Global Editions

ریستورانوں میں کھانا کھانے کے دوران کرونا وائرس کے خلاف تحفظ کس طرح ممکن ہے؟

کرونا وائرس کے پیش نظر، ریستورانوں اور کیفے میں کھانا کھانا بہت خطرناک ہوسکتا ہے۔ لیکن احتیاط کرنے سے ان جگہوں کو زيادہ محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔

ہم ریستورانوں اور کیفے میں کھانا کھانے یا کافی پینے اس لیے جاتے ہيں تاکہ ہم اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ اچھا وقت گزار سکیں اور کچھ دیر تک ان سے گپیں مار سکیں۔ ہم ان سے گھنٹوں بات کرتے ہيں، ایک دوسرے کے قریب ہو کر بیٹھتے ہيں، اور بعض دفعہ ایک دوسرے کی پلیٹ سے کھانا بھی کھاتے ہیں۔ لیکن اب انہی چیزوں کے باعث ریستورانوں کا شمار ان جگہوں میں ہورہا ہے جن سے کرونا وائرس سب سے زيادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔

اس کی کیا وجہ ہے؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں covid-19 کے پھیلاؤ متعلق حالیہ ترین ریسرچ پر نظر ڈالنی ہوگی۔ جب سے یہ وبا شروع ہوئی ہے، عالمی ادارہ صحت کا یہی موقف رہا ہے کہ یہ مرض ہمارے بات کرنے، کھانسنے، یا چھینکنے کے دوران پیدا ہونے والے ذرات کے ذریعے پھیلتا ہے۔ تاہم اب یہ بات سامنے آرہی ہے کہ کرونا وائرس کے ذرات کافی دیر تک ہوا میں قائم رہتے ہيں اور بہت تیزی سے بیماری پھیلاتے ہيں۔ اب تک کرونا وائرس کی جتنی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، ان میں سے زيادہ تر کیسز اندر رہنے کی وجہ سے سامنے آئے ہيں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ سرکاری ادارے اب تک عوام کو درست رہنمائی فراہم نہيں کر رہے۔ امریکی سینٹرز فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (Centers for Disease Control and Prevention) نے حال ہی میں اعتراف کیا ہے کہ کرونا وائرس ہوا میں زيادہ دیر رہنے والے ذرات کی وجہ سے پھیل سکتا ہے۔ کئی ممالک کی حکومتوں نے اب تک اپنی عوام کو یہ بات بتائی ہی نہيں ہے۔ اس عدم آگاہی کے نتیجے میں کئی ریستوران ابھی بھی اپنی توجہ اپنے فرنیچر کو صاف رکھنے، فیس شیلڈز پہننے (جو ہوا میں قائم رہنے والے ذرات سے تحفظ فراہم نہيں کرسکتے)، اور صارفین کو ایک دوسرے سے دور بٹھانے پر ہی مرکوز کیے ہوئے ہيں۔ یہ اقدام کچھ حد تک تو کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر دکھاوے سے زیادہ کچھ بھی نہيں ہيں۔

ریستوران ہمارے لیے اتنے خطرناک کیوں ہيں؟ سب سے پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یہاں لوگ اونچا بات کرتے ہيں، جس سے ہوا میں زیادہ ذرات خارج ہوتے ہيں، جن سے کرونا وائرس پھیلانے کا امکان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ ریسرچرز اب تک یہ نہيں جان پائے ہيں کہ وائرس کا شکار ہونے کے لیے آپ کے جسم میں کتنے ذرات داخل ہونے کی ضرورت ہے اور آپ کے لیے کتنا ایکسپوژر محفوظ ہے۔ سینٹرز فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق کسی کے ساتھ 15 منٹ تک بیٹھنا کافی ہے۔ تاہم ہوا میں قائم رہنے والے ذرات کا مطالعہ کرنے والے یونیورسٹی آف کولوریڈو کے پروفیسر ہوزے لوئیز جیمینیز (Jose-Luis Jimenez) بتاتے ہيں کہ ریستورانوں کے باعث پھیلنے والے تمام کیسز میں متاثرہ افراد کم از کم 30 منٹ تک ایک دوسرے کے قریب بیٹھے تھے۔ covid-19 سے متاثرہ افراد کمرہ چھوڑ کر جانے کے بعد بھی وائرس پھیلانے کی وجہ بن سکتے ہيں، لیکن جیمینیز کا کہنا ہے کہ اب تک ایسا کوئی کیس سامنے نہيں آیا ہے۔ وہ بتاتے ہيں کہ وائرس کا زور ایک سے دو گھنٹوں کے اندر ٹوٹ جاتا ہے۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ریستورانوں کے اندر ماسکس نہيں پہنے جاتے۔ لوگ کھانا کھاتے وقت ماسکس اتار دیتے ہيں اور اکثر باہر نکلنے تک انہيں دوبارہ نہیں پہنتے۔ اس کے علاوہ، کئی ریستورانوں میں ہواداری کا نظام بھی صحیح نہيں ہوتا، جس کی وجہ سے وائرس پھیلانے والے ذرات اندر ہی قید رہتے ہيں۔

کامیاب ریستورانوں میں دور دور سے اور بڑی تعداد میں لوگ کھانا کھانے آتے ہيں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ایسی جگہوں پر ایک متاثرہ شخص کئی درجن افراد کو بیمار کرسکتا ہے۔ اب تک جتنے بھی کیسز سامنے آئے ہيں جن میں کرونا وائرس بہت تیزی سے پھیلا ہو، ان میں سے زيادہ تر کیسز کسی ایسے ریستوران میں شروع ہوئے تھے جہاں ہواداری کا درست انتظام نہیں تھا، جہاں لوگ ایک دوسرے کے بہت قریب بیٹھے تھے، اور جہاں لوگ اونچا بات کررہے تھے۔

اکتوبر کی ابتداء میں پبلک ہیلتھ اینگلینڈ (Public Health England) کو معلوم ہوا کہ پچھلے دو مہینوں کے دوران کرونا وائرس کے جتنے مثبت کیسز سامنے آئے ہيں، ان میں سے زيادہ تر افراد نے علامات شروع ہونے سے دو سے سات روز قبل کسی ریستوران میں کھانا کھایا تھا۔ سکاٹ لینڈ کی حکومت کے مطابق covid-19 کے شکار 25  فیصد افراد علامات ظاہر ہونے سے ایک ہفتہ قبل کسی ریستوران، کیفے، یا بار گئے تھے۔ اس کے علاوہ، سینٹرز فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کی 802 افراد پر کی جانے والی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن افراد کا covid-19 کا ٹیسٹ مثبت نکلتا ہے، ان کا ایک ہفتہ قبل کسی ریستوران میں کھانا کھانے کا امکان منفی ٹیسٹ رکھنے والے شخص کے مقابلے میں دو گنا زيادہ ہوتا ہے۔

سینٹر فار ڈزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول کی اس تحقیق کے ایک مصنف، بیتھ اسرائیل ڈیکنیس میڈیکل سینٹر (Beth Israel Deaconness Medical Center) میں ہنگامی میڈیسن کے پروفیسر نیتھن شپیرو (Nathan Shapiro) کہتے ہيں کہ ”اس میں کوئی شک نہيں ہے کہ ان دونوں چیزوں کے درمیان بہت گہرا تعلق ہے۔“

کرونا وائرس کے باعث باہر کھانے پینے کی صنعت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ ٹیک اوے اور ڈیلیوری کی سہولیات پیش کرنے والے ریستوران تو کامیاب رہے، لیکن ہزاروں ریستورانوں کو اپنے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کرنے پڑے، جس سے لاکھوں لوگوں کی نوکریاں بھی ختم ہوگئيں۔

ہم باہر کے کھانے کو کس طرح محفوظ بناسکتے ہيں؟

ریستوران میں بیٹھ کر کھانا کھانا کرونا وائرس پھیلنے کی بہت بڑی وجہ ہے، لیکن انفیکشن کا خطرہ کم کرنے کے کئی طریقے موجود ہيں۔ پینسلوینیا سٹیٹ یونیورسٹی میں آرکیٹیکچرل انجنیئرنگ کے پروفیسر ولیم باہنفلیتھ (William Bahnfleth) بتاتے ہيں کہ ”جب بھی لوگ کسی بند جگہ میں رہتے ہیں، خطرہ تو ہوتا ہی ہے۔“ ان خطرات کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ صرف ایک ہی قدم اٹھانے سے کام نہيں چلے گا۔ جب تک ایک ساتھ کئی اقدام نہيں اٹھائے جائيں گے، ریستورانوں کو محفوظ قرار نہيں دیا جاسکتا۔

سب سے پہلے تو لوگوں کو باہر بیٹھ کر کھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یو سی سینٹا باربرا کے سینٹر فار کمپلیکس اینڈ نان لینیئر سائنس (Center for Complex and Nonlinear Science) کے ڈائریکٹر بجورن برنیر (Bjorn Birnir) بتاتے ہيں کہ کسی ریستوران میں اندر بیٹھ کر کھانے سے کرونا وائرس پھیلنے کے خطرے میں 20 گنا تک اضافہ ممکن ہے۔ تاہم کئی ریستورانوں کو مقامی حکام سے اپنے گاہکوں کو باہر بٹھانے کی اجازت نہيں ملی ہے۔ اس کے علاوہ، کئی کے پاس اس کے لیے فرنیچر اور ہیٹرز کا انتظام کرنے کے لیے رقم بھی موجود نہيں ہے۔

اگر صارفین کو باہر بٹھانا ممکن نہ ہو تو ریستورانوں کو کم از کم اندر بیٹھ کر کھانے والوں کے لیے اقدام کرنے چاہیے۔ تمام عملے کے لیے ہمہ وقت ماسکس پہننا ضروری ہے، اور صارفین کو بھی اپنے ماسکس صرف اسی وقت اتارنے چاہیے جب وہ کھانا کھا رہے ہوں۔ ماسکس سے ہوا میں زيادہ دیر تک رہنے والے ذرات کی سو فیصد روک تھام تو ممکن نہيں ہے، لیکن کچھ فائدہ تو ضرور ہوگا۔ اس کے علاوہ، صارفین کو ہر ممکنہ حد تک ایک دوسرے سے دور بٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس سے بھی سو فیصد تحفظ تو یقینی نہيں بنایا جاسکتا، لیکن کرونا وائرس کا امکان کچھ حد تک تو کم کیا جاسکتا ہے۔ جیمینیز کہتے ہيں کہ ”فرض کریں کہ کوئی شخص سگریٹ پی رہا ہے اور آپ اس کے دھوئيں سے بچنے کی کوشش کررہے ہيں۔ خود کو کرونا وائرس سے بچانے کے لیے آپ کو یہی کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔“

ریستوران اپنے ماحول میں بھی تبدیلی لاسکتے ہيں۔ لندن میں واقع سیمز رور سائڈ (Sam’s Riverside) نامی کیفے کے مالک سیم ہیریسن (Sam Harrison) کہتے ہیں کہ ریستوران میں بجنے والی موسیقی کی آواز کم کر کے صارفین کو اونچا بات کرنے سے روکا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ، صارفین کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھنے سے بھی گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ جاپان میں فوگاکو (Fugako) نامی سپرکمپیوٹر کی سیمولیشنز کے مطابق اس سے 75 فیصد کم ذرات پھیلتے ہيں۔

کسی ریستوران کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگانا ممکن نہيں ہے کہ اندر کی ہوا کتنی بار تبدیل ہوتی ہے۔ باہنفلیتھ کہتے ہيں کہ فی گھنٹہ چار سے چھ بار اندر کی گندی ہوا کو باہر کی وائرس سے پاک ہوا سے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے رستورانوں کے دروازے یا کھڑکیاں کھولی جاسکتی ہیں، ہوا کی فلٹریشن کی جاسکتی ہے، یا ہوا میں جراثیم مار دوا کا چھڑکاؤ کیا جاسکتا ہے۔ ہوا کے معیار کی جانچ کے لیے ماہرین کو بلوانا بہت مہنگا ثابت ہوسکتا ہے، اسی لیے باہنفلیتھ کاربن ڈائی آکسائيڈ کا مانیٹر لگوانے کا مشورہ دیتے ہيں (جس کی قیمت محض 150 ڈالر ہے)۔ اگر کاربن ڈائی آکسائيڈ کی مقدار 800-950 حصے فی ملین سے کم ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اس کمرے میں ہواداری کا مناسب انتظام ہے۔

ریستوران اپنے اقدام کی افادیت کی پیمائش کس طرح کرسکتے ہيں؟

ریستوران کے مالکان کس طرح معلوم کرسکتے ہيں کہ ان کے یہ اقدام کس حد تک فائدہ مند ثابت ہورہے ہيں؟ اس کے لیے سیٹی (Setty) نامی انجنیئرنگ کمپنی، آریگن یونیورسٹی، اور یونیورسٹی آف کولوریڈيو، بولڈر کی ویب سائٹس پر موجود مفت آن لائن کیلکولیٹرز کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان میں ریستوران کے سائز، چھت اور زمین کے درمیان فاصلے، اور گنجائش جیسی تفصیلات درج کرکے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کوئی ریستوران کس حد تک محفوظ ہے۔ ان ٹولز میں ہوا میں زيادہ دیر تک قائم رہنے والے ذرات کے خطرے کے ماڈلز کا استعمال کیا جاتا ہے، اور ان نتائج کی تشریح کے لیے اعداد و شمار کے متعلق سمجھ بوجھ رکھنا ضروری ہے۔ تاہم ان سے کافی فائدہ ہوسکتا ہے۔ باہنفلیتھ کہتے ہیں کہ ”ہمیں اب تک پوری طرح معلوم نہيں ہے کہ ایک متاثرہ شخص کس حد تک وائرس پھیلا سکتا ہے اور آپ کو انفیکشن کا شکار ہونے کے لیے کتنا ایکسپوژر درکار ہے۔ تاہم اب تک ہمارے پاس اس سے بہتر کوئی طریقہ نہيں ہے۔“ اس قسم کے ٹولز میں اس بات کو خاطر میں نہيں لیا جاتا ہے کہ کسی کمرے میں موجود لوگوں نے اپنا ماسک درست طریقے سے پہنا ہے یا نہيں۔ اسی لیے ان سے حاصل کردہ نتائج کو دیکھ کر یہ نہيں سمجھنا چاہیے کہ کوئی ریستوران سو فیصد محفوظ ہے۔

اگر کوئی ریستوران دروازے کھلے نہيں رکھ سکتا، تو انہيں ایئر پیوریفائیرز استعمال کرنے چاہیے، جن سے ہوا میں زيادہ دیر تک رہنے والے ذرات میں 99 فیصد کمی ممکن ہے۔ کچھ ریستورانوں کے ہیٹنگ اور ایئرکنڈيشننگ سسٹمز میں اس قسم کے پیوریفائیرز پہلے سے نصب ہوتے ہيں۔ تاہم اگر ایسا نہ ہو تو وہ محض 100 ڈالر کے تین چار پیوریفائرز خرید سکتے ہيں۔

اب ہم ایسے حفاظتی اقدام کی بات کرتے ہیں جو کئی ریستوران کر تو رہے ہيں لیکن ہمارے خیال سے ان سے زيادہ فائدہ نہيں ہوتا۔ سب سے پہلے تو اندر آنے والے ہر شخص کے درجہ حرارت کی پیمائش کی جاتی ہے۔ اس سے بخار کے شکار لوگوں کی نشاندہی ممکن ہے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس سے ان افراد کی نشاندہی نہيں ہوپاتی جن میں کسی قسم کی علامات سامنے نہ آئی ہوں۔ اس کے علاوہ، کچھ ریستوران اپنے صارفین کو ایک دوسرے سے دور بٹھاتے ہيں۔ اس سے چھینکنے یا کھانسنے سے کرونا وائرس کے ذرات پھیلانے کا امکان تو کم ہوجاتا ہے، لیکن ہوا میں زیادہ دیر تک قائم رہنے والے ذرات کی روک تھام ممکن نہيں ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ جب تک ہوا میں وائرس موجود ہے، لوگ باہر کھانا کھانے سے گریز کریں گے، اور ریستوران اس کے بارے میں کچھ نہيں کرسکتے۔ وہ صرف خود کو اس تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق ڈھال سکتے ہيں۔ مثال کے طور پر، وہ ٹیک اوے اور ڈيلیوری کی سہولیات میں اضافہ کرسکتے ہيں اور اپنے صارفین کو باہر بٹھانے کی کوشش کرسکتے ہيں۔ سیمز روڈ سائڈ کے مالک سیم ہیریسن کا خیال ہے کہ کم از کم اگلے چند مہینوں تک تو صورتحال پہلے کی طرح نہيں ہوسکتی۔ وہ کہتے ہيں کہ ”ہم مر تو نہيں جائيں گے، لیکن حالات مشکل ضرور ہوں گے۔“


تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Jee)

تصویر: جو ریڈل | گیٹی امیجز (Joe Raedle | Getty Images)

Read in English

Authors

*

Top