Global Editions

الیکشن میں ووٹرز ڈیٹا کا استعمال

انتخابات میں ووٹرز کے رحجانات کا اندازہ لگانا جدید دور میں ایک مکمل سائنس کی حیثیت اختیار کرچکا ہے جس میں ووٹرز کی عادات، سوشل میڈیا پر اس کے روئیے ، خریداری کرتے وقت اس کی پسند ناپسند حتیٰ کہ گھر اور دفتر میں اس کے میل جول اور سماجی دبائو کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ ڈیٹا سائنس کے ماہرین نے ووٹرز کی خصوصیات کے حوالے سے درجہ بندی کی ہے جسے انہوں نے اوشئین (OCEAN)کا نام دیا ہے۔ اوشئین میں ہر حرف ووٹرز کی درجہ بندی کرتا ہے۔ امریکی انتخابات میں ووٹرز کے رحجانات کا اندازہ کرنے اور درجہ بندی کرنے کیلئے اسی ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جارہا ہے۔

جب ریاستی نمائندے تھام ٹلیس (Thom Tillis)نے 2014ء میں شمالی کیرولینا سے سینٹ کیلئے انتخاب لڑا تو انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں مخصوص مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے ووٹروں کو آن لائن اور براہ راست ای میل اشتہارات بھیجے۔ انہوں نے ووٹرز کو قائل کرنے کیلئے یہ دیکھا کہ کون سا مسئلہ کس قسم کے لوگوں کو متوجہ کرتا ہےاس مقصد کیلئے انہوں نے ووٹرز کی ویب ہسٹری، خریداری کی عادات، رکنیت فارم اور مسائل کے حوالے سے ان کے نظریات ،جہاں ووٹر رہتا ہے اس علاقے کی آبادی کے رحجانات کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخابی اشتہارات تیار کروائے جو داعش کے کردار سے لے کر امریکہ کے ہیلتھ کئیر ایکٹ (Care Act)تک کا احاطہ کرتے تھے۔

تھام ٹلیس (Thom Tillis) نے اپنے اشتہارات میں کچھ نیا کرنے کی کوشش کی۔ ان کے ایک اشتہارمیںتھام ٹلیسسبز پودوں کے پس منظر مسکرا رہے ہیں اور وعدہ کر رہے ہیں کہ وہ واشنگٹن میں مختلف مسائل سے متعلق عمومی شعور بیدار کریں گے۔ یہ اشتہار جذباتی طور پر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور پہلے سے حاصل کردہ معلومات کے تحت یہ اشتہار ان ہی لوگوں کے پاس جائے گا جو اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ ایک اور اشتہار میں ٹلیس “معاشی نظم و نسق کا تجربہ “حاصل کرنے پر زور دے رہے ہیں ۔ اس اشتہار میں انہوں نے لوگوں کو بااصول رہ کر معاشی نظم و نسق پیدا کرنے کی راہ دکھائی ہے۔ ایک اور اشتہار میں فوجی دکھایا گیا جو ٹلیس کی طرف سے وعدہ کررہا ہے کہ “آپ کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے”۔ اگرچہ یہ اشتہار داعش کے خلاف ہے لیکن لوگوں کو تحفظ کے بارے میں احساس کو اجاگر کیا گیا ہے۔

تھام ٹلیس کی انتخابی مہم برطانوی فرم کیمبرج اینالائٹیکا نے چلائی جو تجارتی، سیاسی اور فوجی اشتہاری مہم چلانے میں مہارت رکھتی ہے۔ دیگر بگ ڈیٹا کمپنیوں کی طرح یہ کمپنی بھی ووٹرز کی آبادی اور مسائل کی بنیاد پر درجہ بندی کرتی ہے۔ تاہم اس میں شخصیت کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ اس نے امریکہ میں تمام 190ملین رجسٹرڈ ووٹرز کی عادات و خصائل کا تجزیہ کیا۔ کیمبرج انالائٹیکا کے چیف ڈیٹا آفیسر ایلکس ٹیلر (Alex Tayler)نے بتایا کہ اب ہم لوگوں کا آبادی کے ساتھ نفسیاتی بنیادوں پر تجزیہ کرسکتے ہیں۔ یہ ایک نیا نظریہ ہے۔ کیرولینا یونیورسٹی چیپل ہل کے پروفیسر ڈینیل کری ایس (Daniel Kreiss)کا کہنا ہے کہ “ووٹنگ عادات کے لحاظ سے اعداد و شمار کے بہت سے بنیادی درجات اور امکانات ہوتے ہیں جن میں ووٹنگ کی تاریخ، پارٹی رجسٹریشن، عمر، جنس، نسل، ازدواجی حیثیت، بچوں کی موجودگی، اور کچھ بنیادی مردم شماری کے اقدامات شامل ہیں۔ اس قسم کے ڈیٹا تجزیہ سے امیدوارکو ووٹرز کو قائل کرنے کیلئے محض معمولی فائدہ پہنچتا ہے۔ اس لئے ڈیٹا سائنس کے ماہرین کیلئے یہ سوال اہم ہے کہ کیا شخصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ ووٹر کا رحجان کیا ہوگا؟ میں نے ایسا کوئی ڈیٹا نہیں دیکھا جس کو ماڈل بنا کر مستقبل کا اندازہ لگایا جاسکے۔

ییل (Yale)میں پولیٹیکلسائنس کے ماہر گریگوری ہیوبر (Gregory Huber)کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ڈیٹا کی بنیاد پر چلنے والی مہم کو سمجھنے میں بہت فرق ہے تاہم امریکی صدر اوباما کی انتخابی مہم میں انفرادی سطح پر ووٹرز کے اعدادوشمار کا تجزیہ کرکےآبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے پیغامات بنائے گئے تھے۔ اگرچہ اوباما دوسری بار انتخابی مہم جیت گئے لیکن کیا انہوں نے انفرادی سطح پر ووٹرز کو قائل کرنے کی کوشش کی؟ ہوبر کہتے ہیں کہ بگ ڈیٹا نے اوباما کی انتخابی مہم پرکیا اثرات مرتب کئے اس بارے میں کچھ پتہ نہیں چلا۔ میرا خیال ہے کہ ہم غیرجانبدار، خودمختار اور معیاری ڈیٹا کے تجزیئے سے کچھ زیادہ حاصل نہیں کرسکتے۔ بہر حا ل اکیڈمک تحقیق نے شخصیت اور سیاسی جھکاؤ کے درمیان ایک رشتہ قائم کردیاہے ۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض شخصیات دوسروں سے زیادہ موثر ہوتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایسی تحقیق کو براہ راست عملی انتخابی مہم کی حکمت عملی پر نافذالعمل نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم یہ کہا جاسکتا ہے کہ شخصیت کا تجزیہ ایسی معلومات فراہم کرتا ہے جو مجموعی آبادی کے تجزئیے سے حاصل نہیں ہوتیں۔

اوشئین : پانچ بڑی خصوصیات

کیمبرج اینالائٹیکاٹیکنالوجی نے ووٹرز کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی ہے۔ لیکن ڈیٹا کے تجزیئے کے حوالے سے مائیکروٹارگٹنگ (Microtargeting) نئی بات ہے۔ جبکہ شخصیت کا تجزیہ کرنے کے بارے میں بنیادی تصورات پرانے ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں میں مختلف تحقیقی گروپوں نے شخصیت کی بنیادی خصوصیات کی نشاندہی کی ہے۔ اسے عموماً شخصیت کی “پانچ بڑی خصوصیات” کے نام سے جانتے ہیں اور جس کا مخفف ایشین (OCEAN)ہے۔ او Oسے اوپن نیس (Openness)ہے جس کا مطلب کھلا دل و دماغ یا کشادگی لیا جاتا ہے ، سیC سے کانشیئن شیئس نیس (Contientiousness)یعنی اصول پسندی، ای سے ایکسٹروورژن (Extroversion) یعنی مرکز توجہ، اے Aسے ایگری ایبل نیس یعنی اتفاق کرنے والی، مطابقت رکھنے والی یا پسندیدہ شخصیت ہے جبکہ این سے نیوراٹسزم (Neuroticism)کو ظاہر کیا گیا ہے ۔ یہ اصطلاح کو انہوں نے منفی شخصیت کیلئے استعمال کی ہے۔ ان اصطلاحات کو مدنظر رکھتے ہوئے ووٹرز کی درجہ بندی سوالات کے ذریعے کی جاتی ہے۔ یہ سوالات عمومی ہوتے ہیںمثلاً “کیا آپ چیزوں کے بارے میں فکرمندہوتے ہیں؟کیا آپ آسانی سے دوست بنا لیتے ہیں؟ کیا آپ واضح سوچتے ہیں؟ کیا آپ دوسروں پر اعتماد کرتے ہیں؟ کیا آپ کے ذمہ جو کام ہیں انہیں کامیابی سے مکمل کرتے ہیں؟

یہ وہ سوالات ہیں جو اینالائیٹکا کمپنی ووٹرز سے آن لائن پوچھتی ہے اور اس کے لئے وہ میڈیا میں مختلف اشتہارات کا سہارا لیتی ہے۔ ان اشتہارات کا جواب آپ کی شخصیت میں موجود خصوصیات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے ان سوالناموں کے ذریعےلاکھوں امریکیوں کی شخصیت کا تجزیہ کیا ہے۔ اگر آپ سوالنامہ بھرتے ہیں تو کمپنی قیاس کے ذریعے اسے اوشئین کی درجہ بندی میں رکھتی ہے۔کمپنی ان سوالناموں کے ذریعے آپ کی شخصیت کا ایک مجموعی تاثر قائم کرتی ہے۔ کہ آپ پسندیدہ شخصیت ہیں یا منفی رحجان کے مالک ہیں۔ کمپنی نے ووٹر کے رحجانات جاننے کیلئے صارفین کا ڈیٹا بیس رکھنے والی کمپنیوں مثلاً انفوگروپ(Infogroup)، ایکسپیرئین(Experian)، ایگزئیم (Exiom)اور خود ریپبلکین پارٹی کی ووٹر لسٹ سے بھی ڈیٹا حاصل کیا۔

اس تمام عمل سے گزرنے کے بعد کیمبرج اینالائیٹکا کمپنی نے امریکیوں کی شخصیات کا انفرادی سطح پر ایک خام اندازہ مرتب کیا ۔ جس کے بعد کمپنی نے ووٹر کی شخصیت سے متعلق مزید معلومات حاصل کیں۔ جس کے نتیجے میں ایسا اشتہار بنایا گیا جو ووٹر کی شخصیت سے مطابقت رکھتا ہو۔ جب یہ معلومات انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کو فراہم کی جاتی ہیں تو وہ اپنی انتخابی مہم میں ان معلومات کو استعمال کرتے ہیں۔ انفرادی سطح پر آن لائن اشتہارات بھیجنے کیلئے کیمبرج اینالائیٹکا کمپنی مارکیٹنگ کے حربوں کو استعمال کرتے ہوئے آپ کے کمپیوٹر کی کوکیز (Cookies)، ایگزئیم کا آف لائن یا آن لائن ڈیٹا ، فیس بک پر رحجانات جاننے کیلئے اشتہارات کا سہارا لیتی ہے۔

وسیع معلومات

وسیع بنیادوں پر کی گئی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ شخصیت کی خصوصیات میں طرزعمل، مالی فیصلے ملازمتوں اور تعلقات میں رضامندی کی سطح کے بارے میں پیش گوئی کی جاتی ہے۔ جب ہم سیاست کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو یونیورسٹی آف ٹورانٹو اور منیسوٹا کی تحقیق بتاتی ہے کہ وہ لوگ جو اوپن نیس کے درجے میں آتے ہیں وہ لبرل امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں جو لوگ اصول پسند ہیں وہ قدامت پسندوں کو ووٹ دیتے ہیں۔ کئی سال پہلے ییل یونیورسٹی (Yale University)میں سیاسیات کے ماہرین اور اداروں نے تحقیق کی کہ سماجی دباؤ بھی لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اگر ووٹرز کو معلوم ہو کہ اس کے پڑوسیوں میں سےکس نے کسے ووٹ دیا تو آئندہ انتخابات میں اس ریکارڈ کو مدنظر رکھا جاسکتا ہے۔ وہ لوگ جو جذباتی طور پر مضبوط اور کھلے دل و دماغ کے مالک ہوتے ہیں وہ سماجی دبائو کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔

پرسنل ڈیموکریسی میڈیا (Personal Democracy Media)کے شریک بانی میکاہ سفری (Micah Sifry)کہتے ہیں کہ ڈیٹا کا تجزیہ کرنے والوں کیلئے مسئلہ یہ ہے کہ تجزیہ کرنے کیلئے جتنے بھی ماڈل بنائے گئے ہیں وہ معلومات کیلئے پیچھے کی طرف دیکھتے ہیں جبکہ مستقبل کا تجزیہ نہیں کرتے۔ یہ بات انہوں نے ڈیموکریسی فورم کانفرنس میں کہی جس کا موضوع تھا کہ ٹیکنالوجی کس طرح سیاست کے رحجانات کو بدل رہی ہے۔ سب سے بہتر چیز جو وہ آپ کیلئے کرسکتے ہیں وہ ماضی میں کئے گئے اقدامات کی بنیاد پر اندازہ لگانا ہے کہ لوگ آئندہ کیا کریں گے۔ لیکن آئندہ انتخابات میں بدلتے ہوئے رحجانات اور ماحول میں محض ماضی کے روئیے اور شخصیت کی اقسام سے ووٹرز کے بارے میں پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ شائد ہمیں ووٹرز کی خصوصیات میں ناراضگی کو بھی شامل کرنا پڑے۔

تحریر: ڈیوڈ ٹالبوٹ (David Talbot)

Read in English

Authors

*

Top