Global Editions

خلائی جنگ کس طرح جیتی جاسکتی ہے؟

سیٹلائٹس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان پر حملہ کسی جنگ سے کم نہيں ہے۔ ممکن ہے کہ ہمارے خدشات درست ثابت ہوچکے ہوں۔

اس سال مارچ میں روس، امریکہ اور چین کے بعد بھارت کا نام بھی زمین کے اطراف گردش کرنے والی سیٹلائٹ کو کامیاب طور پر تباہ کرنے والے ممالک میں شامل ہوگیا۔ مشن شکتی نامی اس مہم کا مقصد براہ راست اوپر جانے والے اینٹی سیٹلائٹ ویپن (anti-satellite weapon – ASAT)، یعنی زمین سے لانچ ہونے والی میزائل، کا مظاہرہ کرنا تھا۔ عام طور پر اس قسم کے ASAT میں بیلسٹک میزائل کے اوپر رہنمائی کے نظام سے آراستہ دھات کے ٹکڑے کی شکل کا ایک ‘‘تباہ کن آلہ’’ نصب کیا جاتا ہے جو میزائل کے کرہ زمین سے باہر نکلنے کے بعد اس سے علیحدہ ہو کر نشانے کے قریب پہنچنے تک اصلاحات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ گردش کی رفتار پر، کسی بھی دھماکہ خیز مواد کی ضرورت نہيں رہتی، کائنیٹک توانائی ہی کافی ہے۔

سیٹلائٹس کو مار گرانے کی باتیں اس وقت سے کی جارہی ہیں جب سے سیٹلائٹس ایجاد ہوئے تھے۔ 1958ء سپٹنک کے لانچ کے ایک سال کے اندر ہی امریکہ نے پہلا ASAT ٹیسٹ کیا تھا، جو ناکام ثابت ہوا۔ سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سویت یونین دونوں نے سیٹلائٹس پر حملہ کرنے کے لئے پیچیدہ آلات تیار کیے۔ امریکہ کے پاس فائٹر جیٹس سے لانچ کیے جانے والے میزائلز (جن کی 1985ء میں کامیاب طور پر ٹیسٹنگ کی گئی) کے علاوہ دشمن سیٹلائٹس تباہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے جوہری سیٹلائٹس بھی موجود تھے۔ 2007ء میں چین میں پہلا کامیاب ASAT ٹیسٹ کیا گيا۔

بیان بازی کے باوجود اب تک کوئی بھی ملک کسی بھی دوسرے ملک کی سیٹلائٹس تباہ کرنے میں کامیاب نہيں رہا ہے، اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ صلاحیت رکھنے والے زیادہ تر ممالک جوہری طاقتیں بھی ہیں۔ تاہم جیسے جیسے سیٹلائٹس کی عام شہریوں کی زندگیوں اور جنگی عملیات میں اہمیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، اس بات کا بھی امکان بڑھ رہا ہے کہ کسی کو ان سیٹلائٹس پر حملہ کرنے کا فائدہ نظر آئے اور اس طرح دنیا کی سب سے پہلے خلائی جنگ چھڑ جائے۔

ایک طرح سے یہ ممالک سپٹنک کے زمانے سے ہی سیٹلائٹس استعمال کرکے دشمنوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھ کر خلائی جنگ لڑرہے ہیں۔ سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سویت یونین نے ممکنہ جوہری حملوں اور جوہری اسلحے کو منظم کرنے کے لیے خلاء سے فائدہ اٹھایا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب خلاء میں پہلا قدم اٹھانے کا نتیجہ صرف اور صرف جوہری حملہ ہی تھا۔

اب جی پی ایس اور سیٹلائٹ مواصلت ہمارے انفراسٹرکچر میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہيں۔ لہٰذا ان پر حملوں سے تباہی مچ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ افواج بھی سیٹلائٹس کا پہلے سے زیادہ استعمال کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر افغانستان اور عراق میں استعمال ہونے والے ریپر (Reaper) ڈرونز جیسے مسلح UAVs کے ڈیٹا اور ویڈیو فیڈز انسانی آپریٹرز کو بذریعہ سیٹلائٹ بھیجے جاتے ہیں۔ اسی طرح سیٹلائٹس دنیا بھر کے آپریشنز سینٹرز کو انٹیلی جینس اور تصاویر بھی بھیجتی ہیں۔ چینی تجزیہ کاروں کے تخمینے کے مطابق 90 فیصد امریکی فوجی انٹیلی جنس میں خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ سیکیور ورلڈ فاؤنڈیشن (Secure World Foundation) کے واشنگٹن کے دفتر کی ڈائریکٹر وکٹوریا سیمسن (‎‎Victoria Samson) کہتی ہیں

‘‘خلائی جنگ کے بارے میں بات کرنے والے لوگ اکثر یہی سمجھتے ہيں کہ اس میں ابھی بہت وقت ہے اور اگر ایسا ہوجائے تو اس سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلے گی، لیکن یہ آنے والے کل کی نہيں، آج کی بات ہے۔’’

خلاء کا افواج کے درمیان زمینی تصادم میں کردار بہت اہم ہے۔ لہٰذا واشنگٹن ڈی سی میں واقع CSIS نامی تھنک ٹینک کے ایئروسپیس سیکورٹی پراجیکٹ (Aerospace Security Project) کے سربراہ ٹوڈ ہیریسن (Todd Harrison) کہتے ہیں ‘‘سرد جنگ

کے مقابلے میں آج کشیدگی کی روک تھام میں بے یقینی کا عنصر زيادہ ہے۔’’غیر ریاستی عناصر کے علاوہ شمالی کوریا اور ایران سمیت کئی ممالک کو ایسی خلائی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوچکی ہے جس کی مدد سے خلاء میں طاقتور ممالک کو بہت نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔

اس مقصد کے حصول کے لیے سیٹلائٹس کو تباہ کرنا ضروری نہيں ہے۔ سیٹلائٹس اور زمینی سٹیشنز کے درمیان ڈیٹا کی منتقلی میں مداخلت کے ذریعے بھی حملہ کیا جاسکتا ہے۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ چند ہیکرز ایسا کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔

2008ء میں ناروے کے زمینی سٹیشن پر حملے کی مثال لے لیں جس میں ایک ہیکر ناسا کی لینڈسیٹ (Landsat) سیٹلائٹس میں 12 منٹ تک مداخلت متعارف کرنے میں کامیاب رہا۔ اسی سال ہیکرز نے ناسا کے ٹیرا ارتھ (Terra Earth) کی آبزرویشن

سیٹلائٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کمانڈز جاری کرنے کے علاوہ ہر طرح کے کام کرڈالے۔ یہ بات واضح نہيں ہوسکی ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ نہ ہی یہ معلوم ہوسکا ہے کہ اس حملے کے پيچھے کس کا ہاتھ ہے۔ تاہم کچھ مبصرین نے چین کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیکرز کسی سیٹلائٹ کو بے کار کرنے کے لیے اس کی مواصلت بند کرسکتے ہيں۔ اس کے علاوہ سیٹلائٹ کا تمام ایندھن جلانا یا امیجنگ سیسنر کا رخ سورج کی طرف کرکے سیٹلائٹ کو بھسم کرنا بھی ممکن ہیں۔

سیٹلائٹ سگنلز کی جیمنگ (jamming) یا سپوفنگ (spoofing) کرکے بھی حملہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ زيادہ پیچیدہ عمل بھی نہيں ہے۔ جیمنگ یا سپوفنگ نہ صرف ہیکنگ سے زیادہ آسان ہیں بلکہ اس کے لیے ضروری تمام آلات بہ آسانی دستیاب بھی ہيں۔

جیمرز، جنہيں عام طور پر ٹرکوں کی پشت پر نصب کیا جاتا ہے، جی پی ایس یا سیٹلائٹ کے مواصلتی نظاموں کی فریکوئینسی استعمال کرتے ہوئے ان کے سگنلز بلاک کرتے ہیں۔ سیکیور ورلڈ فاؤنڈیشن میں خلاء کی پالیسی  کے ماہر برائن ویڈن (Brian Weeden) کہتے ہيں ‘‘یہ

آلات جیمر کے گرد ایک دیوار کھڑی کرتے ہیں جس میں سیٹلائٹ کے سگنلز کام نہيں کرتے۔’’ جیمنگ سے بیس سٹیشن سے سیٹلائٹ تک جانے والے کمانڈ سگنلز میں مداخلت پیدا ہوتی ہے یا صارفین تک پہنچنے سے پہلے سگنل متاثر ہوسکتا ہے۔

روس پر ناروے اور فن لینڈ میں نیٹو کی مشقوں کے دوران جی پی ایس سگنلز جیمنگ کے علاوہ دوسرے تصادموں میں بھی اسی قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ویڈن کہتے ہیں ‘‘روس پورے یوکرین میں جیمرز لگا کر خلائی نظاموں پر حملے کررہا ہے۔’’ جیمنگ اور غیرارادی مداخلت کے درمیان امتیاز کرنا بہت مشکل ہے، جس کے باعث کسی بھی فریق کو ذمہ دار ٹھہرانا بہت مشکل ہے۔ (امریکی فوج بھی اکثر غلطی سے اپنے مواصلتی سیٹلائٹس کو جام کردیتی ہے)۔ امریکی ڈیفینس انٹیلی جینس ایجنسی (Defense Intelligence Agency – DIA) کی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گيا ہے کہ چین اب ایسے جیمرز تیار کررہا ہے جو فوجی مواصلت کے بینڈز سمیت کئی فریکوینسیوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ شمالی کوریا نے روس سے جیمرز خرید لیے ہيں اور عراق اور افغانستان میں باغی گروپس نے بھی ان کا استعمال کیا ہے۔

دوسری طرف سپوفنگ میں ایک جعلی سگنل بھیج کر زمین پر نصب جی پی ایس آلات یا دیگر سیٹلائٹ ریسیورز کو دھوکا دیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ بھی بہت آسان ہے۔ 2013ء میں یونیورسٹی آف ٹیکسس کے کچھ طلباء نے جعلی جی پی ایس سگنل پیدا کیا جس کی وجہ سے آٹھ کروڑ ڈالر کی مالیت رکھنے والی ایک نجی کشتی اپنی منزل سے سینکڑوں میٹر دور بھٹک گئی۔ ان کے اعتراف کرنے سے پہلے کسی کو بھی اس کوشش کی بھنک نہیں لگی۔ روس اپنے انفراسٹرکچر کی حفاظت کے لیے بظاہر سپوفنگ کا استعمال کررہا ہے۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ صدر ولاڈیمر پیوٹن اپنی نقل و حرکت کو پوشیدہ رکھ کر خود کو ڈرون حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی سپوفنگ ہی کا استعمال کرتے ہيں۔

جیمنگ اور سپوفنگ سے دشمن کے ذہن میں اپنے ہی آلات کے متعلق خدشات بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان تکنیکس کو کسی بھی وقت منقطع کیا جاسکتا ہے، جس کے باعث ذمہ دار فریقین کی نشاندہی اور بھی زيادہ مشکل ہوجاتی ہے۔

اگر کسی سیٹلائٹ کو مکمل طور پر تباہ و برباد کرنے کی بات کی جائے تو لیزر ٹیکنالوجی کا تذکرہ کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔

اس وقت کوئی بھی ملک ایسے لیزرز تیار نہیںکرسکا ہے جو سیٹلائٹس کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کے لیزرز کے لیے توانائی پیدا کرنا بہت مشکل ہے۔

تاہم لیزرز کو زمینی سٹیشن سے فائر کرنا یا ہوائی جہاز پر نصب کرنا ممکن ہے۔ خلائی ٹیکنالوجی کے نمایاں ممالک اس وقت اس قسم کے اسلحے پر کافی سرمایہ کاری کرچکے ہيں۔ اب تک اس بات کا ثبوت نہيں ملا ہے کہ کسی نے لیزرز کی مدد سے خلائی سیٹلائٹس کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہو، لیکن کرہ ہوا میں گردش کرنے والے میزائلز کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ DIA کی رپورٹ کے مطابق چین اگلے سال تک ایسی زمینی ٹیکنالوجی بنانے میں کامیاب ہوجائے گا جس کے ذریعے زمین کے قریب گردش کرنے والی سیٹلائٹس کے آپٹیکل سینسرز کو تباہ کرنا ممکن ہوگا (اور جو 2020ء کی دہائی تک سیٹلائٹ کی پوری ساخت کو تباہ کرسکيں گے)۔ عام طور پر لیزرز کا مقصد سیٹلائٹ کو بھسم کرنے کے بجائے اس کے امیج کے سینسرز پر اس قدر زور ڈالنا ہوتا ہے کہ اس کی حساس مقامات کی تصاویر کھینچنے کی صلاحیت ختم ہوجائے۔ اگر لیزر طاقت ور ہو تو سیٹلائٹ کو مستقل طور پر نقصان بھی پہنچایا جاسکتا ہے۔

لیزرز سے فائدہ اٹھانے کے لیے درست طور پر نشانہ لگانے کے علاوہ بڑی زمینی دوربینوں کی طرح کرہ ہوا میں مداخلتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پیچیدہ آپٹک ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ اس وقت ان کے استعمال کے متعلق افواہیں پھیلائی جارہی ہيں۔ 2006ء میں امریکی افسران نے دعویٰ کیا تھا کہ چین اپنے علاقہ جات کے اوپر گزرنے والے امیجنگ سیٹلائٹس کے خلاف لیزر ٹیکنالوجی استعمال کررہا ہے۔

ہیریسن کہتے ہیں ‘‘زمین سے قریب اس قسم کی جارحیت عام ہے۔ کئی ممالک اپنی حدود پار کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، لیکن وہ اب تک تصادم کی سطح پر نہيں پہنچے۔’’

 نومبر 2016ء میں AGI نامی ایئروسپیس کمپنی کے کمرشل سپیس فلائٹ سینٹر (Commercial Spaceflight Center) کو ایک بہت عجیب

چیز نظر آئی۔ اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شمسی سیلز اور نئے اقسام کے ایندھن کی ٹیسٹنگ کرنے کے لیے بنائی گئی ایک چینی سیٹلائٹ، جسے کچھ عرصہ قبل ہی لانچ کیا گیا تھا، دوسری چینی مواصلتی سیٹلائٹس کے قریب کچھ دیر تک گردش کرنے کے بعد ان سے دوبارہ دور چلی گئی۔ بلکہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ دوسری سیٹلائٹس سے خطرناک حد تک قریب جاپہنچی۔ 2017ء اور پھر 2018ء میں اس سیٹلائٹ نے دوبارہ ایسا ہی کیا۔ اسی طرح دسمبر میں لانچ ہونے والی ایک اور چینی سیٹلائٹ نے جیوسٹیشنری گردش تک پہنچنے کے بعد ایک بظاہر خودمختار چیز خارج کی۔

کہا جارہا ہے کہ چین کوآربیٹل (co-orbital) حملے کی مشق کررہا ہے جس میں مطلوبہ سیٹلائٹ کی طرف بھیجی جانے والی کوئی شے درست مقام پر پہنچ کر احکامات کا انتظار کرتی ہے۔ ضروری نہيں ہے کہ اس سرگرمی کا مقصد جارحیت پھیلانا ہو۔ ممکن ہے کہ یہ اشیاء دوسری سیٹلائٹس کے معائنے یا مرمت کے لیے گردش کررہی ہوں۔ لیکن کو آربٹنگ کو دشمن سیٹلائٹس کے ڈيٹا کی جیمنگ یا جاسوسی کے علاوہ ان پر حملے کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

روس بھی جیوسٹیشنری گردش کے میدان میں ہاتھ پیر مارنے کی کوشش کررہا ہے۔ اولمپ کے (Olymp-K) نامی ایک سیٹلائٹ نے باقاعدگی کے ساتھ گردش کرنا شروع کردیا ہے اور ایک وقت وہ دو انٹیل سیٹ (Intelsat) کمرشل سیٹلائٹس کے درمیان آکر کھڑی ہوگئی۔ اس کے علاوہ وہ فرانسیسی اور اطالوی جنگی سیٹلائٹ کے اس قدر قریب پہنچ گئی کہ فرانسیسی حکومت نے اسے ‘‘جاسوسی’’ سے مشابہت دی۔ اسی طرح امریکہ نے بھی ایسی کئی سیٹلائٹس کی ٹیسٹنگ کی ہے جو خلاء میں گھوم سکتی ہیں۔

امریکہ کئی دہائیوں سے خلاء میں سب سے نمایاں ملک رہا ہے، جس کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان بھی اسے ہی ہوگا۔ ڈی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق چین اور روس نے اپنی افواج کو نئے سرے سے اس طرح منظم کیا ہے کہ اب وہ بھی خلائی جنگوں میں اہم کردار ادا کرسکیں گی۔ (صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سپیس فورس کی بحالی کے فیصلے کا بہت مذاق اڑایا گیا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فوجی حکمت عملی میں اس کی اہمیت کا اضافہ ہوگا۔) اس کے علاوہ امریکی افواج کو اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ امریکہ اپنا نمایاں مقام کھوچکا ہے۔ ہیریسن کہتے ہیں ‘‘روس اور چین کے کاؤنٹرسپیس کے نظاموں میں جس رفتار سے ترقی ہورہی ہے، ہم اس رفتار سے اپنے سیٹلائٹس کی حفاظت نہيں کرپارہے ہیں، جس کی وجہ سے ہمارے لیے خلائی حملے کے خطرے کا امکان بڑھ گیا ہے۔’’

اس کے جواب میں امریکی افواج سیٹلائٹس کو تلاش کرنے اور ان پر حملہ کرنے کو مزید مشکل بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ مثال کے طور پر 2022ء میں لانچ کی جانے والی نئی تجرباتی جی پی ایس سیٹلائٹ NTS3 میں ایسے پروگرام ایبل اینٹینا نصب ہوں گے جو جیمنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ پاور پر نشریات کریں گے۔ یہ سیٹلائٹ نہ صرف زمینی کنٹرولز کے ساتھ رابطہ منقطع ہونے کی صورت میں اپنی درستی برقرار رکھے گی بلکہ اس میں سگنل روکنے کی کوششوں کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہوگی۔

انفرادی سیٹلائٹس کو زيادہ پائیدار بنانے کے علاوہ مجموعوں کو اس طرح سے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے کہ کسی ایک سیٹلائٹ کی انفرادی اہمیت ختم ہوجائے۔ ڈارپا (DARPA) کا نیا پروگرام بلیک جیک (Blackjack) اسی قسم کا پراجیکٹ ہے جسے زمین کے قریب گردش کرنے والے فوجی مواصلت کی سیٹلائٹس کا کم قیمت نیٹورک بنانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

اپریل میں منعقد ہونے والے نیشنل سپیس سمپوزیم (National Space Symposium) سے ایک خطاب کے دوران امریکی سٹرٹیجک کمانڈ (Strategic Command) کے سربراہ

جنرل جان ہائیٹن (General John Hyten)

کے مطابق ان مجموعات کو جوہری اسلحے کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاستا ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ مضبوط مواصلتی لنکس پر انحصار کرنے کے بجائے جوہری کمانڈ اور کنٹرول کو خلاء کے ہر عنصر سے گزرنے والے لنکس استعمال کرنے چاہئے، تاکہ مخالف کو کبھی بھی معلوم ہی نہ ہوسکے کہ پیغام کو کس طرح پہنچایا جارہا ہے۔

1967ء کی آؤٹر سپیس ٹریٹی (Outer

Space Treaty) کے تحت خلاء اور چاند جیسے ‘‘خلائی اجسام’’ پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے اسلحے کی سخت ممانعت ہے۔ اس کے علاوہ ان اجسام پر ‘‘فوجی بیسز، تنصیبات اور قلعہ بندی’’ کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔ تاہم زمین کے اطراف اس قسم کی کوئی پابندی نہيں ہے۔ خلائی ٹیکنالوجی میں نمایاں مقام حاصل کرنے والے ممالک نے کئی دہائی قبل اس معاہدے پر دستخط تو کردیے لیکن اب اس معاہدے میں خلاء کے پرامن استعمالات ماضی بعید کی باتیں لگتی ہیں۔

اقوام متحدہ کئی دہائیوں سے رکن ممالک کو خلاء کو اسلحے سے پاک رکھنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں کررہا ہے۔ مارچ میں 25 سے زیادہ ممالک نے جینیوا میں ایک خفیہ میٹنگ میں نئے معاہدے پر طویل بحث کی۔ برطانیہ کے یونیورسٹی آف ایکسٹر میں خلائی وکیل ہٹوشی ناسو (Hitoshi Nasu)، جو اپنے رفقاء کار کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کو خلاء پر لاگو کرنے کے متعلق رہنمائی کتابچے پر بھی کام کررہے ہيں، کہتے ہیں ‘‘بنیادی مسئلہ بڑی طاقتوں کے درمیان بھروسہ پیدا کرنا ہے۔’’

سرد جنگ کی طرح کسی بھی ملک کے لیے خلائی تصادم کی روک تھام کا واحد طریقہ آج بھی وہی ہے۔ انہیں دوسرے ممالک پر یہ بات واضح کرنی ہوگی کہ وہ بھی خلائی حملے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہيں۔ ہیریسن کہتے ہیں’’آج ہم اس قسم کے تصادم کے لیے تیار نہيں ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف روک تھام مشکل ہوگئی ہے بلکہ خلائی تصادم کے امکانات میں اضافہ بھی ہوگیا ہے۔‘‘

تحریر: نائل فرتھ

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top