Global Editions

پیبل گھڑیاں اوپر تلے مارکیٹ میں آرہی ہیں

نئی کمپنی پیبل (Pebble)نے تو کمال کردیا اس نے ویب سائیٹ کک سٹارٹر(Kickstarter) پر ایک گھنٹےمیں ایک ملین ڈالر سرمایہ جمع کرلیا۔ لوگوں کو شوق پیدا ہو چکا ہے کہ اب اس کی کون سی نئی پراڈکٹ مارکیٹ میں آئے گی۔ اس کی دو مصنوعات تو سمارٹ گھڑیاں ہیں جن میں دل کی دھڑکن بتانے والا سینسر لگا ہوا ہے۔ ایک کا نام پیبل اور دوسری کا نام ٹائم ہے۔ پیبل کی تیسری متعارف کروائی گئی پراڈکٹ چھوٹا سا مربع شکل کا آلہ ہے جس سے ایتھلیٹس موسیقی سنتے ہیں اور اس سے مقام کا بھی پتہ چلتا ہے۔

سرمایہ جمع کرنے کی مہم کے آخر میں پیبل نے 12.8ملین ڈالر جمع کرلئے جو کک سٹارٹر کی تاریخ کا تیسرا بڑا سرمایہ تھا۔ یہ کچھ کمپنیوں کیلئے متاثر کن ہو سکتا ہے لیکن پیبل کیلئے یہ پرانی بات ہے۔ اپنی ابتدائی سمارٹ گھڑی کیلئے پیبل نے گزشتہ سال 20.3ملین ڈالر جمع کئے تھے جبکہ اس کا ہدف 500,000ڈالر تھا۔پیبل کسی بھی طرح سے بہت بڑی الیکڑانک صارف کمپنی یا سمارٹ واچ کمپنی نہیں ہے۔ لیکن اس کے سی ای او ایرک میجیکووسکی (Eric Migicovsky)کہتے ہیں کہ انہوں نے گزشتہ مئی میں دو ملین سمارٹ واچ بیرون ممالک بھیجی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی گھڑیوں کی 15فیصد فروخت چھوٹے سرمایہ کاروں کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ٹیکنالوجی مارکیٹ ریسرچ کمپنی آئی ڈی سی کا کہنا ہے کہ او ایس، گوگل اور اینڈرائیڈ ویئر کے بعد پیبل گھڑیوں کا نمبر آتا ہے۔

اگرچہ اسے کک سٹارٹر سے 43ملین ڈالر ملے لیکن اسے وینچر سرمایہ صرف 15.4ملین ڈالر ملا۔ پیبل اب بھی بہت موثر ہے۔ اس سے سمارٹ واچز کی چھوٹی مگر تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ کو ترقی ملی ہے۔ اوریجنل پیبل گھڑیوں کی2013ء میں برآمد شروع کردی گئی تھی۔ آئی ڈی سی کے مطابق سمارٹ واچز اور فٹنس ٹریکرز کی اس سال 102ملین ڈالر مالیت کی برآمدات متوقع ہیں۔ اس کو پسند کرنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جہاں پر لوگ عموماً کلائی میں پہننے والے گیجٹس کو کچھ عرصہ پہن کر اسے دراز میں پھینک دیتے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود بہت سے لوگ حالیہ کک سٹارٹر مہم کی حمایت بھی کررہے ہیں۔ پیبل کے مالکان کا کہنا ہے کہ ان کی گھڑی کی قیمت اس وقت 100سے 250ڈالر تک ہے ۔ دیگر سمارٹ گھڑیوں کی بہ نسبت ان کی بیٹری کی زندگی بھی زیادہ ہوتی ہے عموماً سات سے 10دن لیتی ہے اس میں کم طاقت کی ای پیپر سکرین شامل ہے اوریہ استعمال میں بھی آسان ہے۔
اوکلینڈ کیلیفورنیا میں استاد جانامیوری (Jana Maiuri)کہتی ہیں کہ اسے دیکھ کر ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ ٹیکنالوجی کی کوئی اضافی چیز پہن رکھی ہے تاہم مجھے اس کا خیال رکھنا پڑے گا۔ انہوں نے حال ہی میں پیبل کی تین گھڑیاں خریدی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ گھڑی کا ہر وقت ڈسپلے ہونے کی وجہ سے وہ کبھی بھی وقت دیکھ سکتی ہیں۔ ایسا دیگر سمارٹ واچز کے ساتھ نہیں ہوتا۔ وہ اس کی ٹچ سکرین کو پسند کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس سے انہیں موسیقی سننے یا اپنے کلاس روم میں پروجیکٹر پر سلائیڈ تبدیل کرتے ہوئے کلائی پر لگی گھڑی دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

یقینی طورپر ابھی پیبل کی راہ میں خاصی مشکلات درپیش ہیں ۔ آئی ڈی سی کو توقع ہے کہ اس سال پیبل کمپنی 500,000 سے کم اور 2020ءتک 600,000 سے کم سمارٹ واچز برآمد کرے گی۔ اگر سمارٹ واچز اور وئیر ایبلز کی مارکیٹ اسی رفتار سے پھیلتی رہی تو اس کا مطلب ہے کہ پیبل کمپنی اس مارکیٹ کا ایک بہت چھوٹا سا حصہ ہو گی۔ تاحال میجیکووسکی کی کمپنی کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔

تحریر: راشیل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top