Global Editions

پنجاب کے تعلیمی ادارے ریموٹ تعلیم کی فراہمی میں کس حد تک کامیاب ثابت ہوئے ہیں؟

AEO, Mailsi West
آن لائن تعلیم کا سلسلہ ہر ایک کے لیے مشکل اور پیچیدہ ثابت ہورہا ہے، اور حالیہ تعلیمی سال کے لیے اصلاحات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

13 مارچ کو پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے سکولوں سے گھر لوٹنے والے طلباء کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ اگلے چند مہینوں تک دوبارہ سکول نہیں جا پائيں گے اور تعلیم کی فراہمی کا سلسلہ پوری طرح بدل کر رہ جائے گا۔

جب مارچ میں covid-19 کے شکار افراد کی تعداد 21 تک پہنچ گئی، تو پاکستان کی تمام صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے صوبوں میں لاک ڈاؤنز نافذ کرنا شروع کردیے۔ وفاقی وزیر برائے تعلیم نے ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں کو 5 اپریل تک بند رکھنے کا اعلان کردیا، جس کے بعد پنجاب کی صوبائی حکومت نے اس میں 30 مئی تک کی توسیع کردی۔

 لیکن اب جبکہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے مالی اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں اور یہ واضح ہوگیا ہے کہ کئی پاکستانی اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، تو سکول کی فیس کی ادائيگی کا مسئلہ کھڑا ہونا شروع ہوگیا۔

سکول کی فیس کا تعین

سرکاری سکولز میں مفت یا بہت کم قیمت میں تعلیم فراہم کی جاتی ہے، لیکن پنجاب کے نجی سکولوں کی ماہانہ فیس عام طور پر 2،000 سے 60،000 روپے کے درمیان ہوتی ہے۔

والدین کے مالی حالات اور سکولوں کی مالی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، پنجاب حکومت نے نجی سکولوں کو فیس میں 20 فیصد کمی کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔ اس کے علاوہ، سکولوں کو تین مہینوں کی فیس کا ایک ساتھ مطالبہ کرنے سے بھی روک دیا گیا۔

AEO, Mailsi West

پنجاب سکول کی تعلیم کے وزیر مراد راس کے مطابق سکولوں کو مکمل طور پر بحال ہونے تک فیس کی کمی برقرار رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ تاہم ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو تفتیش کے بعد معلوم ہوا کہ زمینی حقائق اس سے بالکل مختلف ہيں۔

کچھ نجی سکول صوبائی حکومت کی ان ہدایات پر عمل کررہے ہيں۔ تاہم کئی سکولز نے صرف اپریل اور مئی کی فیس میں کمی کی ہے، اور کچھ سکولوں والدین سے پوری فیس کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، متعدد سکولوں میں ایک ایسا سسٹم متعارف کیا گیا ہے جس کے تحت صرف جولائی تک پیشگی فیس ادا کرنے والے طلباء کو ہی ریموٹ تعلیمی مواد تک رسائی فراہم کی جائے گی۔

کئی والدین نے سکولوں کے ان مطالبوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سکولوں کے پانی اور بجلی سمیت عملیاتی اخراجات میں کمی ہوئی ہے، لہذا فیس میں بھی کمی لائی جانی چاہیے تھی۔

ایلائيڈ سکول (Allied School) کے طیب کیمپس کی پرنسپل عطیہ رحمان کہتی ہیں کہ یہ صورتحال سکولوں کے لیے بھی بہت مشکل ثابت ہوئی ہے۔ سکولوں کو تیاری کے لیے وقت نہیں ملا، جس کی وجہ سے نجی تعلیمی شعبے کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نجی سکولوں کو آن لائن تعلیم کا معیار برقرار رکھنے اور سکول کی عمارت کے اندر عملے کے تحفظ کے اقدامات کرنے کے لیے رقم خرچ کرنی پڑتی ہے، جس کی وجہ سے فیس میں کمی سکولوں کے لیے بہت بڑا مسئلہ ثابت ہورہی ہے۔ ان کا سکول شیخوپورہ کے ایک گاؤں میں واقع ہے اور یہاں 300 کے قریب طلباء تعلیم حاصل کررہے ہيں۔

رحمان مزيد بتاتی ہيں کہ ”میرے کئی طلباء کا تعلق کم آمدنی رکھنے والے طبقے سے ہے اور ان کی فیس میں پہلے سے ہی رعایت کی گئی ہے۔ ایلائيڈ سکول کی اوسط فیس 3،200 روپے ہے، لیکن کئی والدین کے لیے یہ بھی مشکل ہے، اور ان کے لیے فیس کم کر کے 2،000 روپے کر دی گئی ہے۔“

ان کے مطابق ان کے سکول نے حکومت کی ہدایات کے مطابق فیس میں 20 فیصد کمی کردی ہے، لیکن انہيں پھر بھی اساتذہ اور عملے کی پوری تنخواہ ادا کرنی پڑی۔ اس کے علاوہ، انہیں سینیٹائزرز، گیٹ کے ساتھ ہاتھ دھونے کے انتظامات، ڈس انفیکشن، تھرمل گنز وغیرہ کا انتظام کرنے کے لیے بھی رقم خرچ کرنی پڑی۔

خدشات

سکولوں کے بیشتر اساتذہ کے لیے آن لا‏ئن تعلیم کی فراہمی پہلے ہی مشکل ثابت ہورہی تھی، اور پنجاب کے سکول کے تعلیم کے وزیر کی طرف سے نجی سکولوں کو عملے کو فارغ نہ کرنے اور انہيں پوری تنخواہیں ادا کرنے کی ہدایات کے جواب میں سکولوں نے ان اساتذہ کا بوجھ مزید بڑھا دیا۔

لاہور پری سکول (Lahore Preschool) کی ایک سابقہ استانی بتاتی ہیں کہ ان کے سکول نے اپریل میں 60 اساتذہ کے کانٹریکٹس منسوخ کردیے۔ انہیں بذریعہ فون کال مطلع کیا گیا کہ ان کا کانٹریکٹ منسوخ کردیا گيا ہے اور سکول دوبارہ کھلنے پر انہيں بتا دیا جائے گا کہ انہيں دوبارہ ملازمت پر رکھا جائے گا یا نہيں۔ انہیں اس اچانک فیصلے کی کوئی وجہ نہيں بتائی گئی۔

وہ کہتی ہیں کہ ”حکومت نے سکولوں کو اپنا عملہ فارغ نہ کرنے کی ہدایات دی ہيں اور میں سکول کے خلاف قانونی کارروائی کرنا چاہتی تھی۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے تحریری نوٹس فراہم کیا جائے، لیکن انہوں نے صاف انکار کردیا۔“

دوسرے نجی سکولوں نے اپنے ملازمین کو فارغ نہیں کیا، اور ساتھ ہی انہيں آن لائن تعلیم کی فراہمی کے حوالے سے تربیتی کورسز میں شرکت کرنے کی ہدایات دیں۔

رحمان بتاتی ہيں کہ ماضی میں کبھی بھی آن لائن تعلیم پر کام نہيں کیا گيا تھا، جس کی وجہ سے سماجی دوری برقرار رکھتے ہوئے اس قسم کی تربیت فراہم کرنا بہت مشکل ثابت ہوا۔ بیشتر نجی سکولوں میں یہ تربیت بذریعہ انٹرنیٹ فراہم کی گئی اور عملے کو صرف پیر اور منگل کے روز انتظامی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے بلایا جاتا رہا۔

دوسری طرف صوبہ پنجاب کے میلسی ضلع کے ایسسٹنٹ تعلیمی افسر سبط الحسن بتاتے ہيں کہ سکولوں کے بند ہوتے ہی ان کے ضلع کے ڈپٹی کمیشنر نے سکولوں کے تمام ایسسٹنٹ افسران اور آئی ٹی عملے کی میٹنگ بلوا کر انہیں آن لائن تعلیم کی فراہمی کے متعلق تربیت فراہم کی۔

اس کے علاوہ، سرکاری سکولوں کے تمام اساتذہ کو تعلیم گھر ٹی وی چینل کے لیے تیار کردہ اسباق تک بھی رسائی فراہم کی گئی۔ انہيں سکول انفارمیشن سسٹم (School Information System) ایپلیکیشن میں لاگ کرنے کے لیے یوزر نیم اور پاس ورڈ فراہم کیا گیا، جس کے ذریعے ان کے لیے دیگر تعلیمی مواد تک بھی رسائی ممکن ہوئی۔

AEO, Mailsi West

ریموٹ لرننگ

 کرونا وائرس کے شکار افراد کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے پنجاب میں سمارٹ لاک ڈاؤنز نافذ کردیے گئے، جس کے بعد صوبائی حکومت نے اعلان کیا کہ صوبے بھر میں سکول 15 جولائی تک بند رہیں گے۔

کئی سکولوں نے پہلے ہی اپریل اور مئی میں گرمی کی تعطیلات کا اعلان کردیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے آن لائن تعلیمی سسٹمز متعارف کرنا شروع کیے۔ پنجاب کے سرکاری اور نجی سکولز کے تمام طلباء کو سالانہ امتحانات منعقد کیے بغیر ہی اگلی جماعت میں بھیج دیا گیا۔

وفاقی حکومت نے مختلف جماعتوں کے اسباق کی نشریات کے لیے ٹیلی سکول کا انعقاد کیا۔ دوسری طرف پنجاب حکومت نے بھی بیشتر مضامین کے لیے تعلیم گھر ٹی وی چینل متعارف کیا اور اساتذہ کو موبائل ایپلیکیشن اور یوٹیوب کے ذریعے ان اسباق تک رسائی فراہم کی۔ سرکاری سکولوں کے طلباء اور دیگر عملے کو کورس کی کتابیں بذریعہ ڈاک فراہم کی گئی تھیں۔

تاہم انٹرنیٹ اور کیبل ٹی وی تک رسائی اس سلسلے میں بہت بڑی رکاوٹیں ثابت ہورہی ہیں۔ تعلیم گھر کا چینل صرف چند ہی طلباء کے لیے کارآمد ثابت ہوا ہے۔ کئی سکول اب واٹس ایپ گروپس پر تعلیم فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہيں۔

پاکپتن کے سرکاری ایم سی بوائیز ہائی سکول کے استاد احسن جاوید بتاتے ہيں کہ وہ واٹس ایپ کے ذریعے اپنے طلباء کو پڑھانے کی کوشش کر رہے ہيں، لیکن ان کے زيادہ تر طلباء کے پاس انٹرنیٹ پیکیجز بھی نہيں ہیں۔ وہ کہتے ہيں کہ ”بہت کم بچے ہمارے آڈیو لیکچرز سنتے ہيں، لیکن اگر چار بھی بچے سن رہے ہوں، ہم یہ لیکچرز بھیجتے ہيں اور ان کے سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کرتے ہيں۔“

جاوید مزید بتاتے ہيں کہ اگر انٹرنیٹ تک رسائی کا مسئلہ حل بھی ہو جائے تو طلباء کی عدم دلچسپی کا مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”عام کلاس روم میں 50 فیصد سے کم طلباء دلچسپی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اس وقت نہ تو انہيں کسی طریقے سے جوابدہ ٹھہرایا جارہا ہے اور نہ ہی انہيں تعلیم حاصل کرنے کے لیے مناسب ماحول فراہم کیا جارہا ہے۔“

مغربی میلسی کے ایسسٹنٹ تعلیمی افسر سبط الحسنین کہتے ہيں کہ وہ آن لائن تعلیم کی فراہمی چیک کرنے کے لیے اپنے ضلع کے سکولوں کا باقاعدگی سے چکر لگا رہے ہيں۔ انہیں معلوم ہوا ہے کہ میلسی کے دیہی افراد کیبل ٹی وی کی سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے ان ٹی وی چینلز سے مستفید نہيں ہو پائے ہيں۔

جاوید اعتراف کرتے ہيں کہ سرکاری سکولوں کے طلباء کو نجی سکولوں کے طلباء جتنی مشکلات کا سامنا نہيں رہا ہے۔ وہ بتاتے ہيں کہ سرکاری سکولوں میں اساتذہ عام طور پر گرمیوں کی چھٹیوں سے پہلے پورا کورس دوبارہ پڑھاتے ہیں اور حکومت اپنی سہولت کے مطابق امتحانات کی تواریخ مقرر کرتی ہے۔

اس سے بھی بڑا مسئلہ سکول کھلنے کے بعد طلباء کی دلچسپی دوبارہ حاصل کرنے اور تعلیم کی فراہمی کا تسلسل جاری رکھنا ہوگا۔

AEO, Mailsi West

نجی سکول

دوسری طرف نجی سکولوں کو بھی ریموٹ تعلیم کے سبب کئی مسائل درپیش ہیں، جن میں طلباء کی دلچسپی اور کرونا وائرس کی زندگی پر اثرات سرفہرست ہیں۔

نجی سکولوں نے اپنے طلباء کے مالی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف حکمت عملیوں سے کام لینے کی کوشش کی ہے۔ مہنگے نجی سکولوں میں پڑھنے والے طلباء کو انٹرنیٹ اور الیکٹرانک آلات تک رسائی حاصل ہے، لیکن کم آمدنی والے طبقے یا دیہی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے طلباء اور ان کے والدین کے لیے یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔

ان میں سے کئی سکولوں کے لیے انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث گوگل کلاس رومز اور زوم کے ذریعے تعلیم فراہم کرنا محال ہوگیا ہے۔

رحمان نے والدین سے واٹس ایپ کے متعلق کئی میٹنگز کی ہیں اور وہ بتاتی ہيں کہ کئی والدین کو واٹس ایپ گروپس کے متعلق معلوم ہی نہیں تھا۔

کلاس کے اوقات کے دوران اساتذہ واٹس ایپ گروپ میں آن لائن رہ کر طلباء کو ٹیکسٹ، وائس نوٹس، یا پہلے سے ریکارڈ کردہ ویڈیوز کے ذریعے لیکچر دیتے ہيں، جس کے بعد طلباء گروپ میں اپنے کام کی تصویریں بھیجتے ہيں۔

جن نجی سکولوں میں طلباء کو انٹرنیٹ اور آلات تک رسائی باآسانی حاصل تھی، وہاں گوگل کلاس روم اور زوم کی ویڈيو کالز، ورک شیٹز اور بذریعہ ڈاک بھیجے جانے والے مواد کا فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔

امتحانات اور جوابدہی

کئی سرکاری سکولوں میں اساتذہ کو ورک شیٹس تیار کرنے کی ہدایات جاری کی گئيں۔ انہيں یا تو بذریعہ ڈاک طلباء کے گھر بھجوایا گيا، یا والدین کو سکول سے حاصل کرنے کو کہا گیا۔ بچے ان ورک شیٹس کو پر کر کے سکول واپس بھجواتے ہيں۔ اس کے بعد اساتذہ انہيں چیک کرکے یا تو واٹس گروپ پر ان کی تصاویر ڈال دیتے ہيں یا والدین سے دوبارہ سکول آنے کو کہتے ہيں۔

تمام طلباء کی سہولیات کی فراہمی اور سماجی دوری کے اصولوں کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے مغربی میسلی کے سکولوں نے ٹائگر فورس کے کارکنان کی بھی خدمات حاصل کیں۔ ماہرین کہتے ہيں کہ ہماری زندگیوں میں جہاں اتنی تبدیلیاں ہورہی ہیں، وہاں تعلیمی نظام میں بھی تبدیلی ناگزیر ہے۔

AEO, Mailsi West

ان تبدیلیوں کی ایک مثال امتحانات میں نظر آتی ہيں۔ رٹے اور جوابات کی لمبائی کے بجائے اب امتحانات میں بچوں کی سمجھ بوجھ کی ٹیسٹنگ کی جائے گی۔ اساتذہ کو اس قسم کے امتحانات کے لیے بھی تیاری کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔

والدین کا کردار

 آن لائن تعلیم کا کوئی بھی ذکر والدین کی ذمہ داریوں کا تذکرہ کیے بغیر ادھورا ہے۔ بچوں کی تعلیم میں ان کے والدین کا بہت اہم کردار ہوتا ہے، لیکن جب سکول کے اوقات کے دوران بچے گھر پر ہوتے ہيں تو والدین کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہيں، جو ملازمت کرنے والدین کے لیے بہت بڑا مسئلہ ثابت ہوتا ہے۔

جاوید بتاتے ہيں کہ کم آمدنی والی طبقوں میں عام طور پر والدین اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کی کوششوں میں اتنے مصروف ہوتے ہيں کہ انہیں معیار تعلیم سے کوئی غرض نہيں ہوتی۔ وہ اپنے بچوں کو صرف اس وجہ سے سکول بھیجتے ہيں تاکہ وہ ہاتھ سے نکل نہ جائيں۔ جاوید کہتے ہيں کہ ”اگر یہ بچے سکول نہيں جائيں گے تو وہ سارہ دن آوارہ گردی کرتے رہيں گے اور غلط سلط کاموں میں پڑ جائيں گے۔“

سبط الحسنین اس بات سے متفق ہيں کہ سرکاری سکولوں کے طلباء اور نجی سکولوں کے طلباء کے والدین میں بہت فرق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ”سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین سمجھتے ہیں کہ ان کے بچوں کی ذمہ داری صرف اور صرف اساتذہ کی ہے۔“

ان کے مطابق نجی سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین اپنی ب‏چوں کی تعلیمی اور دیگر سرگرمیوں میں بہت دلچسپی لیتے ہیں۔ وہ اعتراف کرتے ہيں کہ حکومت نے طلباء کی تعلیم میں خلل اندازی روک کی تھام کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے، لیکن آخر میں مسئلہ جوں کا توں ہی ہے۔

سبط الحسنین کو بہت افسوس ہوتا ہے کہ کئی والدین اپنے بچوں کی پڑھائی کے معاملے میں سنجیدہ نہيں ہیں، لیکن وہ اعتراف کرتے ہيں کہ بعض والدین اپنے حالات کے ہاتھوں واقعی بہت مجبور ہوتے ہيں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن تعلیم کے سسٹمز کی کامیابی کے لئے والدین کو بچوں کے اساتذہ اور سکول کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ وہ حکومتی قواعد و ضوابط کی تعمیل پر بھی زور دیتے ہيں۔

آن لائن تعلیم کی فراہمی تمام فریقین کے لیے مشکل ثابت ہوئی ہے اور سب ہی اس سے مساوی طور پر مستفید نہيں ہو پائے ہیں۔ ان سب کی کوششوں کو یکجا کرنے سے تعلیمی سال کم سے کم خلل اندازی کے ساتھ جاری رہ سکتا ہے اور سسٹم میں طویل المیعاد تبدیلیاں لائی جاسکتی ہيں۔

تحریر: عروج خالد

Read in English

Authors

*

Top