اس کے متعلق مکمل تحقیق کریں۔

ڈیجیٹل خواندگی کے ماہر مائیک کاؤل فیلڈ (Mike Caulfield) نے معلومات کا تجزیہ کرنے کا ایک بہت موثر طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”پہلے رکیں، ذریعے کے متعلق تصدیق کریں، بہتر کوریج تلاش کرنے کی کوشش کریں، اور لوگوں اور میڈیا کے بیانات کا سیاق و سباق جاننے کی کوشش کریں۔“ کاؤل فیلڈ بتاتے ہیں کہ اس طریقہ کار کی بنیاد 2017ء میں سٹین فورڈ یونیورسٹی کے ایک مطالعے پر رکھی گئی ہے جس میں حقائق کی تصدیق کرنے والے پیشہ ورانہ افراد کا تجزیہ کیا گيا تھا۔ اس تحقیق میں شرکت کرنے والے طلباء اور مورخین کی سب سے بڑی غلطی یہی تھی کہ وہ اپنے سامنے موجود معلومات کا معائنہ کر کے اس کی معتبری متعین کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ تاہم میرے جیسے حقائق کی جانچ پڑتال کرنے والے افراد گوگل کا استعمال کرتے تھے، خبریں پڑھتے تھے، اور تحقیق کرتے تھے۔

مچل بھی اسی قسم کا طریقہ کار اپناتی ہيں۔ وہ کہتی ہيں کہ ”جب بھی مجھے کوئی ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتا ہوا نظر آتا ہے، میں صرف اوپر اوپر سے بات نہيں سنتی ہوں۔ میں اس کے متعلق تحقیق شروع کردیتی ہوں۔“

مثال کے طور پر جب مچل کو ایک ویڈیو میں احتجاجی آس پاس کھڑے لوگوں پر حملہ کرتے ہوئے نظر آئے تو انہوں نے سب سے پہلے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ یہ ویڈیو کس نے لگائی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے یہ متعین کرنے کی کوشش کی کہ ویڈیو جعلی تو نہيں ہے۔

اس کے بعد انہوں نے تحقیق کی کہ ویڈیو کو کہاں کہاں شیئر کیا جارہا ہے، کیا دوسری ویڈیوز میں اس منظر کو کسی دوسرے پہلو سے دکھایا گيا ہے، اور کیا ویڈیو میں شامل ٹیکسٹ منظر کی درست عکاسی کررہا تھا۔ انہیں معلوم ہوا کہ دی انٹرسپٹ (The Intercept) نے اس ویڈيو کو ایڈٹنگ کے ذریعے توڑ موڑ کر پیش کیے جانے کے متعلق ایک تحریر بھی شائع کی تھی۔

یاد رکھیں کہ معلومات غلط ہونے کے باوجود بھی ”حقیقی“ ہوسکتی ہیں

جن غلط معلومات کے ماہرین کا حوالہ دیا جاتا ہے، ان میں سے زیادہ تر افراد سفید فام ہیں۔ اسی لیے دوسری نسلوں سے تعلق رکھنے والوں کے متعلق معلومات کی تصدیق کرنے کے دوران وہ اکثر ان کمیونٹیوں کو نادانستہ طور پر نقصان پہنچاتے ہيں۔

مچل کہتی ہیں ”سفید فام افراد ان مشکلات سے دوچار نہيں ہوئے ہیں جن سے ہم گزرے ہیں۔ اسی لیے جب وہ کسی غلط معلومات پر مشتمل ویڈيو کے متعلق بات کرتے ہيں تو دوسرے لوگ اس کا غلط مطلب نکالتے ہيں۔ وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ چونکہ یہ سفید فام افراد ہماری طرح مشکلات سے دوچار نہيں ہوئے، وہ ہمیں جھوٹا کہہ رہے ہیں۔“ یہ خاص طور پر اس وقت بہت بڑا مسئلہ بن جاتا ہے جب اس غلط معلومات کو شیئر کرنے کا مقصد سیاہ فام افراد کے مسائل کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔

تاہم مچل کا خیال ہے کہ آواز نہ اٹھانے سے بھی مسئلہ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم وائرل ہونے والی جعلی معلومات کے متعلق درست حقائق پیش کرتے وقت، یاد رکھیں کہ کئی لوگ آپ کی بات کو نظر انداز کریں گے۔ ایسی صورت میں ہر کوئی دوسروں کی نیت پر شک کررہا ہوتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب حکام ہی غلط معلومات پھیلا رہے ہوں۔

فلپس بتاتی ہيں کہ ایسے موقعوں پر وہ ”درست“ اور ”حقیقی“ معلومات کے درمیان امتیاز کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ معلومات غلط ہوں، لیکن اس میں حقیقی مسائل پوشیدہ ہوں۔ فلپس کہتی ہیں کہ ”اگر کوئی ویڈيو پرانی بھی ہو تو ہم اسے دیکھ کر کم از کم اس بات کا اعتراف تو کرسکتے ہيں کہ یہ لوگوں کی زندگی کے حقائق پر مشتمل ہے۔“ کسی بھی بحران کے دوران شیئر ہونے والی غلط معلومات کے متعلق حقائق فراہم کرنے کے دوران اس بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔

کچھ دیر کے لیے خود کو پریشان کن مواد سے دور کر دیں

اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ غلط معلومات کا تجزیہ بہت مشکل ہوتا ہے اور جب ہمارے سامنے ایک کے بعد ایک بری خبر آتی رہے تو دماغی توازن بگڑتے دیر نہیں لگتی۔

ایسا ماہرین کے علاوہ ان لوگوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے جنہوں نے ماضی میں کسی جنگ میں حصہ لیا ہو۔ فلپس کہتی ہیں کہ ”اس حقیقت کو کوئی نہیں بدل سکتا کہ ہم اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہے جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ ہمارے پاس ماضی سے بہتر میڈیا موجود ہے اور ہم بہت کچھ برداشت کر سکتے ہیں، لیکن بعض دفعہ یہ سب بھی کم پڑ جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ہمارے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے وسائل موجود ہوں لیکن یہ سچ ہے کہ ہم اس کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہیں۔“

تحریر: ایبی اوہلہاؤزر (Abby Ohlheiser)

Read in English

Authors

*

Top