Global Editions

دھات کے ایک ڈبے میں دھوپ کے بغیر چار ٹن کھانا کس طرح تیار کیا جاسکتا ہے؟

ایک ریسرچر شہری ماحول میں پودے اگانے کی کوشش کررہی ہیں۔

جیمی سلورسٹائن (Jaime Silverstein) روزانہ کھیتی باڑی کرتی ہیں، لیکن ان کا کھیت کسی دیہات میں نہيں بلکہ ایک شپنگ کے کنٹینر میں پروان چڑھ رہا ہے، اور وہ بھی بوسٹن کے شہر میں۔ سلورسٹائن شہری کسانوں کی ایک تیزی سے مقبول ہونے والی تحریک کا ایک حصہ ہیں، جو شہر کے رہائشیوں کو کھانے کی فراہمی کے مراحل کی تعداد میں کمی لانے کے لیے موثر ہائی ٹیک ہائيڈروپونک (hydroponic) طریقہ کار سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہيں۔

شہری کھیت

سلورسٹائن فریٹ فارمز (Freight Farms) نامی ایک کمپنی میں فصلوں کی ماہر کے طور پر کام کررہی ہيں، جو کسی بھی موسم یا کسی بھی علاقے میں دو سے چار ٹن سالانہ فصلیں پیدا کرنے کے لیے ہائيڈروپونکس کے آلات سے آراستہ شپنگ کنٹینرز تیار کرتی ہے، جنہيں "لیفی گرین مشینز" (Leafy Green Machines) کا نام دیا گیا ہے۔ سلورسٹائن کہتی ہیں "آپ کو ان کے لیے اچھی مٹی کی ضرورت نہيں ہے۔ آپ انہیں کسی بھی پارکنگ لاٹ میں سیمنٹ پر بھی لگاسکتے ہيں۔" زیادہ تر شہری علاقوں میں اچھی زمین کی قلت ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

ان کنٹینرز میں بنیادی طور پر ہرے پتوں والی سبزیاں، جیسے کہ سلاد کے پتے اور سفید چقندر، اگائے جاتے ہیں، کیونکہ انہیں نہ صرف آسانی سے پروان چڑھایا جاسکتا ہے، بلکہ ایک چھوٹے سے رقبے میں کئی پودے بھی لگائے جاسکتے ہيں۔

ان کنٹینرز کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی مدد سے بوسٹن جیسے شہر میں جہاں ٹھنڈ کے علاوہ برف بھی پڑتی ہے، موسم کے لحاظ سے حساس پودے اگائے جاستے ہیں۔ تاہم، سلورسٹائن اس سے بھی بڑے خواب دیکھ رہی ہیں۔ فریٹ فارمز ناسا کے ساتھ کام کرکے لیفی گرین مشینز کو خلاء میں بھیجنے کی بھی کوششیں کرچکے ہيں۔ سلورسٹائن کہتی ہیں "ہم نے پودوں کی افزائش کی رفتار میں اضافے پر نظر ڈالی ہے، اور یہ بھی دیکھنے کی کوشش کی ہے کہ بیجوں اور دیگر اجزا کو، یعنی پودوں کے بڑھنے کے لیے ضروری غذائیت جسے خلاء میں حاصل کرنا بہت مشکل ہے، وقت کے ساتھ ساتھ کس طرح دوبارہ تخلیق کیا جاسکتا ہے۔" وہ مزید کہتی ہیں "میں سمجھتی ہوں کہ یہ بہت مزے دار اور دلچسپ کام ہے۔ نہ صرف خلاء کے لیے بلکہ پورے ہائيڈروپونکس کے نظام کو زيادہ پائيدار اور محدود کرنے کے لیے۔"

کسانوں کی ایک نئی نسل

سلورسٹائن کا شمار ایک تعلیم یافتہ نوجوان نسل سے ہے جو سمجھتی ہے کہ کھیتی باڑی کے ذریعے دنیا کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ امریکی محکمہ زراعت کے مطابق 2007ء اور 2012ء کے درمیان 25 سے 34 سالہ کسانوں کی تعداد میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور پچھلی صدی میں صرف دوسری بار ہی ایسا ہوا ہے۔ ان نوجوان کسانوں میں سے 69 فیصد کے پاس یونیورسٹی کی ڈگریاں ہیں۔ سلورسٹائن کہتی ہیں "میں نے کاروباری اور ماحولیاتی پالیسی میں ڈگری حاصل کی ہے۔ میرے خیال میں ماحولیاتی اثرات کم کرنے کا سب سے بہترین اور معنی خیز طریقہ زراعت اور خوردنی اشیاء کی کاشت ہے۔"

بحیثیت فصلوں کی ماہر، سلورسٹائن کسان، سائنسدان اور دفتری ملازم کی مجموعی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔ دفتری اوقات میں وہ اپنا وقت کسٹمر سروس یا فریٹ فارمز کی ٹیسٹ فارمنگ کے سیٹ اپس سے حاصل کردہ ڈيٹا کا تجزیہ کرنے میں گزارتی ہيں۔ ان کا باقی وقت کونپلیں اگانے اور اپنی کمپنی کے کنٹینر کی جامنی رنگ کی دیواروں میں خوردنی پھول اور تیز مرچوں پر تجربات کرنے میں گزرتا ہے۔

پودوں کے ساتھ اس قدر وقت گزارنے کے بعد ان کا ان پودوں کے ساتھ کافی گہرے تعلقات قائم ہوجاتے ہیں، اور جب ان کے تجربے ناکام ہوجاتے ہيں تو ان کا دل بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ سلورسٹائن کہتی ہیں "جب ایسا ہوتا ہے تو مجھے لگتا ہے کہ مجھے کچھ اور کرنا چاہیے تھا، یا مجھے افسوس ہوتا ہے کہ یہ پودے بڑے نہيں ہورہے ہيں۔ میں انہیں ٹھیک کرنا چاہتی ہوں۔ ان پودوں کے ساتھ آپ کا کافی گہرا تعلق قائم ہوجاتا ہے۔"

تحریر: ایرن ونک (Erin Winick)

Read in English

Authors
Top