Global Editions

ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیو ویکسینیشن پروگرام مثبت پیشرفت

یہ میچ کی آخری بال تھی اور بلال کی ٹیم کو جیتنے کے لئے صرف دو رنز درکار تھے۔ آخری لمحات میں کپتان اور بائولر نے چند لمحوں تک مشاورت کی اور پھر بائولر گیند کرانے کے مقام تک پہنچا اور بھاگنا شروع کر دیا۔ میچ کے ان سنسنی خیز لمحات میں سب بے چینی سے اپنی نشستوں پر پہلو بدل رہے تھے اور ان میں بلال بھی شامل تھا۔ بائولر بھاگتا ہوا ایمپائر کے پاس سے گزرا اور ایک لو فل ٹاس گیند کرا دی بلے باز نے اس گیند کو دو رنز کے لئے پش کر دیا اور بھاگنا شروع کر دیا۔ ایک رن بنانے کے بعد بلے باز دوسرے رن کے لئے بھاگے اور اسی دوران فیلڈر بھی گیند کے قریب پہنچ گئے اور پھر فیلڈر نے گیند اٹھا کر وکٹوں پر مار دی اور فیلڈنگ سائیڈ نے آئوٹ کی پرزور اپیل کر دی سب خاموش تھے کہ اس دوران ایمپائر نے بلے باز کو ناٹ آئوٹ قرار دے دیا اور بلال کی ٹیم کے حمایتی خوشی سے جھوم اٹھے اور بھاگتے ہوئے گرائونڈ میں داخل ہو گئے تاہم بلال اپنی نشست پر بیٹھا رہا کیونکہ وہ اتنا تیز بھاگ نہیں سکتا تھا تیز تو درکنار وہ تو آہستہ آہستہ بھی بھاگ نہیں سکتا تھا کیونکہ بلال پولیو کا مریض تھا۔

پولیو پاکستان میں بچوں میں پائی جانیوالی سب سے خطرناک بیماری ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے والدین سب سے زیادہ خوف کھاتے ہیں کیونکہ یہ ایک صحت مند جسم کو اپاہج بنا دیتی ہے۔ اس مرض کے وائرس کا شکار ہونے کے چند روز کے اندر ہی متاثرہ فرد کے پٹھوں میں کھچائو آ جاتا ہے، متلی ہوتی ہے اور پھر بخار ہو جاتا ہے، بلال والے حالات میں مریض عصبی پٹھوں کی حرکت سے محروم ہو جاتا ہے اور جس کی وجہ سے مریض دائمی طور پر اپائج بن جاتا ہے۔

اس وقت پاکستان دنیا کے ان دو ممالک میں شامل ہے جہاں اس وقت بھی بچے پولیو کے مرض کا شکار ہو رہے ہیں۔ EPI نامی ادارہ ملک میں ایسے امراض کی روک تھام کے لئے قائم کیا گیا ہے اور اس کا مقصد ایسے امراض کی روک تھام کے لئے مختلف اداروں کے ساتھ رابطے رکھنا اور بیماری کے خلاف اقدامات اٹھانا ہے۔ ای پی آئی کی ہی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانچ سال کے کم عمر کے ستائیس فیصد بچے مدافعتی کمزوریوں کے باعث خسرہ کالی کھانسی، خناق، پولیو، ہیپاٹائٹس جیسے امراض کا شکار ہیں۔ جنہیں آسانی کے ساتھ اس مرض سے بچایا جا سکتا تھا مگر والدین کی عدم توجہی کے باعث یہ بچے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے سے قاصر رہ سکتے ہیں۔

ماضی میں بچوں میں پائے جانیوالے امراض کے علاج کے لئے ویکسینیشن پروگرام کو طالبان کی جانب سے غلط پروپیگنڈے کے سبب شدید نقصان پہنچا۔ طالبان نے کئی علاقوں میں انسداد پولیو ٹیموں کو کام کرنے سے روک دیا اور ان کی دورافتادہ علاقوں تک رسائی مشکل بنا دی۔

پاکستان میں بچوں کو ان امراض سے بچانے کے لئے ای پی آئی نے اپنے ویکسینیشن پروگرام کو ازسرنو مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اپنے جاری پروگرام میں موجود خامیوں کو بھی دور کرنے کے لئے اقدامات کئے ہیں۔ ان خامیوں میں سٹاف کی کارکردگی متاثر کن نہ ہونا اور علاقوں کے بارے میں جغرافیائی معلومات کی عدم دستیابی شامل ہے۔

اپنے پروگرام میں بہتری لانے کے لئے ای پی آئی نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ سے مدد حاصل کی اور پی آئی ٹی بی کے تعاون سے ایک ایسا ڈیجیٹل سسٹم تیار کر لیا گیا جسے E-Vaccs کا نام دیا گیا ہے۔ اس ڈیجیٹل سسٹم کی مدد سے فیلڈ میں کام کرنے والے تمام ویکسینیٹرز کی حاضری کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیا جا سکتاہے۔

E-Vaccs پروگرام ایک Immunization انفارمیشن سسٹم ہے جس کے تحت تمام ویکسینیٹرز کو سمارٹ فون فراہم کئے گئے ہیں جہاں رئیل ٹائم ڈیٹا اور ریکارڈز ایک مرکزی ڈیٹا بیس میں سٹور کئے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے پہلی ایپلی کیشن سال 2014 میں تیار کی گئی تھی جسے پنجاب کے چار اضلاع میں استعمال کیا تھا اور بعدازاں اکتوبر 2014 میں اس کا دائرہ پنجاب کے 36 اضلاع تک بڑھا دیا گیا تھا۔

اس نظام کے تحت 3750 سمارٹ فونز تقسیم کئے گئے جس میں اس پروگرام کے بارے میں ایپلی کیشن انسٹال تھی۔ اور اس ایپلی کیشن کی مدد سے فیلڈ سٹاف کی حاضری یقینی بنا دی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ ان پر کاغذات کی تیاری کا بوجھ کم کر دیا گیا اب فیلڈ سٹاف کو دن میں تین مرتبہ اس ایپلی کیشن کے ذریعے سائن ان ہونا پڑتا ہے۔ پہلا سائن ان اس مقام پر ہوتا ہے جہاں انہوں نے اس دن فرائض انجام دینا ہوتے ہیں۔ دوسرا سائن ان اس علاقے کی مسجد یا گھر میں ہوتا ہے جہاں سے فیلڈ سٹاف نے ویکسی نیشن کٹ وصول کرنا ہوتی ہے اور تیسرا سائن ان دن کے اختتام پر کرنا ہوتا ہے جب ویکسینیٹر سمارٹ فون ایپلی کیشن کے ذریعے دن بھر کے ریکارڈز داخل کرتے ہیں جن کے ذریعے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ ویکسی نیٹر نے کتنے بچوں کو ویکسئین دی اور کون سے اینٹی جین دوا استعمال کی۔

اسی ایپلی کیشن کے ذریعے ویکسی نیٹر کٹ حاصل کرتے ہوئے مقام کی تصویر تیار کرتا ہے جس پر تاریخ اور وقت ازخود تحریر ہو جاتا ہے اور فرد کی حاضری اور کام کا ثبوت حاصل ہو جاتا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس ایپلی کیشن کے استعمال کی بدولت فیلڈ سٹاف کی حاضری میں نمایاں بہتری آئی اور ان کی حاضری کی شرح 54 فیصد سے بڑھ کر 97 فیصد تک جا پہنچی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ویکسی نیٹرز کو معلوم ہے کہ اب غلط حاضری لگانے کا کوئی امکان موجود نہیں ہے کیونکہ جیوٹیگنگ پکچرز سے اصل صورتحال سامنے آ جاتی ہے۔

اس حوالے سے چئیرمین پی آئی ٹی بی ڈاکٹر عمرسیف کا کہنا ہے کہ سمارٹ فون ایپلی کیشن کے استعمال سے فیلڈ ویکسینیٹرز کی پہلی مرتبہ مانیٹرنگ اور حاضری ممکن ہو سکی ہے اور اس کا ثبوت ان کی حاضری کی شرح میں نمایاں اضافہ ہے۔

دیہی علاقوں کی کم جغرافیائی کوریج کی باعث بچوں کو ویکسئین پلانے کی شرح وہی رہی جو پہلے تھی چنانچہ پی آئی ٹی بی نے اس معاملے کو دیکھا اور اس مسئلے کے حل کے لئے کلر کوڈڈ ویژولآئزیشن تکنیک کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا تاکہ مختلف علاقوں میں ویکسینیشن کی کوریج کا جائزہ لیا جا سکے۔

ابتدائی طور پر ہر ضلع کے لئے کاغذی نقشوں سے کام لیا جاتا رہا تاہم یہ کارروائی بہت زیادہ وقت طلب اور مہنگی ثابت ہوئی اگرچہ یہ نقشے گوگل میپس کی مدد سے تیار کئے جاتے تھے تاہم ان نقشہ جات کو سمارٹ فونز میں منتقل کرنا اور جی پی ایس لوکیشن کے ساتھ منسلک کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا۔ اس حوالے سے پی آئی ٹی بی کی ایک ماہر اور جیوگرافک انفارمیشن سسٹم کی ماریا زبیر کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں بکھری ہوئی آبادی کی نشاندہی ایک مشکل امر ہے کیونکہ پاکستان میں آخری مردم شماری سال 1998 میں منعقد کی گئی تھی اور اس کے بعد سے اب تک ملکی آبادی اور اس کی جغرافیائی موجودگی کے حوالے سے کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

بعد ازاں انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے سئنیر فیکلٹی ممبر ڈاکٹر محسن علی آگے آئے اور انہوں نے اس مرحلے کو سر کرنے کا بیٹرا اٹھایا اور وہ ایک ایسا الگورتھم تیار کرنے میں کامیاب رہے جس کی مدد سے مختلف علاقوں کی ڈیجیٹل امیجری کا جائزہ لیا جا سکتا تھا۔ اب یہ تمام تر معلومات ڈیجیٹلآئز ہو چکی ہیں اور ایک ڈیش بورڈ کی شکل میں دستیاب ہیں۔

ای پی آئی اور ای ڈی اوز اس ڈیش بورڈ کو استعمال کرتے ہوئے اپنے اپنے اضلاع میں انسداد پولیو مہم کا جائزہ لے سکتے ہیں اور اس طرح انہیں بھی آگاہی حاصل ہو سکتی ہے کہ کون کون سے علاقے ایسے باقی رہ گئے ہیں جہاں اس مہم پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ E-Vacc-2 ایک نیا اور بہتر سسٹم ہے جسے پنجاب بھر میں اکتوبر سال 2015 سے نافذ العمل کر دیا گیا ہے۔

ان اقدامات کے نتیجے میں جیوگرافیکل کوریج کا دائرہ جو سال 2014 میں پچیس فیصد تک تھا سال 2016 میں بڑھ کر 88 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اس حوالے سے ماریا زبیر کا کہنا ہے کہ بچوں کے لئے ان خطرناک بیماریوں سے بچائو کے ایک ویکسی نیشن پروگرام میں دو سال کے اندر بہت بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

اسی تناظر میں ’’ہر زندگی‘‘کے نام سے ایک ریسرچ پراجیکٹ آئی ٹی یو کی جانب سے پیش کیا گیا ہے جس میں ویکسینیشن پروگرام میں مزید بہتری کے لئے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ ہر زندگی نے اصل ایپلی کشین کو مزید بہتر اور قابل رسائی بنا دیا ہے اور اس کی مدد سے ریکارڈز مرتب کرنے میں بھی بہتری آئے گی۔ اس حوالے سے ہر زندگی کی ٹیکنیکل لیڈر آمنہ بتول کا کہنا ہے کہ اس ایپلی کیشن کی مدد سے والدین بھی اپنے بچوں کی ویکسی نیشن عمل پر نظر رکھ سکیں گے اور انہیں بھی اس امر کی آگاہی ملتی رہے گی کہ ویکسینیشن کا وقت قریب آ رہا ہے۔

ڈاکٹر عمر سیف کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ وطن عزیز کو پولیو جیسی بیماری سے مکمل طور پر پاک کر دیا جائے اور کسی بچے کو بلال جیسا نہ بننا پڑے۔ ہر بچے کو ایک صحت مند اور خوشگوار زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔

تحریر: ماہ رخ سرور (Mahrukh Sarwar)

Read in English

Authors
Top