Global Editions

شہروں اور شہریوں کو گرمی کی لہروں کے لیے کس طرح تیار کیا جاسکتا ہے؟

جیسے جیسے ماحولیاتی تبدیلی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، ریسرچرز یہ جاننے کی کوشش کررہے ہيں کہ کمیونیٹیز کو ان تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے کس طرح تیار کیا جاسکتا ہے۔

گرمی کی لہروں کا شمار دنیا کی خطرناک ترین قدرتی آفات میں ہوتا ہے۔ امریکہ میں گرمی کی لہروں سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد طوفانوں اور زلزلوں کے نتیجے میں واقع ہونے والی مجموعی اموات سے بھی زیادہ ہے۔ جیسے جیسے انسانی سرگرمیوں کے باعث موسمیاتی تبدیلی کی شدت میں اضافہ ہوتا جائے گا، صورتحال مزید بگڑتی چلی جائے گی۔

مہلک گرمی کی لہروں سے بچاؤ کس طرح ممکن ہے؟

گرمی اور سردی دونوں ہی کی لہروں کی پیشگوئی ممکن ہے، اور یکم مئی کو اینوائرنمنٹل ریسرچ لیٹرز (Environmental Research Letters) میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق شدید درجہ حرارت کے خلاف ابتدائی اقدامات سے دنیا بھر میں زندگیاں بچائی جاسکتی ہيں۔

موسم کی پیش گوئی کرنے والے ماڈلز کے تجزیے کے بعد، ریسرچرز کو معلوم ہوا ہے کہ ان علاقہ جات میں جن میں شدید درجہ حرارت کی پیش گوئی ممکن ہے، پانچ ارب سے زيادہ افراد رہائش پذیر ہيں۔ اس کی وجہ سے ابتدائی تنبیہات کے نظام قائم کرنے اور حفاظتی اقدام کرنے کے مواقع دستیاب ہوسکتے ہيں۔ اس مطالعے کے مطابق، شدید گرمی کی لہروں کے دوران، کم از کم پینے کے پانی کی فراہمی، شیلٹرز کا قیام اور ضعیف افراد کی نگرانی تو ممکن ہے۔

اس رپورٹ کی مصنف اور ریڈ کراس ریڈ کریسنٹ کلائمیٹ سنٹر (Red Cross Red Crescent Climate Centre) میں ماحولیاتی سائنس کی ٹیم کی مینیجر ایرن کولین دی پیریز (Erin Coughlan de Perez) کہتی ہیں، "ہمارے پاس دنیا بھر میں گرمی کی لہروں اور سردی کی لہروں کے باعث امراض و اموات کی روک تھام کی صلاحیت موجود ہے۔ ایسے کئی مقامات ہيں جہاں ہم اقدام کرسکتے ہيں اور تبدیلیاں لاسکتے ہیں۔"

اس مطالعے میں، جس میں کولین ڈی پیریز کے علاوہ کولمبیا یونیورسٹی، وی یو ایمسٹرڈیم اور دیگر اداروں سے تعلق رکھنے والے ریسرچرز نے بھی حصہ لیا تھا، اس بات کا تعین نہیں کیا گيا تھا کہ ان میں سے کتنے علاقہ جات میں پہلے سے ہی تنبیہاتی نظام موجود ہيں یا جوابی اقدامات کیے گئے ہیں۔ تاہم کولین ڈی پیریز کا کہنا ہے "ہم یہ بات یقین سے کہہ سکتے ہيں کہ بہتری کی بہت گنجائش ہے۔"

ان کے گروپ کی اس مطالعے میں شرکت کی ایک وجہ یہ تھی کہ ریڈ کراس ان علاقہ جات کی نشاندہی کرنا چاہتے تھے جہاں شدید درجہ حرارت کی پیش گوئی اس قدر پہلے ہو کہ ٹیموں کو جواب دہی کا موقع مل سکے۔

کولین ڈی پیریز بتاتی ہیں کہ وہ ان پروگراموں کے متعلق کافی پرامید ہیں، اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ کافی کم قیمت ثابت ہوتے ہيں۔ ان پروگراموں میں شرکت کرنے والے افراد کا زیادہ تر وقت پانی تقسیم کرنے، لوگوں کو مسئلے کی سنگینی کے متعلق معلومات فراہم کرنے، اور انہيں گھر میں رہنے اور پانی پینے کی ہدایات دینے میں گزرتا ہے۔

ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کئی افراد شدید درجہ حرارت کے خطرات سے ناواقف ہیں۔ فوری اثرات میں پٹھوں کا اکڑنا، گرمی کے باعث تھکن، اور ہیٹ سٹروک شامل ہیں، جو ایمرجنسی علاج نہ ملنے کی صورت میں مہلک ثابت ہوسکتے ہيں۔ اس مطالعے کے مطابق، کئی شہروں میں گرمی کی لہروں کے دوران اموات کی شرح میں 5 فیصد اضافہ ہوتا ہے، اور بچوں، ضعیف افراد اور حاملہ خطرات کو خصوصی طور پر زیادہ خطرہ ہے۔

اس کی علاوہ، شدید گرمی کی وجہ سے خشک سالی، جنگلات کی آگ، اقتصادی عدم مساوات، تشدد میں اضافہ، اور تاحیات آمدنی میں کمی ممکن ہيں۔

تاہم، صرف قلیل المیعاد واقعات کے خلاف اقدام سے کام نہيں چلے گا۔ جیسے جیسے مستقبل میں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا جائے گا، انفراسٹرکچر اور اقدام میں بھی تبدیلیاں لانے کی ضرورت پیش آئے گی۔

درجہ حرارت کے علاوہ ایئر کنڈيشننگ تک رسائی میں اضافے کی وجہ سے دنیا بھر میں ایئر کنڈیشننگ کے استعمال میں اضافہ متوقع ہے۔ اقوام متحدہ کے Intergovernmental Panel on Climate Change کے مطابق 2100ء تک ایئر کنڈيشننگ میں استعمال ہونے والی توانائی کی مانگ میں 31 گنا سے زیادہ اضافہ سامنے آئے گا، جس کے باعث گرین ہاؤس اخراجات میں کمی کی کوششوں پر پانی پھرنے کا امکان ہے۔

کئی شہروں میں اس سے بھی زيادہ تبدیلیاں ضروری ہوں گی، جن میں عمارتوں کی تعمیر میں گرمی کی عکاسی کرنے والے مواد کا استعمال، زیادہ وسیع پیمانے پر شجرکاری کی مہمیں، یا بوسٹن، شیکاگو اور نیو یارک کی طرح کے کمیونٹی کولنگ سنٹرز کا قیام شامل ہيں۔

تاہم اینوائرنمنٹل ریسرچ لیٹرز میں ایک اور تحقیق کے مطابق اس صدی کے اختتام تک درجہ حرارت اور ہوا میں نمی انسانی برداشت کی حدود سے تجاوز کرجائيں گے، جس سے دنیا کے کچھ حصے ناقابل رہائش ہوجائيں گے۔

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors
Top