Global Editions

جوہری توانائی کی وجہ سے نئے ماحولیاتی خطرات کس طرح سامنے آئے؟

لارنس لورمور کے لیب کے ماحولیاتی ماڈلز سے حاصل کردہ نتائج کے مطابق کیلیفورنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔

ایک کمپیوٹرائزڈ ماحولیاتی سیمولیشن کے دوران ماحولیاتی سائنسدان ایوانا کیانووک (Ivana Cvijanovic) کو ایک نہایت پریشان کن صورتحال دکھائی دینے لگی۔ اس سیمولیشن کے نتائج کے مطابق جیسے جیسے بحیرہ شمالی کی برف پگھل کر تقریباً ختم ہونا شروع ہوئی، ہزاروں میل دور امریکہ کے مغربی ساحل پر اونچے درجے کے دباؤ کے سسٹمز پیدا ہوگئے۔

اونچے درجے کے دباؤ کا یہ علاقہ کیلیفورنیا کی جانب بڑھنے والے بڑے طوفانوں میں رکاوٹ پیدا کررہا تھا، جس کی وجہ سے بارش میں کمی واقع ہورہی تھی۔ توقع کی جاتی ہے کہ اگلی چند دہائیوں میں قطب شمالی کی موسم گرما کی سمندری برف مکمل طور پر پگھل جائے گی، اور کیانووک کے ماڈل سے یہ بات سامنے آئی ہے اس کی وجہ سے کیلیفورنیا میں، جو آبادی کے لحاظ سے امریکہ کی سب سے بڑی ریاست ہے، پانی کی کشدیدگی کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

ان نتائج کے مطابق، جو دسمبر میں نیچر کمیونیکیشنز (Nature Communications) میں بھی شائع ہوچکے ہيں، اس دہائی کے بیشتر حصے میں کیلیفورنیا کے شدید اور مہنگے خشک سالی میں سمندری برف میں کمی کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ اس کے پیچھے ایک "نہایت لچک دار اونچے درجے کے دباؤ کا علاقہ" تھا، جس کی شکل کیانووک کے سیمولیشن سے حاصل کردہ نتائج سے ملتی جلتی تھی۔

کئی لوگوں کی، جن میں ماحولیاتی تبدیلی سے انکار کرنے والے افراد بھی شامل ہيں، رائے ہے کہ ماحولیاتی ماڈلز زمین کے پیچیدہ نظاموں کی قابل اعتماد طور پر عکاسی کرنے سے قاصر ہیں۔ لیکن کمپیوٹیشنل صلاحیت میں ترقی، سیاروں سے وابستہ مزید عناصر کی شمولیت اور دیگر تکنیکی انکشافات کی وجہ سے اب ان سیمولیشنز سے بہت کچھ ممکن ہے۔

ان ماڈلز کی درستی میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے، اور ان کی مدد سے زمین پر گلوبل وارمنگ کے موجودہ کے علاوہ مستقبل کے اثرات کی پیشگوئی ممکن ہے۔ ان ماڈلز کا فائدہ خاص طور پر ان سائنسدانوں کو ہوتا ہے جو موسم کے شدید اثرات کی وجہ بننے والے پیچیدہ میکانمز سمجھنے کی کوششیں کررہے ہيں۔

کئی سالوں سے کیانووک کی پگھلتی ہوئی برف اور دوردراز کے علاقوں میں بارش کی تبدیلیوں کے درمیان تعلقات کو سمجھنے کی کوششیں ناکام ثابت ہورہی تھیں، تاہم معیاری ماحولیاتی ماڈلز کے ذریعے ان پراسیسز کی حقیقی شکل میں عکاسی کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہيں تھا۔ لیکن حال ہی جوہری ہتھیار کے مطالعے کے نتیجے میں ایک دریافت سامنے آئی ہے جس کی کسی کو توقع نہيں تھی۔

دوبارہ سکہ اچھالنا

2014ء میں جب کیانووک کیلیفورنیا کے لارنس لورمور نیشل لیباریٹری (Lawrence Livermore National Research) میں پوسٹ ڈاکٹرل ریسرچر کی حیثیت سے کام کرنے لگيں تو ان کے تجسس نے زور پکڑا۔ دو سال قبل، بحر جنوبی کی برف سائنسدانوں کی توقعات سے کہیں زيادہ تیز رفتار سے پگھل چکی تھی، اور مارچ میں چوٹی کی میعاد تک تقریباً پچاس لاکھ مربع میل برف ختم ہوچکی تھی، جو تاریخ کا سب سے بڑا نقصان تھا۔

یہ ماحولیاتی ماڈلز میں کسی قسم کی گڑبڑ کی واضح علامت تھی، جو نہایت پریشان کن تھی۔

ماحولیاتی ماڈلز سے مراد سافٹ ویئر کی ایسی سیمولیشنز ہیں جن کے ذریعے فزکس کے قوانین کی بہترین سمجھ بوجھ کی نمائندگی کرنے والی ریاضیاتی مساوات کی مدد سے بڑے پیمانے پر کاربن ڈائی آکسائيڈ کے اخراج میں اضافے جیسے عناصر کے زمین پر اثرات کا تخمینہ کیا جاتا ہے۔ ان ماڈلز میں سمندر، سطح زمین اور کرہ ہوائی کو تھری ڈی خانوں کے گرڈ کی شکل میں پیش کرکے وقت اور جگہ میں صورتحال کی تبدیلیوں کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔ پچھلی چند دہائیوں میں ان ماڈلز کی ریزولوشن میں کافی بہتری نظر آئی ہے۔ ہر خانہ، جو پہلے 500 مربع کلومیٹرز کی نمائندگی کرتا تھا، اب 25 مربع کلومیٹرز کے رقبے کی نمائندگی کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اب ان ماڈلرز میں ایئروسولز، سمندری برف، ہریالی اور دیگر عناصر کو بھی خاطر میں لانے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔

تاہم، جیسا کہ سمندری برف کی کمی سے ثابت ہوا، ان بہتریوں کے باوجود بھی، بعض دفعہ یہ ماڈلز حقیقی دنیا کی مکمل طور پر پیشگوئی نہیں کرپاتے ہيں۔

اس واقعے کو لارنس لورمور لیب کے ریسرچ سائنسدان ڈونلڈ لوکس (Donald Lucas) کی توجہ حاصل ہوئی، جو اس لیب میں ماحولیاتی ریسرچرز اور جوہری ہتھیار کے ماڈلرز پر مشتمل ایک ٹیم میں کام کررہے تھے اور جنہوں نے ماضی میں ماحولیاتی سیمولیشنز کی درستی میں اضافے کے لیے ایک تین سالہ پراجیکٹ پر بھی کام کیا تھا۔

امریکہ میں 1992ء کے بعد سے جوہری ہتھیاروں کی دھماکوں کی شکل میں ٹیسٹنگ نہيں کی گئی ہے، جس کی وجہ سے انہيں اپنے ذخائر کی ٹیسٹنگ کے لیے معائنوں اور ماڈلنگ پر انحصار کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ لارنس لورمور کے سائنسدان کافی عرصے سے پلوٹونیم جیسے مواد کی وقت کے ساتھ خرابی کی سیمولیشن کے لیے لیب کے سپرکمپیوٹرز کا استعمال کررہے ہیں، اور انہوں نے درستی کی شرح کے تخمینے کے لیے نئے طریقہ کار بھی ڈھونڈ نکالے ہيں۔

سیمولیشن کو ایک دفعہ چلانے کے بجائے، اس کے مخصوص متغیروں میں تھوڑی سی ترمیم کرکے کئی دفعہ دہرایا جاتا ہے، جس سے مختلف اقسام کے نتائج سامنے آتے ہيں۔ اس کے بعد ریسرچرز مخصوص نتائج کے تعدد اور حقیقی معائنوں سے حاصل کردہ ڈیٹا سے مماثلت کی بنیاد پر ان کے امکان کا حساب لگاسکتے ہيں۔

لوکس بتاتے ہیں "یہ بار بار سکہ اچھالنے کی طرح ہے۔ ایسا کئی بار کرنے سے نتائج کے امکانات کی تقسیم کا گراف تیار کیا جاسکتا ہے۔"

لوکس اور ان کے رفقاء کار نے ماحولیاتی ماڈلز پر بھی اسی طریقہ کار کا اطلاق کرنے کا فیصلہ کیا، اور ایک عوامی طور پر دستیاب ماحولیاتی ماڈل کے سورس کوڈ میں درجنوں پیرامیٹر کی تبدیلی کے لیے کئی پروگرام لکھ ڈالے۔ وہ تین سال تک لارنس لورمور میں دستیاب آدھا سپرکمپیوٹر استعمال کرتے رہے، اور اس دوران انہوں نے کئی مختلف اقسام کے ماحولیاتی منظرناموں کی مدد سے ایک لاکھ سال کے برابر سیملولینز تیار کرلیے۔

تاہم 2012ء میں لوکس کو احساس ہوا کہ وافر مقدار میں نتائج حاصل کرنے کے باوجود بھی بحر شمالی کی سمندری برف میں کمی کی پیشگوئی نہيں کی جاسکی۔ لہذا، انہوں نے اپنے رفقاء کار کے ساتھ ایک اور تجربہ کرنا شروع کیا، اور اس بار ان کی توجہ سمندری برف پر مرکوز تھی۔ ان کی ٹیم قابل اطلاق متغیروں کے متعلق متعدد ماہرین سے مشاورت کرکے ان پیرامیٹرز میں ترمیم کرنے کے بعد بحر شمالی کی کہیں زیادہ سمندری برف میں کمی کی حقیقت سے زيادہ قریب سیمولیشن کرنے میں کامیاب رہی۔

تین متغیر 95 فیصد تبدیلی کے ذمہ دار ثابت ہوئے۔ ان میں سے دو متغیر میں سمندری برف کے برفانی ذرات کا حجم واضح کیا گیا تھا، جس سے منعکس ہونے والی سورج کی روشنی کی مقدار متاثر ہوتی ہے۔ تیسرے متغیر کے ذریعے، جیسے "برف کی حرارت کی ایصالیت" کہا جاتا ہے، برف میں گرمائش کی رفتار معلوم کی جاسکتی ہے۔ لوکس کی ٹیم نے جو برفانی ماڈل استعمال کیا تھا، اس میں دوسرے دونوں متغیروں کی طرح، برف کی گرمائش کی ایصالیت کو بھی عام طور پر مستقل ہی تصور کیا جاتا ہے، لیکن اس بار ریسرچرز نے حقیقی دنیا کی تغیرپذیری کے مطابق اس متغیر میں بھی ترمیم کی۔

لوکس نے اب تک یہ بات واضح طور پر نہيں کہی ہے کہ انہوں نے سمندری برف کے ماڈلز کا معمہ حل کرلیا ہے۔ تاہم انہوں نے ایک ای میل میں بتایا کہ "قرین قیاس" تبدیلیوں کو شامل کرکے سمندری برف کے ماڈل کے سیمولیشنز کے مشاہدات کے درمیان تمام فرق کی وضاحت نہ بھی حاصل ہوسکے، تو زیادہ تر کی تو ہوسکتی ہے۔

بہترین سیٹ اپ

کیانووک جس سوال پر کافی عرصے سے غوروفکر کررہی تھیں، اس تجربے کے نتیجے میں انہیں اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے بہتر ٹول میسر ہوا۔ وہ جاننا چاہتی تھیں کہ ماضی قدیم میں شمالی کرہ زمین میں تیزرفتار گرمائش کے ادوار کے ساتھ، جنہیں ڈانس گارڈ اوئشگر (Dansgaard–Oeschger) کے واقعات کہا جاتا ہے، گرم ممالک میں بارش کے پیٹرنز کی تبدیلی سامنے آنے کی کیا وجہ تھی؟

2011ء اور 2012ء میں یونیورسٹی آف کوپن ہیگن میں اپنے پی ايچ ڈی کی تعلیم کے دوران، کیانووک ایک ایسے ماڈلنگ گروپ میں کام کررہی تھی جو گرین لینڈ کے برفانی بنیاد کے نمونوں میں واضح ناگہانی ماحولیاتی تبدیلیوں کے متعلق سمجھ بوجھ حاصل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔

انہوں نے سیمولیشنز میں توانائی کے بہاؤ شامل کرکے ان تعلقات کے متعلق تحقیق کرنے کی کوششیں تو کی تھیں، لیکن ان سے سمندری برف میں کمی کے مصنوعی اضافے سامنے آئے۔ تاہم لارنس لورمور میں ان کے رفیق کار کی کوششوں کے نتیجے میں وہ تبدیلیوں کی قدرتی حدود میں رہتے ہوئے پیرامیٹرز میں ردوبدل کرکے شدید برفانی نقصان کو زيادہ حقیقی طریقے سے ماڈل کرنے میں کامیاب ہوگئيں۔

وہ کہتی ہیں "یہ بہترین سیٹ اپ ثابت ہوا۔ نہ تو آپ کوئی ایسی چیز کررہے ہيں جو قدرت کے خلاف ہے، نہ ہی آپ سمندری برف کے نقصان کے مشاہدے کے لیے غلط بیانی سے کام لے رہے ہيں۔"

کیانووک کی توجہ کا مرکز وہ تین متغیر تھے جو لوکس کے کام کے مطابق سب سے زیادہ بااثر تھے۔ انہوں نے ماڈل متعدد بار چلایا، اور آخرکار ان متغیروں کو ان کی آخری حدود تک لے گئيں۔ بعض دفعہ لارنس لورمور کے سپرکمپیوٹرز پر ایک ایک تجزیے میں پورا ہفتہ بھی لگ جاتا تھا، جس کی وجہ اس پورے تجربے میں کئی ماہ لگ گئے۔ لیکن آخرکار ایک واضح تصویر سامنے آنا شروع ہوگئی۔

برف کم ہونے کی صورت میں خلاء میں گرمائش واپس نہيں بھیجی جائے گی، جس کی وجہ سے خطے کے درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہوتا جائے گا۔ اس اضافی گرمی کا کچھ حصہ گرم ممالک تک پہنچ جاتا ہے، جو ہوا اور بارش میں حرارت کے انتقال اور گردش کے پیٹرنز میں تبدیلی لانے کے لیے کافی ہے۔ اس سے بڑے پیمانے پر کرہ ہوائی میں اعلی اور کم دباؤ کے علاقوں کی لہریں پیدا ہوتی ہیں، جو ایک مستقل اونچے درجے کے دباؤ کے علاقے کی وجہ بنتی ہیں جو آخرکار شمالی پیسیفک میں جاپہنچتا ہے۔ اس خصوصیت کی وجہ سے طوفانوں کا رخ شمال کی جانب، یعنی کیلیفورنیا سے دور اور الاسکا اور کینیڈا کی طرف، مڑجاتا ہے۔

یہ ایک بہت مشکل تجربہ تھا جو ماحولیاتی ماڈلنگ کی ٹیکنالوجی اور تکنیکوں میں کئی سالوں سے سامنے آنے والی مجموعی بہتریوں پر منحصر تھا۔ دوسرے سائنسدانوں کے مطابق ان نتائج کی ٹیسٹنگ اور بحر شمالی کی سمندری برف کے اثرات میں اضافے یا کمی میں دیگر پراسیسز کے کردار کا تعین کرنے کے لیے بہت کام باقی ہے۔ تاہم اس سیمولیشن کے ذریعے برف میں کمی اور خشک سالی کے درمیان تعلق کا پہلا ثبوت حاصل ہوا ہے، جو بظاہر کیلیفورنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors
Top