Global Editions

سچ کا قتل عام

کرونا وائرس، احتجاجات، اور عام انتخابات کے باعث امریکہ میں غلط معلومات کی بھرمار نظر آرہی ہے، لیکن اس سے بچا جاسکتا تھا۔

ایک طرف تو ایک عالمی وبا کے باعث لاکھوں امریکی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہيں۔ دوسری طرف چند خواتین انٹرنیٹ پر موجود غلط سلط معلومات پڑھنے کے بعد ماسکس پہنے بغیر دکانوں میں زبردستی گھسنے کی کوشش کر رہی ہيں۔ اس کے علاوہ، ”اینٹیفا “ کے حملوں کے متعلق افواہوں کے بعد امریکہ کے مغرب میں واقع قصبوں میں دائيں بازو سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد کا پہرہ نظر آرہا ہے۔  امریکی عام انتخابات کے دوران اور ان کے بعد جو ہوا، وہ سب سے سامنے ہے۔

دوسری طرف کیو اینون (QAnon) نامی سازشی تھیوری ہے، جس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ خفیہ طور پر بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے ایک شیطان پرست گروہ کا مقابلہ کررہے ہیں۔ کرونا وائرس شروع ہونے کے بعد، کیو اینون نے اس وبا کے باعث پھیلنے والی عدم یقینی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ افواہ پھیلانا شروع کردی کہ کرونا وائرس کا درحقیقت کوئی وجود نہيں ہے اور یہ صرف اور صرف حکومت کی ایک سازش ہے۔ اس کے علاوہ یہ گروپ دوسری آن لائن مہموں میں شرکت کرکے دوسروں کو اپنی تھیوریز پر قائل کرنے کے لیے بھی کوشاں ہے۔ وہ اپنی بے تکی تھیوریز ایک نہایت عام فہم انداز میں بیان کرتے ہيں، جس کے نتیجے میں لوگ انہيں بہت جلدی مان لیتے ہیں۔ کیو اینون پر یقین رکھنے والے افراد ”کیو “ (Q) نامی ایک گمنام اکاؤنٹ کی پیروی کرتے ہيں اور یہاں سے جاری ہونے والی ہر بات کی اندھی تقلید کرتے ہيں۔ حال ہی میں کیو نے اپنے حامیوں کو آن لائن گروپس سے خارج ہونے سے بچانے کے لیے اپنے آن لائن وجود پر  پردہ ڈالنے اور کیو اور کیو اینون کا تذکرہ مکمل طور پر ترک کرنے کی ہدایات جاری کی ہيں۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر کیو اینون گرجا گھروں، صحت کی دیکھ بھال میں معاونت فراہم کرنے والے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے عذاب بنتا جارہا ہے اور وہ اس کی خطرناک سازشی تھیوریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈٹے ہوئے ہيں۔

پیو ریسرچ (Pew Research) کے ایک سروے کے مطابق 2020ء کی ابتداء میں صرف 23 فیصد امریکی شہری کیو اینون سے واقف تھے۔ تاہم جب ستمبر 2020ء میں یہ سروے دوبارہ کروایا گيا تو یہ شرح دگنی ہوچکی تھی۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس تحریک کے متعلق لوگوں کی رائے ان کے سیاسی عقائد کی عکاس تھی۔ پیو کے مطابق کیو اینون کے متعلق معلومات رکھنے والے 41 ری پبلکنز (Republicans) کا خیال تھا کہ اس سے امریکہ کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ دوسرے 77 فیصد ڈیموکراٹس (Democrats) کا کہنا تھا کہ کیو اینون امریکہ کے لیے ”بہت برا “ ثابت ہوگا۔

فیس بک اور ٹوئٹر جیسے بڑے سوشل میڈيا پلیٹ فارمز نے کیو اینون اور اس جیسی غلط معلومات پھیلانے والی تنظیموں کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔ تاہم کئی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ قدم بہت پہلے لیا جانا چاہیے تھا۔ کیو اینون کئی سالوں سے سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلا رہا ہے اور اس کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی نہيں کی گئی تھی۔ ہوسکتا ہے کہ اب بہت دیر ہوچکی ہو۔

ماضی میں کئی امریکی، خصوصی طور پر سفید فام شہری، انٹرنیٹ پر نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کی اس بھرمار سے متاثر نہیں ہورہے تھے، جس کے باعث وہ ایک شترمرغ کی طرح اس مسئلے سے آنکھیں پھیرے ہوئے تھے۔ تاہم اب یہ افراد بھی اس قسم کے مواد کی لپیٹ میں آرہے ہیں۔ بلکہ میرا خیال یہ ہے کہ یہ لوگ اتنے عرصے سے یہی سمجھتے آرہے تھے کہ اس مواد کا ماضی میں کوئی وجود ہی نہيں تھا اور اب یہ اچانک کہیں سے آدھمکا ہے۔

 یہ جاننے کے لیے کہ یہ مسئلہ کس حد تک سنگین ہوگيا ہے، آپ کو صرف یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ماضی میں کتنے لوگوں نے ہماری توجہ اس کی طرف دلانے کی کوشش کی ہے۔

سیاہ فام انٹراپرنیور اور تجزیہ کار شیرین مچل (Shireen Mitchell) ان افراد میں سے ایک ہيں۔ 2010ء کی دہائی میں مچل کا شمار ان ریسرچرز میں ہوتا تھا جو سیاہ فام حقوق نسواں کی کارکنان کے خلاف ٹوئٹر پر پھیلائے جانے والے آن لائن نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کے متعلق ثبوت جمع کررہے تھے۔ مچل کہتی ہيں کہ ”آج ہر کوئی یہی کہہ رہا ہے کہ انہيں توقع ہی نہيں تھی کہ معاملہ اس حد تک آگے بڑھ جائے گا۔ لیکن ہمیں یہ سب بہت پہلے سے نظر آرہا تھا۔ ہم اس پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ “

میری ستمبر میں مچل سے بات ہوئی تھی۔ اس سے ایک ہفتہ قبل ٹوئٹر نے چند افراد کے اکاؤنٹس حذف کیے تھے جو خود کو  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایسے سیاہ فام حامیوں کے طور پر ظاہر کر رہے تھے جو ماضی میں کبھی ڈیموکریٹس ہوا کرتے تھے۔

ٹوئٹر پر خود کو سیاہ فام کے طور پر ظاہر کرنا کوئی نیا حربہ نہيں ہے۔ دو سیاہ فام حقوق نسواں کے کارکنان شفیقہ ہڈسن (Shafiqah Hudson) اور ایناساہ کروکیٹ (I’Nasah Crockett) نے 2014ء میں نوٹ کیا کہ ٹوئٹر پر #EndFathersDay اور #whitewomencantberaped جیسے ہیش ٹیگز سامنے آرہے تھے، جو بظاہر تو سیاہ فام حقوق نسواں کے کارکنان نے شروع کیے تھے، لیکن پس پردہ کہانی کچھ اور تھی۔ یہ ہیش ٹیگز جن ٹوئیٹس میں نظر آرہے تھے، اور ان میں جس قسم کی زبان استعمال کی جارہی تھی، اسے دیکھ کر صاف لگ رہا تھا کہ ان میں سیاہ فام حقوق نسواں کے کارکنان کا مذاق اڑایا جارہا تھا۔ جریدے سلیٹ (Slate) میں شائع ہونے والی ایک تفصیلی تحریر میں کروکیٹ اور ہڈسن نے اس مہم کے متعلق معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ٹوئٹر پر ایسے سینکڑوں جعلی اکاؤنٹس موجود تھے۔

 مچل، ہڈسن اور کروکیٹ کی طرح آن لائن نفرت انگیز مواد کے کئی ابتدائی ماہرین کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جو کسی زمانے میں اس کا شکار ہوئے تھے۔ ان کی راہ میں ایک کے بعد ایک کئی رکاوٹیں آئيں۔ ان ماہرین کی تحقیق پر کئی بار انگلیاں اٹھائی گئيں اور انہيں شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ اکثر و بیشتر اس غیرسنجیدگی کے ذمہ دار تعلیمی اور صحافت کے شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے وہ سفید فام افراد تھے جو انٹرنیٹ کی گہرائیوں میں موجود میمز عوام کو پیش کر کے اپنی روزی روٹی کماتے تھے۔

آن لائن نفرت انگیز مواد کے مطالعے میں خصوصی مہارت رکھنے والی کیتھرین کراس (Katherine Cross)، جو لاطینی نژاد ہونے کے علاوہ خواجہ سرہ بھی ہیں، بتاتی ہيں کہ ”ٹرانس جینڈر افراد کو بھی اس مسئلے کا بہت وسیع تجربہ حاصل ہے۔ ہم جو بھی معلومات پیش کرتے ہيں اسے کئی وجوہات کی بناء پر مسترد یا نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ ہمیں معتبر نہيں سمجھا جاتا۔ بعض دفعہ لوگ کہتے ہيں کہ ہم رائی کا پہاڑ بنا رہے ہيں۔ بعض اوقات ہمیں اس قابل ہی نہيں سمجھا جاتا کہ ہماری بات پر توجہ دی جائے۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے مشمولات کو اکثر جان بوجھ کر غائب بھی کردیا جاتا ہے تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ کسی نے کبھی ایسی کوئی بات کی ہی نہیں۔ “

میرے جیسے متعدد صحافی جنہیں انٹرنیٹ کی ثقافت پر تحریریں لکھنے کے لیے جانے مانے پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل ہے، سفید فام ہیں۔ 2016ء میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد، ان کے آن لائن حمایتیوں، ان کے عقائد، اور ان کے وائرل ہونے کی وجوہات کو سمجھنے کے لیے لوگوں نے ہم جیسے صحافیوں کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کرنا شروع کی۔ لیکن اس تصویر کا دوسرا اور زيادہ بھیانک رخ یہ ہے کہ ہم میں سے کئی صحافی نہ چاہتے ہوئے بھی ان سسٹمز کو فروغ دیتے چلے گئے جنہيں عرصہ دراز سے آن لائن نفرت انگیز مواد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ پچھلے 10 سالوں سے طنز و طعنوں کو فروغ دینے والے میمز عام ہوتے گئے اور سفید فام رپورٹرز ان میں دکھائے جانے والی نسل پرستی اور جنسی تعصب کو مذاق کا نام دیتے رہے۔

دس سال پہلے جس طرح یہ میمز اور لطیفے 4Chan جیسے فورمز پر شروع ہونے کے بعد صحافیوں کی وجہ سے منظر عام پر آئے، اسی طرح آج کیو اینون کی افواہیں، صحت کے متعلق غلط سلط معلومات، اور خوف و ہراس میڈیا کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچ رہے ہیں۔ ماضی میں میمز کے متعلق رپورٹرز کی کوریج کو دیکھ کر آج سفید بالادستی پر یقین رکھنے والے افراد کو اچھے سے معلوم ہوگیا ہے کہ وہ کس حد تک آگے بڑھ سکتے ہيں۔

آن لائن موجود غلط معلومات کا مطالعہ کرنے والی سائراکیوز یونیورسٹی کی ایسسٹنٹ پروفیسر وٹنی فلپس (Whitney Phillips) کی 2018ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گيا تھا کہ غلط معلومات پر لکھنے والے صحافی عوام کو ضروری معلومات تو فراہم کرتے ہيں، لیکن ساتھ میں وہ نقصان دہ اور خطرناک رجحانوں کو ہوا بھی دیتے ہیں۔ فلپز خود سفید فام ہیں اور وہ اکثر اسی شش و پنج میں مبتلا رہتی ہيں۔ وہ کہتی ہيں کہ ”میں یقین سے نہيں کہہ سکتی کہ وہ کونسی بات ہے جس سے میری راتوں کی نیندیں حرام ہوتی ہيں، لیکن میں یہ ضرور کہہ سکتی ہوں کہ ہنسی سن کر میرا خون ضرور کھولتا ہے۔ نہ صرف دوسروں کی ہنسی، بلکہ میری اپنی بھی۔ “

مچل اور میں نے ستمبر میں تقریباً دو گھنٹوں تک بڑی تفصیل میں بات کی تھی۔ اس دوران انہوں نے مجھے بتایا کہ اپنے شعبے میں نیا نیا قدم رکھنے والے سفید فام افراد کی باتیں سن کر انہيں کیسا محسوس ہوتا ہے۔ مچل کے پاس انٹرویوز کی اتنی درخواستیں آتی ہیں کہ ان کے لیے ان سے نمٹنا مشکل ہوجاتا ہے، اور ہر کوئی ان سے یہی کہتا ہے کہ وہ اپنے تجربات ان لوگوں کو بیان کریں ”جنہيں اس مسئلے کے متعلق زيادہ علم نہ ہو “ (یعنی سفید فام افراد)۔ دوسری طرف ان کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے ماہرین جنہیں اس آن لائن نفرت انگیز مواد کے باعث سب سے زيادہ نقصان پہنچتا ہے، ان کی بات سننے کو کوئی تیار نہيں ہے۔

ہمیں گیمرگیٹ (Gamergate) کی مہم میں اس کی ایک بہت اچھی مثال ملتی ہے، جس میں آن لائن گیمنگ کی صنعت سے وابستہ عورتوں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا گيا تھا۔ اس کی بنیاد 2014ء میں اس وقت رکھی گئی جب ایک آدمی نے ایک آن لائن پلیٹ فارم پر اپنی سابقہ (سفید فام) گرل فرینڈ کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکالی تھی۔ آگے چل کر اس کیس کو میڈیا پر بھی بہت اچھالا گیا۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ عوام آن لائن ہراس کو زيادہ سنجیدگی سے لینے لگی، لیکن ساتھ ہی اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ ہراس کی مہمیں آخر اتنی کامیاب کیوں ثابت ہوتی ہيں۔

کراس کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی ایسے لوگ جو اس قسم کی مہموں کی کامیابی کی وجوہات اور انہيں روکنے کے طریقے پر روشنی ڈال سکتے تھے، یعنی ایسے افراد جنہیں نشانہ بنایا جارہا تھا، ان کی باتوں کو نظرانداز کیا جارہا تھا۔ کراس گیمرگیٹ کے بارے میں رپورٹس لکھنے کے علاوہ ایک خاتون گیمر بھی تھیں، اور ان کا شمار بھی انہی افراد میں ہورہا تھا۔ مچل نے مجھے بتایا کہ آن لائن ہراس پر عوام کی توجہ میں اضافہ گیمر گیٹ کے بعد ہی شروع ہوا، اور ان کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی کہ ”جب کسی سفید فام عورت کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو ہر کوئی باتیں کرنا لگتا ہے، لیکن جب کوئی سیاہ فام عورت نفرت انگیز مہموں کا شکار ہوتی ہے تو کسی کو پرواہ نہيں ہوتی۔ “

کچھ کمپنیاں آن لائن ہراس اور نفرت انگیز مواد کے خلاف اقدام کرتی ہيں، لیکن کئی دفعہ ان کوششوں کو آگے بڑھانے والوں کو بھی ان مہموں کا نشانہ بنادیا جاتا ہے۔

ریڈٹ کی سابقہ سی ای او ایلن پاؤ (Ellen Pao) کی مثال لے لیں۔ 2014ء میں یہ عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے ریڈٹ پر عرصہ دراز سے موجود خواتین کے خلاف تعصب، نسل پرستی اور ہراس کا مقابلہ کرنے کی پہلی کوشش شروع کی۔ اگلے سال پاؤ کی ہدایات کے مطابق ریڈٹ نے ہراس کے خلاف پالیسیاں متعارف کیں، جس کے بعد اس پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے پانچ سب ریڈٹس کو بند کردیا گيا۔ ان پابندیوں کے باعث اشتعال میں آنے والے ریڈٹ کے صارفین نے واویلہ مچادیا اور پاؤ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے لگے۔ آخرکار پاؤ 2015ء میں مستعفیٰ ہوگئيں اور اب وہ ٹیکنالوجی کی صنعت میں تنوع کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہيں۔

2020ء میں ریڈٹ نے آخرکار r/The_Donald نامی سب ریڈٹ پر پابندی عائد کردی، جو کسی زمانے میں بہت مقبول تھا۔ یہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں مشمولات کی بھرمار موجود تھی اور سازشی تھیوریز پر یقین رکھنے والے اور شدت پسند خیالات رکھنے والے افراد کئی سالوں سے زہر اگل رہے تھے۔ اس فیصلے کے کچھ عرصے بعد جب میری پاؤ سے بات ہوئی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ کافی عرصے سے ریڈٹ کی انتظامیہ سے اس سب ریڈٹ پر پابندی عائد کرنے کی درخواست کررہی تھیں،  لیکن ان کے کان پر جوں نہیں رینگتی تھی۔ جب انہوں نے بالآخر اسے ہٹانے کا فیصلہ کیا تو اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔  r/The_Donald کے کئی صارفین کب کا ریڈٹ چھوڑ کر گیب (Gab) جیسی دوسری ویب سائٹس کا رخ کر چکے تھے جہاں ان پر پابندیاں لگائے جانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے۔

پاؤ کہتی ہيں کہ ”کچھ نہ کرنا بہت آسان ہے، اور ہمیشہ سے ہی بہت آسان رہا ہے۔ اس میں نہ تو وقت لگتا ہے، نہ پیسہ، اور نہ ہی دیگر کوئی وسائل۔ آپ کو کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ “

تاہم پاؤ، کراس، اور ان جیسے دوسرے ماہرین کی تنبیہات سے کچھ خاص اثر نہيں پڑا ہے۔ ہراس اور نفرت کا سمندر ابھی بھی بار بار امڈ امڈ کر اوپر آتا ہے۔

2016ء میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے سے کچھ روز پہلے، ٹوئٹر پر ایک سازشی تھیوری نے جنم لیا، جو آگے چل کر کیو اینون کی بنیاد بن گئی۔ #SpiritCooking کے ہیش ٹیگ رکھنے والی اس تھیوری کے مطابق ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کے چیئرمین جان پوڈیسٹا (John Podesta) دراصل ایک شیطان پرست تھے، جنہوں نے ایک نامی گرامی فنکار کی طرف سے منعقد کردہ عشائیہ میں شیطان پرست رسوم میں شرکت کی تھی۔ اس تھیوری کی وجہ پوڈیسٹا کو بھیجا گيا اس عشائیہ کا دعوت نامہ تھا جو اس وقت سامنے آیا تھا جب اکتوبر میں وکی لیکس (WikiLeaks) نے ان کے نجی ای میلز عوامی طور پر شائع کردیں۔

میں نے 2016ء کے انتخابات کے دوران غلط معلومات کے متعلق کئی تحریریں لکھیں تھیں، اور میری آنکھوں کے سامنے  #SpiritCooking کی مہم نے پیزا گیٹ (PizzaGate) نامی سازشی تھیوری کی شکل اختیار کی، جس کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں متعدد بچہ باز گروہ پیزا کی ریستوارنوں میں سرگرم تھے۔ اسی سال نومبر میں لوگوں کی نجی معلومات آن لائن شائع کرنے پر ریڈٹ نے پیزا گيٹ کے ایک فورم پر پابندی عائد کردی۔ اگلے مہینے، یعنی #SpiritCooking کی ابتداء کے ٹھیک ایک ماہ بعد، شمالی کیرولائینا سے تعلق رکھنے والے ایک آدمی نے واشنگٹن ڈی سی کے ایک ریستوران میں، جہاں مبینہ طور پر بچہ بازی کا سلسلہ جاری تھا، اپنی رائفل اٹھا کر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔

2016ء کے عام انتخابات کے بعد کچھ عرصے کے لیے ایک وقت ایسا بھی آیا جب اس قدر غلط معلومات عام ہوچکی تھیں کہ اسے نظرانداز کرنا ناممکن ہوگیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے توقعات کے خلاف صدر منتخب ہونے کے بعد کچھ لوگ یہ سمجھنے لگے کہ بیرون ملکی مداخلت اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی جعلی خبروں سے ووٹروں کی رائے تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ (Mark  Zuckerberg) نے شروع میں تو ان باتوں کو مذاق سمجھ کر ٹال دیا، لیکن آگے چل کر میڈیا، حکومتوں، اور عوام کی طرف سے سوشل میڈیا کے تجزیے سے یہ ثابت ہوگیا کہ ان پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف لوگوں کی، بالخصوص ان افراد کی جو پہلے سے ہی زیادہ زدپذیر ہيں، رائے تبدیل کی جاسکتی ہے، بلکہ انہيں بہت نقصان بھی پہنچایا جاسکتا ہے۔

اور یہ نقصان بڑھتا ہی چلا گیا، جس کی ایک بہت اچھی مثال یوٹیوب ہے۔ اس ویب سائٹ پر آپ کی دیکھی گئی ویڈیوز کے لحاظ سے آپ کو نئی ویڈیوز تجویز کی جاتی ہیں، اور لوگ اس فیچر کا استعمال کرتے ہوئے غلط معلومات اور نفرت انگیز مواد کے دلدل میں مزید دھنستے چلے جاتے ہیں۔ ٹوئٹر پر صدر ٹرمپ نے اپنے فولوورز کی بہت بڑی تعداد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نسل پرست اور سازشی نظریات کو بہت آگے تک پھیلایا۔ 2017ء میں فیس بک نے ویڈیو لائیوسٹریمنگ کا فیچر متعارف کیا، لیکن کچھ ہی عرصے میں اس پلیٹ فارم پر بڑی تعداد میں تشدد پر مشتمل ویڈیوز نظر آنے لگیں۔  2019ء میں covid-19 سے پہلے جب امریکہ میں خسرے کی وبا شروع ہوئی، اس وقت بھی فیس بک پر غلط معلومات کی بھرمار سامنے آئی۔

ٹیک کمپنیوں نے ان مسائل کے حل کے لیے اقدام شروع کردیے۔ ماڈریٹرز کی تعداد میں بہت زيادہ اضافہ کیا گیا، شدید قسم کے مشمولات یا غلط معلومات کی نشاندہی کرنے اور حذف کرنے کے لیے آٹومیٹڈ سسٹمز تیار کیے گئے، اور نفرت انگیز مواد کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے قواعد، الگارتھمز اور پالیسیوں میں ترمیم کی گئی۔

تاہم یہ کوششیں کافی نہيں تھیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جس تیزی سے نفرت انگیز مواد اپ لوڈ کیا جارہا تھا، اسے اس رفتار سے ہٹایا نہيں جارہا تھا۔ اس میں کچھ حد تک ان کمپنیوں کی عدم دلچسپی کا عنصر بھی شامل تھا۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ لوگ ان پر زيادہ سے زيادہ وقت گزاریں، اور مشمولات حذف کرنے سے اس مقصد میں حرج ہوتا ہے۔ دوسری وجہ کا تعلق ان مشمولات کی نوعیت سے تھا۔ متعدد مطالعوں کے مطابق اکثر و بیشتر دائيں بازو سے وابستہ ذرائع غلط معلومات کے ذمہ دار ہوتے ہيں اور اس قسم کے مواد کو حذف کرنے کی صورت میں ٹیک کمپنیوں پر سیاسی تعصب کے الزامات عائد کیے جانے کا امکان تھا۔ این بی سی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق یہی وجہ تھی کہ فیس بک نے جان بوجھ کر اپنے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے دائيں بازو کے پیجز کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی نہيں کی۔

کئی ماہرین کا خیال تھا کہ ان کمپنیوں کا اصل امتحان نومبر 2020ء کے عام انتخابات میں ہوگا جب جعلی معلومات، نفرت انگریز مواد، اور شدت پسندی کی مہمیں عروج پر ہوں گی۔

لیکن اس سے پہلے covid-19 سامنے آگیا، اور کرونا وائرس کے مشکوک علاج، سازشی تھیوریز، اور پروپاگینڈا پھیلانے والوں کے ہاتھ ایک بہت اچھا موقع آگیا۔ ان مواد کے خلاف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا ردعمل دیکھ کر یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ وہ انتخابات کے دوران بیلٹس کی ہیرا پھیری، ووٹوں کی گنتی، اور تشدد کے متعلق جعلی خبروں پر قابو پانے میں کچھ خاص کامیاب ثابت نہیں ہوسکیں گے۔

میں نہ تو ان مسائل کے حل کے لیے کسی پالیسی کی تجویز کررہی ہوں اور نہ ہی ان ٹیک کمپنیوں کی ذمہ داریوں کے متعلق کسی قسم کا فیصلہ سنا رہی ہوں۔ میں صرف یہ بتانا چاہتی ہوں کہ یہ کمپنیاں بہت پہلے اقدام کرسکتی تھیں، لیکن انہوں نے ایسا نہيں کیا۔ فیس بک اور ٹوئٹر نے نسل پرست اور شدت پسند خیالات، سازشی تھیوریز، یا ہراس کو جنم تو نہيں دیا، لیکن انہوں نے ایسے نظریات رکھنے والے افراد کو پلیٹ فارم ضرور فراہم کیا ہے، اور انہوں نے پیسے کمانے کی خاطر سوشل میڈیا کے نقصانات کی طرف توجہ دلانے والوں کی باتوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا ہے۔

بعض دفعہ ان پلیٹ فارمز سے وابستہ افراد کے دوست احباب نے بھی ان کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ مئی 2008ء میں جب سائنس رابطہ کار ایریئل والڈمین (Ariel Waldman) نے ٹوئٹر پر اپنی ہراساں ہونے کی روداد سنائی تو انہيں پوری امید تھی کہ ان کے بعد کسی کو بھی اس مصیبت سے دوچار نہيں ہونا پڑے گا۔ یہ ان کی غلط فہمی نکلی۔

والڈمین کو کافی دیر سے ہراس کا نشانہ بنایا جارہا تھا، اور وہ ایک سال سے اپنے خلاف زہر اگلنے والوں پر پابندی عائد کروانے کی کوششیں کر رہی تھیں۔ آخرکار انہوں نے تنگ آکر 2008ء میں ایک بلاگ پوسٹ میں اپنے تجربات بیان کیے۔ ان کا خیال تھا کہ ٹوئٹر کے بانیوں کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات کے باعث انہيں زيادہ دیر تک پریشانی کا سامنا نہیں ہونے والا تھا۔

والڈمین نے مجھے بتایا کہ ”میں ان لوگوں کے دفتر میں بیٹھ کر ان کے ساتھ وقت گزارتی تھی۔ میری ان سے بہت اچھی جان پہچان تھی۔ “ کچھ عرصہ پہلے فوٹو شیئرنگ ویب سائٹ فلکر نے ان کی شکایات کے جواب میں ان کے خلاف مواد حذف کرنے میں دیر نہيں کی تھی، اور والڈمین کو امید تھی کہ ٹوئٹر پر بھی ایسا ہی ہوگا۔

یہی سوچ کر انہوں نے اپنی بلاگ پوسٹ میں اپنے خلاف لکھے جانے والے کمینٹس اور ٹوئٹر کے بانیوں کے ساتھ اپنی ای میلز کی تفصیلات فراہم کیں۔ تاہم ٹوئٹر نے کچھ نہيں کیا۔ آج اس بات کو بارہ سال گزر گئے، اور سوشل میڈیا ویب سائٹس پر نفرت انگیز مواد کا سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔

والڈمین کہتی ہيں کہ ”ان کمپنیوں نے ایسے صارفین کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ خود کیا ہے جو ہمہ وقت نفرت انگیز مواد پھیلاتے ہيں اور دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہيں۔ کسی نے انہیں کو یہ فیصلہ لینے پر مجبور نہيں کیا ہے۔ یہ کمپنیاں کہتی ہیں کہ اس قسم کے مواد سے نمٹنا بہت مشکل کام ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ یہ سچ نہيں ہے۔ “

مجھے معلوم نہيں ہے کہ نفرت انگیز مواد کے اس سیلاب پر کس طرح قابو پایا جاسکتا ہے۔ اور اگر میرے پاس اس سوال کا جواب ہوتا تو بھی اس سیلاب کے نقصان کا ازالہ ممکن نہيں ہوگا۔ جن لوگوں نے آواز اٹھانے کی کوشش کی اور انہيں خاموش کردیا گيا، انہیں اپنی کوششوں کی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ہے۔

مچل کے مطابق جب بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز مواد پر پابندی عائد کرنے کی بات کی جاتی ہے، تو جو گروہ ماضی میں اس قسم کے مشمولات پھیلانے میں سرگرم تھے، وہی خود کو مظلوم ثابت کرنے میں لگ جاتے ہيں۔ وہ کہتی ہيں کہ ”انہيں اتنے عرصے سے بلا روک ٹوک اپنی شدت پسند سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع دیا گيا تھا، لیکن جب ان سے یہ حق چھین لیا جاتا ہے تو وہ شور مچانا شروع کردیتے ہيں۔ دوسری طرف ان لوگوں کی طرف کسی کی توجہ نہيں جاتی جن پر واقعی ظلم ہورہا ہے۔ “

اگر کمپنیوں کو صورتحال بہتر کرنے میں کوئی فائدہ نظر آئے تو ممکن ہے کہ وہ اقدام کرنے پر آمادہ ہوجائيں۔ مثال کے طور پر شق نمبر 230 میں ترمیم لائی جاسکتی ہے، جس کے تحت اس وقت سوشل میڈیا کمپنیوں کو صارفین کی طرف سے شائع کردہ مواد کے قانونی مضمرات کے خلاف تحفظ حاصل ہے۔

یونیورسٹی آف میامی کی پروفیسر میری این فرینکس (Mary Anne Franks)، جنہیں آن لائن ہراس پر کام کرنے کا کافی تجریہ حاصل ہے، کہتی ہیں کہ قانون ترمیم کرنے سے دو فائدے ہوں گے۔ سب سے پہلے تو اطوار کے بجائے الفاظ کے خلاف تحفظ ممکن ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی نفرت انگیز مواد یا غلط معلومات کے پھیلاؤ سے مستفید ہونے والی کمپنیوں کو بھی جوابدہ ٹھہرانا ممکن ہوگا۔

پاؤ کا خیال ہے کہ ٹیک کمپنیوں کی اعلیٰ انتظامیہ صرف اسی صورت میں ان مسائل پر غور کرنے کو آمادہ ہوگی اگر ان عہدوں پر ایسے افراد کی تعیناتی ہو جو عام طور پر اس ہراس کا نشانہ بنتے ہيں۔ وہ کہتی ہيں کہ ”مشکل فیصلے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ متنوع بیک گراؤنڈز سے تعلق رکھنے والے افراد کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا جائے۔ “ وہ مزید بتاتی ہيں کہ انہوں نے ریڈٹ میں بھی ایسا ہی کیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ”ہم نے مختلف نسلوں اور نژادوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھرتی کیے، جن کی اکثریت خواتین پر مشتمل تھی۔ ان لوگوں کے لیے مسئلوں کے علاوہ تبدیلی کی اہمیت کو سمجھنا زيادہ آسان تھا۔ لیکن اب ان کمپنیوں کے بورڈز میں صرف سفیدفام مرد حضرات ہی نظر آتے ہيں، جنہيں مسئلے نظر نہيں آتے اور جو غلط پیمائشوں پر توجہ مرکوز کرتے ہيں۔ “

فلپس اس رائے سے متفق نہيں ہیں۔ ان کی کتاب  You Are Here میں، جو انہوں نے رائن ملنر (Ryan Milner) کے ساتھ مل کر لکھی ہے، بتایا گیا ہے کہ آن لائن ہراس اور غلط معلومات عالمی پیمانے پر پھیلی ہوئی ”ماحولیاتی آفت “ سے کم نہيں ہے، جو ماحولیاتی تبدیلی کی طرح طویل عرصے سے قائم ہے اور اب اپنا زہر ہر جگہ پھیلا رہی ہے۔

فلپس کہتی ہیں کہ ”سچ پوچھیں تو ٹیکنالوجی، ہمارے نیٹورکس، معلومات پھیلنے کے طریقے، سب نے اس مسئلے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ جن عناصر کے باعث یہ مسئلہ اس قدر پھیل گیا، آپ کیسے توقع رکھ سکتے ہيں کہ وہی اسے حل بھی کریں گے؟ موجودہ انفراسٹرکچر کو مزید وسیع کرکے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنا سراسر بے وقوفی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ٹیکنالوجی کہیں نہ کہیں ذمہ دار ضرور ہے، لیکن اس گند کی بنیادی وجوہات انسان اور ان کے عقائد ہیں۔ “

کراس فلپس کی رائے سے اتفاق کرتی ہیں، اور انہيں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہورہی ہے کہ عوام کی آگاہی میں اضافہ ہورہا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ”لوگوں کے لیے شترمرغ کی طرح آنکھیں بند کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔ یہ مسئلہ اب ہر جگہ ہی نظر آنے لگا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک دن لوگ اچانک بیدار ہوجائيں۔ مجھے معلوم نہيں ہے کہ مجھے پرامید ہونا چاہیے یا نہيں، لیکن مجھے اس کے آثار ضرور نظر آرہے ہيں۔ ہوسکتا ہے کہ ایسا ہو بھی جائے۔ “


ایبی اوہلہائیز ٹیکنالوجی ریویو کی ڈیجیٹل ثقافت کی سینیئر ایڈیٹر ہيں۔

تحریر: ایبی اولہائیزر  (Abby Ohlheiser)

تصاویر: نجییبہ الغبدان (Najeebah Al-Ghabdan)

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top